Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 51 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 51 Part 2
پارٹ2
وہ دونوں اس وقت اپنی ماں کی گود پے سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے اور ربانیہ ان کے بالوں میں اپنے نرم ہاتھ پھیر رہی تھی
“مما آپ سے ایک بات بولو “
ان میں ایان ایک بولا
“جی میری جان بولو “
ربانیہ نے اس کے گال کو چومتے ہوئے کہا
“مما میرا دوست ہے نا ارحم اس کے بابا نے اسے نیو سائیکل دلائی ہے مما آپ بھی مجھے دلائو نہ یہ آپ میرے ڈیڈ کو بلائو وہ مجھے نیو سائیکل لے دے گے پھر میں اسے ارحم کو بھی دکھائو گا”
وہ معصوم اس وقت کیا بولے جارہا تھا اسے خود بھی نہ پتا تھا
اس کی باتیں سن کر ربانیہ
کی آنکھیں بھر آئیں
“ہاں نہ مما مجھے بھی چاہیے سائیکل میرے سارے فرینڈز کے پاس ہے پلیز “
اپنے بھائی کی بات سن کے روحان نے بھی اپنی خواہش ظاہر کی
ان کی ماں نے انھیں اپنی گود سے اٹھایا
“کیو نہیں میں دلائو گی اپنے اینجلز کو سائیکل آپ دونوں اللہ سے دعا کرو کہ آپ کی مما کے پاس بہت سارے پیسے آجائے پھر آپ جو بولوں گے وہ دلائو گی”
ان دونوں نے خوشی سے ربانیہ کو گلے لگایا
“سچی مما” دونوں نے یک وقت بولا
“مچی میرے اینجلز “
“چلو بڈی پھر ہم دعا کرتے ہیں “
ان میں سے ایک نے دوسرے کو بولا
“ہاں بڈی چلو”
وہ دونوں اپنی ماں کے کمرے سے چلے گئے
پیچھے ان کی ماں کو مایوسی نے آگھیرا
علی ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا کبھی بھی انہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی مگر شاید ایک باپ کا پیار صرف انہیں زایان ہی دے سکتا تھا صرف زایان
۔۔۔۔۔۔
مامو آپ میری بات کو سمجھے آپ جائے ان کے گھر ۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیٹھی عمر صاحب سے بات کررہی تھی
مگر تیمور اس سب کیلئے کبھی بھی نہیں مانے گا ربانیہ ۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے عمر صاحب مایوس ہو کر بولے
اگر آپ نے کبھی بھی مجھے اپنی بیٹی مانا ہے تو پلیز آپ میرا بھرم رکھ لے ۔۔۔۔۔۔
وہ مان سے بولی
مگر کیا زایان مانے گا کیا ایمن مانے گی اس سب کیلئے ۔۔۔۔۔
وہ میری ٹینشن ہے آپ بس جانے کی تیاری کرے
وہ جلدی سے بولی
ٹھیک ہے مگر آگے جو بھی فیصلہ ہوگا اس میں میرا کوئی بھی ہاتھ نہیں ہوگا میں تیمور کو منا لونگا باقی آگے اللہ مالک ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
تین ہفتے ہو گئے تھے اسے واپس آئے بچوں سے اکثر وہ فون پر بات کرلیا کرتا تھا مگر ربانیہ اس سے بات نہیں کرتی تھی
وہ ابھی آفس سے آیا تھا رایان تو ایک مہینے سے شہر سے باہر تھا اسے تو یہ پتا ہی نہ تھا کہ وہ سب ربانیہ سے مل چکے ہیں
آغوش نے سوچا تھا کہ جب وہ واپس آئے گا تب اسے ربانیہ کے بارے میں بتائے گی
وہ جس کرب میں تھا شاید اب ان کے درمیان سب ٹھیک ہونے والا تھا
ابھی وہ چینج کرکے آیا ہی تھا کہ دروازہ ناک ہوا
آجائے ۔۔۔۔۔
اس کے کہتے ہی سلمی بیگم اندر آئی
ماما آپ مجھے بلا لیتی میں آجاتا ۔۔۔۔
سلمی بیگم کے بیٹھتے ہی وہ بولا
تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
انھوں نے سنجیدہ ہوکر بولا
جی بولے ۔۔۔۔
وہ اب کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا
تم جانتے ہو نا کہ تیمور کی بیوی کی ڈیتھ ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔
تیمور کے ذکر وہ چونکا
تو۔۔۔
آج عمر بھائی آئے تھے تیمور کیلیے ایمن کا رشتہ لے کر ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے جیسے ہی اپنی بات مکمل کی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا
ماما آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ میں اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں اور آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اس سے اپنی بہن کی شادی کروائو گا ۔۔۔۔۔
وہ تیمور سے اب بھی نفرت کرتا تھا اسے لگتا تھا کہ ربانیہ صرف اس کی وجہ سے اس سے دور ہوئی ہے
یہ سب تمہارے دماغ کا فتور ہے تیمور ایک نہایت ہی شریف اور سلجھا ہوا انسان ہے اور مجھے بتائو کیا ایمن ساری زندگی عبیر کے ساتھ اکیلے رہے گی کیا وہ اہنی زندگی میں ایک بہترین ہم سفر نہیں چاہے گی ۔۔۔۔۔
ماما مجھے کچھ وقت دے میں فلحال اس پوزیشن میں نہیں ہو ۔۔۔۔۔
اس نے اپنی بات کہی تو سلمی بیگم سمجھتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔
سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا وہ کوئی ای میلز دیکھ رہا تھا جب اس کا فون بجا
وہ اٹھ کر بیڈ کی طرف آیا اور اپنا فون اٹھایا
سکرین پر چمکتا نام دیکھ کر اس نے گھڑی میں وقت دیکھا
جو رات کے بارہ بجا رہی تھی
یہ دونوں ابھی تک جاگ رہے ہیں
اس نے سوچا پھر کال ریسیو کی
تم دونوں ابھی تک جاگ رہے ہوں ۔۔۔۔
فون کان سے لگاتا وہ دوبارہ سٹڈی ٹیبل پر آیا
بچے سو رہے ہیں مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے وہ ہمت جمع کرکے بولی
ربانیہ کی آواز سن کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا
یاد آگیا تمہیں کہ تمہارا کوئی شوہر بھی ہے ۔۔۔۔۔
طنز کے تیر چلانا تو اسے بخوبی آتے تھے
آپ بھی تو بھول جاتے ہیں کہ آپ کی کوئی بیوی بھی ہے
ربانیہ کی بات سن کر اس کے ہونٹوں پر گہری مسکان آئی
میں کیسے بھول سکتا ہو میں تو آیا تھا تمہیں لینے تم ہی نے کہا تھا کہ واپس نہیں آئو گی اب میں تمہیں اٹھا کر تو لا نہیں سکتا یہاں اور اگر ایسا ویسا کچھ کیا بھی تو آگے تم خود سمجھدار ہو بچی تو اب رہی نہیں ۔۔۔۔
آج مامو آئے تھے آپ کے گھر ۔۔۔۔
وہ مدعے پر آئی
ایک ہی وقت میں ناجانے اسے کتنے جھٹکے ملے
تمہیں کیسے پتا ۔۔۔۔۔
زایان آپ ان کی بات پر غور تو کرے ۔۔۔۔۔
ایک منٹ انہیں تم نے کہا تھا یہ سب ۔۔۔۔۔
وہ سب کام چھوڑ کر اٹھا اور بالکونی میں آیا
کیا آپ کو آپی کی خوشی عزیز نہیں ہے آپ نہیں چاہتے کہ ان کی زندگی میں بھی کوئی ایسا ہو جو ان کو سمجھے اور زندگی میں ایک ہم سفر کا ہونا بہت ضروری ہے اور کیا عبیر ہمیشہ باپ کے پیار کیلیے ترستا رہے گا۔۔۔۔۔
اور اگر یہی بات میں تم سے کہو تو ق
کیا ہمارے بچوں کا باپ کے پیار پر کوئی حق نہیں کیا ہماری زندگی میں ایک ہم سفر کی کمی نہیں ہے
ربانیہ کی زبان کو بریک لگا
ہماری بات الگ ہے ۔۔۔۔
فلحال آپ آپی کی بات کرے
اس نے بات کا رخ بدلا
ایمن کبھی نہیں مانے گی ۔۔۔۔۔
اگر آپ ان سے بات کرے گے تو وہ ضرور مان جائے گی پلیز آپ اسے میری آخری خواہش کے طور پر مان لے میں اپنی بات صرف آخری بار آپ سے منوا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔
صحیح وقت پر دکھتی رگ دبائی ہے تم نے میری
اسکے کہتے ہی ربانیہ کی نظریں جھک گئی
تو آپ میری بات مان رہے ہیں ۔۔۔۔۔
مان نہیں رہا صرف حامی بھری ہے آخری فیصلہ ایمن کا اپنا ہوگا ۔۔۔۔۔
ربانیہ مسکرائی
تم نے ہمارے بارے میں کیا فیصلہ کیا
کیا چاہتی ہو اب تم ۔۔۔۔
وہ کمرے میں آکر بیڈ پر لیٹ گیا
مطلب۔۔۔۔
وہ ناسمجھی میں بولی
اب تم وہ سترہ سال کی لڑکی تو رہی نہیں جسے ہر بات سمجھانی پڑتی تھی مطلب یہ کہ تم اس رشتے کو رکھنا چاہتی ہو یہ پھر آزاد ہونا چاہتی ہو
کیونکہ تم اب دکھتی رگ دبا ہی رہی ہو تو پوری دبائو تاکہ خون ایک ہی دفعہ نکلے تکلیف بھی ایک ہی دفعہ ہو ساری زندگی کے پچھتاوے سے بچ جائے گے ہم دونوں ۔۔۔۔۔
زایان جب آپ میرا جواب جانتے ہیں تو پھر بار بار کیو پوچھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
زایان نے گہرا سانس لے غصہ دبایا
ٹھیک ہے پھر میں مزید تم پر اس رشتے کا بوجھ نہیں ڈالو گا جلد ہی تمہیں آزاد کردو گا ۔۔۔۔
اس نے کہا اور کال کاٹ دی
دوسری طرف یہ سن کر اسے شاک لگا دل تھا کہ
ہلک کو آگیا تھا
۔۔۔۔۔
وہ عبیر کے ساتھ کھیل رہی تھی جب زایان کمرے میں آیا
ارے بھائی آئے نا ۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہی مسکرا کر بولی
زایان کے ساتھ سلمی بیگم بھی کمرے میں آئی
وہ دونوں اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے
ایمن ہمیں تم سے ایک بات کرنی ہے ۔۔۔۔
زایان چہرے پر سنجیدگی سجائے بولا
ایمن کو کچھ سمجھ نہ آیا آج سے پہلے اس نے ان دونوں کے چہرے پر ایسی سنجیدگی نہ دیکھی تھی
جی بولے ۔۔۔۔
زایان نے سلمی بیگم کو دیکھا
جیسے کہہ رہا ہو آپ ہی بات کرے
ایمن عمر بھائی آئے تھے ۔۔۔۔۔
انھوں نے بات کا آغاز کیا
وہ چپ کیے انھیں سن رہی تھی
وہ تمہارے اور تیمور کے رشتے کیلیے آئے تھے ۔۔۔۔
ایمن کی آنکھیں یہ سنتے ہی کھلی کی کھلی رہ گئی
یہ آپ کیا کہ رہی ہیں ماما ۔۔۔۔
ایک منٹ پہلے پوری بات سن لو کوئی زور زبردستی نہیں کررہا تم پر آخری فیصلہ تمہارا ہی ہوگا
زایان نے اسے ریلکس کیا
ایمن ہم چاہتے ہیں تم اس بات پر غور کرو
تم تیمور سے ملو اس سے بات کرو اسے سمجھو جہاں تمہارا ایک بیٹا ہے وہی اس کی بھی ایک بیٹی ہے اس کی اپنی بیٹی نہ سہی مگر اس نے اسے اپنی بیٹی سمجھ کر پالا ہے ۔۔۔۔
ہم چاہتے ہیں کہ تم اس بارے میں سوچوں باقی جو تم چاہو گی ہم وہی کرے گے ۔۔۔۔
زایان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور سلمی بیگم کے ہمراہ باہر چلا گیا
