Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

چھے ماہ بعد
مما کی جان مما کا بےبی۔۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھی روحان کو لٹائے اس کے کپڑے چینج کرتے ہوئے اس سے باتیں بھی کررہی تھی
جبکہ ایان چینج کرکے اسی کے ساتھ لیٹا آوازیں نکال کر کھیل رہا تھا
اتنے میں انعم کمرے میں آئی اور بیڈ کی دوسری سائڈ پر بیٹھ گئی اور ایان جو اپنی مستی میں کھیل رہا تھا اسے اٹھا لیا
اس کے اٹھاتے ہی وہ گلے پھاڑے رونے لگا
انعم تم نے پھر میرے بیٹے کو رلا دیا۔۔۔۔
انعم کو غصے سے دیکھتے ہوئے ربانیہ نے کہا
آپی میں اس جن کو جب بھی اٹھاتی ہو نہ بس اس کا لائوڈ سپیکر آن ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
وہ ایان کو کاٹ دار نظروں سے دیکھتی ربانیہ سے بولی
ہاں تو تم میری جان کو سخت ہاتھ جو لگاتی ہو
۔۔۔
اس نے روتے ایان کو انعم سے لے لیا
اور اسے چپ کرانے لگی
بس میری جان بس چپ۔۔۔
وہ اس سہلاتے ہوئے بولی
وہ بھی چپ ہوگیا
دیکھا کیسے چپ ہوگیا ہے ۔۔۔
مما کی جان ہے نہ ایان تو جلدی سے بڑے ہوجائو پھر ایان اور مما مل کر انعم خالہ کی پٹائی لگائے گے ۔۔۔۔۔
وہ ایان کو دیکھ کر مسکرا کر بولی تو وہ بھی مسکرایا
انعم کا تو اس کی ہنسی دیکھ کر منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
کتنا چالاک ہے بد معاش کہیکہ میری پٹائی لگانے والی بات پر کیسے اس کے دانت نکل آئے ہیں ۔۔۔۔
وہ ایان کو غصے سے دیکھتے ہوئے ربانیہ سے بولی
اب اسے تم لے جائو مجھے روحان کو چینج بھی کرانا ہے اچھا بھلا کھیل رہا تھا اور میں اسے چینج کرا رہی تھی اب یہ کہے گا کہ اسے اٹھا کے بیٹھے رہو ۔۔۔۔
وہ ایان کو انعم کو پکڑاتی جلدی جلدی روحان کو چینج کرانے لگی
روحان ایان کی نسبت کافی چپ رہتا تھا اور ہر کسی کے پاس آرام سے چلا جاتا مگر ایان ربانیہ اور شیلہ کے پاس ہی جاتا تھا ان کے علاوہ اسے کوئی ہاتھ لگاتا تو اس کا سپیکر آن ہوجاتا
اچھا آپی میں آپ کو بلانے آئی تھی آپ کو بابا بلا رہے ہیں اپنے کمرے میں۔۔۔۔
ایان کو سنبھالتے وہ ربانیہ سے بولی
مجھے اچھا تم ایان کو لے کر چلو میں روحان کو چینج کرا کے آتی ہو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
وہ روحان کے کو گود میں لے کر کمرے میں داخل ہوئی جہاں سب لوگ اسی کے منتظر تھے
آئو ربانیہ بیٹھو میرے پاس ۔۔۔۔۔۔
علی نے اسے اسے کہا تو وہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی آج اسے سب کی نظریں عجیب لگی
ربانیہ میں نے سوچا ہے کیو نہ تم اپنی پڑھائی پھر سے شروع کرو ۔۔۔۔۔
علی نے اپنی بات کا آغاز کیا
اسے یہ سن کر حیرت ہوئی بچو کے بعد تو وہ اپنی پڑھائی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی
مگر بھائی بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں میں کیسے دوبارہ پڑھائی شروع کرسکتی ہو ۔۔۔۔۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
آپی یہ کیا بات ہوئی ہم ہیں نہ اور ویسے بھی یہ آئیڈیا ماما کا ہے کہ آپ اور میں ایک ساتھ کالج جائے گے اور ان دونوں چوزو کا ماما سنبھالے گی۔۔۔۔۔
انعم نے اپنی گود میں بیٹھے ایان کو اوپر اچھالتے ہوئے ایکسائیٹڈ ہوکر بولا کیونکہ اس کی خوشی تو دگنی ہوگئی تھی یہ سن کر کہ وہ اور ربانیہ ایک ساتھ کالج جائے گے
مگر پھر بھی یہ دونوں آپ کو تنگ کرے گے بھابھی ۔۔۔۔۔
اب کی بار وہ شیلہ سے بولی
ارے ایسے کیسے تنگ کرے گے یہ دونوں تو سارا دن میرے پاس ہوتے ہیں مجھے تو بلکل تنگ نہیں کرتے تم بے فکر ہوکر اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کرو ۔۔۔۔۔
شیلہ نے اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اور ربانیہ بچوں کے بہترین مستقبل کیلئے ماں کا ویل ایجوکیٹد ہونا بہت ضروری ہے تم بے فکر ہوجائو۔۔۔۔۔۔
علی نے اسے ریلکس کرتے ہوئے روحان کو اس کی گود سے اٹھا لیا اور پیار کرنے لگا مگر اب وہ پریشانی سے نگار کو دیکھ رہی تھی
آپا کو مت دیکھو یہ ہم سب کا فیصلہ ہے ۔۔۔۔
شیلہ نے اس کی نظروں کا تعقب نگار کی جانب دیکھتے ہوئے بولا
ربانیہ ہم سب آج ہیں کل نہیں اور میں چاہتا ہو کہ تم پڑھی لکھ کر کوئی سوٹیبل جاب کرو اپنے پیروں پر کھڑی ہو اس سے تمہارا اور تمہارے بچوں کا مستقبل ہی سیکیور ہوگا ۔۔۔۔
علی نے اسے سمجھاتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
علی بلکل ٹھیک کہ رہا ہے ربانیہ کل کس نے دیکھا ہے اور اگر تم پڑھ لکھ کر اعلی تعلیم حاصل کرلیتی ہو تو اس میں برائی ہی کیا ہے ایک پڑھی لکھی سمجھدار ماں ہی اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرسکتی ہے۔۔۔۔
نگار نے اس کا پاس آکر اسے سمجھایا
جیسی آپ سب کی مرضی ۔۔۔۔
اس نے سر جھکائے جواب دیا کہ انعم کا ایک زور دار قہقہ گونجا جسے سن کر سب نے اپنے کان پکڑ لیے
۔۔۔۔۔
تین سال بعد
وہ چھت پر لگے جھولے پر بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی
جانتی ہیں امی آج آپ کی بہت یاد آرہی تھی آج رات بارہ بجے آپ کی ربانیہ پورے بائیس سال کی ہو جائے گی اور آپ ہر سال مجھے اسی رات بارہ بجے جگا کر وش کیا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ تمہاری زندگی کا ایک مشکل سال ختم ہوگیا اور ایک نیا سال تمہارے لیے ایک امتحان لے کر آیا ہے
اس وقت مجھے آپ کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی مگر اب جب میں خود اس دور سے گزر رہی ہوں مجھے آپ کی بات کا مفہوم سمجھ میں آیا
کہ ایک دکھ بھرا سال کٹ گیا آنے والا سال خوشیاں لائے گا یا پھر دکھ کوئی نہیں جانتا مگر ہم اگر آنے والے ہر امتحان کا مقابلہ ڈٹ کر کرے گے تو وہ جاتے وقت ہمیں ایک خوشی ضرور دے جائے گا
جانتی ہیں امی آپ کی ربانیہ اب اندھیرے سے بھی نہیں ڈرتی شاید روشنی بھرے عرش سے اندھیروں سے گھرے فرش پر منہ کے بل گرنے پر مجھے سمجھ آگیا ہے کہ زیادہ روشنی ہماری اپنی آنکھوں کو ہی چندھیا دیتی ہے
آپ کی بیٹی بہت کمزور تھی امی زایان ملک کی بیوی بھی بہت کمزور تھی مگر ایان روحان کی ماں بہت مضبوط ہے ان کیلئے کسی کے آگے بھی لڑ جائے گی جیسے آپ میرے لیے سب سے لڑا کرتی تھی
تین سال پہلے جب اس سے بات کی تھی تو سچ میں قدم لڑکھڑانے لگے تھے دل میں پھر وہ سوئی ہوئی محبت جاگی تھی ذہن سن ہونے لگا مگر پھر میں نے نظر بھر کے اپنے اینجلز کو دیکھ لیا تھا جیسے آپ مجھے دیکھا کرتی تھی قدم خودبخود واپسی کے راستے سے لوٹ آئے سوچا اگر زندگی آسانی کا نام ہوتی تو کوئی بھی آنے والے وقت کی مشکلات سے نہ ڈرتا علی بھائی کے ساتھ چلی آئی اسلام آباد تاکہ اگر زندگی کے کسی موڑ پر مجھے زایان ملک مل گیا تو اس کے سامنے سر اٹھا کر کہ سکو گی کہ تمہارے سہارے تمہاری دولت کے بغیر بھی میں بہت خوش ہو مگر امی جانتی ہیں چھے ماہ پہلے جب ایان روحان کی تیسری برتھ ڈے پر علی بھائی ہم سب کو فن لینڈ لے کر گئے وہاں ایک بچہ اپنے بابا کے ساتھ رائیڈ لے رہا تھا اور بار بار کہ رہا تھا آئی لو یو ڈیڈ یو آر مائی لائف مائی ایوری تھنگ ایان اور روحان انہیں دیکھ رہے
تھے گھر آکر انہوں نے مجھ سے کہا کہ مما ہمارے ڈیڈ کہا ہے وہ ہمارے ساتھ کیو نہیں رہتے دونوں کے اس سوال نے مجھے چونکا دیا میں چاہے انہیں جتنا بھی پیار دے دو مگر ایک باپ کی کمی کبھی پوری نہ کرسکی اسے طرح جیسے آپ بابا کی کمی پوری نہ کرسکی ایک یہی سوال تھا جس سے میں بھاگ رہی تھی
میں ان کے آگے رونے لگی اور انہیں کہا کہ کیا مما آپ کو اچھی نہیں لگتی تو انہوں نے کہا نو مما آپ تو ہماری جان ہیں ہم کبھی دوبارہ ڈیڈ کا نام نہیں لے گے شاید میرے آنسوئوں نے ان کے اندر اٹھتے باپ کی خواہش کے ارمان نے سلا دیا مگر یہ سب وقتی تھا وہ جب بھی باہر کسی باپ بیٹے کو ساتھ میں دیکھتے مجھ سے پوچھتے کہ ہمارے ڈیڈ کہا ہیں انکو ہماری یاد نہیں آتی مگر میں ہمیشہ انہیں کچھ نہ کچھ کہ کر چپ کرا دیتی
مگر کب تک انہیں چپ کراسکو گی میں نہیں جانتی مگر ان سے دوری اب مجھے ہر گز برداشت نہیں
علی بھائی نے پچھلے سال ہی گریجوایشن کیلئے میرا اور انعم کا ایڈمیشن اس شہر کی سب سے اچھی یونیورسٹی میں کروایا ہے
میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہو علی بھائی کے روپ میں ایک بڑا بھائی ملا شیلہ بھابھی کے روپ میں ایک بہترین دوست انعم کے روپ میں ایک چھوٹی بہن اور سب سے بڑھ کر نگار آپا کے روپ ایک محسن اور ایک ماں جو آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر ایک اچھا مشورہ دیتی ہے آپ کو صحیح اور غلط میں فرق بتاتی ہے
میں تو اپنا ماضی بہت پیچھے چھوڑ آئی ہو کیونکہ میں بھول چکی ہو کہ کبھی کوئی ربانیہ احمد بھی تھی جسے عزت بچانے کیلئے زایان ملک کی بیوی بنایا گیا تھا وہ زایان ملک جو اس کی بچپن کی محبت تھا جس نے صرف اس نے اپنا بدلہ لینے کیلئے اپنایا میں بھول چکی ہو اس نے ایک غلط فہمی کی بنا پر ہمارا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا میں بھول چکی ہو کہ ایان روحان صرف میرے ہی نہیں اس کے جسم کا بھی ایک حصہ ہے میں سب بھول چکی ہو امی سب
یاد ہے تو صرف اتنا کہ یہ ربانیہ احمد ایان اور روحان کی ماں ہے
جو اس کی کل کائنات ہیں
وہ اکثر رات کو چھت پر آجاتی اور ایسے ہی آسمان کو دیکھ کر باتیں کیا کرتی تھی آج بھی وہ آسمان کو دیکھ کر اپنی آپ بیتی خود ہی کو سنا رہی تھی
اتنے میں نیچے سے شور کی آواز آئی
وہ شور سنتے ہی سمجھ گئی کہ نیچے کیا ہورہا ہے
۔۔۔۔
مما مما ۔۔۔وہ جیسے ہی نیچے حال میں آئی ایان روحان دونوں بھاگتے ہوئے آئے اور اس سے لپٹ گئے
ان کے پیچھے ہی انعم انعم سفید چادر میں لپٹی ہوئی آرہی وہ ایسا ہی کرتی تھی جب وہ دونوں سو جاتے تھے تو ربانیہ اور وہ اوپر چھت پر آکر پڑھتے تھے پڑھنے کے بعد ربانیہ اس کی اور اپنی اسائنمنٹ بناتی تھی اور وہ سوتے ہوئے ایان روحان کو بھوت بن کر ڈراتی تھی
انعم تمہیں شرم نہیں آتی میرے معصوم بچوں کو ڈراتے ہوئے ۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو گلے لگائے انعم کو غصیلی گھوری سے نوازتے ہوئے بولی
اس نے ہنستے ہوئے چادر اپنے اوپر سے ہٹائی اور پیٹ پر ہاتھ رکھے نیچے بیٹھ گئی اور ہنس ہنس کر لوٹ پھوٹ ہونے لگی
مما خالہ بہت گندی بچی ہے ہر وقت ایان روحان کو ڈرا دیتی ہے ۔۔۔۔
روحان اس کے الگ ہوکر معصومیت سے اسے بتانے لگا وہ بلکل اس کی طرح دکھتا تھا وہی معصومیت بولنے کا وہی انداز
ہاں مما میں آپ کی وجہ سے چپ ہوجاتا ہو ورنہ میں اس خالہ کی بچی کے پیچھے ارحم والا ڈوگ لگا دیتا ۔۔۔۔
ایان لوٹ پھوٹ ہوتی انعم کو غصے سے دیکھتا دانت پیسے بولا
وہ روحان کے مقابلے کافی شارپ اور ایکٹیو تھا اور شرارتی بھی اس سے کہیں زیادہ تھا
بری بات ایسے نہیں کہتے بیٹا خالہ بڑی ہے نا وہ آپ کے ساتھ مذاق نہیں کرے گی تو کس سے کرے گی آپ تو گڈ بوائے ہو نا چلو میری جان سے سوری ٹو خالہ ۔۔۔۔۔
وہ ایان کو سمجھا رہی تھی جبکہ انعم سوری والی بات سن کر جلدی سے سیدھی ہوئی اور انتظار کرنے لگی کہ کب ایان اس سے سوری بولے گا
سوری خالہ۔۔۔ ربانیہ کے سمجھانے پر وہ اس کے آگے آکر کان پکڑ کر سوری بولا
اٹس اوکے اٹس اوکے تم بھی کیا یاد کرو گے کس سخی سے پالا پڑا تھا۔۔۔۔
وہ اتراتے ہوئے بولی اور فرضی کالر جھاڑے
چلو اینجلز ہم سونے چلتے ہیں آپ کی خالہ تو ساری رات مووی دیکھے گی چلو۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو لے کر کمرے میں چلی گئی کیونکہ انعم ساری رات ہورر موویز دیکھتی تھی اور اسے جلدی سونے کی عادت تھی کیونکہ اسے صبح یونیورسٹی بھی جانا ہوتا تھا
۔۔۔۔
وہ ابھی آفس سے آیا تھا چینج کرنے کے بعد ڈریسر کے سامنے کھڑا اپنے بالوں میں برش پھیر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر اپنی داڑھی کی طرف گئی اس میں تین بال سفید ہوگئے تھے
میں موٹی ہوتی جارہی ہو یہ پھر آپ بڈھے ہوتے جارہے ہیں کل تو میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال بھی دیکھے تھے مجھے تو لگتا ہے کچھ دنوں میں آپ میرے دادا کے عمر کی لگے گے۔۔۔۔۔
ربانیہ کی بات یاد کرکے بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی
اب تو سچ میں بوڑھا ہونے لگا ہو۔۔۔۔۔
ڈریسر پر رکھی ربانیہ کی تصویر کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا
وہ اس تصویر کو لے کر بیڈ پر آیا
اب تو آجائو یار کتنا انتظار کروائو گی ساڑھے تین سال کم نہیں ہوتے سزا کیلئے ۔۔۔۔
اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا تو وہ بلکل سیدھا ہوگیا
آجائے ۔۔۔۔
اس کے کہتے ہی آغوش اندر آئی
زایان بھائی ہم سب نے تو ڈنر کر لیا ہے آپ کہے تو میں آپ کے کمرے میں بھجوا دو ۔۔۔۔
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔
اس نے جواب دیا تو وہ جانے لگی
سنو افشہ کیا کررہی ہے ۔۔۔۔
زایان کے پوچھنے پر وہ مڑی
وہ رایان کے ساتھ حال میں کھیل رہی ہے۔۔۔۔
اچھا ایک کام کرو تم اسے یہاں لے آئو آج وہ میرے ساتھ سو جائے ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا
دو سال پہلے ہی ان دونوں کا سادگی سے نکاح ہوا تھا اور ان کی ایک سال کی بیٹی تھی افشہ جس سے زایان کافی اٹیچ تھا
وہ ہم باہر جارہے ہیں رایان کے ساتھ ۔۔۔۔
وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
چلو کوئی بات نہیں جاتے تم لوگ جائو۔۔۔۔
وہ مایوسی سے کہتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا اور آغوش بھی باہر چلی گئی