No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
اب عبدالمالک موقع ڈھونڈ رہا تھا کہ وہ کیسے سمیرا کو اپنے قابو میں کرے ایک دن وہ گھر آیا تو اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی جگہ جگہ چوٹیں زخم یہاں تک کے ماتھے سے خون رس رہا تھا میں نے جب اس سے پوچھا تو اس نے مجھے کوئی سیدھا جواب نہ دیا بلکہ ٹال دیا وہ حال میں بیٹھا تھا اور میں اس کی بینڈیج کررہی تھی تب خوش بخت وہاں آئی اور اسے دیکھ کر تنظیہ ہسنے لگی
“لگتا ہے بھابھی آپ کے شوہر کسی ایسی جگہ منہ مارنے گئے تھے جہاں انکی دال نہیں گلی”۔۔۔۔
یہ سنتے ہی عبدالمالک غصے میں آگیا
“تم جیسی بکائو عورت کو کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی”
عبدالمالک کی یہ بات سن کر خوش بخت تیش میں آگئی
“بکائو میں نہیں تم جیسے دو کوڑی کے مرد کی گھٹیا سوچ ہے کہنے کو تو تم ایک بہت بڑے بزنس مین ہو مگر حقیقت میں تم اتنے ہی گرے ہوئے گھٹیا اور بد ذات مرد ہو جو دوسروں کی عزت ہر ہاتھ ڈالتا ہے اور بھابھی آپ تو جانتی ہے کہ یہ آدمی آپ کے بھائی کی عزت کو خراب کرنا چاہتا ہے چلے میں تو ہو پرائی آپ کی کچھ نہیں لگتی مگر سمیرا وہ تو آپ کے بھائی کی بیوی ہے آپ اب بھی چپ ہے اگر میں آپکی جگہ ہوتی نہ تو تھوکتی بھی نہ اس گھٹیا آدمی پر “۔۔۔۔
خوش بخت کی باتوں نے مجھے تو پانی پانی کردیا مگر اس کا اثر عبدالمالک پر نہ ہوا
“چپ کر جا تو نہیں تو جان سے مار دونگا تجھے”۔۔۔ عبدالمالک اس کی طرف بڑھا اور اسے بالوں سے پکڑ کر تھپڑ مارنے لگا
“تم مجھے کیا مارو گے میں تو پہلے ہی مر چکی ہو میرے اس وجود کو قبر میں اتارنا باقی ہے مگر تم یہ کیسے بھول گئے کہ تمہاری بھی بیٹی ہے
بھابھی آپ ہی کہتی ہے نہ کہ ایمن بلکل سمیرا جیسی دکھتی ہے اگر یہ بات سچ نکلی تو کہاں کے رہو گے تم”۔۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھے ڈالے بولی
“کیا کررہے ہیں چھوڑے اسے”۔۔۔۔۔ میں ان کے درمیان میں آئی اور خوش بخت کو کمرے میں لے گئی
بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ سمیرا کے گھر گیا تھا اور احمد نے اس کی یہ حالت کی ہے
اس کے بعد وہ کبھی سمیرا کے گھر نہیں گیا مگر خوش بخت وہ اسے نہیں چھوڑتا کچھ دن بعد خوش بخت کی طبیعت خراب ہوگئی چیک کروانے پر پتا چلا کہ وہ امید سے ہے اس وقت اسداللہ لندن میں تھا خوش بخت کی زندگی میں یہ پہلی خوشی تھی وہ بے صبری سے انتظار کررہی تھی کہ کب اسد اللہ آئے اور وہ اسے یہ بات بتائے تاکہ وہ الگ گھر میں رہے مگر خوش بخت کے نصیب میں خوشی تھی ہی نہیں اسد اللہ کبھی باپ ہی نہیں بن سکتا تھا وہ عبدالمالک کی گندی نظر تو دیکھ چکا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنا گر جائے گیا کہ اس کہ عزت کو داغ دار کردے گا
جب وہ واپس آیا اور خوش بخت نے اسے یہ بات بتائی تو اس نے خوش بخت کو بہت مارا یہاں تک کہ اس کی اولاد کا قتل کردیا اس کا سب سے پہلا شک عبدالمالک پر گیا مگر عبدالمالک شاید اس کی سوچ سے زیادہ چالاق تھا
اس نے خوش بخت اور احمد کی کچھ نا پازیبہ تصویریں بنوائی اور انہیں اسد اللہ کو دکھایا تاکہ اس پر کوئی الزام نہ لگا سکے اس نے تصویروں سے یہ ثابت کردیا کہ اسکی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا احمد ہی ہے
اسد اللہ نے خوش بخت کی زندگی کو تباہ کردیا وہ ہر روز اس کی تانہ کسی کا شکار ہوتی اور اسد اللہ یہ ٹھان چکا تھا کہ اب وہ احمد کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا جیسے اس کی زندگی برباد ہوئی وہ احمد کی زندگی برباد کرے گا
سمیرا کو ایک سال بعد اللہ نے پھر اولاد کی خوشخبری دی وہ بہت خوش تھی مگر اب اسداللہ کو یہ بات پتا چل چکی تھی وہ احمد کے ساتھ وہی سب کچھ کرنا چاہتا تھا جو اس کے ساتھ ہوا
سمیرا کا آٹھواں ماہ چل رہا تھا احمد اس کا دن رات خیال رکھتا کیونکہ پہلے اولاد نہ ہونا اور پھر خدا کی دوبارہ نعمت وہ بہت خوش تھا میں تو ان کے گھر جاتی ہی نہیں تھی بھلے ہی وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ میں عبدالمالک کے ہر گناہ میں میں برابر کی شریک ہوں مگر میں اپنے بھائی سے نظریں کیسے ملاتی بس فون پر بات ہوتی رہتی ایک دن اسد اللہ ان کے گھر گیا اس وقت احمد گھر پر نہی تھا وہ سمیرا کے کمرے میں گھس گیا مگر عین اسی وقت احمد گھر آیا اور اسے کمرے میں پکڑ لیا جبکہ سمیرا سوئی ہوئی تھی اسے تو اس سب کا علم ہی نہ تھا مگر وہ کہتے ہے عورت کا کردار پتلا کانچ ہے ایک بار دراڑ آگئی تو اسے باہر پھینکا جاتا ہے گھر پر نہیں سجایا جاتا
اسد اللہ تو وہاں سے بھاگ نکلا احمد بھی کچی سوچ کا مالک نکلا سمیرا کی لاکھ دلیلیں اس کی سوچ نہ بدل سکی اس نے وہی اوچی ہرکت کی جو زایان نے تمہارے ساتھ کی ڈی این اے ٹیسٹ اور ٹیسٹ سمیرا کے حق میں آیا سمیرا کے آگے وہ بہت گڑگڑایا معافی مانگی مگر سمیرا اسے وہ مقام نہ دے پائی جو ہمیشہ اس کے دل میں احمد کا تھا
اب احمد کو ہر حال میں اسد اللہ کو ڈھونڈنا تھا تاکہ وہ اسے پوچھ سکے کہ وہ اس رات وہاں کیا کررہا تھا مگر اس سے پہلے ہی عبدالمالک نے اسد اللہ کا قتل کروا دیا کیونکہ اگر وہ اس کا نام احمد کے سامنے لیتا تو وہ اسے نہیں چھوڑتا اور الزام لگایا احمد پر کیونکہ دن رات پاگلوں کی طرح وہ اسد اللہ کو ڈھونڈ رہا تھا اور سارے ثبوت احمد کے خلاف تھے اسی لیے اسے گرفتار کر لیا گیا
خوش بخت کی کمزوری تھا اسد اللہ جس سے وہ عبدالمالک کی ہر بات مانتی مگر اب اس کے پاس کوئی وجہ نہ رہی وہ اپنی عدت کے ختم ہونے کا انتظار کررہی تھی تاکہ وہ عبدالمالک کو اس لے گناہوں کی سزا دے سکے۔۔۔۔۔۔
مگر عبدالمالک جیسا کمینہ انسان ایسا کیسے ہونے دیتا اس نے خوش بخت کو اغواہ کروا لیا اور اس کے کمرے میں آگ لگوا دی تاکہ سب یہ ہی سمجھے کہ اس نے خود کشی کی ہے پولیس کو پیسے دے کر اس نے سارا معاملہ سنبھال لیا اب اس کے راستے کی ہر روکاوٹ ہر پریشانی ختم ہوچکی تھی مگر زایان کو خوش بخت کی موت نے توڑ دیا وہ اسے سب سے زیادہ چاہتا تھا جہاں
اس کی نظر اندازی نے اس کو چڑچڑا بنا دیا وہی اس کی موت نے اسے خاموش کردیا وہ زیادہ کسی سے بات نہ کرتا
سمیرا کی ڈلیوری کا ٹائم آیا تو اس کے پاس کوئی بھی نہ تھا وہ اس وقت عمر بھائی کے یہاں رکی ہوئی تھی تیمور کے پاس اس کا خیال رکھتی کیونکہ وہ بھی وہاں اکیلا تھا اس کی ماں بھی نہ تھی وہ اسی کو اپنی ماں مانتا تھا تب تم آئی سمیرا کو نئی زندگی دی وہ تمہیں کو اپنی زندگی مان بیٹھی احمد تو تمہیں دیکھ ہی نہ سکا
وہ تمہیں لے کر واپس گھر آگئی اور وہی رہنے لگی میں اور زایان اکثر وہاں آیا کرتے تھے زایان تم سے اٹیچ ہوگیا وہ تیرہ سال کا تھا وہ ہمیشہ کہتا کہ ماما میری دولھن ربانیہ ہی بنے گی جہاں وہ خاموش رہتا وہی اب وہ زندگی کی طرف واپس آنے لگا دن رات اس کا تمہارے یہاں گزرتا اور عبدالمالک کو موقع مل گیا سمیرا کو اپنے قابو میں کرنے کا
وہ آئے دن زایان کے بہانے وہاں جاتا اور سمیرا کو ہراسہ کرنے لگا مگر سمیرا اس کے قابو میں نہ آتی اس نے کبھی اپنی عزت کو پامال نہ ہونے دیا سمیرا ایسا کرتی تو وہ اپنی ساری بھراس مجھے مار پیٹ کر نکالتا ایک دن زایان نے اسے مجھے مارتے ہوئے دیکھ لیا اس سے وہ عبدالمالک سے دور ہوتا گیا وہ جب بھی اس کے پاس آتا وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس سے دور چلا جاتا
ایک دن وہ اس سے کسی طرح منا کر تم سے ملوانے لے آیا اس مقصد کچھ اور تھا زایان نے سمیرا اور اسے کچھ اس طرح دیکھ لیا کہ اسے سمیرا اور تم سے نفرت ہونے لگی وہ جو آئے روز وہاں آتا سب چھوڑ دیا اسے لگتا تھا کہ میرے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ سمیرا کی وجہ سے ہوتا ہے وہ تم لوگوں کے نام سے بھی نفرت کرنے لگا دو سال بعد میرا بھائی جیل میں ہی مرگیا
زایان کے ہاتھ وہ فائلز لگی جوعبدالمالک کی الماریوں میں قید تھی اس میں سمیرا کے ڈی این اے ٹیسٹ سے لے کر خوش بخت اور احمد کی تصویریں اسداللہ کی کیس فائل سب اسے معلوم ہوگیا کہ سمیرا کا ٹیسٹ کس لیے ہوا تھا خوش بخت کی زندگی میری زندگی کس لیے برباد ہوئی اس سب کا قصور وار وہ سمیرا کو سمجھتا تھا اسد اللہ کی وہ رپورٹس جو یہ بتاتی تھی کہ وہ کبھی باپ نہیں بن سکتا اور خوش بخت کی میس کیرج کی رپورٹس اسے یہی سمجھ نہ آیا
“ڈیڈ کدھر ہیں آپ جلدی آئے”۔۔۔ سترہ سالہ زایان پورے گھر میں چیخ چیخ کر اپنے باپ کو پکار رہا تھا
کیا ہوا کیو چیخ رہے ہو تم۔۔۔۔۔ عبدالمالک سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے آئے اور اس سے پوچھنے لگے “جب انکل باپ ہی نہیں بن سکتے تھے تو آنٹی کے بچے کا باپ کون تھا”۔۔۔۔
یہ تم کس لہجے میں بات کررہے ہو مجھ سے ۔۔۔۔
وہی جو لہجہ آپ ڈیزرو کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ بھی اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہوگیا
“احمد مامو تھے اس کے بچے کے باپ مجھے بتائیں۔۔۔۔۔
ہاں وہی تھا اس باپ۔۔۔۔۔۔ اسی نے کی تھی خوش بخت کے ساتھ زیادتی
اس نے زایان سے بھی وہی کہاں جو اسد اللہ سے کہا تھا
یہی وجہ ہے جو وہ تم سے نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ خوش بخت کی موت کا ذمہ دار سمیرا اور احمد کو سمجھتا ہے
“تو اب خوش بخت آنٹی کہا ہے”۔۔۔۔۔۔ ربانیہ نے آنکھوں میں حیرت لیے پوچھا
عبدالمالک کی قید میں تھی وہ دس سال وہ حسان کو جنم دیتے ہی وہ اس دنیا سے چلی گئی
مگر پھر حسان امی کے پاس کیسے۔۔۔۔۔
کیونکہ عبدالمالک کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا وہ جان گیا تھا کہ اگر وہ حسان کو لے آیا تو زایان خون کی ہولی کھیلے گا اسی لیے اس نے سمیرا سے معافی مانگی اور اسے سب بتایا کہ کیسے اس نے سب کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا اور حسان کو پالنے کا وعدہ لیا سمیرا سے کیونکہ وہ اور کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
تو آپ کو کیسے پتا چلا کہ حسان کس کا بیٹا ہے ۔۔۔۔
سمیرا نے اپنی آخری وقت ہسپتال کے اس بند کمرے میں مجھے بتایا تھا کیونکہ تیمور کی گواہی کے بعد وہ سمجھ گئی تھی کہ زایان نے یہ شادی کیو کی ہے اسی لیے اس نے مجھ سے قسم لی تھی کہ میں تمہیں کبھی یہ سب نہ بتائو۔۔۔۔
سلمی بیگم کو لگا آج انھوں نے اپنی زندگی کا ایک بہت برا بوجھ واقعی اپنے سر سے اتار دیا ہے
مگر زایان پیچھے کھڑا سب سن رہا تھا
۔۔۔۔۔
اگر آج کی ایپی کمینٹ ڈیزرو کرتی ہے تو مہربانی اچھی ریویوز دیجیئے گا
