Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

آغوش جیسے ہی مڑی سامنے رایان کو دیکھ کر حیران رہ گئی اور رایان کی کیفیت بھی اس سے مختلف نہ تھی
“تم” وہ کھڑی ہوگئی اور حیران لہجے میں اس سے کہنے لگی
“ارے مس بلاسٹ تم” وہ بھی کھڑا ہوگیا
“کون مس بلاسٹ” اس نے اپنے آگے پیچھے دیکھا
:جب بومب سامنے ہو تو بلاسٹ اور کہا ہوگا”
وہ شرارتی ٹون میں بولا
“او ہیلو مسٹر ۔۔۔مسٹر کیا بولو یار”
اس نے اپنی تھوڑی پر انگلی رکھ کر سوچا
“سوچ لو سوچ لو ایسے تمہارا اوپر کا پرزا خالی”
رایان نے اس کے دماغ پر ٹونٹ کیا
“او مسٹر سمارٹی پرزے ہو گے تمہارے اور ہاں آغوش ہمیشہ اپنا دماغ صحیح ٹائم پہ یوز کرنا جانتی ہے تمہاری طرح اندھی نہیں ہے جو سفید دن میں جیتا جاگتا انسان نظر نہ آئے اور گاڑی بھگا کے لے جائے”
آغوش نے فرضی کالر جھاڑے
“او مس بلاسٹ اندھا کس کو بولا تم نے “
“کیو یہاں تمہارے علاوہ کوئی اور اندھا بھی ہے کیا “
آغوش نے جس ڈھٹائی سے کہا رایان اتنا ہی چڑ گیا
“او مینرز ہے تمہیں کہ ایسے ہی گھوم رہی ہو ہمارے ملک میں”
“او ہیلو چین کے کرونا وائرس شکل سے ہی کوئی وائرس لگتے ہو نکلو ہمارے ملک سے بڑا آیا ہمارا ملک”
اس نے رایان کی نکل اتاری
اب رایان کا پارا ہائی ہوگیا” اچھا میں تمہیں وائرس لگتا ہو اب دیکھو کہ یہ وائرس تمہارے ساتھ کرتا کیا ہے”
ہم آیا بڑا ابے چلو بہت دیکھے تم جیسے
آغوش اسے کہتی بیڈ پر جا بیٹھی اور پھر کتاب اٹھا لی
رایان نے ایک نکلی چھپکلی اپنی پوکٹ سے نکالی اور آغوش کے قریب جاکر اس کی گردن پر پھینک دی
اسے لگا کہ آغوش ڈر جائے گی مگر وہ تو ہلی ہی نہیں
“او مس بلاسٹ تمہارے اوپر چھپکلی”
آغوش کی کوئی ہرکت نہ دیکھتے ہوئے اس نے خود چیختے ہوئے کہا
“کیا کیا بولا تم نے” اس نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا اور وہ چھپکلی اٹھائی ” اچھا یہ او کتنی کیوٹ ہے یہ چھپکلی وائو سو نائس آف یو “
اس نے اتنے آرام سے کہتے ہوئے وہ رایان کی طرف اچھالی اس وقت آغوش کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی
“ابے یار یہ لڑکی ہی ہے نہ” رایان نے حیرانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
“سو فیصد لڑکی ہو” آغوش نے اس کی طرف پشت کیے جواب دیا
“کیا یار بھاگ ادھر سے یہ کوئی بھوت ہے” وہ کہتا حیرانی سے باہر چلا گیا
پیچھے آغوش کا ایک زور دار قہقہ لگا
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
سلمی بیگم اور رایان جا چکے تھے انھیں سمیرا بیگم نے عمر صاحب اور تیمور کے سلسلے میں بلایا تھا
جس میں انھوں نے اپنی رضامندی دے دی تھی
آغوش بھی ربانیہ کو تیار کرکے جاچکی تھی
ربانیہ زیادہ تیار تو نہ ہوئی تھی
کالے رنگ کی لانگ میکسی جس کے نیچے چوڑی دار تھا سر پر کالا شفون کا دوپٹہ سیٹ کیے شانوں کے ارد گرد اچھی طرح چادر لپیٹے اور آنکھوں میں کاجل پہنے ہونٹوں کو سکن کلر کی لپسٹک کا ٹچ دیے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی تیمور ٹیکسی میں ہر ایک منٹ بعد ایک نظر ڈالتا مگر ربانیہ کو پتا نہ چل سکا
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
وہ دونوں اس وقت پنڈی کے ایک مشہور ریسٹرونٹ میں تھے تیمور نے ربانیہ کےلئے چیئر آگے جس پر وہ بیٹھ گئی اور پھر خود بھی بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد ویٹر ان کے پاس آیا تیمور نے ربانیہ سے نہیں پوچھا کیونکہ وہ اس وقت بہت نروس لگ رہی تھی اس لیئے خود آرڈر کیا
“جی ربانیہ کچھ بولو گی” کافی دیر کی خاموشی کے بعد تیمور ربانیہ سے مخاطب ہوا
مت پوچھو کہ__کیسے ہیں ہم..💕❣💜💥 . سدا یاد رہیں گےکچھ ایسے ہیں ہم🔥💖💚😍🌿
“مجھ ۔۔مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے “
بمشکل وہ بولی
“ہاں بولو نہ میں تو تمہیں ہی سننے آیا ہو “
تیمور نے اسے ہنستے ہوئے جواب دیا کیونکہ وہ اسے ریلکس کرنا چاہتا تھا
“دیکھے تیمور اب ہم دونوں ایک پاک رشتے میں ساری زندگی کے لیئے بندھنے والے ہیں اس لیے میں نہیں چاہتی کہ میرا ماضی آپ سے ڈھکا چھپا رہے یہ میں آپ کو کسی فریب میں رکھو “
ربانیہ کے اس طرح کہنے پر اب تیمور بھی سنجیدہ ہوا
پہلے اس نے تیمور کی آنکھوں میں دیکھا
پھر ایک لمبا سانس لے کر اپنی بات شروع کی
“میں گناہگار اس دل میں کسی نامحرم کو بسا بیٹھی اس کی محبت سے اپنے دل کو سرشار کرلیا جبکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ گناہ ہے مگر میں نے اپنے اس جذبے کو بڑھاوا دیا”
نظریں نیچیں کیے اس نے ساری باتیں بتائی
“کون ہے وہ “
اس نے جب اگلا جملا سنا جس میں صرف غصہ تھا تو سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں ضبط کے مارے سرخ ہورہی تھی
“کیا اتنا بتانا کافی نہیں کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہو”
“نہیں نہیں ہے کافی” تیمور ضبط کی انتہا پر تھا
تیمور آپ پہلے تحمل سی میری پوری بات سنے
میں ایک ایسے شخص سے محبت کر بیٹھی جو مجھ سے محبت نہیں کرتا اور میں اس بات سے اچھی طرح واقف تھی پھر میں نے اپنی اس یک طرفہ محبت کو بڑھاوا دیا میں نہیں جانتی ایسا کیو ہے میں نے اسے بھلانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر میں ناکام رہی میں یہ سب آپ کو اس لیئے بتا رہی ہو میں نہیں چاہتی کہ شادی کے بعد ہمارے لیئے کوئی مسئلہ ہو اس آپ کی مرضی آپ اس رشتے کو قائم رکھے یا نہ رکھے یہ میری حقیقت ہے
ربانیہ نے اسے ساری حقیقت ایک ساتھ بتا دی جسے سن کر تیمور کو اپنا آپ اس کے سامنے بے معنی لگا وہ لڑکی جسے وہ بچپن سے چاہتا ہے وہ تو کسی اور کو چاہتی ہے اور اس نے یہ بات اسے بتا دی کچھ نہیں چھپایا اور وہ اپنی محبت اسے چھپایا رہا
ربانیہ میں۔ ۔میں تم سے کیا کہو تم نے مجھے بےمول کردیا اب وقت آگیا ہے کہ میں تمہیں سب بتا دو تیمور نے اپنی آنکھیں صاف کی
جب تم پیدا ہوئی تھی میں اس وقت چھٹیوں کیلئے پھپھوں کی طرف آیا ہوا تھا
تم جب اس دنیا میں آئی میری امی مجھے چھوڑ کر جاچکی تھی میں تنہا ہوگیا تھا میں جب اداس ہوتا تم سے کھیل لیتا تم میری اینجل ہوتی تھی تب سے سوچ لیا میری زندگی تمہارے بغیر بے رنگ ہے اگر اس کو کوئی رنگ لگے گا تو صرف تمہارا
میں جانتا ہو حالات انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتے ہیں اور شاید تمہارے ساتھ یہی ہوا ہے
تم نے کہا یک طرفہ محبت مطلب مقابل کیلئے تم۔کوئی معنے نہیں رکھتی اس لیئے میں جاننا چاہتا ہو کیا تم میرے ساتھ ساری زندگی کیلئے قبول کر پائو گی اس بے رنگ زندگی میں رنگ بھر پائو گی
تیمور بولے جارہا تھا اور ربانیہ سنتی جارہی تھی
تیمور کی آنکھیں لال ہوچکی تھی
ربانیہ نے کچھ دیر تیمور کی آنکھوں کو دیکھا
پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں تھاما
“تیمور امی صحیح کہتی ہیں لڑکی محبت سے زیادہ عزت کی طلبگار ہے شاید میں یک طرفہ محبت میں اندھی ہو گئی تھی جو سچی اور کھری محبت پہچان نہ سکی آپ مجھے کچھ وقت دے تاکہ میں اپنے دل سے اس محبت کو نکال سکو”
اس کی آنکھیں بھیگ گئی یہ باتیں کرتے ہوئے جسے تیمور نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیا تمہیں “جتنا وقت چاہیے لےلو اس کے بعد تمہارا جواب جو ہوگا مجھے منظور ہوگا”
اب کچھ کھا بھی لو کیا محبت میں بھوکا مارو گی مجھے اس نے ربانیہ کو شرارتی لہجے میں کہا
جسے ربانیہ مختصر مسکرائی اور سر کو ہا میں ہلایا
دور کھڑی قسمت ان کی ان باتوں پر اداس تھی شاید قسمت کو ان کی لکیروں میں کچھ اور ہی منظور تھا
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
“امی یہ میں کیا سن رہا ہو”
زایان ابھی آفس سے گھر آیا اور آتے ہی ماں پر سوالوں کی بوچھار کرنے لگا
:کیا سنا ہے تم نے”
سلمی بیگم اس کو نظر انداز کرتی کتاب کا مطالعہ کرنے لگی
“یہی کہ وہ عورت ربانیہ کا رشتہ کررہی ہے”
“زایان یہ کیا بدتمیزی ہے ممانی ہے وہ تمہاری”
اب سلمی بیگم نے زایان کو باقائدہ ڈانٹا
“او پلیز ماما میں نے پہلے بھی آپ سے کہا کہ وہ میری کچھ نہیں لگتی اور آپ سے میں جو بات بولی آپ نے وہ کیو نہی کی ان سے”
وہ سلمی بیگم کے سر پر کھڑا ہوگیا
“بس بہت ہوگیا جو ہورہا ہے اسے ہونے دو اب میں مزید تمہاری کوئی بکواس نہیں سنو گی سمجھے تم “
انھوں نے اپنے کمرے کا رخ کیا
“بکواس تو اب ہوگی میں اتنی آسانی سے یہ سب نہیں ہونے دو گا”
شطرانہ مسکراہٹ ہنستا ہوا وہ اپنے کمرے میں چلا گیا
پار ساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا۔۔
ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا..
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
“یار کیا لڑکی تھی لڑکی نہیں پورا بلاسٹ تھی “
رات کے دو بجے وہ اپنے بیڈ پر لیٹا آغوش کے بارے میں سوچ رہا تھا
میری بولتی بند کرادی اس نے
رایان اٹھا اور شیشے کے سامنے جا کر خود کو دیکھنے لگا
ویسے تھی بہت خوبصورت بلا کی خوبصورت تھی وہ بس ذرا اکڑو ہے اور تھوڑی اوور کانفیڈنٹ ورنہ میرے ساتھ ایسی لڑکی ہی سوٹ کرتی ہے ایک اور ملاقات کرنی پڑی گی تم سے مس بلاسٹ یہ دل عاشقانہ ہوگیا ہے تمہارا
آغوش
اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اس کا نام لیا
پاگل ہوگیا ہے تو رایان اس نے اپنے سر پر چپیت لگائی