Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 47 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 47 Part 2
آپی چلے نہ حال میں وہاں کچھ سٹوڈنٹس پلے کررہے ہیں چلے نہ پلیز۔۔
وہ لوگ دو گھنٹے پہلے ہی آئے تھے اور وہ چاروں ساری یونیورسٹی گھومنے کے بعد اور اپنے دوستوں سے ملنے کے بعد باہر کینٹین میں بیٹھے تھے جب انعم نے اس سے کہا
انعم کے کہتے ہی وہ لوگ اپنی جگہ سے اٹھے
مما مجھے واشروم جانا ہے ۔۔۔۔۔
ایان نے اسے کہا
انعم تم روحان کو لے کر چلو میں تھوڑی دیر میں آتی ہو ۔۔۔۔۔
وہ ایان کے ساتھ واشروم چلی گئی او انعم روحان کے ساتھ حال والی سائڈ پر چلی گئی
۔۔۔۔
یہ تو ہماری خوش نصیبی ہے سر جو آپ یہاں آئے اپنی فیملی کے ساتھ ۔۔۔۔۔
سر شکیل نے زایان اور باقی سب کا استقبال کیا
آئے نا سر پلیز حال میں کچھ سٹوڈنٹس پلے کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
انھوں نے ان سب سے کہا
وہ لوگ جا ہی رہے تھے کہ زایان کا موبائل بجا
تم لوگ جائو بچوں کو لے کر میں کال اٹینڈ کر کے آتا ہو۔۔۔۔۔
وہ ایمن اور آغوش سے کہتا گرائونڈ میں چلا آیا
۔۔۔۔۔
خالہ مجھے پیاس لگی ہے ۔۔۔۔
روحان اور انعم بیٹھے پلے دیکھ رہے تھے جب روحان کو پیاس کا احساس ہوا اور اس نے انعم سے کہا
یار ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے اور تمہیں پیاس لگ گئی
اچھا یہی بیٹھو میں تمہاری مما کو دیکھ لو کہا رہ گئی اور پانی کی بوٹل بھی لیتی آئو
وہ روحان کو بولتی پانی لینے چلی گئی
۔۔۔۔۔
ایان بیٹا جلدی جلدی لو جو بھی لینا ہے کتنی دیر ہوگئی ہے روحان اور انعم ہمارا ویٹ کررہے ہوگے ۔۔۔۔
ایان نے اس سے ضد کی اسے اپنے اور ایان کیلئے جوس اور سنیکس لینے ہیں تو وہ اسے واشروم سے کینٹین لے آئی
آپی یار کہا رہ گئی تھی میں اور روحان کب سے آپ کا ویٹ کررہے تھے ۔۔۔۔
وہ روحان کیلئے پانی لینے آئی تھی جب اسے ربانیہ اور ایان وہی ملے
روحان کہا ہے۔۔۔۔
ربانیہ نے اسے اکیلے دیکھ پوچھا
وہ حال میں بیٹھا ہے اسے پیاس لگی تھی تو میں اس کیلئے پانی کی بوتل لینے آئی تھی
انعم نے اسے بتایا تو اس نے اپنا سر پکڑ لیا
تم اسے اکیلے چھوڑ آئی چلو اب جلدی لو پھر
ہم چلے
۔۔۔۔۔
وہ کافی دیر انعم کا انتظار کرتا رہا پھر اسے دیکھنے کیلئے باہر چلا آیا
وہ انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے بیک یارڈ میں آگیا
مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا خود کو اکیلا پاکر وہ ڈر گیا اور وہاں سے جانے لگا جب اس کا پیر پھسلا اور نیٹ کے نوکیلے جال پر اس کا ہاتھ لگا اور بری طرح زخمی ہوگیا
خون نکلتا دیکھ وہ رونے لگا
اور وہاں سے روتے ہوئے بھاگا جب اسے ایک کمرے سے روشنی آتی دکھائی دی اسے لگا شاید ربانیہ وہی پر ہوگی تو وہ اندر چلا آیا
مما ایان بھیا۔۔۔۔ کمرے میں آتے ہی روتے ہوئے اس نے آواز لگائی
زایان جو شور کی وجہ سے اکیلے کمرے میں آیا تھا اور کرسی پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا آواز سنتے ہی سامنے دیکھا
سامنے کھڑے بچے کو دیکھ کر وہ چونکا
اس کے ہاتھ سے بری طرح خون بہ رہا تھا
او شٹ ۔۔۔۔خون دیکھتے ہی وہ اس کی طرف بھاگا
اور اپنی جیب سے رومال نکال کر گھٹنوں کے بل زمین پر اس کے سامنے بیٹھا اور اس کے ہاتھ پر رومال رکھ کر دبائو ڈالا
انکل پلیز نو اٹس ہرٹ ۔۔۔۔
رومال کا دبائو پرتے وہ درد سے کراہ اٹھا
اس کے ہاتھ پر رومال باندھ کر زایان نے اسے گود میں اٹھایا اور اپنے ساتھ چیئر پر بٹھا دیا
اسے بٹھانے کے بعد زایان نے اس روتے ہوئے بچے کو غور سے دیکھا وہ ربانیہ کی ہی کاپی تھا
روتے ہوئے وہ بلکل ایسی لگتی تھی اسے دیکھتے ہوئے اس نے سوچا
ویئر از یور مما ۔۔۔۔
زایان نے اس سے پوچھا
مگر وہ مما کا نام سن کر اور زور سے رونا لگا
شش وٹ ہیپنڈ ۔۔۔۔
زایان نے اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور نرمی سے پوچھا
درد ہورہا ہے بہت سارہ۔۔۔۔ اس نے روتے ہوئے بتایا
اس کے ہاتھ سے ابھی بھی خون بہ رہا تھا
زایان نے اپنا موبائل نکالا اور کال ملائی
سر یہ فرسٹ ایڈ باکس باکس بھجوا دے لائبریری کے ساتھ والے روم میں
اوکے جلدی
اس نے کہا اور فون رکھ دیا
اس کے ہاتھ کی بنڈیج کرنے کے بعد زایان ابھی بھی اسے غور سے دیکھ رہا تھا
شاید خون اپنا اثر دکھا رہا تھا
۔۔۔۔۔
انعم روحان کہا ہے۔۔۔ وہ لوگ اسی جگہ پر پہنچے جہاں انعم روحان کو بڑھا کر گئی تھی مگر اب وہاں کرسیاں خالی پڑی تھی
آپی میں اسے یہی بٹھا کر گئی تھی پتا نہیں کہا چلا گیا اب۔۔۔۔
وہ چاروں طرف دیکھتی ہوئی پریشانی سے بولی
مما میرا بڈی۔۔۔ روحان کو کہیں نہ دیکھ ایان نے پریشانی میں ربانیہ سے بولا
بیٹا مل جائے گا وہ آپ پریشان مت ہو
۔۔۔
ربانیہ نے اسے تسلی دی
انعم تم حال میں دیکھو میں ایان کے ساتھ باہر دیکھتی ہو ۔۔۔۔
وہ انعم سے کہتی ایان کے ساتھ باہر چلی گئی
کیا یہ ربانیہ تھی ۔۔۔۔
ایمن کی نظر اچانک اس پر پڑی مگر اگلے ہی پل وہ غائب ہوگئی
آغوش مجھے لگتا ہے کہ میں نے رابی کو دیکھا ہے تم چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔
ایمن عبیر کا ہاتھ پکڑتی کھڑی ہوگئی
آپی وہ یہاں کیسے ہوگی
اسے حیرانی ہوئی
تم چلو تو ۔۔۔
وہ ہڑبڑی میں بولی
وہ دونوں حال سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔
بیٹا تم چپ کرو گے تو ہم تمہاری مما کو ڈھونڈ پائے گا نا ۔۔۔۔
روحان کو مسلسل روتا دیکھ آخر زایان تھک کر بولا
انکل ۔۔میری ۔۔مما ۔۔ایان بھیا۔۔کے ساتھ ۔۔واشروم گئی تھی ۔۔
روتے روتے اس نے بتایا
اچھا چلو پھر میں تمہیں وہی لے چلتا ہو دیکھتے ہیں تمہاری مما وہی پر ہے ورنہ میں انائونسمنٹ کروادو گا تمہاری مما جہاں بھی ہوگی تمہیں لے جائے گی ۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے باہر چلا گیا
۔۔۔۔
انعم کہیں ملا روحان
انعم کو آتا دیکھ اس نے پوچھا
نہیں آپی میں نے ہر جگہ دیکھ لیا ہے کہیں نہیں ہے ۔۔۔
مما ہو سکتا ہے روحان ہمیں ڈھونڈنے واشروم والی سائڈ پر گیا ہو ۔۔۔
ایان نے اسے کہا
ہاں آپی ہوسکتا ہے آپ ایان کے ساتھ وہی دیکھے تب تک میں اسے دوسری سائڈ پر دیکھتی ہو ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہو میں دیکھتی ہو ۔۔۔۔
چلو ایان ۔۔۔۔
وہ ایان کا ہاتھ پکڑے اس طرف چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس سائڈ پر ہر جگہ دیکھ چکی تھی مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا
مما روحان کہا ہوگا ۔۔۔
اب ایان نے رو کر پوچھا وہ بچپن سے اس سے الگ نہیں ہوا تھا اچانک یو اسے نہ دیکھ کر وہ ڈر گیا
ربانیہ اب سر پکڑے نیچے بیٹھ گئی
پتہ نہیں کہا ہوگا میرا بچہ یا اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا
وہ بیٹھی تھی جبکہ ایان ابھی بھی ادھر ادھر دیکھ رہا تھا
تبھی پیچھے سے اسے روحان زایان کے ساتھ آتا دیکھائی دیا
بڈی۔۔۔۔ وہ روحان کو دیکھتے ہوئے اندھا دھن اس کی طرف بھاگا
روحان بھی زایان کا ہاتھ چھڑا کر ایان کی طرف بھاگا اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا
ایان کی آواز پر ربانیہ بھی کھڑی ہوئی اور پیچھے مڑی
وہ زایان کو نہ دیکھ پائی کیونکہ جہاں وہ کھڑی تھی صرف روحان اور ایان ہی اسے نظر آرہے تھے
روحان کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف بھاگی اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی روحان کو گلے لگا کر اسے چومنے لگی
کہاں چلے گئے تھے تم کتنا ڈر گئی تھی میں اور ایان وہ کتنا ڈر گیا تھا ۔۔۔۔
وہ روحان کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامے اس سے بولی
جبکہ زایان ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا سب کچھ حیرانی سے دیکھ رہا تھا
مما میں آپ کو اور ایان بھیا کو ڈھونڈ رہا تھا دیکھے مجھے چوٹ بھی لگ گئی اس نے۔۔۔۔ معصومیت سے کہتے ہوئے ایان ہاتھ آگے کیا جس پر بینڈیج ہوئی تھی
ان انکل نے بینڈیج کی ہے۔۔۔۔۔
اس نے اپنے پیچھے کھڑے زایان کی طرف اشارہ کیا
تو ربانیہ اور ایان نے پیچھے دیکھا
زایان۔۔۔۔ ربانیہ اسے دیکھتے ہی زیر لب بولی
میں نے کہا تھا نہ کہ ربانیہ یہی ہے ۔۔۔
ایمن اور آغوش ابھی وہاں پہنچی تھی تو ایمن نے آغوش سے کہا
چلو ایان روحان ۔۔۔۔وہ زایان کو دیکھتے ہی دہل گئی دل بے قابو ہوگیا سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے
اس نے ایان روحان کا ہاتھ پکڑا اور جانے کیلئے مڑی تو سامنے ایمن اور آغوش کھڑے تھے
اس کے قدم پھر رکے
آج وہ پکڑی جا چکی تھی وہ اور بچے ان کی نظر میں آگئے تھے
وہ ان دونوں کو لے کر تیز تیز قدم بھرتی ان کے پاس سے گزری جب ایمن نے اس کا ہاتھ پکڑا
ربانیہ بات تو سنو ۔۔۔
ایمن نے اسے اپنے سامنے کرتے کہا
وہ مڑی پھر اس کی نظر زایان سے ملی
آپی یہ ہاتھ چھوڑ دے آپ کا بھائی یہ ہاتھ تین سال پہلے ہی چھوڑ چکا ہے اب آپ کے یہ کسی اور کے روکنے سے میں نہیں رکو گی ۔۔۔۔
وہ زایان کو شکوہ بھری نظروں سے دیکھتی ایمن سے بولی جو ابھی بھی شاک میں تھا
مما چلے۔۔۔۔۔ روحان ان سب کو دیکھ کر گھبرا گیا اور ربانیہ سے بولا
وہ ایمن سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ان دونوں کو لے کر چلی گئی
