Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11 Part 1

“ربانیہ بہت پیاری لگ رہی ہو”۔۔۔
جب سب لوگ اپنی گپ شپ میں مصروف ہوگئے تو تیمور نے ہولے سے ربانیہ کے کان میں سرگوشی کی
گنگھٹ میں اس نے اپنا سر اونچا کیا
“ہئے یہ ادائیں ایک دن میری جان ہی نہ لے سنبھل جا شیطان کہیکے “۔۔۔۔
اس نے شرارت سے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا
“بس کردے سب لوگ ہمیں ہی دیکھ رہیں ہے کیا سوچے گے ہمارے بارے میں”۔۔۔۔۔
ربانیہ سامنے بیٹھے لوگوں کی طرف پریشانی سے دیکھنے لگی
“کیا سوچے گے کیا مطلب بولے گے دولھا دولھن میں کتنا پیار ہے ابھی تمہیں پتا ہے وہ آنٹی مجھے اپنی بیٹی سے ملوا رہی اس کے گن بتا رہی تھی میں نے بھی ان سے صاف کہ دیا کہ آنٹی جی تسی مینوں ربانیہ کلو مروائوں گے اب ان بیچاری کو کیا پتا میری دولھن بہت معصوم ہے ۔۔۔۔۔۔
شرارتی لہجے میں اس نے ربانیہ سے کہا
ہاہاہا بہت مزاحیہ ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی بات سن ہنسی
“بس یہی ہنسی دیکھنا چاہتا ہو ہر وقت تمہارے چہرے پر ۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے کی طرف محبت سے دیکھنے لگا
“اتنی محبت مت کرے مجھ سے تیمور میں اس کے قابل نہیں”۔۔۔۔
وہ یک ٹک اسی کو گھونگھٹ میں سے دیکھ رہی تھی
اتنے میں تیمور کے ایک دوست نے اسے بلایا اور وہ سٹیج سے اٹھ کر اس سے ملنے چلا گیا
“کیا میں تیمور کو ساری زندگی خوش رکھ پائو گی کیا انہیں وہ ساری خوشیاں سے پائو گی جس کے مستحق ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کئی سارے سوال اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھے
💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘
“ناراض ہو”
ایمن کو اکیلا کھڑے دیکھ فیصل اس کی طرف آیا
اس نے اپنا منہ پھیر لیا
“اچھا تو مطلب کہ ناراض ہو”
“ناراض ان سے ہوتے ہیں جن کو آپ کی کوئی پرواہ ہو غیروں سے ناراض نہیں ہوتے——
وہ اتنا کہتی وہاں سے جانے لگی مگر فیصل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے ہال کی بیک سائڈ پر لے گیا جہاں کوئی نہیں تھا
وہاں لا کر اس نے ایک دیوار کے سامنے اسے کھڑا کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس دائیں بائیں بنائیں
ہمم تو اب بتائوں کیا کہ رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کے چہرے کے قریب چہرہ کیا وہ بولا
آ۔آ۔آ۔پ یہ کی کیا کرہے ہیں کوئی آجائے گا ۔۔۔۔۔
فیصل کے اس قدر نزدیک آنے سے ایمن کی حالت غیر ہونے لگی
کوئی نہی آئے گا تم بتائوں کیا کہ رہی تھی میں تمہارے لئے غیر ہوگیا ۔۔۔۔۔
نہ نہی نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا۔۔۔۔
تو سمجھائو نہ کہ کیا مطلب تھا۔۔
ترکی با ترکی جواب آیا
اچھا چلو یہ بتائو ناراض کیو ہو
آپ نے اگنور کیا کیا۔۔۔۔۔۔
آخر اس نے اپنا شکوہ ظاہر کیا
ہےےے ۔میں نے کب اگنور کیا
وہ پوری آنکھیں کھولے نہایت ہی معصوم بنا
“اب یہ بھی میں بتائو ہٹے آپ جانے دے مجھے”
ایمن نے اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی مگر وہ نہ ہٹا سکی۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا سوری یار اکچلی اماں تھی وہاں ان کیلئے تو میں ان کا وہی منا ہو نہ وہ مجھے ایسا کرتے دیکھتی تو کہتی منا بڑا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے وضاحت کی
اس کی بات سن کر ایمن کا قہقہ گونجا
اچھا اس دن تو بڑا کہ رہے تھے کہ آپ کا جواب نہ آیا تو میں اپنی والدہ کو اپنے لیئے رشتے دیکھنے کا بول دو گا اور اب ہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہنسی روک ہی نہیں پارہی تھی
ہاہاہا تم بھی تو ایسے ماننے والی نہیں تھی ۔۔۔
پھر ماں تو گئی نہ۔۔۔۔
وہ اتراتے ہوئے بولی
اچھا سوری اب معاف بھی کردو اس نے ہاتھ ہٹا کر اپنے کان پکڑے
“اچھا یار کردیا معاف اب خوش”
اس کے ہاتھ کانوں سے ہٹا کر وہ بولی
اچھی لگ رہی ہو ویسے۔۔۔
وہ ایمن کا اچھی طرح جائزہ لیتے بولا
ہمم پتا ہے مجھے اب میں جا رہی ہو کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔۔۔
وہ اتراتی ہوئی بولی
اچھا چلو میں بھی چلتا ہو ۔۔۔۔۔
اور وہ دونوں حال میں چلے گئ
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آغوش ابھی ربانیہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کر ہی تھی تبھی ایک بچی آئی اور آغوش سے کہنے لگی
“آپی آپ کو آپ کی امی بلا رہی ہیں”۔۔۔
“اچھا کدھر ہیں وہ”۔۔
وہ وہاں۔۔۔۔
اس بچی سامنے کی راہداری کی طرف اشارہ کیا
ہے امی وہاں کیا کر ہی ہیں اچھا تم جائو میں آتی ہو۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔وہ یہ کہتی چلی گئی
“ربانیہ تم بیٹھو میں ذرا دیکھ کر آئو”۔۔۔
ربانیہ نے ہاں میں سر ہلایا
وہ اٹھی اور اس جانب چل دی
وہ راہ داری سے نکل آئی اور حال کے باہر دیکھنے لگی مگر وہاں کوئی نہ تھا
اس نے ادھر ادھر نظر گھمائی مگر وہاں کوئی بھی نہ تھا
وہ جانے کیلئے مڑی ہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے ایک بھوت نظر آیا
وہ اور کوئی نہیں رایان تھا جو ماسک لگائے ہوئے تھا
مگر مقابل بھی آغوش تھی جو بلکل نہیں ڈری اور رایان کا ماسک اتار کر دور پھینکا
تو کیا لگا مسٹر سمارٹی مجھے آغوش کو اتنی آسانی سے ڈرا دو گے ارے اصلی بھوت بھی مجھ سے پناہ مانگتے ہیں اور تم اس ماسک سے مجھے ڈرانے آئے تھے۔۔۔
وہ تن کر بولی اور زور سے ہنسنے لگے
مگر رایان تو پانی پانی ہوگیا اس سے کچھ بولا ہی نہ گیا وہ حیرانی سے آغوش کو دیکھ رہا تھا
“او ہلو۔۔۔ آغوش نے اپنے ہاتھ اس کے آگے لہرایا
کیا چیز ہو یار تم تم پر کوئی اثر کیا نہیں ہوتا ہے۔۔۔
وہ پورا منہ کھولے آغوش سے بولا
“ہاہاہا آغوش کو ڈرانا اتنا آسان نہیں ہے سمجھے ۔۔۔۔
اس نے اس کا ماسک اٹھا کر اس کے ہاتھ میں رکھا
تم ان کھلونوں سے ہی کھیلتے رہوں۔۔۔۔۔۔ وہ کہتی چلی گئی مگر رایان کو بہت کچھ باور کرا گئی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنے اپنے سلکی اور بھورے بالی ماتھے پر سیٹ کیئے وہ حال میں داخل ہوا
اس کی خوبصورتی اور پرسنیلٹی ہر ایک کو وہاں متاثر کر ہی تھی
آج وہ یہاں ایک نیا طوفان برپا کرنے آیا تھا
درمیانی راستے سے گزرتا ہوا وہ ربانیہ کی طرف بڑھا
جب ربانیہ نے اسے دیکھا تو وہ دیکھتی ہی رہ گئی وہ آج ایک نئے گیٹ اپ میں آیا تھا
چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ ربانیہ کی طرف بڑھ رہا تھا
وہ سٹیج پر چڑھا اس نے یہ بھی پرواہ نہ کی کہ وہاں تیمور نہیں ہے آخر وہ زایان ملک تھا جو نہ کسی ڈرتا تھا اور نہ اس نے ہارنا سیکھا تھا
وہ سٹیج پر آگیا اور اسی کرسی پر بیٹھا جہاں کچھ دیر پہلے تیمور بیٹھا ہوا تھا
ربانیہ کے تو چہرے کا رنگ اڑ گیا زایان کی حرکت دیکھ کر
“ہمم تو مس ربانیہ سترہ سالہ عمر میں شادی کررہی ارے یار اتنی جلدی تھی شادی کی تو مجھ سے کہتی اس مڈل کلاس چیپ تیمور سے شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی چچ چچ چچ حد ہے ویسے ۔۔۔۔۔۔
وہ ڈھیٹ اپنی ہی دھن میں بولتا گیا وہاں ربانیہ اس کی باتیں سن کر اس کا سانس بند ہونے کو تھا
“ارے زایان بھائی آگئے آپ “
تیمور بھی وہاں آگیا تو ربانیہ نے خیریت کے کلمات پڑھے
“ارے تیمور کیسے ہو یار—
زایان نے آٹھ کر اسے گلے لگایا
“میں ٹھیک ہو آپ سنائے۔۔
اس نے نہایت ہی خوش دلی سے جواب دیا
“میں بلکل فیٹ اور شادی کررہے ہو ہماری چھوٹی سے بچی سے ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے ۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے بول گیا اور دیکھ بھی ربانیہ کو رہا تھا۔۔۔۔
یہ سنتے ہی تیمور کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا
اور ربانیہ کبھی زایان کو تو کبھی تیمور کو حیرانگی سے دیکھ ریکھ رہی تھی
تیمور اپنے تاثرات نارمل کیے
“وہ کیا ہے نا زایان بھائی دل میں جب محبوب کی محبت اپنی پرواز پوری کرلے تو وہ عمر یہ سٹیٹس نہیں دیکھا بس اپنی چاہت کی کے آخری سٹیشن پر اتر کر اپنی منزل کی طرف جایا جاتا ہے۔۔۔۔
تیمور نے اسے جس انداز سے کہا وہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ اس کی بات کو مائنڈ کرگیا ہے
اس نے اس تیمور کی بات سن کر اتراتے ہوئے سر
کو جنبش دی
“ہمم محبت وہبت میرے نزدیک کچھ نہیں خیر چھوڑو مہندی بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو ۔۔۔
زایان نے ایک پیکٹ تیمور کی طرف کرا مگر اس سے پہلے تیمور اسے لیتا اس نے وہ ربانیہ کی طرف کیا
“ناکام مہندی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔
اس کے چہرے کے قریب چہرہ کیے اتنی آہستہ آواز میں وہ بولا کہ صرف ربانیہ ہی سن سکی
تیمور نے اپنے ہاتھ شرمندگی کے مارے پیچھے کیے

“اچھا تیمور تم لوگ انجوائے کرو میں ذرا باقی سب سے مل لو۔۔۔۔
وہ ربانیہ پر ایک آخری مسکراتی نظر ڈالے سٹیج سے اتر گیا۔۔