Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 44 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44 Part 1
وہ گیٹ پیٹتے پیٹتے تھک چکی تھی دھوپ میں اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تو وہ گیٹ کے پاس بیٹھ گئی اسے تو پتا ہی نہ تھا کہ وہ کس گناہ کی سزا کاٹ رہی ہے زایان کو دیکھتے ہی اس کے دل خوشی سے سرشار ہو گیا تھا اسے تو پتا بھی نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے
وہ سر پکڑے رو رہی تھی جب ایک کیپ اس کے آگے رکی اور اس میں سے فرحین نکلی
اس کے سر شدید درد تھا وہ تو سر اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکی کہ کون اس کے آگے کھڑا ہے
یہ میرا گھر ہے اور ایک اچھی بہو کا پہلا فرض یہی ہے کہ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں خود اٹھائے
یہی کہا تھا نہ تم نے مجھ سے ۔۔۔۔۔
وہ اس کے آگے کھڑی ڈھٹائی سے بول رہی تھی
اس نے سر اٹھا کر سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا جو اسے دیکھ کر ہنس رہی تھی
میں تو تمہیں کچھ اور ہی سمجھتی تھی اور تم تو کچھ اور ہی نکلی یار مطلب اگر تمہیں زایان کے ساتھ نہیں رہنا نہیں تھا تو مجھے بتاتی اس طرح چوری چھپے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔
زایان بالکونی میں آیا تو اسے فریدہ گارڈ سے جھگڑتی دکھائی دی
حسان کے آنے کا ٹائم بھی ہوگیا تھا یہی سوچ آتے ہی وہ نیچے آیا
اندر جائو ت۔۔۔۔م فریدہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو زایان خونخار نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
صاحب جی آپ کو خدا کا واسطہ انہیں اندر آنے دے وہ آپ کے بچے کی ماں بننے والی ہیں رحم کرے ان پر ۔۔۔۔۔
وہ اس کے آگے دونوں ہاتھ جوڑے روتے ہوئے التجا کرنے لگی کیونکہ اس گھر میں وہ سب سے زیادہ ربانیہ سے اٹیچڈ تھی
تم اندر جائو ورنہ اپنے انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی ۔۔۔۔۔
گیٹ کھولو ۔۔۔۔
فریدہ کے بعد اس نے گارڈ سے کہا جس نے گیٹ کھولا
فریدہ نے اسے باہر جاتا دیکھ سکھ کا سانس لیا کہ وہ اسے اندر لے آئے گا
وہ باہر آیا تو فرحین اس کے سر پر کھڑی ناجانے اسے کیا کیا سنا رہی تھی
تم تو انتہا کی گھٹیا عورت ہو گئی نہیں ابھی تک۔۔۔۔۔۔
اسے ابھی تک وہی بیٹھا دیکھ زایان نے اسے کہا
وہ اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بھاگی
اپنا قصور جانے بغیر میں یہاں سے ہلو گی بھی نہیں ۔۔۔۔۔
اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو رگڑتی وہ اس کے آگے آکر پوچھنے لگی
اس سے کیا پوچھ رہی ہو مجھ سے پوچھو میں نے خود تمہیں تیمور کے ساتھ ہسپتال میں دیکھا ہے کل کو تمہاری اصلیت سب کے سامنے نہ آجائے اسی لیے زایان کی غیر موجودگی میں تم یہ سب کرتی پھر رہی ہو۔۔۔۔۔
پیچھے سے فرحین بولی
زایان میں نے کچھ نہیں کیا آپ اس کی باتوں میں آرہے ہیں یہ تو اپنے ساتھ مخلص نہیں ہے کسی دوسرے کا گھر کا کیا بسنے دے گی۔۔۔۔۔
وہ فرحین کو نظر انداز کرتی زایان کا ہاتھ پکڑ کر آس بھری نظروں سے بولی
اچھا اور وہ اپائمنٹ اور یہ تصویریں ۔۔۔۔۔
زایان نے پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر وہ تصویریں اس کے آگے کی
یہ تم ہی ہو نہ
تم ہو نہ
زایان نے اس کی روتی ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر غراتی آواز میں اس سے پوچھا
ہاں میں ہو مگر ویسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ کو لگ رہا ہے ۔۔۔۔
وہ ابھی اپنی صفائی دے رہی تھی
میں تم جیسی دو ٹکے کی عورت کو اپنے گھر میں تو کیا اپنی آنکھوں کے سامنے بھی نہیں دیکھنا چاہتا اس لیے میں کچھ غلط کر جائو اس سے پہلے چلی جائو یہاں سے ۔۔۔۔۔
زایان میری بات ۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں آرہا ہے وہ تمہارے ساتھ اب نہیں رہنا چاہتا چلی کیو نہیں جاتی ہو۔۔۔۔۔
فرحین زایان کے پاس آکر ربانیہ کو چیخ کر بولی
میں کہا جائو گی اس وقت میرا تو آپ کے سوا اور کوئی بھی نہیں ہے مجھے بتائے میں کہا جائو گی۔۔۔۔
اس نے زایان کا دوبارہ ہاتھ پکڑ کر منت کی کہ شاید اسے ترس آجائے
زایان نے بےدردی سے اس کا ہاتھ جھٹکا
اور اپنا والٹ نکالا اور اس میں سے کارڈ نکال کر اس کے منہ پر مارا
اس میں اتنے پیسے ہیں کہ تم اور تمہارا عاشق ساری زندگی عیش سے عیاشیاں کرسکتے ہوں ۔۔۔۔۔
اب نکلو یہاں سے ۔۔۔
وہ اس کے منہ پر کارڈ مارتا فرحین کا ہاتھ پکڑے اندر جانے لگا
ساری زندگی مقروض رہو گی آپ کی کہ آپ نے میرے تن پر کپڑے رہنے دیے ان کا حساب نہیں مانگا ۔۔۔۔۔
اس نے پیچھے سے کہا تو زایان اور فرحین رکے
زایان کا کارڈ زمین سے اٹھایا اور اپنے پرس سے وہ کارڈ نکالا جو زایان نے اسے دے رکھا تھا
ان کے آگے آکر وہ دونوں کارڈ زایان کے ہاتھ پر رکھ دیے
بہت مبارک ہو آپ کو آپ کی یہ دولت اور آپکی نئی زندگی ۔۔۔۔
فرحین کی طرف لال آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اس نے نئی زندگی پر زور دے کر کہا
آپ جیسے شریف مرد کی زندگی میں ان کے جیسی مخلص اور پاکدامن عورتوں کو ہی آنا چاہیے مجھ جیسی بدکردار اور گناہ گار عورتوں کو ایسے ہی دربدر ہونا چاہئے
کوشش کرو گی کہ اب آپ کیلئے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے ایک بھی آنسو نہ نکالو
آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولو گی اور نہ ہی اتار سکو گی کہ اس وقت میرے جسم پر آپ کے دلائے ہوئے کپڑے ہیں انہیں تو نہیں اتار سکتی میں میری مجبوری ہے
باقی ان کپڑوں کے علاوہ آپ کا دیا اور کچھ نہیں ہے اس وقت میرے پاس
اکیلی آئی تھی اکیلی ہی جارہی ہو۔۔۔۔۔
اس نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا جو روڈ پر پڑا ہوا تھا کیونکہ اس میں اس کا موبائل تھا جو وہ اپنی ماں کے گھر سے لائی تھی
ایک بات کی خوشی رہے گی مجھے کہ اتنا کچھ سننے کے بعد اپنے اس منہ سے بھی کچھ بول کر جا رہی ہو کم از کم ساری زندگی یہ پچھتاوا تو نہیں رہے گا کہ آپ جیسے شریف لوگوں کے منہ سے اتنا سب سننے کے بعد میں بے حیا کی طرح چپ چاپ سنتی رہی ۔۔۔۔۔۔
وہ زایان کی طرف سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی جو اسے ایسے دیکھ رہا جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ ہورہا ہو اور چلی گئی
وہ بھی فرحین کا ہاتھ پکڑے بغیر پیچھے دیکھے اندر چلا گیا
۔۔۔۔۔
سلمی بیگم تو فریدہ کی کال سنتے ہی گھر کیلئے روانہ ہو گئی تھی وہ کتنی دیر ربانیہ کا نمبر ملاتی رہی مگر وہ ہر بار سوئچ آف آرہا تھا
زایان کو بھی انہوں نے کال کی مگر وہ فون اٹھا ہی نہیں رہا تھا
رایان کو انھوں نے کال ملائی تھی مگر اس نے کہا تھا کہ وہ فیکٹری وزٹ پر شہر سے باہر ہے اس لیے انھوں نے اسے کوئی بات نہیں کی
حسان جب گھر آیا تھا تو زایان اور فرحین اس وقت زایان کے کمرے میں تھے اس نے فریدہ سے ربانیہ کا پوچھا بھی تھا مگر وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس سے کچھ کہ ہی نہ سکی تو وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
وہ لینڈ لائن سے سلمی بیگم کو پر گھنٹے بعد کال کرتی مگر بد قسمتی سے ان کا فون ہر بار بزی آتا
وہ ٹریفک کی وجہ سے دو گھنٹے کی بجائے چار گھنٹے میں گھر پہنچی تھی
وہ حال میں آئی تو زایان اور فرحین ایک ساتھ بیٹھے تھے
زایان تم آنٹی سے کب بات کرو گے ہمارے بارے میں بس بہت ہوگیا اب تم جلدی کرو ۔۔۔۔
وہ زایان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے اس سے بولی رہی تھی
ہم کل ہی شادی کرے گے مجھے اس کیلئے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے بس تم کل صبح تیار رہنا ۔۔۔۔۔
وہاں بیٹا وہاں آفرین ہے تمہاری اس بات پر مجھے تو تم نے آج سچ میں چونکا دیا ۔۔۔۔۔
وہ ان دونوں کے سامنے آکر زایان کی طرف کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
بیگم صاحبہ۔۔۔۔ فریدہ ان کی آواز سن کر کچن سے بھاگتی ہوئی آئی
ربانیہ کہا ہے انھوں نے فریدہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
مگر وہ بغیر کچھ بولے روتے ہوئے زایان کو دیکھنے لگی جو فرحین کے ساتھ بیٹھا تھا
کہا ہے ربانیہ۔۔۔۔۔
اب کی بار انھوں نے اونچی آواز میں زایان سے پوچھا ان کی آنکھیں غصے سے باہر نکلنے کو تھی
نکال دیا ہے میں نے اس دھوکے باز عورت کو۔۔۔۔
وہ آٹھ کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا
شرم کرو کچھ تو شرم کرو وہ تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہیں بد ذات اور تم نے اسے اس حالت میں گھر سے نکال دیا لعنت ہے تم جیسی اولاد پر جو ماں باپ کو جیتے جی مار دیتے ہیں
آنٹی وہ آپ سب کو دھوکہ دے رہی تھی وہ آپ سب کے پیٹھ پیچھے۔۔۔۔
تم ہمارے گھر کے معاملات میں نہ ہی بولو تو اچھا کیونکہ تمہارا کردار کے تو کیا ہی کہنے ہیں نکلو میرے گھر سے تم ۔۔۔۔
انھیں فرحین کی مداخلت ہر گز پسند نہ آئی اس نے غصے سے زایان کو دیکھا تو زایان نے اسے آنکھوں سے اشارہ کرکے جانے کو کہا
وہ ایک غصیلی نظر سلمی بیگم پر ڈالے پیر پٹکتی وہاں سے چلی گئی
کہا گئی ہے وہ۔۔۔۔
میں تم سے پوچھ رہی ہو کہا گئی ہے وہ ۔۔۔زایان کی ڈھٹائی دیکھ کر انھوں نے دوبارہ پوچھا
گئی ہوگی اپنے اس عاشق تیمور کے پاس جس کے ساتھ سارا دن گھومتی پھرتی ہے ۔۔۔۔
زایان نے لاپرواہی سے جواب دیا
تمہاری عقل کو تو میں سلام کرتی ہوں وہ تمہیں ایسی لگتی ہے ۔۔۔۔
اتنے میں رایان گھر کے اندر داخل ہوا اور شور شرابا سن کر ان کے پاس آیا
کیا ہوا ماما آپ کیو چیخ رہی ہے بھائی پر۔۔۔۔
وہ زایان کو دیکھتا ہوا سلمی بیگم سے پوچھنے لگا
پوچھو اس سے کیا کیا ہے اس نے ربانیہ کے ساتھ گھر سے نکال دیا اس نے اسے ۔۔۔۔
انھوں نے زایان کی طرف اشارہ کرکے کہا
بھائی یہ کیا کہ رہی ہیں ماما۔۔۔۔
سلمی بیگم کی بات سن کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا اسے کیلئے یہ سب یقین کرنا بہت مشکل تھا
آپ کو تو ہر وقت وہی صحیح لگتی برا تو میں ہو ہے نا تو پھر یہ کیا ہے مجھے بتائے یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔
اس نے اپنی پاکٹ سے سیل فون نکال وہ تصویریں سلمی بیگم اور رایان کو دکھائی
تیمور کے ساتھ ہسپتالوں میں پھر رہی تھی پتہ ہے کیو مجھ سے جان چھڑانا چاہتی تھی میرے بچے کو مارنا چاہتی تھی وہ
انہیں تصویریں دکھانے کے بعد اس نے وہ موبائل دیوار پر دے مارا کہ وہ بری طرح ٹوٹ گیا
رایان یہ تو پاگل ہوگیا ہے تم جائو دیکھو اسے کہا ہے وہ اس کے تو گھر کی چابیاں بھی میرے پاس ہیں اللہ جانے کہا رل رہی ہوگی وہ ۔۔۔۔
انھوں زایان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے رایان سے کہا
آپ کو نہ اسے ڈھونڈنے کیلئے اس کے گھر یا کسی اور جگہ جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ سے پوچھے میں ہی بتا دیتا ہو تیمور کے گھر پر ہے وہ ۔۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراتا ہوا صوفے پر لیٹ گیا رایان تو اپنے بھائی کی ڈھٹائی دیکھتا رہ گیا
تف ہے تم پر تم جیسی اولاد ہونے سے بہتر تھا میں بے اولاد رہتی
سلمی بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کا قتل کردیتی
یہ یہ تمہارا بڑا بھائی جسے تم اور ایمن اپنا آئیڈیل مانتے ہو جانتے ہو اس نے کیا کیا ہے ربانیہ کے ساتھ
وہ رایان کو بتانے لگی
ماما آپ اس بد کردار عورت کیلئے مجھے ان کے سامنے برا کہ رہی ہیں
اپنی اصلیت سامنے آنے کے ڈر سے وہ آٹھ بیٹھا
تم جیسے مردو پر تو جتنی لعنت بھیجی جائے کم ہے اور تم کسے بد کردار کہ رہے ہو اسے جو دو مہینے تم جانوروں کی طرح پیٹتے رہی چپ چاپ تمہارا کیا برداشت کرتی رہی وہ اور جب وہ ماں بننے والی تھی تب بھی تم نے اسے نہیں چھوڑا
جھوٹا الزام لگایا کہ بچہ تمہارا ہے ہی نہیں
اور جانتے ہو اس نے کیا کیا
انھوں نے رایان سے کہا جو بت بنا سب سن رہا تھا
ڈی این اے ٹیسٹ کروایا اس کا
مگر خدا کی کرنی تو دیکھو اگلے ہی دن اس نے تم سے تمہارا بچہ چھین لیا
اور تم اسے بدکردار کہ رہو ابھی تو تمہارا انجام شروع ہوگا جو جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے وہ سب تم پر بھی آئے یہ مت سمجھنا کہ تم خدا کے قہر سے بچ جائو گے
وہ تو اپنے سر پکڑے زمین پر بیٹھ گئی
اچانک زایان کی نظر دروازے کے پاس کھڑے تیمور اور عمر صاحب پڑی
غلطی سے رپورٹس ہسپتال میں ہی تبدیل ہوگئی تھی جب تیمور نے گھر آکر ربانیہ کی رپورٹس دیکھی تو وہ اسی وقت انہیں دینے آنا چاہتا تھا مگر شام کو عمر صاحب کا ڈاکٹر کے چیک اپ تھا تو اس نے سوچا کہ شام میں عمر صاحب کے ساتھ جاکر ہی ربانیہ کو اس کی فائل دے آئے گا اور اپنی فائل اس سے لے آئے گا اور اسی بہانے عمر صاحب بھی ربانیہ سے مل لے گے
مگر جب وہ لوگ آئے تو سلمی بیگم رایان کے سامنے زایان پر برسی ہوئی تھی
تمہاری اتنی جرت بے غیرت انسان کے تم منہ اٹھائے میرے گھر چلے آئے ۔۔
وہ تیمور کو دیکھتے ہی مزید تیش میں آگیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کی طرف بڑھا
اسے گریبان سے پکڑ کر پے در پے اس پر مکوں اور لاتو کی بارش کردی
بھائی چھوڑے تیمور کو کیا کررہے ہیں۔۔۔۔
رایان آگے بڑھ کر تیمور کو اس سے بچانے لگا جبکہ عمر صاحب تو وہ سب باتیں سننے کے بعد سن ہوگئے تھے
میں تجھے چھوڑو گا نہیں جان لے لو گا تیری ۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر میز پر رکھا گلدان اٹھایا اور اسے مارنے کیلئے آگے بڑھا
مگر اس سے پہلے ہی رایان نے وہ گلدان اس سے لے لیا تھا اور اسے پوری طرح جکڑ لیا تھا
عمر صاحب نے آگے بڑھ کر اس کی طرف کاٹ کھانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک تھپڑ اس کے گال پر جڑ دیا
جب کے سب اسے پڑنے والے اس تھپڑ پر حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے
ربانیہ کہا ہے مجھے بتائو کہا ہے وہ ۔۔۔۔
انھوں نے زایان کا گریبان پکڑ کر چیختے ہوئے کہا
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں اپنے بیٹے سے پوچھے۔۔۔۔
اپنے منہ پر پڑنے والا تھپڑ اس کے حواسوں کو ہلا گیا
تیمور جو زخمی حالت میں نیچے پڑا تھا بمشکل اٹھا
پوچھے اس سے کیا کرنے گیا تھا یہ اس کے ساتھ ہسپتال میری بیوی کو کھلے عام لے کر یہ دونوں میرے ہی بچے کا مارنے چلے تھے ۔۔۔۔
تمہارا دماغ ٹھیک ہے کیا بک رہے ہو ابا جان یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔۔۔
وہ آٹھ کر عمر صاحب کے پاس آیا
اچھا میں جھوٹ بول رہا ہو تو تم یہاں اس وقت کیا کررہے ہو دیکھنے آئے ہو کہ کیا تماشہ لگا ہوا ہے یہاں ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف پھر بڑھا مگر رایان اس سے پہلے ہی اسے پکڑ چکا تھا
تیمور نے زمین پر پڑی ربانیہ کی فائل اٹھائی اور اسے سلمی بیگم کو دی
پھپھو صبح میں سیرت کی اپائمنٹ لینے ہسپتال گیا تھا وہاں ربانیہ بھی مجھے ملی وہ مجھ سے سیرت کی کنڈیشن پوچھ رہی تھی تبھی غلطی سے فائلز ایکسچینج ہوگئی وہی لوٹانے آئے ہیں میں اور ابا جان ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
بس ربانیہ بس کرو تم کیو اس کیلیے آنسو بہا رہی ہو جسے تمہاری قدر نہیں وہ شخص صرف تمہیں رسوا کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
ربانیہ ان کے کندھے پر سر رکھے زارو قطار رورہی تھی حتی کہ ان کی اپنی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے
اگر تم کہو تو میں اس سے بات کرو اسے سمجھائو کہ وہ جو کررہا ہے غلط ہے گناہ ہے وہ کیسے اپنی بیوی کو کسی غیر کی بات پر اس حالت میں تنہا چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں ہر گز نہیں آپ اس کے سامنے میرے لیے بھیک مانگنے نہیں جائے گی وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس کے سامنے میں اپنی عزت کی بھیک مانگو ۔۔۔۔۔۔
اسے زایان کی بےاعتباری نے توڑ دیا تھا
تو پھر تم کیا کرو گی۔۔۔۔
انھوں نے ایسا سوال پوچھا جو ربانیہ کو اندر تک ہلا گیا
وہ جب وہاں سے نکلی تھی تو اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہا جائے اسے کے ذہن میں پہلا چہرہ نگار کا آیا وہ ایک دو بار پہلے بھی یہاں آچکی تھی وہ وہی چلی آئی تھی اور نگار کو سب بتایا تھا جو زایان نے اس کے ساتھ کیا تھا—
