Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 50 Part 1 & 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 50 Part 1 & 2
نگار اسے کمرے میں چھوڑ کر واپس ان لوگوں کے پاس آئی
اور ان کے سامنے بیٹھ گئی
ربانیہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔
ان کے بیٹھتے ہی زایان نے پوچھا
ہاں اکثر اس کی طبیعت ایسی ہوجاتی ہے عجیب سی باتیں کرتی ہے
نگار نے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا
مجھے اس سے اکیلے میں بات کرنی ہے ۔۔۔۔
زایان نے نگار سے کہا
تو انھوں نے ہاں میں سر ہلایا اور اس کا کمرہ بتایا
تو وہ وہاں چلا گیا
۔۔۔۔۔
وہ زمین پر بیٹھی کارپٹ پر اپنی انگلی پھیر رہی تھی جب زایان دروازہ کھولے اندر آیا
اور اس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا
آپ کیو آئے ہیں ۔۔۔۔
ربانیہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
تمہیں اور بچوں کو لینے آیا ہوں ۔۔۔۔
آپ نے ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیا تصدیق ہو گئی کہ وہ آپ کے بچے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ آج حیران کرنے کو تھی
زایان نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا
مجھے معاف کردو ربانیہ تم جو سزا دو گی مجھے منظور ہے تم جو کہو گی میں کرونگا بس تم واپس چلو ۔۔۔۔
اشک تھے کہ آنکھوں سے بہنے کو تھے
میں جو کہو گی آپ کرے گے ۔۔۔
زایان نے ہاں میں سر ہلایا
پھر آپ مجھے آزاد کردے ۔۔۔
زایان نے اس کے ہاتھوں کو چھوڑ دیا
آپ جانتے ہیں جب ایان روحان اس دنیا میں آئے تھے میں انہیں گود میں ہی نہیں لیتی تھی
کیونکہ میں نے کہا تھا نا کہ میں اور میری اولاد دربدر ہوجائے گے
دیکھا ہو گئے نا ہم دربدر
آپ مجھ پر ایک بار یقین تو کرتے ایک بار مجھ سے پوچھتے تو صحیح کہ ربانیہ تم تیمور کے ساتھ ہسپتال میں کیا کررہی تھی کیا میں آپ سے جھوٹ بولتی
ہم نے تو اتنا اچھا وقت ساتھ گزارا تھا پھر آپ کو مجھ پر اعتبار کیو نہیں تھا
وہ زایان کے سینے سے لگ گئی
آپ تو کہتے تھے کہ میری دو آنکھیں تمہارے ساتھ اور دو میرے ساتھ رہتی ہیں پھر آپ کو میری بےگناہی نظر کیو نہیں آئی
میں نے صرف آپ سے محبت کی تھی آپ کو اپنا سب کچھ مانا تھا پھر آپ نے کیا کیا میرے ساتھ
وہ اس سے الگ ہوکر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی
میرے کردار کو گندا کر دیا مجھے دربدر کر دیا میں نے تیمور سے کہا تھا کہ میں گناہ گار اس دل میں کسی نامحرم کو بسا کو بیٹھی ہوں
اور میں نے آپ کو کسی دھوکے میں رکھا تو یہ گناہ ہوگا
تیمور نے کبھی میرے کردار کو گندا نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مجھے عزت دی
تب بھی جب میں ان کی منگیتر تھی اور تب بھی جب میں آپ کی بیوی تھی
اور آپ نے ۔۔۔
اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے چہرے پر آئے آنسوئوں کو رگڑا
آپ مجھے آزاد کردے اس رشتے سے جس کا کوئی مقصد ہی نہیں ۔۔۔
میں نے تین سال تمہارا انتظار کیا دن رات پاگلوں کی طرح ڈھونڈا میں نے تمہیں اپنے بچوں کو
اور جب تم مجھے ملی تو تم کہ رہی ہو کہ میں تمہیں آزاد کردو
کیا یہ سب اتنا آسان ہے ۔۔۔۔
اس نے بھیگی آنکھوں سے ربانیہ کو دیکھا
نکالا بھی تو آپ ہی نے تھا
میں مانتا ہوں میں غلط تھا مجھے تمہاری بات سننی چاہیے تھی مگر اب میں تمہیں لینے آیا ہوں تم چلو میرے ساتھ
وہ کھڑا ہوا اور ربانیہ کا ہاتھ پکڑا اسے بھی کھڑا کیا
وہ اسے لے کر جانے ہی لگا
کہ ربانیہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی زایان نے اسے سنبھال لیا
مگر وہ غنودگی میں جاچکی تھی
۔۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے ابھی ہمیں ربانیہ کو تھوڑا وقت دینا چاہیے اتنے بڑے ٹراما سے نکلنے اس وقت لگے گا
وہ سب لوگ ربانیہ کے کمرے میں موجود تھے
ایان روحان اس کے سرہانے بیٹھے تھے
جبکہ باقی سب کھڑے تھے
ایمن نے ان سب سے کہا
مما!! اٹھو نا ۔۔۔۔
روحان نے اس کا چہرا تھپتھپایا
وہ دونوں اس کی حالت دیکھ کر کافی پریشان تھے
بیٹا مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ ابھی سورہی ہیں آپ دونوں انہیں رسٹ کرنے دو۔۔۔۔
آغوش نے ان دونوں کے پاس آکر پیار سے انہیں سمجھایا
چلو اینجلز تمہاری بہن کب سے کہ رہی ہے کہ اسے کھیلنا ہے تم دونوں چلو ہم اوپر چلتے ہیں تمہاری بہن کو جھولا بھی دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
انعم نے اپنی گود میں بیٹھی افشہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سب اوپر چلے گئے
عبیر تو جب سے آیا تھا ایمن کی گود میں سو رہا تھا اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اسی لیے انعم نے اسے ایان روحان کے کمرے میں سلا دیا تھا
ماما اب ہمیں چلنا چاہیے کافی دیر ہوگئی ہے ۔۔۔
ایمن نے بیگم کو ہلکی آواز میں کہا جسے صرف سلمی بیگم ہی سن سکی
ہاں مگر ربانیہ کی طبیعت ۔۔۔۔
انھوں نے ربانیہ کو دیکھتے ہوئے پریشانی میں کہا
ہم رات کو واپس آجائے گے کافی دیر ہوگئی ہے
اچھا چلو میں کہتی ہوں زایان سے
زایان جو دروازے کے پاس ٹھہرا تھا سلمی بیگم اس کے پاس آئی اور اسے کمرے سے باہر لے گئی
زایان اب ہمیں چلنا چاہیے بچے کافی تھک چکے ہیں ۔۔۔۔
مگر ربانیہ
ہم رات کو واپس آئے گے اسے دیکھنے فلحال چلتے ہیں
سلمی بیگم نے اسے ٹالا
اس نے اثبات میں سر ہلایا
تم چلو ہم آتے ہیں ۔۔۔
میں ایان روحان سے مل لو
سلمی بیگم سے کہتے ہی وہ اوپر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب ہوٹل سے اس کے دوست کے فلیٹ میں آگئے تھے
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا
اس کی سوچیں ربانیہ کے گرد گھوم رہی تھی
تبھی اس کے موبائل پر کال آئی
اس نے کال اٹینڈ کی
پانچ منٹ کال سننے کے بعد اس نے اپنا موبائل دیکھا اور تو اس کی بیٹری صرف بیس فیصد تھی
آج تک اس کی بیٹری اتنی کم نہیں ہوئی تھی
اس نے مزید موبائل کو ٹٹولا تو کوئی بیس سے پچیس گیمز اس میں انسٹال ہوچکی تھی
یہ دیکھ کر بےساجتہ اس کے لب مسکرائے
اسے لگ رہا تھا کہ اب وہ واقعی میں باپ بن چکا ہے
ان دونوں نے اس کے موبائل میں گیمز کے ساتھ ساتھ اپنی تصویریں بھی لی تھی
جنہیں دیکھ کر وہ پرسکون سا ہوگیا
موبائل چارج پر لگانے کے بعد وہ لیٹ گیا
۔۔۔۔۔
شام کے وقت اسے حوش آیا تو اس نے موندی موندی آنکھیں کھولی
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا
ایان روحان اس کے پاس سوئے ہوئے تھے
وہ اٹھی اور نیچے ڈھلک کر سوئچ آن کیا تو پورا کمرہ روشن ہوگیا
ایان روحان گہری نیند میں سورہے تھے
ایک مسکراتی نظر ان دونوں پر ڈالے وہ بغیر آواز کیے بستر سے نیچے اتری
الماری سے اپنے لیے ایک ڈریس نکالا
اور واشروم میں چلی گئی
۔۔۔۔
وہ چینج کرکے واپس آئی
اور ایان روحان کو آواز دی
اینجلز آٹھ جائو نانو نے کیا کہا تھا کہ وہ آج سے آپ دونوں کو قائدہ پڑھائے گی ۔۔۔۔
ان دونوں کے پاس وہ ان کے بالوں میں ہاتھ پھیرے لگی
اس کی آواز سنتے ہی ایان جاگا کیونکہ اس کی نیند کافی کچی تھی جبکہ روحان پوری ٹانگیں پھیلائے بیڈ پر خراٹے لے رہا تھا
مما ۔۔۔ایان آنکھیں ملنے کے بعد اس کی گود میں آیا
مما آپ کو کیا ہوگیا تھا ۔۔۔۔
ایان نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
کیا ہوگیا تھا مجھے ۔۔۔۔
اسے یاد ہی نہیں تھا کہ آج وہ ان سب ملی ہے
مما آج دادی ڈیڈ پھپھو سب آئے تھے آپ بھول گئی ۔۔۔
ایان کے کہتے ہی اس کا ذہن میں سارا منظر کسی فلم کی طرح چلا
نہیں میری جان مجھے یاد ہے بس میں تھک گئی تھی تو سو گئی تھی آپ واشروم میں جائو میں روحان کو جگاتی ہو آپ دونوں کو نہلانا بھی تو ہے اس کے بعد آپ دونوں نانو سے قائدہ پڑھو گے
چہرے کے تاثرات نارمل کیے اس نے ایان سے کہا
اوکے مما۔۔۔ وہ اس کی گود سے اتر کر واشروم میں چلا گیا
part 2
وہ شیلہ کے ساتھ کچھ میں کھڑی شام کے کھانے کی تیاری کررہی تھی ایان روحان نگار کے پاس حال میں بیٹھے قائدہ پڑھ رہے تھے اور انعم سو رہی تھی
ربانیہ پھر کیا سوچا تم نے ۔۔۔۔
شیلہ نے سلاد بنانے ہوئے اس سے پوچھا
وہ جو ہانڈی میں چمچ ہلا رہی تھی اس کے ہاتھ رکے
سوچنے کی گنجائش بچی ہی نہیں بھابھی ۔۔۔۔
وہ شیلہ کو جواب دیتی اپنے کام میں مصروف ہوگئی
شیلہ اس کے سامنے آئی اور اس کی نظریں چراتی آنکھوں میں دیکھا
ربانیہ میں چاہتی ہو تم جو بھی فیصلہ لو مطمئن ہوکر لو جو تم چاہو گی ہم سب اس میں تمہارا ساتھ دے گے۔۔۔۔۔
اور ایان روحان میں تو علی کی میری ہم سب کی جان بستی ہے تم کبھی بھی یہ مت سمجھنا کہ تم ہم پر بوجھ ہو علی نے تمہیں اپنی بیٹھی مانا ہے
شیلہ نے اسے نرمی سے کہا
شکریہ بھابھی ۔۔۔۔ اس نے شیلہ کو گلے لگا لیا
۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایان روحان کیلئے گفٹس لینے ایک شاپ پر آیا تھا اس نے ان کیلئے کافی سارے ٹوائز لیے
اب بس انہیں ان کو دینا باقی تھا وہ ان کے چہرے پر وہ خوشی دیکھنا چاہتا تھا جس کا وہ تصور کرکے بیٹھا تھا
۔۔۔۔۔
ایان روحان کمرے میں لیپ ٹاپ کارٹون دیکھ رہے تھے جب وہ کھانا لیے اندر آئی
چلو اینجلز بس کرو آجائو کھانا کھا لو ۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر ان کے ساتھ بیٹھ گئی اور لیپ ٹاپ اٹھانے لگی
مما ابھی ختم نہیں ہوئے۔۔۔۔
ایان اسے لیپ ٹاپ اٹھاتے دیکھ جلدی سے بولا
بیٹا کھانا کھا لو پھر آرام سے دیکھتے رہنا
چلو میری جان۔۔۔۔
اس نے لیپ ٹاپ بند کرکے سائڈ پر رکھا اور ان کے آگے کھانے کی ٹرے رکھی
اس نے پہلے ایان کو نوالا کھلایا اور پھر روحان کو
مما ڈیڈ کہ رہے تھے کہ وہ ہمیں جلدی اپنے گھر لے جائے گے جہاں ہم سب ساتھ ساتھ رہے گے ۔۔۔۔
ایان نے کھانے کے دوران اس سے بولا وہ جو نوالا بنا رہی تھی اس کے ہاتھ رکے اور ایان کو حیرت سے دیکھا
وہ آپ سے مذاق کر رہے تھے ہم کہیں نہیں جارہے یہی ہمارا گھر ہے اور ہم ہمیشہ یہی رہے گے ۔۔۔۔
اس نے اپنی بات کہی اور نوالا روحان کو کھلایا
مگر مما دادی اور پھپھو بھی یہی کہ رہی تھیں کہ وہ ہمیں لے جائے گی۔۔۔۔
اب کی بار روحان بولا
بس میں نے کہ دیا نا کوئی کہیں نہیں جارہا وہ کچھ دنوں کیلئے آپ سے ملنے آئے ہیں پھر وہ چلے جائے گے ۔۔۔۔
اب کی بار لہجے میں سختی تھی
اس کی سختی بھری آواز سن کر وہ دونوں چپ ہوگئے
تم دونوں نے بتایا نہیں کہ آج نانو سے قائدہ پڑھا مشکل تو نہیں لگا ۔۔۔۔
ان دونوں کا اترا چہرہ دیکھ اس نے خود کو نارمل کیا اور نوالا بناتے ہوئے پوچھا
روحان اس کی پشت کی جانب آیا اور اپنے دونوں بازو اس کے گلے میں ڈالے
مجھے تو بلکل مشکل نہیں لگا بہت آسان تھا
وہ خوشی خوشی اسے بتانے لگا
وہ بھی مسکرائی
گڈ اور تم ایان۔۔۔۔
اس نے ایان سے پوچھا
ٹھوڑا مشکل تھا مگر اتنا مشکل بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
اس نے رک رک کر بتایا
اچھا کوئی بات نہیں آج پہلا دن تھا آہستہ آہستہ عادت ہوجائے گی ۔۔۔۔
انہیں کھانا کھلانے کے بعد اس نے ٹڑے اٹھائی
تم دونوں منہ دھولو میں ابھی دودھ لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔
وہ ان سے کہتی کمرے سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔
وہ کچن میں ان کیلئے دودھ بنا رہی تھی نگار جلدی سو جاتی تھی اسی لیے وہ اپنے کمرے میں تھی انعم اور شیلہ ارحم کی بہن کی مبارک باد دینے ان کے گھر گئے ہوئے تھے
دروازے پر بل ہوئی تو اسے لگا کہ انعم اور شیلہ آگئی ہیں وہ ایان دوپٹہ سنبھالے دروازے پر آئی اور دروازہ کھولا
سلمی بیگم اور زایان اندر آئے
انہیں دیکھتے ہی اس کے چہرے پر ناگواری آئی
جسے دیکھ کر صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ ان کے آنے سے خوش نہیں ہے
طبیعت کیسی ہے تمہاری بیٹا ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اس سے پوچھا
جی پھپھو اب بہتر ہے آپ آئے ۔۔۔۔
وہ زایان کو نظر انداز کرتی سلمی بیگم کو لیے اندر چلی گئی
بھئی بچے کہا ہیں میں ان کیلئے تحفے لائی ہوں ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اس سے پوچھا
پھپھو وہ اندر ہیں آپ چلیے میں ان کیلئے دودھ بنا رہی تھی ابھی لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم کو کمرے کی طرف اشارہ کرکے وہ کچن میں آگئی
زایان اسے کچن کی طرف جاتا دیکھ اس کے پیچھے چلا آیا
وہ دودھ کے گلاس میں چینی مکس کر رہی تھی جب زایان اس کی پیچھے آ کھڑا ہوا
تم اب ٹھیک ہو ۔۔۔۔
زایان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
اس نے پیچھے مڑ کر چونک کر اسے دیکھا
آپ میرا پیچھا چھوڑ کیو نہیں دیتے میں آپ سے کتنی بار کہو کہ میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہو آپ کو خدا کا واسطہ میرا پیچھا چھوڑ دے ۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولی
زایان اس کی جانب بڑھا
وہ اس کے بڑھتے قدم دیکھ کر خود پیچھے ہوئی اور شیلف سے چپک گئی
زایان نے اپنے دونوں بازو شیلف پر رکھ کر اس کے فرار کے راستے بند کردیے اور اس کے چہرے کے قریب چہرہ کیا
میں تمہیں اور بچوں کو لے کر ہی جائو گا وہ کیا ہے نا اب مجھ سے اکیلے رہا نہیں جاتا ۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا
ہٹے پیچھے یہ آپ کا گھر نہیں ہے جہاں آپ اپنی من مانیاں کرے گے ۔۔۔۔
وہی تو میں کہ رہا ہوں کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے ہمارا گھر وہ ہے جہاں ہم رہتے تھے وہی چل کر اپنی من مانیاں کرلیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے زایان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا
میں واپس نہیں جائو گی ۔۔۔۔۔
وہ دودھ کے گلاس اٹھانے لگی جب زایان نے اس کے ہاتھ سے ایک گلاس لیا
اور ایک ہی گھونٹ میں سارا دودھ پی لیا
واپس تو تمہارے اچھے بھی چلے گے تم بس تیاری کرو واپس جانے کی ۔۔۔۔۔
دودھ کا خالی گلاس اس پکڑاتا وہ جانے لگا
بائی دا وے دودھ اچھا تھا کبھی تم نے میرے لیے تو ایسا دودھ نہیں بنایا ۔۔۔۔۔
جاتے جاتے وہ اس کا دل جلا گیا
۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو سلمی بیگم بچوں کے ساتھ لیپ ٹاپ پر ان کی بچپن کی تصویریں دیکھ رہی تھی
ڈیڈ۔۔۔ بچے اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بھاگے اور اس سے لپٹ گئے
اس نے ان دونوں کو اٹھا لیا
گفٹس دیکھے تم دونوں نے اپنے ۔۔۔۔
زایان نے ان دونوں سے پوچھا
دونوں نے ہاں میں سر ہلایا
پھر کیسے لگے ۔۔۔۔
بہت اچھے ۔۔
دونوں نے یک وقت کہا
سلمی بیگم تو اسے دیکھتی رہ گئی تین سال سے وہ اس کے چہرے پر ویرانی دیکھتی آئی تھی مگر آج اس کا چہرہ کھل اٹھا تھا
وہ انہیں لے کر بیڈ پر آیا
کیا دیکھ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم کے آگے لیپ ٹاپ کھلا دیکھ اس نے پوچھا
ان کی بچپن کی تصویریں دیکھ رہی ہوں
اچھا مجھے بھی دکھائیں
اس نے لیپ ٹاپ اپنے آگے کیا اور ان کی تصویریں دیکھنے لگا
وہ بچوں کیلئے دودھ لے کر اندر آئی
ایان روحان دودھ پی لو جلدی سے ۔۔۔۔
وہ انہیں دودھ کے گلاس پکڑاتی بولی
تبھی اس کا موبائل بجا جو سٹڈی ٹیبل پر چارج پر لگا ہوا تھا
اس نے اپنا موبائل اٹھایا
سکرین پر روشان کا نام چمک رہا تھا
وہ ان کی یونیورسٹی میں ان کا سینیر تھا اور ان کا نیبر بھی تھا وہ اور انعم اکثر اثائمنٹ میں اس کی ہیلپ لیتے تھے
اسلام علیکم روشان۔۔۔۔
وہ باہر جاتے ہوئے فون کان سے لگاتی بول گئی جو زایان نے سن لیا
مگر کوئی عمل ظاہر نہ کیا کیونکہ وہ تصویریں دیکھ رہا تھا
پانچ منٹ کال سننے کے بعد وہ کمرے میں آئی تو ایان روحان نے ابھی بھی دودھ کا گلاس ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا وہ زایان کو اپنی تصویریں دکھانے میں مصروف تھے
ایان روحان تم دونوں نے دودھ نہیں پیا ۔
وہ انہیں دیکھ کر غصے سے بولی
اب دونوں نے جلدی سے گلاس منہ کو لگایا اور دودھ ختم کیا
ربانیہ گھر کے لوگ کہا گئے سب
سلمی بیگم نے اس سے پوچھا
پھپھو آپا جلدی سو جاتی ہیں انعم اور بھابھی ساتھ والے گھر گئے ہیں ان کے یہاں بیٹی ہوئی ہے اسی کی مبارک باد دینے گئے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے سٹڈی ٹیبل کی کرسی پر بیٹھتے ہوئے انہیں بتایا
دادی آپ کو پتا ہے آج ہم دونوں نے قائدہ پڑھا ۔۔۔۔
روحان سلمی بیگم کو بتانے لگا
اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔۔
انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا
پھپھو حسان نہیں آیا اب تو وہ بڑا پوچکا ہوگا ۔۔۔۔
حسان کی یاد آتے ہی اس نے سلمی بیگم سے پوچھا
حسان کے ذکر پر سلمی بیگم اور زایان نے ایک دوسرے کو دیکھا
بیٹا اس کا سکول ہوتا ہے تو وہ وہی پر ہے ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے بتایا تو اس نے سر کو ہاں میں ہلایا
ماما آپ اپنی بہو سے پوچھے کہ کب چلنے کا ارادہ ہے اس کا ۔۔۔۔۔
اس نے سلمی بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا
سلمی بیگم نے اس کی جانب دیکھا
پھپھو میں آپ کے بیٹے کو بتا چکی ہو کہ میں واپس نہیں جائو گی۔۔۔۔۔
وہ زایان کی پشت کو دیکھتے ہوئے بولی
چلو کوئی بات نہیں تم تین چار دن آرام سے سوچوں پھر تمہیں چلنا تو میرے ساتھ ہی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کرتا اٹھا
اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔
اس نے سلمی بیگم سے کہا اور ایان روحان کو پیار کیا ایک نظر اس پر ڈالے آنکھوں ہی آنکھوں وہ بہت کچھ باور کرا چکا تھا پھر باہر چلا گیا
سلمی بیگم بھی اس سے اور بچوں سے مل کر باہر چلی گئی
