Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

تیمور ربانیہ کو ڈرائیو کے بعد گھر چھوڑنے آیا شادی کی ڈیٹ فکس ہونے کے بعد وہ اور عمر صاحب اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوگئے وہ یہاں اس لیئے آئے تھے کیونکہ تیمور کا ٹرانسفر پنڈی ہوگیا تھا اور اسے اپارٹمنٹ اور گاڑی آفس کی طرف سے ملی تھی۔۔۔
اس نے گاڑی ربانیہ کے گھر کے سامنے روکی
“ربانیہ ایک منٹ میری بات سنتی جائو”
گاڑی کے سٹیرنگ سے ہاتھ ہٹائے اس نے ربانیہ کی طرف دیکھا
ربانیہ نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ربانیہ کب سے میرے دل میں ایک سوال ہے جو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں شاید میرے دل کو اس سوال سے سکون آجائے۔۔۔۔
چہرے پر بلا کی سنجیدگی سجائے اس نے اپنی بات کہی
ربانیہ بھی اب سنجیدگی سے اس کی طرف متوجہ ہوئی
رابی پتہ نہیں کیو نا جانے آج میرے دل میں یہ بات آئی کہ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم جس شخص سے محبت کرتی ہو وہ صرف یک طرفہ محبت ہے مگر کیا تم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا وہ شخص واقعی تمہارے لئے کوئی جذبات کوئی احساسات نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے جب اس کی بات سن لی تو چہرے پر ایک ہلکی مسکراہٹ سجائے ایک پرسکون سانس لیتے ہوئے اسے ایک ایسا جواب دیا جو شاید تیمور کے دل میں امڈتے کئی سوالوں کو دفنانے کیلئے کافی تھا ۔۔۔۔۔
تیمور میں جب چھوٹی تھی تب بابا کا انتقال ہوگیا امی بلکل اکیلی پڑگئی شاید اس وقت میں بہت چھوٹی تھی امی کا دکھ نہ بانٹ سکی
مجھے آج بھی یاد ہے جب میں دس سال کی تھی
تب ایک دن امی کو کونے میں کھڑے روتے دیکھا
میں امی کے پاس آئی اور پوچھا کہ ۔۔۔۔۔
امی آپ رو کیو رہی ہے امی نے فورن اپنی آنکھیں صاف کی اور کہا نہیں بیٹا رو نہیں رہی آنکھ میں کنکر چلا گیا ۔۔۔۔
مگر امی کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے اس وقت میں اتنی سمجھدار تھی کہ امی کا جھوٹ پکڑ سکتی تھی میں نے امی سے کہا کہ آپ مجھ سے جھوٹ بول رہی آپ سچ میں رورہی ہیں
اور میں نے بھی رونا شروع کردیا امی نے مجھے گود میں اٹھایا اور مجھے سلانے کیلئے بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔۔
مجھے لیٹانے کے بعد جانتے ہیں امی نے مجھ سے کیا کہا
ربانیہ جانتی ہو اللہ کے نزدیک صبر کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے چاہے اللہ تمہیں جس بھی حال میں رکھے کبھی شکایت مت کرنا اور شکر کرنا کہ تمہارے سر پر عزت کی چادر سامت ہے ۔۔۔۔۔
بس تم اللہ سے یہی دعا کرنا کہ
دنیا آسمان سے گرائے چاہے گرائے اپنی نظر سے
بس اللہ ہمیں اپنی نظروں میں اونچا رکھے لوگوں کا تو کام ہے باتیں بنانا مگر وقت سے پہلے اور تقدیر سے زیادہ کچھ نہیں ملتا جو اللہ تمہیں دے وہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور آج مجھے سمجھ آگیا کہ امی صحیح کہتی تھی جسے اللہ نے ہمارے لیئے بنایا ہے وہی ہمارے لئے بہتر ہے جیسا کہ آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اس شخص نے جس سے میں نے محبت کی مجھے میری ہی نظر میں گرا دیا مجھے اپنی ہی نظر میں چھوٹا کردیا ۔۔۔۔۔
“اور جس تعلق میں اللہ کی مرضی ہی شامل نہ ہو اس تعلق کو ہم کب تک نبھا پاتے”
یہ سب باتیں کرتے کرتے ربانیہ کی آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہوگیا
پلیز تیمور آپ کبھی مجھے میری نظر میں مت گرائے یہ گا میں اپنا ماضی بھول چکی ہو اور آپ بھی اس بات کو بھول جائے اور ہو سکے تو مجھ گناہگار کو معاف کردیجییے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کرتی گاڑی سے اتر گئی
اور گھر میں چلی گئی مگر تیمور کا ذہن اس کی باتیں سن کر مائوف ہوگیا
“کیا کوئی کسی اس حد تک محبت کر سکتا ہے کوئی کسی کو اتنا چاہ سکتا ہے کاش ربانیہ تم اتنی محبت مجھ سے کرتی کاش”۔۔۔۔
اس وقت تیمور جس کرب میں تھا وہ صرف وہی جانتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ربانیہ کی بارات تھی نکاح انھوں نے شام کو گھر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا
تیمور صبح سے نکاح کی تیاریوں میں لگا ہوا تھا رایان بھی اسی کا ساتھ دے رہا تھا۔۔۔۔
“چلو شکر ہے رایان سارے انتظامات ہوگئے”۔۔۔
تیمور نے رایان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
“ہاں تیمور بھائی اب چلے یار میں نے سیلون میں اپائمنٹ لیا ہوا ہے 5 بجے کا ساڑھے چار تو ہوچکے ہیں”۔۔۔
“ہاہاہا صحیح ہے اتنے پیارے دولھے کو ایوی سیلون لے جانا چاہتے ہو “۔۔۔۔
“پیارے دولھے کے ساتھ ساتھ اس کے بھائی کو بھی تیار ہونا کے نا”۔۔۔
رایان نے شرمیلے انداز میں کہا
چلو بھائی تم نہیں سدھرو گے ۔۔۔۔
۔۔۔۔
“ہاں رایان کام ہوا”۔۔۔ شیشے میں کھڑا وہ خود پر پرفیوم سپرے کررہا تھا اور کانوں میں بلیو ٹوتھ لگائے وہ رایان سے بات کررہا تھا آج اس نے کالی شلوار قمیض زیب تن کی تھی اور ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی پرسنیلٹی منفرد لگ رہی تھی
“جی بھائی بس آپ پہنچ جائے باقی سب ہو گیا ہے ڈوذ بھی تیز دی ہے پانچ گھنٹے کی نیند ہے “۔۔۔
“ہمم ۔۔۔اتنا کہتے اس نے کال کاٹ دی
“اب دیکھتا ہو تمہاری وہ ماں اور تیمور تمہیں کیسے بچاتے ہیں ربانیہ بےبی۔۔۔۔۔
شاطرانہ مسکراہٹ سجائے وہ کیز اور والٹ اٹھائے باہر نکل گیا
۔۔۔۔
“آپا یہ آغوش اور ایمن ابھی تک ربانیہ کو لے کر کیو نہیں آئی دیکھے نا بھائی صاحب بھی اس کا پوچھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم کوئی دسویں بار یہ بات کہ چکی تھی “ارے سمیرا آجائے گے حوصلہ رکھو میری ابھی ایمن سے بات ہوئی ہے ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں”۔۔۔۔
“نہیں آپا میرا دل گھبرا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔۔۔۔
وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی
“بیٹی کی ماں ہونا اور وہ بھی اک لوتی اسی لئے گھبراہٹ ہورہی ہے آتے ہی ہونگے اور ابھی تو تیمور بھی نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں بار بار ترسلیاں دے رہی تھی
“جی آپا “انھوں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
۔۔۔۔
نکاح کی تقریب میں صرف ملک ولا کے لوگ ہی شامل کئے گئے تھے اس وقت ربانیہ کے گھر میں صرف سلمی بیگم سمیرا بیگم حسان اور عمر صاحب اور مولوی صاحب ہی موجود تھے
سمیرا کب سے ربانیہ کا انتظار کر رہی تھی جو آغوش اور ایمن کے ساتھ پارلر گئی تھی مگر اب کافی دیر ہوگئی تھی وہ لوگ نہیں آئے تھے اور تیمور بھی رایان کے ساتھ سیلون گیا تھا وہ بھی نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“آپا اب مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے سارے بچے گھر سے باہر ہیں اور ابھی تک نہیں آئے “۔۔۔۔
وہ ادھر ادھر پریشانی سے ٹہل رہی تھی اور عمر صاحب اور سلمی بیگم صوفے پر بیٹھے تھے
“سمیرا میں کب سے تیمور کو فون کررہا ہوں مگر مجال ہے جو یہ الو کا پٹھا فون اٹھا لے”۔۔۔۔۔۔
عمر صاحب کے لہجے غصہ واضح ہورہا تھا
“عمر بھائی آپ پریشان مت ہو آجائے گے سب۔۔۔
وہ تو کبھی سمیرا کو ترسلیاں دیتی تو کبھی عمر صاحب کو
تبھی باہر سے ہارن کی آواز ہے وہاں بیٹھے ان تینوں بزرگوں نے شکر کے کلمات ادا کیئے
سمیرا بھاگ کر دروازے کی طرف گئی
آغوش اور ایمن ربانیہ کو لے کر اندر آگئی
ربانیہ کا حسن چودھوی کے چاند لگ رہا تھا
ڈیپ ریڈ کلر کی میکسی پہنے اسی کے میچنگ جیولری اور بیوٹیشن کے کیے گئے مہارت کے میک اپ سے ربانیہ سراپہ حسن لگ رہی تھی
سمیرا بیگم نے پہلے اس کی نظر اتاری پھر ایمن اور آغوش اسے اندر لے آئے
اب انتظار تھا تو بس تیمور کا جو ابھی تک نہیں آیا تھا
“ایمن اتنی دیر کیو لگا دی تم لوگوں نے ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے ایمن کو کونے میں لےجاکر پوچھا
“ماما وہ گاڑی کا ٹائر پنچر ہوگیا تھا اوپر سے ٹریفک اتنی تھی اسی لئے دیر ہوگئی۔۔۔۔۔ ایمن نے انھیں وضاحت کی
“ہممم بس اب سب خیر سے ہوجائے آمین “۔۔۔
انھوں نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا
“جی ماما اب چلے بھی ممانی جان بلا رہی ہیں
ہاں چلو ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
“جی بھائی آپ پہنچ گئے وہاں”۔۔۔
رایان کال پر زایان سے بات کررہا تھا
“ہاں میں پہنچ گیا تم بتائوں کوئی مسلہ تو نہیں ہوا زیادہ شور تو نہیں مچایا اس نے۔۔۔۔۔
وہ ڈرائونگ کررہا تھا اور کانوں میں بلیو ٹوتھ لگائے وہ رایان سے بات کررہا تھا
“ہاں بھائی سب ہوگیا ابھی وہ بےحوش ہے مگر تین چار گھنٹوں سے زیادہ ہم سنبھال نہیں پائے گے “۔۔۔۔
“ہمم ٹھیک ہے تم وہاں سے نکلو اسے وہی چھوڑ دو جب تک ہمارا کام بھی ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔
جی بھائی ٹھیک ہے ۔
۔۔۔۔۔
“بھائی صاحب تیمور کہا رہ گیا ہے مولوی صاھب کب سے انتظار کررہے ہیں کب آئے گا وہ “۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے عمر صاحب سے پوچھا
“بہن میں کب اسے کال کررہا ہوں مگر اس کا نمبر بند جارہا ہے اب تو مجھے بھی ٹینشن ہورہی ہے ۔۔۔۔۔
وہ خود بھی بہت پریشان تھے مسلسل وہ فون کان پر رکھے ہوئے تھے
تبھی باہر سے ہارن کی آواز آئی
“لگتا ہے تیمور آگیا ہے”۔۔۔ سمیرا بیگم نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا
مگر اندر آنے والی شخصیت کوئی اور نہیں زایان ملک تھا ۔۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم” اس نے سب کو سلام کیا
مگر سب لوگ اتنے پریشان تھے کہ کسی نے اس کو جواب نہ دیا
سلمی بیگم حیرت سے اسی کو دیکھ رہی تھی جس نے آج ایک میٹنگ اٹنگ کرنے کیلئے دوسرے شہر جانا تھا مگر وہ یہاں کیا کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“رایان کو کل ملائو زانی پوچھو کہا رہ گیا ابھی تک وہ اور تیمور نہیں آئے۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے کہا
“مگر ماما رایان تو میٹنگ اٹنگ کرنے کیلئے کراچی گیا ہے شام میں ہی پروگرام چینج ہوگیا تھا اس لئے وہ تیمور کو سیلون چھوڑ کر خود فلائٹ کیلئے نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اتنی صفائی سے جھوٹ بول دیا کہ وہاں سننے والوں کو اس کی بات پر یقین آگیا
“کیا یہ کیا کہ رہے ہو تم برخودار تیمور نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ رایان کے ساتھ جارہا ہے “۔۔۔
عمر صاحب کو اب تیمور کیلئے ڈر لگنے لگا
“جی ماموں جان مگر وہ تیمور کو سیلون ڈروپ کرنے کے بعد خود ایئر پورٹ کیلئے نکل گیا تھا “
آپ رکے میں سیلون فون کرتا ہو پوچھتا ہو ان سے ۔۔۔۔۔۔
آغوش جو کمرے کے باہر کھڑی سب سن رہی تھی کمرے میں پریشانی کی عالم میں آئی
“کیا ہوا تمہیں “
آغوش کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات دیکھ ربانیہ نے پوچھا
“پتا نہیں رابی تیمور بھائی کہا ہے ابھی تک نہیں آئے مگر تم پریشان مت ہو زایان بھائی پتہ کررہے ہیں جلدی کچھ پتا چل جائے گا “۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر ربانیہ کو کرنٹ سا لگا
“کیا یہ کیا کہ رہی ہو تم ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
وہ اپنی میکسی سنبھالتی صوفے سے اٹھی
“تم ریلکس کرو میں ابھی دیکھتی ہو کہ کچھ پتا چلا۔۔۔۔
آغوش نے اسے شانوں سے تھامے دوبارہ صوفے پر بٹھایا اور خود باہر چلی گئی
۔۔
“ماما سیلون والے کہے رہے ہیں کہ وہ دو گھنٹے پہلے کسی لڑکی کے ساتھ چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایک کے بعد ایک جھوٹ صفائی سے بولا گیا
یہ بات سن کر وہاں بیٹھے سب لوگوں کو اک زور دار جھٹکا لگا
“یہ کیا کہ رہے ہو بیٹا تم ضرور انہوں نے تمہیں کسی اور کے بارے میں بتایا ہے ایک بار پھر پوچھو ان سے “۔۔۔۔۔
سمیرا بیگم نے اس سے التجا کی
“مگر انہوں نے مجھے کنفرم کرکے بتایا ہے کہ وہ دو گھنٹے پہلے کوئی لڑکی سیلون میں آئی تھی وہ اس کے ساتھ ہنستے ہنستے گاڑی کی بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔ وہ چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے بولا
“کیا کہے رہے ہو تم زایان ایک بار پھر فون ملائو اور کال سپیکر پے لو”۔۔۔۔
عمر صاحب نے اسے کہا
اس نے کال ملائی اور دو تین بیلز کے بعد کال ریسیو کرلی گئی
“Hello Is lsmail Speaking”
“Yes sir How can I help you”
دوسری طرف سے سیلون کے اونر نے جواب دیا
اسمائیل زایان ملک اسپیکنگ
یس سر
“I already knows you sir how can i help you “
“5 بجے کی اپائمنٹ تھی تیمور عمر کے نام سے مگر اب 8 بج رہے ہیں وہ ابھی تک گھر نہیں آیا کیا وہ وہاں سے نکلا نہیں ابھی”
“جی سر وہ یہاں سے 6 بجے ہی نکلے تھے کسی لڑکی کے ساتھ ابھی ان کی ٹریٹمنٹ باقی تھی مگر جب وہ لڑکی آئی تو انہوں نے سب کینسل کردیا اور اس لڑکی کے ساتھ چلے گئے “
Any problem sir
اونر نے نہایت ہی مئودبانہ انداز میں جواب دیا
No no it’s all right
“اوکے اسمائیل تھیکنس”
“اوکے ٹیک کیئر سر”
“جی اب آپ سب نے سن لیا وہ آپ سب کو بےوقوف بنا گیا ہے اسے یہ شادی کرنی ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
زایان نے انتہائی مغرور آواز میں کہا
“نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا اس نے اپنی مرضی سے شادی کیلئے حامی بھری تھی وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے”۔۔۔۔۔
عمر صاحب صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھے
“اب میری بچی کا کیا ہوگا بھائی صاحب وہ دولھن بنی اندر بیٹھی ہے میں اسے کیا جواب دو گی”۔۔۔۔۔
وہ عمر صاحب کے سامنے کھڑی روئے جارہی تھی
“سمیرا تم تو تیمور کو جانتی ہو وہ مر تو سکتا ہے مگر کبھی کسی کے جذبات کے ساتھ نہیں کھیل سکتا “۔۔۔۔۔۔۔۔
انھوں نے اپنا جھکا سر اٹھایا اور سمیرا کے آگے تیمور کی صفائی پیش کی
“تو ہم یہاں کوئی مذاق نہیں کررہے مامو جان آپ نے خود سنا کہ اس بندے نے کیا کہا وہ اپنی مرضی سے وہاں سے گیا ہے کوئی دودھ پیتا بچا تو ہے نہیں کے کسے انگلی پکڑ کر چلا جائے”۔۔۔
زایان نے ان کی عمر کا بھی پاس نہ رکھا اور ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا
“زایان بس کرو ان کی حالت تو دیکھو”۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے ڈانٹا
“نہیں بیٹا اس نے مجھ سے خود کیا تھا کہ وہ ربانیہ سے شادی کرنا چاہتا ہے پسند کرتا ہے اسے
پھر وہ ایسا کیو کرے گا آخر”۔۔۔۔۔
اپنے اک لوتے فرمانبردار بیٹے کے لئے ایسے الفاظ سن کر وہ رو پڑے
ربانیہ جو دروازے پر کھڑی سب سن رہی تھی
اچانک گر پڑی اور بےحوش ہوگئی
ربانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔سب لوگ اس کی طرف بھاگے سوائے زایان اور عمر صاحب
ربانیہ ربانیہ اٹھو اٹھو بیٹا کیا ہوگا اٹھو
سمیرا مسلسل اس کا چہرہ مسلسل تھپتھپا رہی تھی
آپی اٹھو نہ۔۔۔۔ حسان بھی رو رہا تھا
رابی اٹھو بیٹا ہوش کرو اٹھو رابی۔۔۔۔۔
ایمن آغوش اور سلمی بیگم بھی اس کی حالت کو دیکھ کر پریشان ہوگئے
ایمن دیکھو بیٹا کیا ہوا ہے اسے۔۔۔۔
سلمی بیگم نے ایمن سے کہا
ماما پہلے آپ اسے اندر لے کر چلے۔۔۔۔
زایان آئو اٹھائو اسے اور اندر لٹائو ۔۔۔۔۔
زایان اس کی طرف آیا اور اسے اپنی بازوئوں پر اٹھایا اور کمرے میں بیڈ پر لٹایا
ممانی جان حوصلہ کرے مجھے چیک کرنے دے۔۔۔۔۔ ایمن اس کی نبض چیک کررہی تھی اور سمیرا اس کے سرہانے بیٹھی رورہی تھی
آغوش جلدی ایک گلاس پانی لے کر آئو ۔۔۔۔۔
ایمن نے آغوش سے کہا
وہ کچن کی طرف بھاگی اور پانی کا گلاس ایمن کو تھمایا
ایمن نے اس کے چہرے پر چھینٹے ماری تو اس نے آنکھوں کو ہلکی سی جنبش دی
“ربانیہ اٹھو “ایمن نے اسے ہلایا تو وہ پوری حوش میں آئی اور بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی
عمر صاحب اس کی پیروں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سلمی بیگم صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ایمن اور آغوش ربانیہ کے ساتھ سائڈ پر کھڑی تھی اور زایان دروازے سے ٹیک لگائے سینے سے ہاتھ باندھے کھڑا ساری کاروائی دیکھ رہا تھا
“ربانیہ میری بچی مجھے معاف کردو یہ سب میری کم بخت اولاد کی وجہ سے ہوا ہے شاید میری ہی پرورش میں کوئی کھوٹ تھا جو آج مجھے یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔
انھوں نے اپنے جڑے ہاتھ ربانیہ کے آگے کیئے وہ ایک مضبوط انسان تھے مگر آج ان کا ضبط ٹوٹ گیا وہ رو رہے تھے
“نہیں ماموں جان پلیز اس نے ان کے جڑے ہاتھ پکڑے اس میں آپ کا کیا قصور ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کمرے میں واحد تھی جو کہ رو نہیں رہی تھی کیونکہ اسے ابھی بھی تیمور کی بےوفائی کا صدمہ تھا اس نے عمر صاحب کے بندھے ہاتھ پکڑ کر نیچے کیے
سمیرا بیگم تو بس روئے جارہیں تھیں
“نہیں بھائی صاحب اس کی آپ کا کہا قصور ہے آپ کیو معافی مانگ رہے ہیں”۔۔۔۔
سلمی بیگم بھی اب کھڑی ہوگئی
زایان بھی اب غور سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا اور اپنے وقت کا انتظار کررہا تھا
“سلمی بہن یہ سب میری اولاد کی نالائقی ہے ایک معصوم کا مستقبل خراب کردیا میں نے مجھے کسی کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا اس نے جہاں بھی گیا ہے اللہ کرے وہی مر جائے کبھی واپس نہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں بھائی صاحب ایسے نہیں کہے کسی کا مستقبل برباد نہیں ہوا یہ سب تو قسمت کے فیصلے ہیں شاید اس کے مقدر میں یہی لکھا تھا ۔۔۔۔۔
انھوں نے ربانیہ کو دیکھتے ہوئے ساری بات کہی
“بس اب بہت دیر ہوگئی ہے وہاں حال میں ہزاروں لوگ جمع ہوکر جاچکے ہیں اب کس کس کے منہ بند کروائے گے ہم”۔۔۔۔۔۔
“اس لیئے اب میں اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دو گی انھوں نے ربانیہ کے سر پر شفقت بھرا” ہاتھ پھیرا جو سر جھکائے سب سن رہی تھی
جائوں زایان نکاح خواہ کو لے کر آئو ابھی ہوگا اس کا نکاح اسی وقت ۔۔۔۔۔۔
وہاں موجود کر ایک کی سماعت پر سلمی بیگم نے نیا بم پھوڑا
سب لوگ ان کی طرف نا سمجھ نظروں سے دیکھ رہے تھے
“آپا یہ کیا کہ رہی ہے آپ کون کرے گا اس سے نکاح”۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت کے تاثرات لیئے سلمی بیگم سے پوچھ رہی تھی
“میری بیٹی بنے گی یہ میرے زایان کی دولھن بنے گی میرا زایان کرے گا اس سے شادی “۔۔۔۔۔
ان کی بات سن کر جہاں زایان کے دل کو سکون ملا وہی ہر بندے کو ایک نیا جھٹکا لگا
“مگر ماما یہ سب”۔۔ وہ ڈرامے باز کیو پیچھے رہتا
بس انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا
میں نے جو کہا ہے وہ کرو ماں کی بات سن کر وہ خاموش ہوگیا
“کیو سمیرا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں”۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور سلمی بیگم کو گلے لگایا
“آپا جس کی بد بخت بیٹی کو کوئی اپنی بہو بنانا چاہے اس ماں کو بھلا کیا اعتراض ہوگا ۔۔۔۔۔
ربانیہ جس نے تیمور کی بےوفائی کا سن کر ایک آنسوں نہ بہایا تھا سلمی بیگم کی بات سن کے اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑیاں بہے نکلی
“مگر مجھے اعتراض ہے پھپو میں یہ نکاح نہیں کرو گی مجھے بار بار اپنی تزلیل برداشت نہیں”۔۔۔۔
وہ چیخ کر بولی
زایان اس کی بات سن کر اسے غصے سے دیکھ رہا تھا
عمر صاحب کا شرمندگی کے مارے سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا
ایمن اور آغوش بھی یہ سب چپ چاپ سن رہی تھیں
“آپا آپ نکاح خواہ کو بلائے مجھے اس سے بات
آپ سب کچھ دیر کیلئے باہر چلے جائے مجھے اس سے اکیلے میں بات کرنی ہے”۔۔۔۔۔
انھوں وہاں موجود ہر شخص سے التجا کی
اب کی بات سن کر وہ سب کمرے سے چلے گئے
اور سمیرا بیگم نے دروازہ بند کردیا
“امی میں یہ نکاح ہرگز نہیں کرو گی کوئی گڑیا سمجھ رکھا ہے مجھے جب چاہا جس کے ساتھ چاہا باندھ دیا “۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ اس کے پاس بیٹھ گئی
“عورت ہوتی ایک گڑیا ہے پہلے ماں باپ کے ہاتھوں اور پھر شوہر کے ہاتھ کی گڑیا ۔۔۔۔۔
چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے وہ بولی
عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا ربانیہ کیا تم نہیں جانتی تمہاری ماں نے ساری زندگی لوگوں کی حقارت بھری نظریں برداشت کی ہے ایک مرد کا سہارا ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے جو عورت پر پرنے والی ہر نظر خو کرچی کرچی کر دیتا ہے
جانتی ہو جب حسان ہمیں ملا تھا تب تم گیارہ سال کی تھی میں روز لوگوں کی جلی کٹی سنتی جانتی ہو لوگ کیا کہتے تھے کہ حسان تمہاری ناجائز اولاد ہے تمہارے کون سے عاشق کا خون ہے یہ
“امی پلیز مجھے یہ سب مت بتائے اس نے عزیت سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔۔۔
نہیں تمہیں سننا ہوگا یتیم کے سر پر ہاتھ کوئی نہی رکھتا مگر اس کے کی چادر ہٹانے والے بہت ہوتے ہیں شکر کرو آپا یہ چادر اپنے پاس سنبھال
رہی ہے اگر یہ چادر ہٹ گئی تو تم کہی کی نہیں رہو گی یہ دنیا تمہیں جینے نہیں دے گی اپنی ماں کے جھکے سر کی لاج رکھ لو انھوں نے ربانیہ کے سامنے ہاتھ باندھے
امی میں ۔۔میں تیار ہو اس نکاح کیلئے میں اس چادر کو کبھی گرنے نہیں دو گی وہ اپنی ماں کے سینے سے لگ کر بلک بلک کر رونے لگی
“بہت شکریہ میری بچی۔۔۔۔ انھوں نے ربانیہ کے سر کو چوما اور اس کی آنکھوں سے آنسوئوں صاف کیئے
اس جوڑے کو اتارو اور کوئی لال رنگ کا جوڑا اپنی الماری سے نکالو اسے پہن لو کیونکہ یہ تیمور کے نام کا ہے میں ایمن اور آغوش کو بھیجتی ہو وہ تمہارا حلیہ درست کرے گے ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے سر کو اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔
یہ سارا پلین زایان کا تھا اس میں اس کا ساتھ رایان نے دیا اس نے رایان سے کہا کہ وہ ربانیہ سے شادی کرنا چاہتا محبت کرتا ہے اس سے اس کے بغیر رہے نہیں سکتا رایان نے بھائی کی بات مان لی وہ تیمور کو اسی سیلون میں لے گیا جو زایان کے دوست کا تھا رایان کا نام اس سب میں نہ آئے اس لئے گاڑی میں ہی اسے زایان نے فون کیا جو ڈرائونگ کی وجہ سے رایان نے اسپیکر پر لگایا تھا زایان نے اسے کراچی والی میٹنگ کا بتایا کہ وہ نہیں جا سکتا اس لئے رایان کو ہی جانا ہوگا رایان تیمور کو سیلون چھوڑ کر خود اس کے اونر کو وکٹری کا سائن دے گیا تھا
اسماعیل نے تیمور کو ایک ڈرنک پلائی جس میں نیند کی گولیاں تھی تیمور جب بےحوش ہوگیا تو رایان اسے ایک کھنڈر زدہ علاقے میں اسے چھوڑ کر وہاں سے کراچی چلا گیا۔۔۔۔
یہ سارا پلین زایان کا تھا اس معصوم کی زندگی تباہ کرنے میں اس نے کوئی کثر نہ چھوڑی ۔۔۔۔
۔۔۔
نکاح خواہ آچکا تھا گواہ کے نام پر عمر صاحب فیصل اور زایان کے کچھ دوست تھے ۔۔۔
ربانیہ نے لال رنگ کا سادہ پیروں تک آتا فراک ہہنا ہوا تھا ایمن اور آغوش نے اس کی ڈریسنگ بھی بہت اچھی کی تھی اس کے بالوں کو فرینچ کی شکل دے کر کھلا چھوڑا تھا سر پر دوپٹہ سیٹ کیا گیا تھا جیولری کے نام پر صرف جھمکے اور ایک پینڈنٹ پہنا ہوا تھا اور میک اپ کے نام پر صرف لائینر اور لپسٹک لگائی گئی تھی
وہ دونوں اسے تیار کرکے باہر لے آئے جہاں تمام لوگ موجود تھے اسے زایان کے سامنے والے صوفے پر بٹھایا گیا مولوی صاحب زایان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا جسے وہ بچپن سے چاہتی تھی آج وہ اسی کی ہونے جارہی تھی مگر اسے خوشی کیو نہیں تھی تیمور تو اس سے محبت کرتا تھا اور اس کی محبت میں اتنا اثر تھا کہ ربانیہ بھی اسے پسند کرنے لگی تھی پھر اس نے بےوفائی کیو کی اس کا قصور کیا تھا
۔۔۔۔
مولوی صاحب نے سب کی اجازت سے نکاح پڑھانا شروع کیا
“ربانیہ احمد بنت احمد خان آپ کا نکاح زایان ملک ولد عبدلملک سے ایک لاکھ روپے سکہ ارائے جروقت میں نے ان گواہان کی موجودگی میں تے کیا کیا آپ نے قبول کیا”۔۔۔۔
کیا تم میری اس بے رنگ زندگی میں رنگ بھر پائو گی ۔۔۔۔۔
اس کے ذہن میں تیمور کی کہی باتیں گردش کررہی تھی اس نے مولوی صاحب کی کہے کلمات پر دھیان ہی نہ دیا
سب لوگ اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے
“آپ مجھے کبھی میری نظروں میں مت گرائے یہ گا تیمور اسے تیمور سے کہی ساری باتیں یاد آئی “۔۔۔۔
ربانیہ بیٹے جواب دو سلمی بیگم نے اسے ٹٹولا
“مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔ زایان بھی اب اس کی طرف حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا
مولوی صاحب نے نکاح کے کلمات دوبارہ دہرائے
“ربانیہ احمد بنت احمد خان آپ کا نکاح زایان ملک ولد عبدلملک سے ایک لاکھ روپے سکہ ارائے جروقت میں نے ان گواہان کی موجودگی میں تے کیا کیا آپ نے قبول کیا ۔۔۔۔۔
اب اس کی طرف آس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے
“اپنی ماں کے جھکے سر کی لاج رکھ لو” اسے سمیرا بیگم کی باتیں یاد آئی
بیٹا جواب دو سمیرا بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اس نے لال آس بھری نظروں سے ماں کو دیکھا
“اور آنکھیں میچے
میں نے قبول کیا “
اس نے تین بار جواب دیا
سب لوگوں نے سکون کا سانس لیا عمر صاحب نے نکاح نامے پر اس کے سائن لئے
اس نے سائن کیئے اور روتی روتی آٹھ کر کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا
اور دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھ گئی