Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

وہ کچھ دنوں سے زایان کا رویہ نوٹ کررہی تھی وہ اس سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا رات کو جلدی سو جاتا تھا اور صبح جلدی چلا جاتا ایک بار تو اس کا ریگولر چیک اپ بھی بھول گیا تھا اس نے کئی بار اس سے پوچھا بھی تھا کہ کیا اس سے کوئی غلطی ہوئی ہے مگر وہ اسے ان سنا کر جاتا وہ اسی بات کو لے کر پریشان تھی اس نے نگار کو بھی بتایا تھا کہ زایان کا رویہ اس سے بلکل مختلف ہے وہ اس سے اب بات بھی کم کرتا ہے صرف ضرورت کی بات
نگار نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے آزمائے مطلب کچھ ایسا کرے کہ وہ خود بخود اپنی پریشانی اسے بتائے
آہ ہ۔۔۔
رات کے تین بجے اس کے پیٹ میں درد ہوا تو وہ آٹھ بیٹھی
“کیا ہوا تمہیں” زایان کو جب اس کی آواز آئی تو وہ اٹھا اپنی سائڈ والا لیمپ جلایا اور اس سے پوچھنے لگا
“کچھ نہیں” اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا
اس کا ساتواں ماہ چل رہا تھا اور ڈاکٹر نے اسے بتایا دیا تھا کہ اسے جڑوا بچے ہیں
اس نے اس کی میڈیسن اٹھائی اور پانی کا گلاس اس کے آگے کیا
اس نے وہ دوائیاں اس کے ہاتھ سے لی اور کھالی
“ہوا کیا ہے اب بتائو گی”
اس بار ذرا سختی سے پوچھا
“پتا نہیں کیو درد ہوتا پھر رک جاتا ہے پھر دوسری جگہ ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کوئی مار رہا ہے”
اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھے کہا
اس کی بات سن کر زایان نے قہقہ لگایا
آپ ہنس کیو رہے ہیں۔۔۔۔
اس نے حیرانی سے پوچھا
“مجھے لگتا میرے بچے بہت زیادہ شیطان ہیں اس لیے لاتیں مار رہے ہیں۔۔۔۔
اس نے ربانیہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا
اس کی بات سن کر وہ بھی اپنی ہنسی روک نہ پائی
کچھ دیر بعد اسے حیرانی سے دیکھنے لگی
“کیا” اس کی نظروں کا تسلسل اپنی اور دیکھ اس نے پوچھا
“دیکھ رہی ہو کہ اولاد واقعی انسان کو بدل دیتی ہے”
اس کے اس قدر بولنے سے وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اپنی جگہ کا لیمپ بجھا کر اس کی طرف اپنی پشت کیے سو گیا
وہ کتنی دیر اس کی پشت دیکھتی رہی پھر خود بھی سوگئی
اسے لگا شاید اس کے اس طرح کہنے سے زایان اپنے دل کی بات اسے بتا دے مگر وہ پھر مایوس ہوگئی
۔۔۔۔
زایان ایک مہینے کیلئے کام کے سلسلے میں دبئی گیا تھا اس نے آج نگار کو ضد کرکے اپنے پاس روکا تھا کہ وہ پوری رات اکیلی ہوتی ہے آج وہ اس کے پاس رک جائے
ایمن تو ایک ہفتے پہلے ہی واپس چلی گئی تھی سلمی بیگم کی طبیعت کی وجہ سے وہ ان کو پریشان نہیں کرتی تھی
نگار نے اس کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دیے
رات کو اسے نیند نہیں آرہی تھی تو وہ نگار کو جگا کر اپنے ساتھ لان میں لے آئی
آپا آپ نے کہا تھا کہ زایان کو پرکھو مگر پتا نہیں کیو مجھے ان کا یہ رویہ کھٹکتا ہے مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے کسی بات پر ناراض ہیں پہلے ہر وقت وہ مجھ سے کوئی نہ کوئی بات کرتے رہتے تھے مگر اب تو میں بات کرنے کا بہانہ ڈھونتی رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کافی مایوس ہوکر انہیں بتا رہی تھی
جانتی ہو ربانیہ ہم چاند کو دیکھ کر اس کی خوبصورتی میں اس قدر گم ہوجاتے ہے کہ اسے چھونے کی پانے کی خواہش ہمارے اندر خودنخود پیدا ہوجاتی ہے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تو صرف نظر کا دھوکہ ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے اور وہی رہے گا۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت چاند کی طرف دیکھ رہی تھی

آپ کی باتیں میرے سر سے گزر رہی ہے آپا۔۔
“ربانیہ چاند بظاہر تو خوبصورت ہے مگر ذرا سی گھٹائیں اسے ڈھک دیتی ہے ہمیں یو محسوس ہوتا ہے کہ بارش ہونے والی ہے اور اب آسمان تاریک ہوجائے گا چاند جو اپنی پوری تاب سے آسمان کو روشن رکھتا ہے اسے وہ کالے بادل اپنے اندر چھپا لیتے ہیں اس کی خوبصورتی چمک جو ہماری آنکھوں کو چھندھیا دیتی ہے ہوا کا ایک جھونکے سے یہ ان بادلوں تلے چھپ جاتا ہے تو ہمیں پتا چل جاتا ہے کہ بارش ہونے والی ہے اب ہمیں اپنی چھتوں تلے رہنا چاہیے تاکہ ہم بھیگ نہ جائے”۔۔۔۔
“تو آپ کہنا چاہتی ہیں کہ مجھے زایان کو ابھی پرکھنا ہے کیونکہ گھٹا کا ایک کالا بادل ان کے قدموں پر حاوی ہوسکتا ہے”۔۔۔
ربانیہ کے الفاظ سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“پرکھو نہیں اسے سمجھو کہ آخر اس کے رویہ تمہیں کیو کھٹکا تم دونوں ایک دوسرے کا لباس ہو تم اس سوراخ کو ڈھونڈو جس سے اس لباس میں چھید ہوا ہے”۔۔۔
آپا وہ مجھے کچھ بتائیں نہ آخر ایسا کیا ہوا ہے مگر وہ مجھے کچھ بتاتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔
وہ ان کے گلے لگے رونے لگی
بیٹا تم رو نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا ہوسکتا ہے اسے آفس کی کوئی ٹینشن ہو ۔۔۔۔
اس کا رونا انہیں بہت تکلیف دیتا تھا
۔۔۔۔۔
آج اس کا ڈاکٹر کے پاس ریگولر چیک اپ تھا سلمی بیگم تو اپنے رشتے دار کی شادی کیلئے دوسرے شہر گئی ہوئی تھی پچھلی بار بھی وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جا پائی اسی لیے اس بار اسے لازمی جانا تھا زایان کو گئے ہوئے بیس دن ہوچکے تھے مگر اس نے ایک بار بھی ربانیہ کو کال نہیں کی تھی اور اسے یہی بات اندر ہی اندر کاٹ رہی تھی کئی بار تو وہ اس کیلئے روئی بھی تھی کہ آخر اس سے ایسی کیا غلطی ہوئی ہے جو وہ اس سے اتنا لاتعلق ہوگیا ہے
اس نے ڈرائیور کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی تھی
وہ ڈرائیور کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی
۔۔۔۔
وہ کل رات ہی واپس آیا تھا فرحین کی باتیں کہی نہ کہی اس کے دل میں شک کا بیج ڈال گئی تھی وہ جب بھی ربانیہ کو دیکھتا اسے فرحین کی دکھائی وہ تصویریں یاد آجاتی ربانیہ سے لاتعلقی اسے بھی برداشت نہیں تھی اور جب اس رات اس نے یہ کہا کہ اولاد واقعی انسان کو بدل دیتی اسے شدت سے احساس ہوا کہ اس کا رویہ ربانیہ کو کتنا برا لگتا ہے
مگر وہ چاہ کر بھی وہ تصویریں نہیں بھلا پا رہا تھا رات کو آتے ہی وہ سیدھا آفس چلا آیا کیونکہ وہ ربانیہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔
وہ ابھی چیک اپ کرا کر باہر نکلی تھی اور پیاس کی وجہ سے کینٹین چلی آئی کہ اس کی نظر ریسیپشن پر کھڑے تیمور پر پڑی جو وہاں وارڈ بوائے سے بات کررہا تھا وہ سیرت سے فون پر اس کی کنڈیشن پوچھتی رہتی تھی مگر ہر بار وہ اسے ناامیدی کا جواب ہی دیتی
مگر کچھ دنوں سے وہ اس سے بات ہی نہیں کرپائی تھی
وہ سیرت کی طبیعت پوچھنے کیلئے اس کے پاس آئی
تیمور بھائی ۔۔۔۔
تیمور کی پشت اس کی طرف تھی جب اس نے آواز لگائی
ربانیہ تم یہاں ۔۔۔۔
تیمور نے اسے دیکھتے ہی پوچھا
جی میں چیک اپ کیلئے آئی تھی آپ یہاں کس لیے ۔۔۔۔
اس نے پوچھا تو تیمور نے وارڈ بوائے سے فائل لی
کینٹین میں چل کر بات کرے ۔۔۔۔۔
وہ تیمور کے پیچھے کینٹین میں چلی گئی
کرسی سنبھالتے ہی اس نے سیرت کی رپورٹس اس کے آگے کی
انہیں پڑھتے ہی وہ حیرانی سے تیمور کو دیکھنے لگی
مطلب کوئی چانسز نہیں ہے ابوٹ کے علاوہ ۔۔۔۔
اس نے مایوسی بھرے لہجے میں پوچھا
ہاں ڈاکٹر نے کہا ہے اس کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے اگر ہم نے زبردستی ایسا کیا بھی تو سیرت کی جان کو خطرہ ہے اسی لیے پرسو کا ٹائم دیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ اور سیرت دو ماہ سے علاج کروا رہے تھے مگر اس کی کنڈیشن دن بدن ڈائون ہوتی جارہی تھی اسی لیے اب وہ انھوں نے مل کر یہ فیصلہ لیا تھا
اچھا آپ پریشان مت ہو اللہ سب بہتر کرے گا ۔۔۔۔۔
اسے تیمور کی حالت دیکھ کر کافی افسوس ہوا
تم کس کے ساتھ آئی ہو۔۔۔
میں ڈرائیور کے ساتھ آئی ہو زایان نہیں ہے نہ یہاں کام کے سلسلے میں دبئی گئے ہیں ۔۔۔۔
وہ اسے بتا رہی تھی کہ دور کھڑی فرحین آنکھ پر آنکھ ٹکائے انہیں دیکھ رہی تھی وہ یہاں اپنی فرینڈ سے ملنے آئی جو کہ یہاں کی ڈاکٹر تھی
ایکسکیوز می۔۔۔
اس نے وارڈ بوائے کو آواز لگائی
جی میڈم ۔۔۔۔۔
یہ جو سامنے بیٹھے ہیں وہ دو لوگ وہ کس لیے آئے ہیں یہاں۔۔۔۔
اس نے سامنے بیٹھے ربانیہ اور تیمور کی طرف اشارہ کیا
آپ تیمور سر کی بات کررہی ہے ۔۔۔۔
وارڈ بوائے نے کہا تو فرحین نے ہاں میں سر ہلایا
جی وہ اور ان کی وائف بچہ نہیں چاہتے اسی لیے ابوٹ کررہے ہیں پرسو ان کی اپائمنٹ ہے ڈاکٹر عمیرہ کے پاس۔۔۔۔
وارڈ بوائے نے بتایا تو فرحین سوچو کے بھنور کے پھنس گئی کہ وہ تیمور کے ساتھ یہ سب کرنے ہوسپیٹل آئی ہے
ربانیہ اور تیمور جانے کیلیے باہر نکلے تو وہ جلدی سے چھپ گئی
۔۔۔۔
تمہیں کوئی دوسرا کام نہیں ہے جب میں تمہیں بتا چکا ہو کہ مجھے تم سے کوئی سروکار نہیں تو پھر ۔۔۔۔۔
وہ آفس میں بیٹھا تھا جب فرحین کی کالز پر کالز آنے لگی
ویٹ بے بی ویٹ پہلے میری بات تو سن لو ۔۔۔۔
ربانیہ اور تیمور کے جاتے ہی اس نے زایان کو کال لگائی تھی
بکو جلدی۔۔۔
لیپ ٹاپ پر دیکھتے ہوئے انتہائی سرد لہجے میں جواب آیا
یہ جو تمہاری معصوم پاکیزہ ربانیہ ہے نا اپنے عاشق کے ساتھ ہوسپیٹل آئی ہوئی تھی ابھی دیکھا ہے میں نے اس سے ۔۔۔۔
زایان کے یہ سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہوگئے
پوچھو گے نہیں کہ کیو آئی تھی چلو کوئی نہیں میں ہی بتا دیتی ہو
اپنا بچہ ابوٹ کرنے آئی تھی وہ بھی کس کے ساتھ تیمور کے ساتھ ۔۔۔۔۔
وہ اسے بتاتی چلی جارہی تھی
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔۔۔۔
وہ غصے سے لب بھینچے بولا
میرا تو نہیں مگر تمہارا ضرور دماغ خراب ہے جو آنکھیں بند کیے گھوم رہے ہوں
یقین نہ آئے تو ابھی اسی کے ساتھ ہوسپیٹل سے نکلی ہے اور ہاں اس کے ہاتھ میں اپائمنٹ فائل ضرور دیکھ لینا اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو میں پکچرز سنڈ کررہی ہو ۔۔۔۔۔
وہ اس سے کہتی کال کاٹ چکی تھی
پکچرز دیکھتے ہی اس کے شک کو مزید ہوا ہوئی
اسے نے بغیر دیر کیے ڈاکٹر آئلہ کو کال ملائی
ہلو ڈاکٹر آج ربانیہ آپ کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔۔
کال یس کرتے ہی اس نے پوچھا
جی آج اس کا چیک اپ تو تھا مگر میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں شہر سے باہر ہو میرے سارے پیشنٹس میری کولیگ دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔
ان کے کہتے ہی زایان نے کال کاٹی اور بغیر دیر کیے گھر کیلئے نکلا
۔۔۔۔۔
وہ ڈرائیور کے ساتھ گھر پہنچی حال میں آئی تو اسے سامنے بیٹھا زایان نظر آیا
آپ کب آئے مجھے بتایا بھی نہیں ورنہ میں چیک اپ کیلئے نہ جاتی ۔۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ربانیہ کے چہرے پر ایک الگ ہی خوشی آئی
تمہاری فائل کہا ہے ۔۔۔
اسے بغور دیکھتے ہوئے پہلا سوال زایان نے کیا
وہ تو گاڑی میں رہ گئی ہے کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔
اس کی عجیب نظریں محسوس کرتے ہوئے اس نے پوچھا
نوید نوید ۔۔۔۔
اس نے نوید کو تقریبا چلا کر آواز دی کہ وہ بھاگتا ہوا اندر آیا
میڈم کی فائل گاڑی میں رہ گئی وہ لے کر آئو ۔۔۔
زایان کے کہتے ہی وہ باہر کو بھاگا
ہوا کیا ہے آخر مجھے تو بتائے۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑی اپنے انجام سے بلکل انجام زایان سے پوچھنے لگی جو قہر برساتی نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا
نوید فائل دے کر باہر چلا گیا
زایان نے فائل دیکھتے ہی غصے سے اس کے منہ پر ماری
تم یہ سب کرتی پھر رہی ہو میرے پیچھے۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہوئے زایان نے چیخ کر کہا کہ اس کی روح تک ہل گئی
کیا کیا ہے میں نے۔۔۔
وہ سمجھ نہ پائی کہ وہ کیا کہ رہا ہے
تم تیمور کے ساتھ یہ سب۔۔۔۔
نکلو میرے گھر سے
اس کا بازو پکڑ کر زایان نے غراتی آواز میں کہا
کیو نکلو میں ہوا کیا ہے میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔
وہ اپنا بازو اس کی پکڑ سے آزاد کرتی زایان کی آنکھوں میں حیرت سے دیکھنے لگی شاید اپنا قصور تلاش کررہی ہو
یہ تم اپنے عاشق سے جاکر پوچھنا نکلو میرے گھر سے ۔۔۔۔
وہ اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر کو لے جانے لگا کہ فریدہ آوازیں سن کر باہر بھاگتی ہوئی آئی
صاحب جی یہ کیا کررہے ہیں چھوڑے انہیں ان کی حالت تو دیکھے ۔۔
وہ ربانیہ کے پاس آکر اس کی بازو کو زایان کی پکڑ سے چھڑانے لگی
تم دفعہ ہوجائو اندر میں کہ رہا ہو دفع ہوجائو ۔۔۔
مگر صاحب جی۔۔۔۔
میں کہ رہا ہو جائو ورنہ تمہارا حشر برا کردو گا اندر ۔۔۔۔۔
زایان کی آواز نے فریدہ کی آواز کو بند کردیا ربانیہ کا حال دیکھ کر اسے بھی رونا آگیا
وہ فریدہ سے کہتا ربانیہ کو اسی حالت میں گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا سارے گارڈز اس کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے
زایان بات تو سنے میری میں نے کیا کیا ہے مجھے بتائے تو صحیح ۔۔۔۔۔
وہ اسے گھسیٹتا ہوا لے کر جارہا تھا جبکہ وہ اس سے مسلسل اپنا قصور پوچھ رہی تھی
اسے گیڈ سے باہر دھکہ دے کر اس نے گیڈ بند کردیا
اگر کسی نے گیٹ کھولا تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
وہ تماشائی بنے سارے گارڈز کو شہادت کی انگلی دکھائے اندر چلا گیا
زایان میری بات تو سنے میں کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ مسلسل باہر روتی ہوئی گیڈ پیٹ رہی تھی
۔۔۔
بیگم صاحبہ صاحب نے ربانیہ بی بی کو گھر سے نکال دیا ہے
زایان ایک گھنٹے تک حال میں بیٹھا رہا غصے اسے پاگل کردینے کو تھا
وہ کب سے کچن میں کھڑی زایان کے جانے کا انتظار کررہی تھی تاکہ وہ سلمی بیگم کو بتا سکے زایان کے کمرے میں جاتے ہی اس نے لینڈ لائن سے سلمی بیگم کو کال ملائی اور روتے ہوئے انہیں بتانے لگی
پاگل ہوگئی ہو تم فریدہ یہ کیا کہ رہی ہو
میں سچ کہ رہی ابھی ایک گھنٹے پہلے یہاں جو تماشہ ہوا میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی
اور رایان کہا ہے
وہ تو آفس میں ہے اور حسان بابا ابھی تک سکول میں ہے
یا میرے اللہ اس لڑکے نے کیا کیا کردیا
اب ربانیہ کہا ہے
جی مجھے نہیں پتا صاحب نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا وہ کتنی باہر گیٹ پیٹتی رہی مگر اب کوئی آواز نہیں آرہی میں نے گارڈ سے کہا بھی کہ مجھے باہر جاکر دیکھ لینے دو مگر صاحب نے انہیں گیٹ کھولنے سے منع کیا ہے
وہ اپنا رونا ضبط کرتی ایک ایک بات فریدہ کو بتانے لگی
تم گارڈ کو میرا کہ کر گیٹ کھلوائو اور دیکھو ربانیہ کو میں شہر سے باہر ہو دو گھنٹے تک آتی ہو اور مجھے بتاتی رہنا کہ ربانیہ کا
سلمی بیگم تو فریدہ کی بات سے ہل کر رہ گئی کہ زایان ایسا کرسکتا ہے