Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 41 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41 Pt.2
وہ بیڈ پر بیٹھی زایان کے سارے کپڑے پریس کرنے کے بعد ہینگ کررہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور نگار اندر آئی
اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر خوشی رینگنے لگی
ارے ارے بیٹھی رہو کوئی ضرورت نہیں ہے اٹھنے کی۔۔۔۔
اسے اٹھتا دیکھ انھوں نے وہی سے اسے روکا تو وہ بیٹھ گئی
کیسی ہے میری بیٹی ۔۔۔۔۔
وہ اس کے گلے لگی اس سے پوچھنے لگی
بلکل ٹھیک ہو آپا آپ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی مسکرا کر اس سے پوچھنے لگی
میری بیٹی ٹھیک ہے تو میں بھی ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ بیٹھی
تم مجھے دو میں ہینگ کردیتی ہو ۔۔۔۔۔
اسے کے ہاتھ سے کپڑے لے کر وہ خود انہیں ہینگ کرنے لگی
آپا رہنے دے پانچ منٹ میں ہوجائے گا ۔۔۔۔۔
اس نے سہولت کیلئے کہا
نہیں بیٹا تم پریس تو کرچکی ہو ہینگ کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے ۔۔۔۔۔
اور بتائو اب زایان تم سے لڑائی تو نہیں کرتا ۔۔۔
کپڑے ہینگ کرتے وہ اس سے پوچھنے لگی
اس دن جب اس نے اپنی اور زایان کی لڑائی کے بارے میں نگار کو بتایا تھا تو وہ کتنے دنوں تک اس کیلئے پریشان رہی پھر جب اس سے ملنے آئی تو اسے خوش دیکھ کر اسے بھی تسلی ہوگئی اور ربانیہ نے اپنے مس بیہیو کیلئے نگار سے ایکسکیوز بھی کیا تھا
نہیں لڑائی نہیں کرتے بس مجھے تنگ کرتے ہیں یہ سارے کپڑے کل لانڈری سے پریس ہوکر آئے تھے میں نے پورے گھنٹے کی محنت کے بعد انہیں الماریوں میں سیٹ کیا تھا صبح ایک شرٹ ڈھونڈنے کے چکر میں پورے کپڑوں کا حشر کردیا توبہ ہے کوئی احساس نہیں ہے میرا ان کو ۔۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ کچھ کپڑے ہینگ کرتے ہوئے زایان کی کرتوت اسے بتانے لگی
انہیں اس کی بات سن کر ہنسی آگئی
آپا آپ بھی ہنس رہی ہیں۔۔۔۔
وہ مایوس ہوکر بولی
بیٹا شوہر ایسے ہی ہوتے ہیں جب بیوی آجاتی ہے تو اپنے سارے کام ان سے کرانے کی عادت ہوجاتی ہے وہ تم سے پیار بھی تو بہت کرتا ہے نا۔۔۔۔۔
سارے کپڑے ہینگ کرنے کے بعد وہ دونوں انہیں ڈریسنگ روم میں لے آئی اور الماریوں میں سیٹ کرنے لگی
آپا پتا ہے مجھے کیا لگتا ہے وہ میرا خیال صرف اپنے بچے کیلئے رکھتے ہیں ہر وقت صرف بچے کی باتیں کرتے رہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ انہیں بیٹی چاہے کبھی بیٹا چاہئے اور کبھی دونوں چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔
کپڑے سیٹ کرنے کے بعد وہ دونوں صوفے پر بیٹھی جب ربانیہ اسے بتانے لگی
جب بچہ ہوجائے گا وہ تو مجھے بھول ہی جائے گے ۔۔۔۔۔
وہ منمنائی ہوگئی
ارے ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ظاہر ہے اس کی پہلی اولاد ہے خوش تو ہوگا نہ اور جب بچہ ہوجائے گا تو دیکھنا کیسے وہ تم دونوں کا خیال رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدہ ہوکر اسے سمجھانے لگی اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا
اچھا بتائو ڈاکٹر نے کیا کہا کہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔
ہا دو دن پہلے ہی گئے تھے ہم ڈاکٹر نے کہا ہے کہ چھٹا ماہ شروع ہونے والا ہے زیادہ اپنے کھانے پینے پر دھیان دو اور ۔۔۔۔۔
اور۔۔۔۔۔
وہ رکی تو نگار نے پوچھا
زایان نے پوچھا تھا کہ بیٹا ہے یہ بیٹی تو ڈاکٹر ہنسنے لگی اور کہا کہ انہیں کنفرم نہیں ہے مگر لگتا ہے کہ جڑوا بچے ہیں ۔۔۔۔۔
ساتواں ماہ شروع ہوگا تو بتائیں گے
وہ بلکل سنجیدہ سی ایک ایک بات نگار کو بتانے لگی
ارے یہ تو بہت خوشی کی بات ہے بہت مبارک ہو تمہیں ۔۔۔۔۔
جڑوا بچوں کا سن کر تو نگار کی خوشی دگنی ہوگئی
ربانیہ بس ہلکا سا مسکرائی
کیا ہوا بیٹا تم خوش نہیں ہو ۔۔۔۔
اسے چپ بیٹھا دیکھ نگار کو پریشانی ہوئی
آپا میں تو ایک بچہ سنبھالنے سے ڈر رہی تھی اور اگر سچ میں جڑوا بچے ہوئے تو ۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں پریشانی لیے بولی
ارے پاگل یہ کیا بات ہوئی ایسے بھی کوئی کہتا ہے وہ بھی اپنی پہلی اولاد کے بارے میں جب تمہارے بچے ہوجائے گے نہ تم دیکھنا تمہارے دل میں خود بخود ان کیلیے پیار بھی جائے گا پھر تم سارا دن انہیں گود میں اٹھائے پھرو گی اور کسی کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دوگی اور سب سے بڑی بات زایان ہے نا ایک وہ سنبھالے گا ایک تم سنبھالنا اور ہاں بچوں کے ڈائپر اسی سے تبدیل کروانا
آخری بات نگار نے شرارت میں بولی تو وہ کھل کر ہنسی
آپا پتا ہے آپ کی باتیں دل کو ایک سکون دیتی ہے بس سنتے جانے کا دل کرتا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کے گلے لگی لاڈ سے بولی
اچھا یہ تو بتائو جڑوا بچوں کا سننے پر زایان کا کیا ریکشن تھا
پہلے تو جب ڈاکٹر نے بتایا تو انہیں ایسی چپ لگی کہ میں خود بھی ڈر گئی پھر جب ہم کار میں بیٹھے تو ان کی ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی ۔۔۔۔
کہنے لگے کہ ربانیہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ میں جڑوا بچوں کا ڈیڈ بننے والا ہو پھر تو سارے رستے وہ اور ان کے بچوں کی باتیں
ابھی ہم نے گھر میں بھی کسی کو یہ بات نہیں بتائی وہ چاہتے ہیں جب کنفرم ہو جائے گا تو سب کو سرپرائز دے گے
اچھا صحیح ہے میں بھی کسی کو نہیں بتائو گی اور ڈاکٹر نے کوئی خطرے والی بات تو نہیں بتائی۔۔۔۔
نگار کے پوچھنے پر ربانیہ تھوڑی پریشان ہوگئی
ہاں وہ کہ رہی تھی کہ آپریشن ہوگا نارمل کے چانسز بہت ہی کم ہیں ۔۔۔۔۔
اچھا اللہ خیر کرے گا تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔
نگار نے اسے گلے لگائے حوصلہ دیا
۔۔۔۔۔۔
آج ایمن اور فیصل آنے والے تھے تو صبح سے سلمی بیگم ان کیلئے ایمن کا کمرہ سیٹ کروا رہی تھی جبکہ ربانیہ تو ان کا سن بہت خوش تھی ساری رات وہ زایان کے ساتھ پلین کرتی رہی کہ ایمن جب آجائے گی تو وہ اس کے ساتھ گھومنے کا پلان بنائے گے اور وہ بیچارہ اس کی پلیننز سنتے سنتے ہی نیند کی وادیوں میں گم ہوگیا
شام میں وہ رایان سلمی بیگم اور حسان میں بیٹھے ایمن اور فیصل کے آنے کا انتظار کررہے تھے جبکہ زایان نے اپنی میٹنگ کی وجہ سے دیر سے آنے کا بتایا تھا
وہ ابھی سب باتیں ہی کررہے تھے جب باہر سے ہارن کی آواز آئی شادی کے بعد ایمن پہلی دفعہ میکے رہنے آرہی تھی اسی لیے سب بہت خوش تھے
وہ اور فیصل ایک ساتھ اندر آئے تو رایان سب سے پہلے بھاگا اور فیصل کے گلے ملا
سلمی بیگم اور ربانیہ بھی ایمن سے گلے ملی
وہ سلمی بیگم اور ربانیہ ایک ساتھ بیٹھے اپنی باتیں کررہے تھے ایمن پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی ربانیہ نے اسے کہا تو وہ شرمائی
تھوڑی دیر تک زایان بھی آگیا تھا وہ بھی ان دونوں سے ملا پھر سلمی بیگم نے ان دونوں کو آرام کا کہ کر کمرے میں بھیج دیا اور ربانیہ ڈنر فریدہ کے ساتھ ڈنر کے کاموں میں لگ گئی
۔۔۔۔۔
چلے میں نے ڈنر لگا دیا ہے آپی اور فیصل بھائی بھی آرہے ہیں ۔۔۔۔۔
زایان چینج کرکے ابھی لیٹا تھا کہ ربانیہ کمرے میں آئی اور اسے بتایا
تم سے کتنی بار کہا ہے کہ زیادہ سیڑھیاں مت چڑھا کرو فریدہ کو بھیج دیتی ۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے اپنے سامنے بٹھایا سمجھانے لگا
کچھ نہیں ہوتا اچھی بھلی ہو میں آپ ایسے ہی خوام خواہ پریشان ہورہے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسے ریلکس کرتی بولی جبکہ اب اسے بھی سیڑھیاں چڑھنے اترنے میں مسئلہ ہوتا تھا
تم تو اچھی بھلی ہو مگر کیا ہے نہ میرے دونوں بےبیز رات کو مجھے تمہارے سارے دن کے قصے سناتے ہیں کہ تم انہیں لے کر کہا کہا گھومتی رہی ہو ۔۔۔۔۔
وہ اس کی گود میں سر رکھتا شرارت سے بولا
زایان!!! ابھی سے ابھی تو کچھ کنفرم نہیں ہے نا جب کنفرم ہو جائے نا تب شوق سے پورے گھر میں اعلان کیجئے گا
وہ بیزاری سے بولی
مگر مجھے پتا ہے کہ میں دو بچوں کا ڈیڈ بننے والا ہو ۔۔۔۔۔
وہ بھی بضد تھا
اچھا جی وہ کیسے۔۔۔
وہ بھی انجوائے کرتی پوچھنے لگی
وہ میں تمہیں ڈنر کے بعد بتائو گا ابھی چلو نیچے ورنہ میرا ارادہ تبدیل ہوجائے گا۔۔۔۔
وہ اٹھا اور اس کو دیکھتے ہوئے معنی خیز بولا تو ربانیہ نے اسے گھوری سے نوازا
چلو بعد میں گھور لینا ۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے نیچے چلا گیا
۔۔۔۔
ڈنر کرنے کے بعد تمام افراد حال میں بیٹھے خوش گپوں میں مصروف تھے
فیصل ایمن کے ساتھ بیٹھا اور زایان ربانیہ کے ساتھ اور بیچارہ رایان حسان کے ساتھ بیٹھا تھا اس کی یونیورسٹی ایک ماہ پہلے ہی ختم ہوئی تھی اور اب اگلے ہفتے اسے زایان کے ساتھ آفس جوائن کرنا تھا
زایان بھائی آپ کی بھی فیملی کمپلیٹ ہونے والی ہے اور فیصل بھائی آپ بھی اپنی فیملی پلیننگ کے بارے میں سوچ رہے ہیں ایک مجھ معصوم کا۔کسی کو خیال نہیں آتا چوبیس کا ہونے والا ہو مگر کسی کو میری فیملی کی کوئی ٹینشن نہیں ہئے میری قسمت ۔۔۔۔۔۔
سب لوگوں کی توجہ کا مرکز خود کو بنا کر وہ حسان کے کندھے پر جھک جھوٹے آنسو بہانے لگا
سب لوگ اس کی اس حرکت پر چونک کر اسی کو دیکھ رہے تھے
کیا ہوا ہے بھائی اتنا ایموشنل کیو ہورہا ہے۔۔۔۔۔ فیصل اس کے پاس آکر پوچھنے لگا
فیصل بھائی لگتا ہے ماما اور بھائی میرے بال سفید کرنے کے بعد میری شادی کا سوچے گے ۔۔۔۔۔
اب وہ فیصل کے کندھے پر جھک کر اپنے دکھڑے رونے لگا
کیا مطلب ہے کہ تم شادی کرنا چاہتے ہو زایان نے حیران ہوکر پوچھا
اب آپ لوگ بندے کے منہ سے زبردستی بات اگلوا کر ہی رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ ویسے ہی فیصل کے کندھے پر زایان کو ایک آنکھ سے دیکھ کر بولا
ربانیہ تمہیں بھی تو دیورانی کی ضرورت ہوگی جو تمہاری دن رات خدمت کرے تم اس پر جیٹھانی والا رعب جمائو
بات گھما کر اس نے ربانیہ پر ڈالی وہ بیچاری اس کی آس بھری نظریں دیکھ کر سر میں ہلاتی رہ گئی
اور بہنا تمہیں بھی تو اب نئی بھابھی چاہیے ہوگئ نہ ۔۔۔۔۔۔
ربانیہ کے بعد وہ ایمن سے بولا وہ پورا منہ کھولے اس کی بات سن رہی تھی
اور ماما اب کیا آپ اپنی زندگی میں صرف زایان بھائی کے بچے دیکھتی رہے گی میں آپ کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔۔
وہ سلمی بیگم سے رونے والے انداز میں بولا۔
ہاں تم کہ تو ٹھیک رہے ہو مگر ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم کے کہتے ہی وہ خوشی سے ان کے گھٹنوں میں آبیٹھا
تو پھر ماما کرا دے نہ میری شادی اپنے اس بچے کے کمرے کو بھی آباد کر دے نا ۔۔۔۔۔۔
وہ ان کا ہاتھ پکڑے خوشامد کرنے لگا
مگر بھائی شادی کرنے کیلئے ایک عدد لڑکی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
زایان اس کی ڈرامے بازی کو دیکھتا ہوا بولا
ہاں تو لڑکی میں نے ڈھونڈ لی ہے آپ بس جانے کی تیاری کرے۔۔۔۔۔
وہ سلمی بیگم کے پاس صوفے پر بیٹھا اور زایان کو بتانے لگا
کون سی لڑکی۔۔۔۔ سب نے یک وقت کہا ۔۔
وہ سب کی کے اس طرح کہنے سے نروس ہوگیا
وہ آپ سب اسے جانتے ہیں وہ نظریں نیچے کیے شرماتے ہوئے بولا
کون ہے وہ ۔۔۔۔اب کی بار ایمن نے پوچھا
آغوش۔۔۔۔
دل کی بے قابو ڈھرکنوں کو قابو کرتے ہوئے وہ بولا
آغوش ۔۔۔۔
سب پھر یک وقت بولا وہ بیچارہ تو شرما کر کمرے میں ہی بھاگ گیا
