No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“السلام علیکم آپی کیسی ہے آپ” ۔۔۔۔۔۔
رابی چھت پہ کھڑی ایمن سے باتیں کررہی تھی” وعلیکم سلام میری جان میں ٹھیک ہو تم کیسی ہو”۔۔۔۔۔۔
ایمن اس وقت چائے بنا رہی تھی
” جی آپی اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہے “۔۔۔۔۔
اس نے نظریں چھت سے نیچے کی کیو کہ وہاں بہت سارے بچے کھیل میں مصروف تھے اور اسے بچپن سے ہی پچوں سے بہت محبت تھی
“میں بھی ٹھیک ہو اور سنائوں کالج لائف کیسی چل رہی ہے” ۔۔۔۔۔۔
ایمن چائے کا سپ لیتی بولی
” بہت اچھی آپی مگر پڑھائی کا برڈن زیادہ ہوگیا ہے” ۔۔۔۔۔۔
جب سے اس نے کالج جوائن کیا تھا وہ بے حد مصروف ہوگئ تھی
“ہاں تبھی میں سوچوں تم فون کیو نہیں کرتی” ۔۔۔۔۔چائے کا کپ شیلف پہ رکھنے کے بعد وہ اب وہ صوفے پر بیٹھ گئ
“نہیں آپی ایسی کوئ بات نہیں آپ تو ہمارے حالات سے اچھی طرح واقف ہے میرا اکثر کریڈٹ نہیں ہوتا” ۔۔۔۔۔۔۔
رابی نے آخری بات دھیمی کہی اور یہ بات سچ بھی تھی
” یار سیریس تو نہ ہو میں مذاق کررہی تھی اچھا ربانیہ ایک بات پوچھو”۔۔۔۔۔۔۔ وہ اب اسے مزید کوئی بات کیے جس کیلیے اس نے فون کیا تھا اس بات پر آئی
پہلے تو اسے حیرانی ہوئی کیونکہ ایمن ایسی باتیں بہت کم ہی کرتی تھی کہ کچھ پوچھو
” جی آپی پوچھے” ۔۔۔۔۔اس نے سر کو ہا میں ہلایا
“ممانی جان تمہارا رشتہ طے کررہی ہیں “۔۔۔۔۔۔۔ایمن سنجیدگی سے گویا ہوئ اور ربانیہ کے جواب کا انتظار کرنے لگی
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایمن پھر بولی “ربانیہ کیا ہوا’ ایمن کی بات پر وہ حوش کی دنیا میں واپس آئی “نہیں آپی کچھ نہیں آپی یہ سب تو قسمت کے فیصلے ہیں میرے کہنے سے کیا ہوتا جو نصیب میں ہے وہ مل کر رہے گا”۔۔۔۔ ربانیہ نے من مار کر بات کہی کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ اس کی ماں نے اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہ چھوڑا تھا
” ہاں مگر تمہاری سٹڈیز “۔۔۔۔۔ ۔۔اب ایمن کو افسوس ہو نے لگا” آپی ہم کوئ اور بات کرے تب کی تب دیکھی جائے گی”۔۔۔۔۔ وہ اب اس بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے ایمن کو بیچ میں ٹوکا
“مگر بھائی” ۔۔۔۔۔۔
اب وہ ربانیہ کے ریکشن کا انتظار کررہی تھی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کا بھائی ربانیہ سے محبت ہی نہیں کرتا وہ اسے کیا اپنائے گا
“آپی جو نصیب میں ہوتا اللہ اس کی محبت کود بخود ہمارے دل میں ڈال دیتا ہے وہ تو ستر مائوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے تو پھر وہ میرے ساتھ کچھ غلط کبھی نہیں ہونے دےگا” ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایمن اس کے حال دل سے ابھی واقف ہو اور یہ باتیں کرتے کرتے کب اس کی آنکھیں بھیگ گئی اسے علم ہی نہ ہوا
“میری اللہ سے دعا کہ ہو جو بھی تمہارے حق میں بہتر ہو اور آنے والے وقت میں ڈھیر ساری خوشیاں تمہاری منتظر ہو آمین “۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمن جانتی تھی کہ بچپن سے اس نے کتنی محرومیان برداشت کی ہے اور وہ بیچاری تو کسی سے شکوہ بھی نہ کرتی تھی
“آمین آپی” ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو اس نے صاف کیا
اب وہ دونوں دوسری باتوں میں مصروف ہوگئی
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
“سلام میرے ہیرو “۔۔۔۔۔
وہ اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف کوئ کام کررہا تھا کہ فیصل کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوا” “ارے تم آئو آئو”۔۔۔۔۔
“فیصل کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ واضح ہوئی” پہلے یہ بتا وہ چوڑیل کہا ہے” ۔۔۔۔۔۔فیصل نے ادھر ادھر نظروں گھمائیں جسے سن کر ذایان کا بے ساختہ قہقہ بلند ہوا
“نہیں یار وہ اپنے کیبن میں ہے تو آ جا”۔۔۔۔۔۔۔
زایان اس کی فرہین کیلیئے ناپسندیدگی سے اچھی طرح واقف تھا
” اچھا شکر” ۔۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور زایان کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوا “پہلے یہ بتا کہ کیا لے گا چائے یا کافی”۔۔۔۔۔۔ اس کے بیٹھنے کے بعد زایان نے اس سے پوچھا
” ابے سالے جلدی کافی پلا اور جان چھروا پتا ہے مجھے تو کتنا بزی ہے”
۔۔۔۔اس نے کالر جھاڑتے ہوئے کہا فیصل کی بات سن کر اس کے چہرے کو پھر سے مسکان نے چھوا ” ایک منٹ اس نے اپنے ساتھ پڑا ٹیلیفون کان پر لگایا” ۔۔۔۔جی مس حوا دو کافی بجھوائے “ہاں تو کیسے آنا ہوا “کافی کا بولنے کے بعد اب وہ فیصل کی طرف متوجہ ہوا۔
” کیو بھئ میں ایسے نہیں آسکتا کیا “۔۔۔۔۔۔فیصل روٹھے انداز میں بولا
” ارے نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں تو ناراض تو نا ہو میں تو اس لیے پوچھ رہا تھا کیو کہ تو فرہین کی وجہ سے نہیں آتا “۔۔۔۔۔۔فیصل نے پہلے اس کی بات سنی اور پھر اپنا سر کرسی سے ٹیک لگایا
زایان فرہین اور فیصل کالج میں ایک ساتھ پڑھتے تھے فرہین شروع سے ہی آزاد خیال لڑکی تھی اور یہ بات فیصل کو ناگوار گزری جسے وہ فرہین سے نفرت کرنے لگا مگر زایان نے کبھی یہ بات نوٹس نہ کی کیونکہ اسے فرہین میں اس وقت کوئی دلچسپی نہ تھی جب وہ لوگ یونیورسیٹی لیول میں آئے تو فرہین اور زایان بہت کلوز آگئے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہوگئی فیصل نے زایان کو کئی مرتبہ سمجھایا کہ وہ لڑکی اسے سوٹ نہیں کرتی مگر زایان نے اس کی ایک نہ مانی ۔۔۔۔۔۔
“دیکھ زایان تو بھی جانتا ہے کہ میں اسے کیو ناپسند کرتا ہو “۔۔۔۔۔۔ وہ بیزارگی سے بولا
“مجھے اڑتی اڑتی خبر ملی ہے کہ فیصل صاحب آئے ہیں”۔۔۔۔فرہین بغیر نوک کیے زایان کے کیبن میں آئ اور فیصل کو ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئ
اس کی بات سن کر پہلے زایان نے فیصل کو دیکھا پھر فیصل نے فرہین کو
“وہ کیا ہے نہ اگر تم جاسوسیاں نہیں کرو اور اپنے کام پے دھیان دو تو شاید یہ تمہارے اڑتے پتنگے تمہیں اڑتی اڑتی خبر نہ دے” ۔۔۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں گول گول کرکے جاسوسی والے لفظ پر زور دیا اس کی بات سنتے ہی فرہین نے غصے سے زایان کو دیکھا زایان نے اسے اشارے سے چپ رہنے کا کہا
“وہ کیا ہے نہ کہ جب کوئ بغیر کام کے میرے زایان کو تنگ کرتا ہے نہ تو میرے چھٹی ہسس مجھے وارن کردیتی ہے کہ جائو فرہین زایان کو بچائو” ۔۔۔۔۔اور اپنی ہی بات پر وہ خود ہسنے لگی
“او ہلو تمہارا زایان کب سے ہو گیا “۔۔۔۔۔۔اب فیصل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے بیٹھی اس ماڈرن لڑکی کی قبر کھود دے
” جب سے ہم ملے ایک دوسرے سے”۔۔۔۔۔۔۔۔فیصل کو جلانے کیلیئے اب اس نے زایان کے ہاتھوں کی اپنے ہاتھ میں لیا زایان جو کب سے ان دونوں کی توتو میں میں سن رہا تھا فرہین سے اپنے ہاتھ کھینچے اور بولا
“Farhin it’s my office not a private place so plz dnt do this and go “۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان نے اسے باہر کی طرف اشارہ کیا جہاں فرہین کو سانپ سونگھ گیا وہاں فیصل کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی
But honey listen.. …
فرہین نے کچھ بولنا چاہا مگر فیصل نے اس روک دیا
“شاید تم اب جاہل ہونے کے ساتھ ساتھ بہری بھی ہوگئ ہو”۔۔۔۔۔ چہرے پر وہی مسکراہٹ قائم رہی
اس نے غصہ سے فیصل کو گھورا
“فرہین گو”۔۔۔۔۔۔۔
زایان کو بھی اب فرہین کی ہٹ دھرمی پے غصہ آیا
وہ پیر پٹکھتی وہاں سے چلی گئی
“کیو الجھتا ہے تو اس کے ساتھ “۔۔۔۔۔۔۔۔فرہین کے جانے کے بعد اب وہ فیصل سے بولا
“چھوڑ یار اب ایک میرا موڈ اس گھونسلے کو دیکھنے سے ویسے ہی خراب ہے اب تو زیادہ اس کی باتیں کرکے مت پکا” ۔۔۔۔۔۔۔
فیصل کی آخری بات پر دونوں کا جاندار قہقہ لگا
اب وہ دونوں خوش گپوں میں مصروف ہوگئے
💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
“سمجھتا کیا ہے یہ بلڈی لوزر اپنے آپ کو” ۔۔۔۔۔۔۔
How dare him???
فرہین اپنے کیبن کی چیزوں پر اپنا غصہ نکال رہی تھی
“ایک دفعہ مجھے مسز زایان بننے دو پھر دیکھنا فیصل مراد تمہیں کتنا زلیل کرتی ہو ایک ایک بات کا بدلہ لو گی تم سے ڈیم اٹ”۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اپنی ہی بات پر اس کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
“تم کب آئو گی ربانیہ”۔۔۔۔۔۔
میرا دل یہ گھر صرف تمہارا ہی منتظر ہے رات کے آخری پہر وہ اپنے بیڈ پر لیٹا دیوانہ وار ربانیہ کی تصویر سے بات کررہا تھا۔۔۔۔۔۔
“تم تو شاید جانتی ہی نہیں کہ میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہو میری ذات کی چاہ ہو تم میری اول سے ازل تک کی خواہش اب بہت انتظار کرلیا اب تمہیں میرا ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا “بہت جلد تم میرے پاس ہوگی اس نے ربانیہ کی تصویر پر اپنے لب رکھ دیے اور تصویر کو اپنی آغوش میں قید کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
“ربانیہ بھوک لگی ہے یار “
۔۔۔۔۔۔۔
آغوش نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا
آج وہ دونوں صبح سے ربانیہ کے گھر پڑھ رہی تھی کیونکہ کل ان کا بہت اہم پیپر تھا
“ہا صحیح کہ رہی ہو بھوک تو مجھے بھی لگی ہے
مگر جو بنانا ہے ہمیں خود بنانا ہوگا کیونکہ امی بازار گئی سلائی کے لیئے کپڑے آئے تھے ان کا سامان لینے گئی ہیں “۔۔۔۔۔۔
اس نے آغوش کو بولا
“ہا چلو فرینچ فرائز بناتے ہیں بہت بھوک لگی ہے یار”۔۔۔۔۔۔۔
آغوش سے اب بھوک برداشت نہی ہورہی تھی
“ہاں تم جائو کچن میں جب تک فرائز کیلیے آلو کاٹو میں یہ سارا پھیلاوا سمیٹ کر آتی ہو “۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے کمرے میں پھیلی کتابوں کی طرف اشارہ کیا “
“ایک تو میری سگھڑ گوپی بہو” ۔ ۔۔۔۔۔
آغوش نے شرارت سے ربانیہ کو کیا
“آغوش کی بچی”۔۔۔۔۔۔ اس نے کشن اٹھا کر اسے مارا مگر اس سے پہلے اسے لگتا وہ دانت نکالتی کمرے سے باہر چلی گئی
“پاگل ہے پوری”۔۔۔۔۔ ربانیہ بھی سر ہلاتی ہسنے لگی
“اوئے آغوش کے بچے ابھی نہیں ہوئے”
وہ دروازے سے سر نکالے ربانیہ سے بولی
“تم جاتی ہو کہ نہیں” ۔۔۔۔۔۔ربانیہ نے پھر کشن اٹھایا
“اچھا اچھا جاتی ہو گوپی بہو” ۔۔۔۔۔۔کہتے ہی کمرے سے بھاگ گئی اور پیچھے ربانیہ چیزیں سمیٹنے لگی
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
“اللہ اس کچن میں تو کچھ ملتا ہی نہیں” ۔۔۔۔۔۔آغوش کب سے یہاں وہاں چیزیں ڈھونڈ رہی تھی مگر کوئی چیز اسے مل ہی نہیں رہی تھی
“ہائے اللہ یہ کیا حال بنا دیا ہے تم نے کچن کا” ۔۔۔۔۔۔
ربانیہ اپنے کچن کا حشر دیکھ کر بولی
“یار مجھے کوئی چیز مل ہی نہیں رہی تم خود آئو اور کرو سارے کام مجھ سے نہیں ہوتے ارے بھائی اتنی پرسنیلیٹی والے بندے کو کام اچھا نہی لگتے “۔۔۔۔۔۔۔
آغوش نے آنکھ دباتے ہوئے کہا
“تم نکلو میرے کچن سے ابھی “۔۔۔۔۔۔۔ربانیہ نے اسے چھری دکھائی
“او بھئ بھری جوانی میں قتل کرو گی میرا میرے ہونے والے شوہر کو بن بہائے رنڈوا کرو گی میرے چنٹو مںٹو کے ابا اس دنیا میں اکیلے رہے گے ” ۔۔۔۔۔۔۔اس نے آنکھین پوری کھول کر چھری کی طرف اشارہ کیا
“”بے حودہ لڑکی تم نکلو بس “۔۔۔۔۔۔ربانیہ کو اس پر بہت غصہ آرہا تھا” اچھا اچھا جاتی ہو مرو نہی”
“اچھا فرائز ذرا زیادہ بنانا” ۔۔۔۔۔
آغوش نے ربانیہ کے گال پے چٹنی کاٹی
“دفعہ ہو جائو”۔۔۔۔۔۔۔
اس نے غصے سے کہا اور کچن سمیٹنے لگی
“اچھا ایک اور بات بولو “۔۔۔۔۔۔۔آغوش پھر اس کے سر پے کھڑی ہوگئ
تم اب نکلتی ہو یا نہیں ۔۔۔۔۔۔
اچھا اچھا سوری کہتی وہ باہر صحن میں چلی گئی
❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣
