No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
وہ غصے میں اپنے کمرے سے نکلا وہ تو اسے منانے گیا تھا مگر اس کے بےجہ لاڈ نے ربانیہ کی طبیعت کو متاثر کیا تھا اسی لیے اب وہ کسی کی نہیں سنتی تھی وہ یہی سوچ رہا تھا
سیدھے گھر سے وہ آفس چلا گیا
۔۔۔۔۔
شام تک اس کا رونا جاری رہا آخر اس نے ایسا بھی کیا کہ دیا تھا جو زایان اس پر ہاتھ اٹھانے لگا یہ سوچ سوچ کر اسے اور بھی رونا آرہا تھا
فون اس نے سوئچ آف کردیا تھا
شام کے وقت سلمی بیگم اس کے کمرے میں آئی اور ان کے پیچھے فریدہ اسے کیلئے کھانے کی ٹرے
وہ بیڈ پر اوندھے منہ سوئی ہوئی تھی
فریدہ نے ٹرے اس کی سائڈ ڈرور پر رکھی اور چلی گئی
ربانیہ بیٹا اٹھو۔۔۔۔
سلمی بیگم اس کے پاس بیٹھی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے آواز لگائی
مگر وہ نہیں اٹھی سلمی بیگم نے جب اس کے چہرے کو چھوا تو وہ پریشان ہوگئی
وہ بخار سے تپ رہی تھی
ربانیہ بیٹا اٹھو کیا ہوا ہے اب کی بار انھوں نے اس کو ہلایا مگر بخار تیز تھا جو اسے اٹھنے ہی نہیں دے رہا تھا
فریدہ جلدی اوپر آئو ۔۔۔۔انھوں نے اونچی آواز میں فریدہ کو آواز لگائی تو وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی
کیا ہوا بیگم صاحبہ سب ٹھیک ہے
کمرے میں آتے ہی اس نے پوچھا
رایان گھر پر ہے
جی ابھی آئے ہیں وہ
جلدی سے اسے کہو کہ ڈاکٹر کو کال کرے اور بلائے ربانیہ کو بہت تیز بخار ہے جلدی کہو اسے
وہ فریدہ کو کہتے ہوئے بار بار ربانیہ کو ہلا رہی تھی
جی میں ابھی کہتی ہو وہ ایک نظر بیڈ پر پڑی ربانیہ کو دیکھتی نیچے چلی گئی
۔۔۔۔۔
سلمی بیگم ربانیہ کے سرہانے بیٹھی ہوئی جبکہ فرحین اور فریدہ دروازے پر کھڑی تھی
اور رایان مسلسل زایان کو کال کرتے ہوئے کمرے میں ٹہل رہا تھا مگر اس کا نمبر بند جارہا تھا
ڈاکٹر اس کا معائنہ کررہی تھی
کیا ہوا ہے ڈاکٹر صاحبہ سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے ڈاکٹر آئلہ سے پوچھا جو اس کو چیک کررہی تھی
زایان اس کا چیک اپ اسی ڈاکٹر کے پاس سے کراتا تھا تبھی وہ اتنی ارجنٹ بلانے پر آئی تھی
میں نے زایان سے کہا تھا کہ اسے سٹریس نہیں دینا یہ بہت ویک ہے اس کے چہرے پر ابھی بھی پسینہ آرہا ہے شاید بہت ڈر گئی ہے آپ پلیز اس کا بہت خیال رکھے ذرا سی کوتاہی اس کی اور بچے کی صحت کیلئے نقصان کا باعث ہے
وہ اس کی پرسکرپشن لکھتی ہوئی سلمی بیگم کو ایک ایک بات سمجھا رہی تھی
ڈرپ میں نے لگا دی ہے باقی آپ یہ میڈیسنز اسے دیتے رہے کل تک بخار اتر جائے گا اور اگر نہ اترے تو کائنڈلی اسے ہوسپیٹل لے آئیے گا
انھوں نے پرسکرپشن رایان کو پکڑائی اور وہ ان کے ساتھ باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔
زایان رات کے بارہ بجے گھر میں آیا تو سلمی بیگم اور رایان حال میں بیٹھے اسی کا انتظار کررہے تھے
وہ پہلے تو انہیں کو دیکھ کر حیران ہوا
کہا تھے تم یہ وقت ہے گھر آنے کا
اسے دیکھتے ہی سلمی بیگم اس پر برسی
آفس میں تھا ایک ضروری میٹنگ تھی کیا ہوا سب خیریت ہے نا
وہ انہیں کے سامنے رایان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
یہ رات کے بارہ بجے ایسی کون سی میٹنگ ہوتی ہے تمہاری ذرہ مجھے بھی بتائو
وہ اس کی طرف سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
کیا ہوا ماما میں آج تھوڑی آیا ہو اس وقت گھر آخر ہوا کیا ہے
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر سلمی بیگم اسے کس بات پر ڈانٹ رہی ہیں جبکہ رایان بھی سنجیدہ سا اس کی طرف دیکھ رہا تھا
تم نے کیا کہا ہے ربانیہ سے ۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے پوچھا تو وہ رایان کی طرف دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا ہوا ہے
مگر وہ کندھے اچکائے وہاں سے چلا گیا
تو اس نے آپ سے میری شکایت کی ہے
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے سلمی بیگم سے بولا
مطلب تم اس سے لڑائی کرکے گئے تھے گھر سے ۔۔۔۔
نہیں ماما وہ ایسے ہی ہائپر ہورہی تھی ذرا ذرا سی بات کا اشو بنا دیتی ہے کچھ نہیں کہا میں نے اسے ۔۔۔۔۔
اسے ربانیہ سے ہرگز یہ امید نہ تھی کہ وہ اس کی شکایت سلمی بیگم سے کرے گی اسے یہ سن کر غصہ آگیا اب وہ اس کی اچھی خاصی کلاس لینے کا ارادہ رکھتا تھا
تو اسے ایسے ہی اتنا تیز بخار ہوگیا جانتے بھی ہو ڈاکٹر کیا کہ کر گئی ہے۔۔۔۔۔
بخار کا نام سنتے ہی وہ ایک دم سیدھا ہوا
بخار مگر جب میں گیا تھا تب تو ٹھیک تھی بلکل۔۔۔۔۔
وہی تو میں تم سے پوچھ رہی ہو کہ آخر کیا بات ہوئی ہے جو وہ اتنا ڈر گئی ہے ۔۔۔۔۔
ماما وہ فرحین سے انسیکیور ہورہی ہے
وہ نظریں چرائے بولا
انھوں نے اس کی یہ بات سننے کے بعد اسے گھورا
دیکھو پہلے بھی صرف تمہاری وجہ سے ہم سب نے نقصان اٹھایا تھا مگر اب میں نہیں چاہتی کہ ایسا کچھ بھی ہو جو ربانیہ چاہتی ہے وہی کرو اسے جلد از جلد کہی شفٹ کرو اور ہمارے سر سے اس مصیبت کو اتارو
وہ اسے سمجھاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھا سوچتا رہا
پھر پریشانی میں سر جھٹکے اپنے کمرے کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔
کمرے میں آیا تو ربانیہ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی اپنی ڈرپ ختم ہونے کا انتظار کررہی تھی
اسے دیکھتے ہی ربانیہ نے نظریں پھیر لی
اپنا کوٹ اور جوتے اتارنے کے بعد وہ چینج کرنے چلا گیا
واپس آیا تو وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی
ڈنر کیا تم نے۔۔۔۔۔ وہ اس کی ڈرپ دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
مگر وہ نظریں دوسری طرف کیے خاموش رہی
ڈرپ ختم ہوچکی تھی تو زایان نے ٹیوب نکال دی اور ڈرور سے سیزر نکال کر ڈرپ کی ٹیپ کاٹی
ربانیہ نے آنکھیں میچ لی
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے سوئی بھی اس کے ہاتھ سے نکال دی
اور اس جگہ پر ٹشو رکھ دیا ربانیہ اس سے ناراض تھی اسی لیے خاموش رہی ورنہ اس بات پر اچھا خاصا شور مچاتی
بلڈ صاف کرنے کے بعد وہ اپنی سائڈ پر بیٹھ گیا
اب میں تم سے کیا کہو۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھے بےبسی سے بولا
کیا بندوبست کرنے کا سوچا ہے آپ نے میرا ۔۔۔۔۔
وہ کاٹ کھانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی
زایان نے کسی طرح غصہ ضبط کیا
تم بلاوجہ ہائپر ہورہی ہو ایسی کوئی بات ہے نہیں ویسے ۔
آپ نے میرا کیا بندوبست کرنے کا سوچا ہے ۔۔۔۔
دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی بات دوہرائی
میں کچھ دنوں میں فرحین کو یہاں سے کہی اور شفٹ کرونگا ۔۔۔۔۔۔
ربانیہ کی ہٹ دھرمی دیکھ کر وہ جان گیا تھا کہ اب اسے سمجھانا بےکار ہے اسی لیے اس نے اس کے مطلب کی بات کی
آپ کیو اسے کہی شفٹ کرے گے آپ اس کے لگتے کیا ہے آخر وہ جیے مرے یہ آپ کا ہیڈ اک تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
فرحین کا نام اسے اور بھی غصہ دلا گیا اسے سب کچھ برداشت تھا مگر فرحین کا نام بھی سننا نہیں چاہتی تھی
زایان نے اپنا سر پکڑ لیا
تمہاری یہی یہی حرکتیں مجھے تم سے بیزار کررہی ہے مطلب یار ایک ہی بات کو پکڑ کر بیٹھ گئی ہماری اپنی بھی کوئی زندگی ہے یا نہیں میں آفس سے تھکا ہارا آتا ہو تاکہ تمہارا ایک فریش سا چہرہ مجھے دیکھنے کو ملے جسے دیکھ کر میں اپنی ساری تھکن بھول جائو مگر تم سارا دن روتی دھوتی رہتی ہو روز میں ایک روتا دھوتا سوجا ہوا چہرہ دیکھو کیا چاہتی ہو تم کیا کرو میں تمہارے پیروں میں گر جائو یا پھر تمہارا تاج بنا کر سر پر پہنو بتائو مجھے۔۔۔۔
وہ اسے سرد نگاہوں سے دیکھتا ہوا بیزار لہجے میں بولا مگر یہ نہیں سوچا کہ اس کی باتیں سامنے والے کے دل میں کس طرح چبھ رہی ہیں
وہ جو سوچ کر بیٹھی تھی کہ زایان اس کی طبیعت کا خیال کرکے اس سے پیار سے بات کرے گا اسے منائے گا الٹا اسی کی بےستی کردی
شوق سے رکھیے اپنی فرحین کو دل کرے تو اپنے کمرے میں لے آئے اس کے پیرو میں گرے یہ تاج بنائے میں آج سے آپ کو کچھ نہیں کہو گی بلکہ اپنی یہ روتی دھوتی شکل بھی نہیں دکھائو گی
وہ آنسو ضبط کرتی ہچکیو میں کہتی بستر سے اٹھی اور جانے لگی
اب کہا جارہی ہو ۔۔۔۔۔
وہ اچانک ہونے والی اس حرکت سے بوکھلا گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا
اس نے بےدردی سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور دروازہ زور سے بند کیے چلی گئی
۔۔۔۔۔
رات کو وہ سلمی بیگم کے کمرے میں سو گئ تھی سلمی بیگم نے بھی اس کی طبیعت کا خیال کرتے ہوئے اس سے کچھ نہیں پوچھا
وہ بار بار اٹھ کر اس کا بخار چیک کرتی مگر وہ اسی ٹمپریچر میں ہی تھا انہیں بار بار زایان پر غصہ آرہا تھا اب صبح وہ ربانیہ کے سامنے اس کی اچھی خاصی کلاس لینے والی تھی
۔۔۔۔۔۔
رات کو وہ خود اس کے پیچھے نہیں گیا تھا تاکہ اس کی عقل ٹھکانے آجائے مگر اس کی طبیعت کا سوچتے ہوئے وہ ساری رات بے چین رہا
صبح بھی وہ نماز کے وقت دیکھتا رہا کہ وہ کب روم میں آئے مگر وہ نہیں آئی
وہ آفس کیلئے تیار ہوکر سیدھا سلمی بیگم کے کمرے میں آیا
جہاں ربانیہ بخار کی وجہ سے سکڑی ہوئی سو رہی تھی اور سلمی بیگم اسی کے سرہانے بیٹھی تھی ساری رات وہ بھی اس کی وجہ سے نہیں سو سکی
وہ جب کمرے میں آیا تو سلمی بیگم اس سے خفا تھی اسی لیے اسے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہی دوبارہ ربانیہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھے چیک کرنے لگی
اس کا بخار نہیں اترا ابھی۔۔۔۔۔۔
وہ بھی ربانیہ کی سائڈ پر آئے اس کا ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کرنے لگا
تم ٹھیک ہونے دو نہ ۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم اسے خفا ہوکر بولی
ماما اٹ لیسٹ آپ تو مجھے سمجھے یہ تو میری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے ۔۔۔۔
وہ مایوس سا صوفے پر بیٹھا ان سے بولا
تو تم وہی کرو جو یہ چاہتی ہے کیو فرحین کو گلے کا پھندا بنائے بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ کی نیند کا احساس کرتے ہوئے آہستہ آواز میں بولی
ٹھیک ہے میں آج ہی اس کیلئے کوئی فلیٹ دیکھتا ہو اور شام تک وہ آپ لوگوں کو نظر بھی نہیں آئے گی پھر خوش رہیے گا آپ بھی اور آپ کی لاڈلی بہو بھی۔۔۔۔۔
لاڈلی بہو پر اس نے ربانیہ کو خونخار نظروں سے گھورا وہ ایک حقارت بھری نظر ربانیہ کے وجود پر ڈالے کمرے سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا میں نے اس سے صاف صاف کہ دیا تھا کہ وہ اسے کہی اور شفٹ کرے ۔۔۔۔۔
وہ اسے کھانا کھلانے کی کوشش کررہی تھی مگر وہ ڈھیٹ بنی بیٹھی تھی
پھپھو وہ کیو اس کی اتنی پرواہ کرتے ہیں کیا لگتی ہے وہ انکی بہن تو نہیں ہے یہ تو وہ مجھے بتا چکے ہیں کیا اب اس سے شادی بھی کرے گے۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے اتنا سب بولی گئی
دیکھو بیٹا تم اس کی اور اپنی لڑائی میں بچے کو نقصان پہنچا رہی ہو صبح بھی تم نے صرف ایک سیب کھایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جو سلمی بیگم نے اسے زبردستی میڈیسنز کیلئے کھلایا تھا
اب میں تمہاری ایک نہیں سنو گی چلو میرا بیٹا یہ ختم کرو ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے بچو کی طرح ٹریٹ کررہی تھی کب سے اس کے آگے سوپ کا چمچ لیے بیٹھی تھی
پھپھو نہیں کھانا مجھے نہیں ہے بھوک ۔۔۔۔۔
وہ ازلی غصے سے کہتے اپنے کمرے میں چلی گئی سلمی بیگم تو دو گھنٹے پہلے شکر پڑھ رہی تھی کہ اس کا بخار کچھ کم ہوگیا تھا مگر اس کی ضد دیکھ کر انہیں اب پریشانی ہورہی تھی
۔۔۔۔۔۔
وہ صوفے پر آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی جب اس کا موبائل بجا اور اس نے آنکھیں کھولی
اٹھ کر بیڈ پر پڑا اپنا فون اٹھایا تو سکرین پر سیرت کا نام چمک رہا تھا
اس نے کال اٹنڈ کی
ہلو۔۔۔۔۔ کافی تھکی تھکی آواز میں کہا
ہلو جان کیسی ہو ۔۔۔۔۔دوسری طرف سے منہل کی رس گھولتی آواز اس کے کانوں میں پڑی
وہ بھی اس کی آواز سن کر فریش ہوگئی
میں بلکل ٹھیک ہو جان تم بتائو آج اتنے دنوں بعد میری یاد کیسے آگئی۔۔۔۔۔
اس کی آواز سنتے ہی وہ ایک دم فریش ہوگئی
یاد اس لیے آئی کیونکہ آج منہل کا ففتھ برتھ ڈے ہے اور میں آپ کو انوائیٹ کررہی ہو پلیز سات بجے آجانا ۔۔۔۔۔۔
اسے منہل کا منت بھرا انداز کافی اچھا لگا
ارے میں ٹائم پر آئو گی بھی اور آج رات منہل کے ساتھ رکو گی بھی ۔۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے منہل سے کہا تو آخری بات پر منہل خوشی سے چہک اٹھی
اوکے میں ویٹ کرونگی
وہ زایان کے سامنے بلکل نہیں آنا چاہتی تھی اسی لیے اس نے خود ہی رکنے کا سوچا
۔۔۔۔۔۔
پھپھو نے اسے بڑی مشکل سے اجازت دی تھی اور اس کے آگے کھانا کھانے والی شرط رکھی
اس نے پیٹ بھر کر تو نہیں مگر نارمل کھایا اور میڈیسنز بھی لی
منہل کیلئے اس نے رایان سے کہ کر گفٹ منگوایا جو وہ ایک گھنٹے میں اسے پیک کراکے دے گیا تھا
شام میں وہ تیار ہوکر رایان کے ساتھ مامو کے گھر چلی گئی تھی
۔۔۔۔۔
آج سارا دن وہ فرحین کے رہنے کیلئے فلیٹ دکھتا رہا اور آخر کافی فلیٹس دیکھنے کے بعد اسے ایک پسند آیا تو اس نے وہی فائنل کردیا
اب وہ صبح ہی اسے وہی شفٹ کرنے والا تھا
آٹھ بجے وہ گھر آیا
اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا
تھکن کے باعث چینج کیے بغیر ہی سو گیا
نو بجے اسے فریدہ ڈنر کیلئے بلانے آئی تو وہ جاگا
نیچے آیا تو وہاں گھر کے تمام افراد موجود تھے سوائے ربانیہ کے
اس نے کرسی سنبھالی
آپ کی بہو کہا ہے بخار اترا اس کا کہ نہیں ۔۔۔۔۔
ایک ہی رات میں وہ اس کی بیوی سے سلمی بیگم کی بہو ہو گئی تھی
تیمور کی بیٹی کا برتھ ڈے ہے وہی گئی آج رات وہی رکے گی ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے بتایا تو اس کا موڈ جو کہ پہلے سے بگڑا ہوا تھا مزید خراب ہوگیا
ایک طرف آپ مجھ سے کہتی ہے کہ اس کا خیال رکھو اور جب اسے بخار ہے تو آپ نے اسے وہاں کیسے بھیج دیا۔۔۔۔۔
وہ جب سے آیا تھا کہ کمرے میں اسی کا انتظار کررہا تھا مگر وہ تو گھر پر ہی نہیں تھی مطلب اس کی نیند چین سب حرام کرکے وہ وہاں چلی گئی اور یہی بات اس سے برداشت نہ ہوئی
اس کا مائنڈ بھی فریش ہو جائے گا اسی لیے بھیج دیا اسے میں نے۔۔۔۔۔
انھوں نے اس کا بگڑتا موڈ دیکھ کر اسے ریلکس کرنا چاہا
اور یہ رکنے والی بات مجھ سے تو نہیں پوچھا اس نے ۔۔۔۔
مگر سلمی بیگم اور رایان اپنی پلیٹ میں سر کیے چپ ہوگئے اور حسان اپنے کمرے میں چلا گیا
کہا جارہے ہو تم ۔۔۔۔اسے اٹھتا دیکھ سلمی بیگم نے پوچھا
اس کوئین کو لینے جارہا ہو۔۔۔۔۔
وہ لاپرواہی سے کہتا وہاں سے چلا گیا
