Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27 Part 2

وہ دونوں اوپر والے فلور پر آگئے تھے اور زایان نے ویسے ہی اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ربانیہ مسلسل کوشش کررہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا سکے مگر زایان ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ اور اپنا دوسرا ہاتھ جینز کی جیب میں رکھے چل رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہاتھ چھوڑے ۔۔۔۔ربانیہ تنگ آکر بولی
نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔وہ لاپرواہی سے کہتا ہوا آگے بڑھا
پلیز سب لوگ ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔ اس نے آس کھڑے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر پریشانی سے کہا
تو دیکھنے دو ۔۔۔۔وہ آنکھیں اچکائے بولا
بھائی۔۔۔۔۔ ایمن نے اسے ایک شاپ میں کھڑے اشارہ کیا
وہ اسے لے کر اس شاپ میں چلا گیا
“یہ دیکھے بھائی حسان نے اپنے لیے ایک ڈریس پسند کیا ہے”۔۔۔۔ حسان ایک ڈریس ہاتھ میں لیے کھڑا ربانیہ کو ہی دیکھ رہا تھا وہ شاید ربانیہ کی رائے جاننا چاہتا تھا مگر ربانیہ اسے نظر انداز کیے ہوئے تھی
“نہیں یہ والا اتنا اچھا نہیں ہے کوئی اور دیکھتے ہیں “۔۔۔۔وہ ربانیہ کا ہاتھ چھوڑے حسان کے ساتھ دوسری سائڈ پر چلا گیا اور ربانیہ نے اپنا ہاتھ چھوٹنے پر دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا
ربانیہ چلو نہ ہم دوسری شاپ میں چلتے ہیں۔۔۔۔۔ ایمن اس کا ہاتھ پکڑے بولی اور وہ دونوں دوسری شاپ میں چلی گئی
ایمن اپنے لیے جیولری لے رہی تھی اور وہ اس کے ساتھ بیٹھی بس دیکھ رہی تھی وہ یہاں زایان سے بچنے کیلیے آئی تھی مگر اب وہ پچھتا رہی تھی
ربانیہ یہ دیکھو کیسا ہے ۔۔۔۔ایمن نے ایک پندنٹ اسے دکھایا جو بہت ہی پیارا تھا
بہت پیارا ہے آپ پر کافی سوٹ کرے گا۔۔۔۔۔ اس نے بھی دل سے اس کی تعریف کی
ویسے میم یہ آپ پر بھی پیارا لگے گا بکز آپ کی آئیز اور اس کے روبی کا کلر سیم ہے بلیو۔۔۔۔
شاپ کیپر نے ربانیہ کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
ہمیں جو پسند آئے گا ہم خود لے گے تم سے کسی نے نہیں کہا کہ ہمیں مشورے دو گوٹ اٹ ۔
ایمن اس کی باتیں سن کر غصے میں آگئی اور شہادت کی انگلی اسے دکھائے غصے سے اسے وارن کرنے لگی
ایم سوری میم آپ تو برا ہی مان گئی یہ تو ہماری ڈیوٹی ہے پلیز نیور مائنڈ ۔۔۔۔۔
وہ شرمندہ سا ہوا
یہ پیک کردو۔۔۔۔۔ ایمن نے اس کی طرف پنڈنٹ بڑھایا اس کی آنکھوں میں ابھی بھی غصہ تھا
وہ اسے پیک کر لایا انھوں نے پیمنٹ کی اور شاپ سے باہر آگئی
ربانیہ بھئی میں نے تو جیولری لےلی اب تم کچھ لو گی کہ نہیں ۔۔۔۔
ایمن نے اس سے پوچھا
نہیں آپی اب گھر چلتے ہیں۔۔۔۔۔ انہیں ابھی آئے ہوئے ایک ہی گھنٹہ ہوا تھا ایمن نے تو جی بھر کر اپنے لیے شاپنگ کی تھی مگر وہ صرف اس کا ساتھ دے رہی تھی اس نے اپنے لیے کچھ بھی نہی لیا
یہ کیا بات ہوئی تم ہی تو ضد کرکے لائی تھی کہ شاپنگ کرنی ہے اب کچھ بھی نہیں لے رہی۔۔۔۔۔
نہیں سچ میں بہت تھک گئی ہو اور ویسے بھی میں کہا جیولری پہنتی ہوں ۔۔۔۔۔وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ یہاں کیو آئی تھی
کر لی شاپنگ۔۔۔۔۔ زایان حسان کے ساتھ وہاں آیا اس کے ہاتھ میں چار سے پانچ شاپنگ بیگز تھے وہ آتے ہی ان سے پوچھنے لگا
بھائی میں نے تو کر لی مگر رابی نے کچھ بھی نہیں لیا کہ رہی ہے تھک گئی ہوں۔ وہ رابی کو دیکھتی ہوئی زایان سے کہنے لگی
اچھا تم ایک کام کرو حسان کو لے کر کیفیٹیریا چلی جائو میں اور ربانیہ تھوڑی دیر میں آتے ہیں ۔۔۔ وہ حسان کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز پکڑاتا ایمن کو کہنے لگا
اوکے۔۔۔۔۔ ایمن اسے لے کر وہاں سے چلی گئی
وہ بھی ان کے پیچھے جانے لگی مگر زایان نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
تمہیں کچھ نہیں لینا ۔۔۔۔وہ اس کی طرف سنجیدگی سے گویا ہوا
نہیں میں کل سب کچھ لے گئی تھی ابھی کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھے بغیر ناگواری سے بولی
تو یہ گھر میں کیو کہا تھا کہ تمہیں شاپنگ کرنی ہے میں یہاں تمہارا نوکر لگا ہو جو سب کچھ چھوڑ کر تمہارے پیچھے چلا آیا ہو ۔۔۔۔۔
اس کے تاثرات غصے میں تبدیل ہوگئے ربانیہ تو اس کے اس رویہ سے سہم گئی
میں ۔۔میں نے تو۔۔۔
وہ روہانسی ہوئی
بس چلو گھر ۔۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے مال سے باہر لے آیا اور ایمن کو ٹیکسٹ کرکے اسے بھی بلا لیا
ایمن اور حسان بھی وہی آگئے وہ لوگ کار میں بیٹھے تو اس نے کار سٹارٹ کردی
راستہ میں مکمل خاموشی رہی ربانیہ بہت ہی زیادہ ڈر گئی تھی وہ زایان کا رویہ سمجھ نہیں پارہی تھی
۔۔۔۔
وہ گھر میں آئے تو ایمن اور حسان اپنے کمرے میں چلے گئے وہ بھی کچن میں جانے لگی تھی
رکو تم زرا روم میں آئو ۔۔۔۔۔
زایان اسے تاکید کرتا اوپر چلا گیا اسے تو ایک جھٹکا سا لگا کہ اب کیا ہونے والا ہے
وہ کانپتے وجود کے ساتھ اوپر آئی اور روم کا ڈور کھولا
وہ اندر آئی تو زایان کو صوفے پر بیٹھا پایا
ج۔جی۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی
وہ اس سے چند انچ کے فاصلے پر کھڑی تھی اور نظریں نیچے کیے ہوئے تھی
وہ اٹھا اور اس کی طرف بڑھا
اس نے اپنی شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے جو ربانیہ کی نظروں سے نہ چھپ سکے
وہ اس کے بے حد قریب آیا یہاں تک کہ ربانیہ اس کی سانسیں خود پر محسوس کرسکتی تھی
اس نے ربانیہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی اور کھینچا وہ کسی موم کی گڑیا کی طرح اس کی طرف کھینچی چلی گئی اس کا ہاتھ زایان کے کندھے پر تھا
وہ اس کے چہرے کو اپنی ناک سے چھونے لگا ربانیہ نے اپنی آنکھیں میچ لی
اتنا ڈرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو اس کے کان کے پاس لے جاکر زایان نے آہستہ آواز میں کہا
مجھے کچھ کام ہے۔۔۔۔ وہ اس کے اس طرح کرنے سے بوکھلا گئی اور اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹائے جانے لگی کہ زایان نے دوبارہ اس کا بازو پکڑا اور اسے خود کے قریب کیا
کیا تم ابھی بھی سمجھ نہیں پارہی ہو کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں ڈھیروں چاہتیں لیے بولا
یہ سنتے ہی ربانیہ کی آنکھوں میں ڈر کی جگہ سنجیدگی آئی
محبت کا نام بھی مت لے آپ کو مجھ سے محبت ہوتی تو اتنے مہینے مجھے تنہا چھوڑ کر نہیں جاتے وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔
“اچھا اگر اتنا برا اور گھٹیا ہو تو چلی کیو نہیں گئی اتنے مہینے انتظار کیو کیا میرا”۔۔۔ وہ اس کی کمر کے گرد حصار بناتا چہرے پر سنجیدگی لائے بولا
“پیروں میں رشتوں کی بیڑیاں ڈال کر گئے تھے آپ مگر اب آپ جب آگئے ہیں تو ان بیڑیوں سے آزاد کردے مجھے ختم کرے اس رشتے کو تاکہ میں سکون سے جا سکو”۔۔۔
وہ بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
کبھی نہیں اگر تمہیں خود سے دور کردیا تو مر جائو گا میں پھر آج وہ غضب کا حسن ڈھا رہی تھی وہ تو اسی میں کھو سا گیا کیونکہ وہ چھ مہینے بعد اس سے مل رہا تھا اسے دیکھ رہا تھا
تو مر جائے اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
زایان نے یہ سنتے ہی اس کو اپنی گرفت سے آزاد کردیا
مجھ سے اتنی بیزار ہوگئی ہو۔۔۔۔
میں اپنی اس گھٹن بھری زندگی سے بیزار ہوگئی ہو جس کو سانس لینے کیلئے آپ کی ضرورتیں پوری کرنا پڑتی تھی جو آپ چاہتے ہیں وہی کرنا پڑتا ہے جو صرف آپ کے حکم کی محتاج ہے آپ کو کیا لگتا ہے میں سب بھول گئی ہو اپنی تذلیل اپنے بچے کی موت کچھ نہیں بھولی میں کچھ بھی نہیں اپنے دامن کا پر لگایا گیا ہر داغ روز مجھے تانے دیتا ہے کہ دیکھو جب ضرورت ختم ہوئی تو چلا گیا اور جب ضرورت ہوئی تو محبت کے دعوے کرنے آگئے ۔۔۔۔
وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی کہ اس میں یہ ہمت کہا سے آئی ہے
ربانیہ میری بات سنو میں مانتا ہو میں غلطی پر تھا تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے میں نے مگر اب میں اپنی ہر غلطی کی تلافی کرونگا سب ٹھیک کر دونگا تم دیکھنا ہماری زندگی بہت حسین ہوگی
وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیے دیوانوں کی طرح اسے سمجھانے لگا
میری زندگی کہ وہ آٹھ مہینے واپس کردے جو میں نے آپ کی ضرورتوں کے نام کردیے میرا بچہ مجھے واپس لادے جو آپ کی انا نے ختم کردیا میری ماں مجھے واپس لادے جو آپ کیے گئے حقام کو برداشت نہ کر پائی ۔۔۔۔
وہ اس سے بولی
یہ سنتے ہی زایان نے اس کے چہرے کو چھوڑ دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا