Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

اور کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھائے گے۔۔۔۔ وہ ویسی ہی کھڑی لاڈ سے اپنی شرطیں رکھنے لگی
زایان کے چہرے پر سنجیدگی آئی یا پھر پچھتاوا
نہیں اگر ایسا ہوا تو تم میرے یہ ہاتھ کاٹ دینا ۔۔۔۔
اور مجھ پر شک بھی نہیں کرے گے ۔۔۔۔
ایک اور حکم جو اسے سنایا گیا
نہیں کبھی نہیں کرو گا۔۔۔۔
ربانیہ چپ ہوگئی
اور کوئی حکم ۔۔۔۔۔
زایان نے اسے شانوں سے تھامے اپنے سامنے کھڑا کیا اور پوچھنے لگا
اس نے سر جھکائے نہ میں گردن ہلائی
وہ اس کا ہاتھ پکڑے بیڈ پر لایا اور اسے بٹھایا
میں ابھی آتا ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کا گال سہلاتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا
وہاں سے ایک بیگ لے کر باہر آیا
ربانیہ دیکھتے ہی پہچان گئی کیونکہ وہ یہ بیگ کتنے دنوں سے ڈریسنگ روم میں زایان کی کبڈ میں پڑا دیکھا تھا
زایان نے وہ بیگ صوفے پر رکھا
یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ربانیہ نے پوچھا
یہ فٹ بال ہے تمہارے ساتھ کھیلنا ہے اسی لیے لایا ہو ۔۔۔۔۔
اسے ربانیہ کا یہ سوال پسند نہ آیا تو وہ طنزیہ بولا اور بیگ کھولنے لگا
کیا اتنے بڑے بیگ میں فٹ بال ہے اور ہم اس ٹائم کھیلے گے۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے بولی تو زایان نے اسے گھورا
زایان نے بیگ کھولا
اس میں کئی سارے گفٹس تھے کپڑے جیولری اور بہت کچھ
میڈم یہ میں آپ کیلئے جرمنی سے لایا تھا مگر آپ اس ناچیز سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
ربانیہ نے سر جھکا لیا
ایک تو یار تم مائنڈ بہت جلدی کرتی ہو۔۔۔۔
وہ تنگ آکر بولا
اچھا چلو دیکھو کہ کیا کیا ہے اس میں۔۔۔۔۔
زایان کے اس طرح بولنے پر ربانیہ نے حیرانی سے اسے دیکھا
میرا تو اللہ ہی مالک ہے تم دنیا کی واحد بیوی ہو جو شوہر کے لائے ہوئے گفٹس کو ایسے دیکھ رہی ہے جیسے اس میں کوئی بھوت ہے کم اون یار بی بریو ۔۔۔۔۔
زایان نے اس کا کھڑا کیا اور ڈریسر کے آگے کھڑا کیا
ایک باکس بیگ سے نکالا اور اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا
زایان نے اس باکس میں سے ایک پیینڈنٹ نکالا
اور اس کے آگے کیا اور اسے پہنانے لگا
وہ بت بنی کھڑی رہی اس میں کہا ہمت تھی کہ وہ زایان کو کچھ کہتی
بیوٹیفل۔۔۔۔ اسے پہنانے کے بعد زایان نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولا
دل تو میرا کر رہا تھا کہ اس شاپ کیپر کو دو لگا دو جب اس نے کہا تھا کہ یہ تم پر بھی اچھا لگے گا مگر ایمن نے اس کی اچھی کلاس لی۔۔۔۔۔
ربانیہ نے چونک کر اس کی طرف پھٹی آنکھوں سے دیکھا
مطلب آپ نے سن لیا تھا
یاد نہیں میں نے کیا کہا تھا میری دو آنکھیں میرے پاس اور دو تمہارے ساتھ رہتی ہے۔۔۔۔
ربانیہ تو بس اسے دیکھتی رہ گئی
لیو دس میٹر اور دیکھو تو صحیح کہ کیا کیا لایا ہو تمہارے لیے ۔۔۔۔۔
زایان نے بیڈ پر پڑے بیگ کی طرف اشارہ کیا
میں صبح دیکھ لونگی ابھی بہت تھک گئی ہو۔۔۔
زایان تو اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا
میڈم ٹریول کر کے میں آیا ہو اور تھک تم گئی ہو ۔۔۔۔
اس نے ربانیہ کے بالوں کو کیچر سے آزاد کیا
وہ ۔۔وہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ابھی رسٹ کرنا ہے ۔۔۔۔۔
وہ جھینپ گئی اور بیڈ پر آئی بیگ کو بند کیا
تم رہنے دو میں خود رکھ لونگا۔۔۔۔۔ وہ اس پر ایک خفا نظر ڈالے بیگ اٹھائے ڈریسنگ روم میں چلا گیا
جب وہ اپنا نائٹ ڈریس لے کر باہر آیا تو ربانیہ سو چکی تھی وہ بھی واشروم میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نماز کے ٹائم اس کی آنکھ کھلی وہ اٹھی
زایان گہری نیند سو رہا تھا وہ اس پر ایک نظر ڈالے واشروم میں چلی گئی اور وضو کرنے لے بعد ڈریسنگ روم میں نماز پڑھی
اس کا دل تو بہت کیا کہ وہ نماز کیلیے زایان کو بھی جگائے مگر اسے برا لگا تو یہی سوچ آتے ہی اس نے یہ ارادہ بھی ترک کردیا
نماز پڑھنے کے بعد وہ روم میں واپس آئی تو زایان ابھی بھی ویسے ہی سو رہا تھا
اس نے بالوں کا رف جوڑا سیٹ کیے ڈریسر سے اپنا کیچر اٹھایا
تو اس کی نظر اس پنڈنٹ پر گئی جو اس کے گلے میں چمک رہا تھا
بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی دل ہی دل میں زایان کی پسند کو سراہنے لگی
پھر جب حوش آیا تو وہ سر جھٹکے روم سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔
وہ فریدہ کے ساتھ ناشتہ بنا رہی تھی حسان کا بریک فاسٹ اس نے فریدہ کے ہاتھ اس کے کمرے میں بھجوا دیا
اتنے میں ایمن اور سلمی بیگم بھی ڈائننگ ٹیبل پر آئی
اس نے ان کے آگے ناشتہ لگایا
ایمن تم کچھ دن کیلئے ہوسپیٹل سے لیو لے لو شادی میں دن ہی کتنے رہتے ہیں اور ربانیہ کے ساتھ اپنے لیے وہ چیزیں لے آئو جو رہتی ہے۔۔۔۔
سلمی بیگم ناشتہ کرتے ہوئے ایمن سے بولی
جی ماما ایک دو دن تک لے لو گی۔۔۔۔
ربانیہ تم بھی ایمن کے ساتھ شادی کی شاپنگ کر آنا۔۔۔۔۔
ایمن کے بعد وہ ربانیہ سے بولی جو ناشتہ کررہی تھی
جی پھپھو۔۔۔ اس نے مختصر سا کہا
پھپھو وہ زایان آگئے ہیں۔۔۔۔
کیا وہ آگیا ہے اور مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔۔
سلمی بیگم ناشتہ چھوڑے اس سے بولی
وہ رات دیر سے آئے تھے سب سو رہے تھے اسی لیے کسی کو نہیں جگایا
اس نے وضاحت دی
اچھا تم اسے بلا کر لائو مجھے اس سے ایک ضروری کام ہے۔۔۔۔
سلمی بیگم ناشتہ ختم کرنے لے بعد اس سے بولی جو ساری پلیٹ اٹھا رہی تھی
ایمن بھی جا چکی تھی
پھپھو میں ۔۔۔ وہ جھینپ گئی آج سے پہلے کبھی بھی اس نے زایان کو نیند سے نہیں جگایا تھا
ہا بیٹا تم ۔۔۔۔
میں اپنے کمرے میں جا رہی ہو تم اسے وہی بھیج دینا
وہ اسے کہتی اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
۔۔۔۔۔
وہ روم میں آئی تو زایان ویسے ہی سو رہا تھا گہری نیند میں
وہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے سرہانے آئی
سنے ۔۔۔۔اس نے زایان کا کندھا ہلایا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا
اس نے دوبارہ اسے ہلایا تو زایان نے نیند سے بھری ایک آنکھ کھولی
وہ پھپھو بلا رہی ہیں آپ کو ۔۔۔۔۔
وہ اٹھا اور سامنے لگی وال کلاک پر ٹائم دیکھا تو نو بج رہے تھے
اتنی دیر کیسے سو گیا میں۔۔۔۔ جلدی جلدی اپنے سلیپرز پہنے اور واشروم میں چلا گیا
ربانیہ سے اس نے کوئی بات نہ کی
وہ کل رات والی بات پر اس سے ناراض تھا
ربانیہ اس کیلئے ناشتہ بنانے نیچے چلی گئی
۔۔۔۔
وہ تیار ہوکر سلمی بیگم کے کمرے میں گیا انھوں نے اس سے شادی کی تیاریوں کے بارے میں باتیں کی پھر جب سب ڈیسائڈ ہوگیا تو وہ اپنا کوٹ ہاتھ میں لیے حال سے گزرا
بریک فاسٹ تو کرتے جائے ۔۔۔۔
ربانیہ ڈائننگ ٹیبل پر اس کیلئے ناشتہ لگا رہی تب اس نے آواز دی
زایان کے قدم بھی رکے مگر وہ اسے دیکھے بغیر چلا گیا
میں ان کی نوکر ہو جو اتنا سب بھی کرو اور میری کوئی بات مانے ہی نہیں ۔۔۔۔۔
وہ غصہ میں بڑبڑاتی سارے برتن واپس کچن میں لے گئی
۔۔۔
ایمن روم میں بیٹھی پیشنٹس چک کر رہی تھی اس نے وارڈ بوائے سے نیکسٹ کا کہا
کچھ دیر بعد فیصل نے اندر قدم رکھا
ایمن کی نظر اس پر پڑی جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا
آپ یہاں کیا کررہے ہیں ۔۔۔۔ایمن نے شاک کی کیفیت میں اس سے پوچھا
وہ کیا ہے نہ ڈاکٹر صاحبہ میری کچھ دن سے طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسی لیے سوچا چک کرا لو ۔۔۔۔۔
وہ بیماروں والی شکلیں بنائے ایمن کے سامنے چیئر پر بیٹھ گیا
ایمن اس کی شرارت سمجھ گئی تو سنجیدہ ہوئی
تو کتنے دنوں سے ایسی ہلچل ہے طبیعت میں۔۔۔۔
ایمن نے سنجیدہ ہو کر اس سے پوچھا
یہی کوئی عنقریب پندرہ دنوں سے۔۔۔۔
اچھا چلے پھر میں آپ کو کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیتی ہو آپ کرا لے تب پتا چلے گا کہ بےبی کی گروتھ ٹھیک سے ہورہی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔
ایمن اپنی ہنسی دباتی سنجیدگی سے بولی
لاحولا وال قوت۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ یہ کیسی باتیں کررہی ہے آپ
وہ تو حیران ہوگیا
تو فیصل مراد صاحب آپ گائنک وارڈ میں آئے ہیں یہاں پیشنٹس ایسے ہی چک ہوتے ہیں
فیصل نے اسے گھوری سے نوازا
اب بتائے گے کہ یہاں کیا کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔۔
اماں نے کہا کہ بہو کو شادی کی شاپنگ کرا لائو اسی لیے آیا تھا مگر آپ تو کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی ۔۔۔۔
وہ خفا سا ہوا
اچھا اور آنٹی نے ماما سے پوچھا۔۔۔۔
جی انہی کی اجازت سے آپ کے ہجرے میں قدم رکھا ہے۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں نے پیشنٹس بھی چیک کرلیے ہے چلتے ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنا بیگ اٹھاتی اٹھی
اور فیصل کے ہمراہ باہر چلی گئی
۔۔۔۔
شام کی نماز کے بعد وہ بیڈ پر بیٹھی تھی جب اس کے موبائل پر رنگ ہوئی
اس نے سائڈ ڈرور پر رکھا موبائل اٹھایا تو زایان کا نام چمک رہا تھا
اس کی چہرے پر ایک انجانی خوشی آئی
اس نے کال اٹینڈ کی
اسلام وعلیکم۔۔۔۔ فون کان سے لگاتے ہی اس نے کہا
وعلیکم سلام کیسی ہو
دوسری طرف سے زایان کی آواز آئی
ویسی ہو جیسی صبح چھوڑ کر گئے تھے ۔۔۔۔
ہمم لگتا ہے ناراض ہو ۔۔۔۔
نہیں میں کیو ناراض ہوگی
اس نے بات بدلی
خیر تم نو بجے تیار رہنا ہم ڈنر باہر کرے گے اور ہاں کوئی اچھا سا ڈریس ویئر کر لینا ۔۔۔۔
مگر میں پھپھو سے کیا کہو گی۔۔۔۔
ان سے میں بات کر لو نگا تم بس تیار رہنا ۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔