Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 19 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 Part 2
جب وہ کمرے میں آئی تو زایان وہاں نہیں تھا وہ بیڈ پر بیٹھی زایان کا موبائل بیڈ پر پڑا تھا اور کافی دیر سے وائبریٹ ہورہا تھا جب اسے احساس ہوا تو اس نے فون اٹھایا فرحین کالنگ کے ساتھ اس کی پک بھی لگی ہوئی تھی اس نے کال ریسیو کی
“ہلو جان کہا ہو اب تک آئے کیو نہیں ایک گھنٹہ ہو گیا میں کب سے تیار کھڑی ہو”۔۔۔۔
ابھی اس نے کال اٹھائی ہی تھی کہ فرحین بولنا شروع ہوگئی
“کون”
ربانیہ نے پوچھا
“تم کون ہو” پیچھے سے فرحین کی آواز آئی
“آپ نے جن کو کال کی ہے ان کی بیوی ہو میں”۔۔
ربانیہ نے بھی کھورے لہجے میں جواب دیا
“ہاہاہا بیوی مانتا بھی ہے تمہیں وہ اپنی بیوی کبھی بیوویوں والا درجہ بھی دیا ہے اس نے اچھا چلو یہ بتائو کبھی تم سے پیار سے بات بھی کی ہے اس نے”۔۔۔۔
“اگر بیوی نہ مانتے تو آج ان کے گھر میں نہ ہوتی ان کے کمرے میں نہ ہوتی ان کے ہونے والے بچے کی ماں نہ بننے والی ہوتی”
ربانیہ کو جب فرحین نے ایسا کہا تو اسے شدید غصہ آیا ایک تو وہ پہلے سے بھری بیٹھی تھی اور ایک پرائی عورت کے منہ سے اپنے لیے ایسے الفاظ سن کر وہ برداشت نہ کر پائی
“او شٹپ یو بلڈی بچے کی ماں مائی فٹ وہ مجھے صاف صاف کہ چکا ہے کہ تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاتا اور تم کہ رہی ہو کہ بچے کی ماں”۔۔۔۔۔
پیچھے سے وہ چلائی
“وہ تمہارے پاس آ رہے ہیں پوچھ لینا ان سے کہ باپ بننے والے ہیں کہ نہیں وہی تمہیں خوشخبری سنائے گے اور ایک بات اور بیوی ان کی میں ہی ہو تم جیسی عورتیں تو مردوں کی زندگی میں آتی رہتی ہیں اور دوبارہ ان کی موجودگی میں انہیں فون کرنا میں تم جیسی کو منہ لگانا پسند نہیں کرتی “۔۔۔
یہ کہتے ہی اس نے کال ڈسکنکٹ کردی
ابھی وہ پوری طرح سنبھلی ہی نہیں تھی کہ پھر اس کی روح کا اس کے وجود کا مذاق بنایا گیا
زایان ملک مجھ بےگناہ پر تم نے بدکرداری کا الظام لگایا اور تم خود کیا ہو
“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی زایان کبھی بھی نہیں”۔۔۔۔
آنسوں اس کا پورا چہرہ بھگو رہے تھے
۔۔۔۔۔
ربانیہ کو جب سلمی بیگم لے گئی تھی تب وہ بہت غصے میں تھا اور جب وہ غصے میں ہوتا اس کا علاج صرف فرحین کرتی تھی اسی لیے اس نے فرحین کا کال کی تھی
اور گھر سے چلا گیا تھا وہ فرحین کے گھر پہنچا اور بل بجائی
فرحین نے ڈور کھولا وہ ایک بےحودہ سے لباس میں کھڑی تھی جو مشکل سے گھٹنوں تک آرہا تھا اور سلیو لس تھا
“کیو آئے ہو تم یہاں”وہ خونخار نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
“اس سوال کا مطلب تمہیں کال کی تھی کہ میں آرہا ہو پھر”۔۔۔۔۔
وہ نا سمجھی میں بولا
“بہت مبارک ہو تمہیں باپ بننے والے ہو نا”۔۔۔۔۔
وہ اس لے آگے تالیاں بجانے لگی یہ سن کر زایان کی آنکھوں میں خون کھولنے لگا
“کس نے کہا ہے تم سے یہ سب”۔۔۔۔
“تمہاری بیوی نے کہا ہے مجھ سے یہ سب”۔۔۔۔۔
وہ غصے میں دروازہ پر ہاتھ مارے وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔
وہ گھر آیا تو سلمی بیگم صوفے پر بیٹھی تھی
وہ ان سے نظریں چرائے جانے لگا تو انھوں نے اسے روکا
“زایان میرے پاس بیٹھو”۔۔۔۔ انھوں نے نرمی سے اسے کہا تو وہ ان کے پاس بیٹھ گیا
“آپ جاگ کیو رہی ہیں”۔۔۔ وہ ان کی گود میں سر رکھے لیٹا
“جب میری اولاد بے سکون ہے تو میں کیسے سو سکتی ہوں”۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں میں اپنے ہاتھ پھیرنے لگی
“اگر وہ بچہ تمہارا ہوا تو”۔۔۔
“ماما نہیں ہے وہ میرا بچہ اسے خود دیکھا تھا میں نے تیمور کے ساتھ آتے ہوئے”۔۔۔۔
تو اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے
وہ اس کی ساتھ کیو آئی تھی
مجبوری بھی ہو سکتی ہے
مگر مجھے اعتبار نہیں
“تو پھر کیا کر گے ختم کردو گے اسے اجاڑ دو گے اس کی کوک کو”
:ماما صبح ڈی این اے ٹیسٹ ہوگا اور سب کلیئر ہوجائے گا پلیز آپ میرا ساتھ دیجیئے گا”۔۔۔۔۔
وہ ان سے التجا کرنے لگا
“اور اگر وہ سچی نکلی تو نظریں ملا پائو گے اس سے”۔۔۔۔
“اور اگر میری بات سچ نکلی تو”۔۔۔۔۔
“اس کا جواب میں تمہیں کل دونگی”۔۔۔۔ وہ اس سے کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی
“کیا ربانیہ واقعی سچ کہ رہی ہیں”۔۔۔
اس کے دل اور دماغ نے اسے الجھا کر رکھ دیا تھا
۔۔۔۔
وہ جب نیند سے بیدار ہوئی تو زایان ڈریسر کے آگے کھڑا خود پر پرفیوم سپرے کررہا تھا وہ آٹھ کر بیٹھی
“تیار ہوجائو ہمیں ہوسپٹل جانا ہے”۔۔۔ اس کی طرف دیکھے بغیر وہ بولا
“میں کہیں نہیں جائو گی”۔۔۔۔ وہ بھی اسے نظر انداز کیے واشروم میں جانے لگی تو زایان نے اس کا راستہ روکا
“کیو سچ سامنے آنے کا ڈر ہے”۔۔۔۔ اس کی آنکھوں کے تاثرات دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بولا
“مجھے سچ سامنے آنے کا نہیں بلکہ آپ کے ٹوٹنے کا ڈر ہے اگر میری بات سچ نکلی تو کیا کرے گے آپ “۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ نظریں چرا گیا اور واپس ڈریسر کے سامنے جا کھڑا ہوا
“تم تیار ہو جائوں ماما نیچے انتظار کررہی ہیں پندرہ منٹ میں نکلنا ہے “۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے لگی کیا پھپھو کو بھی اعتبار نہیں تھا کیا وہ بھی اسے گرا ہوا سمجھتی تھیں
وہ تیار ہو کر نیچے چلا گیا اور وہ بھی نم آنکھوں کے ساتھ واشروم میں چلی گئی
۔۔۔۔
وہ چینج کرکے نیچے آئی تو پھپھو اور زایان ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے اسی کا انتظار کررہے تھے
اسے دیکھ کر وہ دونوں کھڑے ہوگئے
“ماما آپ اسے لے آئے میں باہر ویٹ کررہا ہوں”۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا باہر چلا گیا
“بیٹا مجھے معاف کردینا میں اپنی اولاد کے سامنے بے بس ہو”۔۔۔۔۔
ربانیہ کو ان کی جانب کوئی عمل ظاہر نہ کرتے دیکھ آخر وہ شرمندگی سے بولی
“پھپھو بے بس تو میں تھی آپ کے اور امی کے فیصلے کے آگے بے بس میں ہو اپنے شوہر کے آگے”۔۔۔۔۔۔۔
بھیگی آواز میں کہتی وہ بھی باہر چلی گئی اور سلمی بیگم بھی اس کے پیچھے چلی آئی
۔۔۔۔
وہ ہسپتال پہنچ گئے تھے “ماما آپ اور یہ چلے میں کار پارک کر کے آتا ہوں”۔۔۔۔ ایک نظر بیک سیٹ پر بیٹھی اپنی بیوی پر ڈالے وہ سلمی بیگم سے بولا
وہ اور سلمی بیگم گاڑی سے اتری اور اندر چلی گئی
زایان نے اپنے موبائل سے ایک نمبر ڈائل کیا
ہلو آرہے ہوں۔۔۔۔۔۔
فون کان ہر رکھتے ہی زایان نے کہا
مگر مجھے بتائوں گے کہ ہوا کیا ہے۔۔۔۔
دوسری طرف سے آواز آئی
میری بیوی لے ساتھ منہ کالا کرتے ہوئے تمہیں نہیں پتا تھا کہ آگے کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے تمہارا ایسی باتیں کرتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہیے ۔۔۔۔۔
میں تم سے سیدھے سیدھے کہ رہا ہوں ایڈریس سینڈ کردیا ہے فورن پہنچو ورنہ ربانیہ کا میں وہ حال کرونگا کہ ۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ
میں آرہا ہوں اسے کچھ مت کرنا۔۔۔۔۔۔ تیمور نے کہتے ہی کال ڈسکنکٹ کردی
۔۔۔۔۔
تیمور ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا آدھے گھنٹے میں ہوسپٹل پہنچ گیا
جب وہ وارڈ میں انٹر ہوا تو سلمی بیگم اور ربانیہ کرسیوں پر بیٹھے تھے جبکہ زایان کائونٹر پر کھڑا فارم سائن کررہا تھا
وہ سلمی بیگم کی طرف بڑھا ربانیہ اسے دیکھتے ہی حیران ہوگئی اور سلمی بیگم کی طرف شکوہ نظروں سے دیکھنے لگی جو اپنا سر جھکائیں بیٹھی تھی
السلام علیکم پھپھو یہ زایان نے کیو بلایا ہے مجھے سب خیریت تو ہے ۔۔۔۔
مگر سلمی بیگم کچھ بھی نہ بولی تو اس نے ربانیہ سے پوچھا
ربانیہ تم ہی بتا دو کہ اتنی ایمرجنسی میں کیو بلایا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔
اس سے کیا پوچھ رہے ہو مجھ سے پوچھو۔۔۔۔۔
پیچھے سے زایان کی آواز آئی
تو تیمور مڑا
بتائوں کیو بلایا ہے مجھے ۔۔۔۔۔
یہ جو تمہاری معشوکہ بیٹھی ہے یہ پریگننٹ ہے اور کہ رہی ہے کہ یہ بچہ میرا ہے مگر کیا ہے مجھے لگتا کہ اس بچے کہ اصل باپ تم ہو اس لیے ڈی دیں اے کیلئے بلایا ہے ۔۔۔۔۔
ڈھٹائیت سے کہتا ہوا وہ تیمور کو ایک جھٹکا دے چکا تھا
ربانیہ نے اپنی آنکھیں میچ لی تیمور جو اس کی ہمیشہ سے عزت کرتا تھا اس کے سامنے زایان نے اسے بے لباس کردیا تھا
تم حوش میں ہو تم اپنی بات کا مطلب بھی جانتے ہوں اس قدر گھٹیا اور گری ہوئی سوچ ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔
تیمور کے وہموگمان میں بھی نہ تھا کہ زایان ایسی سوچ کا مالک ہے
زایان حوش کے ناخن لو بس کرو اب بہت ہوگیا کیو اپنی عزت کا تماشہ بنا رہے ہو بس کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم ایک آخری کوشش کرنے لگی
نہیں پھپھو اب ٹیسٹ ہوجانے دے انہیں بھی تو چلے کہ آخر یہ گندا خون کس کا ہے کس کا گناہ ہے یہ ۔۔۔۔۔۔
ربانیہ زایان پر ایک حقارت بھری نظر ڈالے نرس کے ساتھ اندر چکی گئی
بہت بچھتائو گے۔۔۔۔۔ تم تیمور بھی اسے وارن کرتا وارڈ بوائے کے ساتھ چلا گیا
چلے سر آپ کا بھی سیمپل لینا ہے۔۔۔۔۔۔ وارڈ بوائے زایان سے بولا
اور وہ اس کے ساتھ چل دیا
۔۔۔۔
ایک گھنٹا ہو گیا تھا وہ تمام لوگ وارڈ میں رپورٹ کا انتظار کررہے تھے
ربانیہ کی طبیعت اب خراب ہونے لگی کیونکہ وہ کل رات سے بھوکی اور اس نے میڈیسنز بھی نہیں لی تھی مگر وہ خود پر ضبط کیے بیٹھی تھی
وہ تیمور سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی زایان نے اسے کسی قابل نا چھوڑا تھا جب بھی تیمور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا وہ نظریں پھیر لیتی
“مسٹر زایان رپورٹس آگئی ہیں آپ کو ڈاکٹر اندر بلا رہی ہیں “
۔۔۔۔
نرس نے اس سے آکر کہا
وہ اور تیمور اس کے ساتھ چلے گئے
۔۔۔۔
مسٹر زایان آپ کی رپورٹس پوسیٹو ہے بے بی آپ کا ہے ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر جہاں زایان کو شاک لگا وہی تیمور نے خدا کا شکر ادا کیا
۔۔۔۔۔
وہ لوگ باہر آئے تو زایان کی تو سماعتیں ہی کام کرنا چھوڑ گئی
“کیا بتایا ڈاکٹر نے کیا کہا”۔۔۔۔۔۔ سلمی بیگم زایان کے آگے جاکر پوچھنے لگی مگر زایان تو سکتے کے عالم میں تھا
تیمور ربانیہ کے پاس گیا جو بیٹھی زمین کر گھور رہی تھی
“ربانیہ تم پاکدامن نکلی اور اس شخص کا کھوکھلا دعوہ کھوکھلا ہی گیا “۔۔۔
“جانتی ہوں میں سب جانتی ہوں اس شخص نے میرے سر سے چادر اور پیروں تلے زمین کھینچ لی
مجھے بے لباس کردیا”۔۔۔۔۔
مگر اب بس میرا صبر لبریز ہوگیا میں اس شخص کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں صاف کیے اور جانے لگی
“کہا جارہی ہوں”۔۔۔۔ زایان نے اس کا ہاتھ پکڑے روکا
مگر ربانیہ اس کی بانہوں میں جھول گئی
نہ یہ شام اِتنی اُداس ہے
کہ میں زندگی کو اُجاڑ دوں
نہ یہ زخم اِتنے عمیق ہیں
کہ میں اپنی شکل بگاڑ دوں
یہ تو اب کھُلا مِرے شعر میں
تِرے نین نقش جو ثَبت تھے
وہ مِرے جنون کا بھولپن
وہ مِرے دماغ کا خَبط تھے
نہ میں قیس تھا نہ پُنل کوئی
تو شکنتلا تھی نہ ہیر ہے
یہ تِرے بدن کا گلاب پَن
بھی تو اِک نظر کا فقیر ہے
نہ نشاطِ وصل و سپردَگی
نہ ملالِ ہجر و فراق ہے
نہ قبائے عقل و خِرد رہی
نہ لباسِ عشق کا چاک ہے
سو یہ وقت وقت کی بات ہے
یہی تجربوں کا نچوڑ ہے
کہ جو وقت ہے یہ طبیب ہے
یہ ہر ایک درد کا توڑ ہے
۔۔۔۔۔۔
