Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 47 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 47 Part 1
وہ سارے کام ختم کرکے کمرے میں آئی تو رایان بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا افشہ اس لے ساتھ سوئی ہوئی تھی
وہ اپنی سائڈ پر آ بیٹھی
افشہ سوگئی ۔۔۔
وہ افشہ کو دیکھتے ہوئے بولی
کیو تمہیں نظر نہیں آرہا کہ وہ سوگئی ہے۔۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ کو دیکھتے ہوئے روکھے لہجے میں بولا
آغوش نے اسے خفا نظروں سے دیکھا
رایان کیا ہوگیا ہے میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔
اس نے صفائی دی مگر رایان پر کوئی اثر نہ ہوا وہ اپنے کام میں مصروف تھا
بس کردو اب بہت ہوگیا ختم کرو یہ بلاوجہ کا غصہ تم نے اپنی ضد میں ہماری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔
۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے نم آنکھوں سے بولی
اپنا ہاتھ اس کی گرفت میں دیکھ کر رایان نے اسے غصے سے دیکھا اور اپنا ہاتھ کھینچا
میں نے تمہاری زندگی جہنم نہیں بنائی تم نے خود اپنی زندگی جہنم بنائی ہے میں نے تمہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھا تھا کہا تھا تم سے منع کردو اس شادی کیلئے اس شادی میں صرف فرض ہوگا محبت نہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ اس نے ہر بات جتلائی
تو پھر کیو اسیر کیا تھا مجھے اپنی محبت کا میں نے تمہاری طرف قدم میں بڑھائے تھے بلکہ تم میری طرف آئے تھے ۔۔۔۔۔
مجھے نہ تمہاری یہ محبت کہانی نہیں سننی ۔۔۔۔
اس نے اپنا لیپ ٹاپ بند کرکے سائڈ پر رکھا اور اپنی سائڈ والا لیمپ آف کرکے لیٹ گیا
لائٹ بند کرکے سو جائو مجھے صبح آفس بھی جانا ہے۔۔۔۔
اپنی آنکھوں پر بازو رکھے وہ بولا
اس نے لائٹ آف کی اور خود باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔
وہ اپنے لیے کافی بنا کچن سے نکلا ہی تھا کہ اسے آغوش لان میں جاتی دکھائی دی
یہ دونوں تو باہر جارہے تھے
اس نے سوچا اور آغوش کے پیچھے لان میں آگیا
وہ کرسی پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی
تم لوگ تو باہر جارہے تھے پھر یہاں کیا کررہی ہو وہ بھی اس وقت ۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے بیٹھا اور اس سے پوچھا
آغوش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اپنی آنکھیں صاف کی
جب آپ سب جانتے ہیں تو میرے بتانے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔
چہرہ دوسری طرف کیے وہ بھیگی آواز میں بولی
زایان کا سر جھک گیا
کیا کہا ہے اس نے تم سے ۔۔۔۔
شرمندگی بھرا لہجے میں پوچھا گیا
وہ بات ہمارے درمیان ہی رہنے دے تو اچھا ہے میں نے بتا دیا تو ہمارے درمیان کا جو پردہ ہے وہ ختم ہوجائے گا ۔۔۔۔۔
آغوش یہی سمجھتی تھی کہ اس کی زندگی میں جو مشکلات ہیں ان کا سب کا ذمہ دار رایان خود ہے مگر زایان اس سب کا ذمہ دار خود کو سمجھتا تھا
جانتے ہیں زایان بھائی آج رابی کی برتھ ڈے ہے اور آج ہی کے دن ہر رات اسے سب سے پہلے آنٹی وش کیا کرتی تھی پھر میں
مگر جانتے ہیں آنٹی کے بعد اسے سب سے زیادہ انتظار آپ کا ہوتا تھا کہ کب آپ اسے برتھ ڈے وش کا ٹیکسٹ کرے گا یا پھر کال کرکے اسے وش کرے گے
میں جب اسے کال کرتی تھی تو وہ کہتی دیکھا تم نے اس سال بھی میں انہیں یاد نہیں ہو
وہ آسمان کو دیکھتی ہوئی مسکرا کر زایان کو بتانے لگی
جانتا ہو سب جانتا ہو اسی بات کی تو سزا دے رہی ہے وہ مجھے چلی گئی وہ میرے بچوں کو لے کر مجھے ایک بار دیکھنے بھی نہیں دیا اس نے۔۔۔۔
زایان تین سال پہلے جب اس سے بات کرنے کے بعد ایس ایچ او ولید کے ساتھ وہاں جارہا تھا تو اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ایکسیڈنٹ اس حد تک خوفناک تھا کہ ایس ایچ او ولید تو بچ نہ پایا اور زایان ایک مہینے تک کومہ میں تھا جب اسے ہوش آیا تب تک ربانیہ جا چکی تھی ایڈریس تو اسے ایس ایچ او ولید نے بتادیا تھا جو اس کے ذہن میں نقش ہو گیا مگر وہ جس ایریا کا تھا وہاں کافی ساری بلڈنگز تھی سب سے پوچھتے پوچھتے اسے تین مہینے لگے مگر کسی کو بھی ربانیہ یہ اس کے بچوں کے بارے کچھ پتا نہیں تھا
زایان بھائی آپ دعا کرے کہ وہ جلد مل جائے شاید اس گھر کو اس کی بد دعا لگی ہے جو خوشیاں یہاں قدم رکھنے سے بھی گھبراتی ہیں
خیر یہ بتائو ایمن کی آج نائٹ ڈیوٹی ہے کیا مجھے وہ کہی نظر نہیں آئی ۔۔۔۔
ایمن کا خیال آتے ہی زایان نے پوچھا
جی آج ان کی نائٹ ڈیوٹی ہے ۔۔۔۔
آغوش نے بتایا
اور عبیر وہ کس کے پاس ہے ۔۔۔۔
عبیر ایمن کا دو سال کا بیٹا تھا
وہ ماما کے پاس ہے ۔۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے تم بھی جاکر آرام کرو رات بہت ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس سے کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا
جب عبیر پیدا ہوا تھا تو فیصل مری میں تھا اور ایمن اپنے گھر رہنے آئی ہوئی تھی
اسی رات جب اسے خبر ملی کہ وہ باپ بن گیا ہے تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایمن کے پاس آرہا تھا
مگر اس کی گاڑی کا بھیانک ایکسیڈنٹ ہوا اور اس کی گاڑی کھائی میں جاگری
وہ اور اس فیملی اسی حادثے میں مارے گئے
ایمن تب سے یہی رہتی تھی وہ صرف اپنے بیٹے کیلئے مضبوط بنتی تھی جبکہ اندر سے وہ بلکل ٹوٹ چکی تھی
۔۔۔۔۔۔
آپی آپ یونیورسٹی کی نیو ایئر پارٹی میں چلی گی نا ۔۔۔۔
وہ دونوں ابھی یونیورسٹی سے آئی تھیں اور آتے ہی انعم نے اس سے اگلے ہفتے کی نیو ایئر پارٹی کا پوچھا
انعم دل تو میرا بھی چاہ رہا ہے ہماری اس یونیورسٹی میں پہلی نیو ایئر پارٹی ہے مگر رات کو ہے اور بھائی اس کیلئے کبھی اجازت نہیں دے گے ۔۔۔۔۔۔
وہ الماری سے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے انعم کو بتانے لگی
آپی ہم پھپھو سے بات کرتے ہیں وہ منا لے گی بابا کو ۔۔۔۔
انعم نے اسے اپنا آئیڈیا بتایا
ہاں تم بات کرلو اگر وہ منا لیتی ہیں تو پھر ہم چلتے ہیں شاپنگ کرنے اور اسی بہانے ایان روحان بھی دیکھ لے گے کہ نیو ایئر پارٹی کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔۔
وہ اس سے کہتی واشروم میں چلی گئی جبکہ وہ نگار کو منانے چلی گئی
۔۔۔۔۔
سر فنڈز کے چیکس میں آپ کو بھجوا دونگا مگر نیو ایئر پارٹی میں آنا پوسیبل نہیں ہے پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹنیڈ ۔۔۔
وہ بریک فاسٹ کرتے ہوئے کال پر بات کررہا تھا
سر آپ نے تو پھنسا دیا ۔۔۔۔
چلے میں کوشش کرتا ہو میں آپ کو کل تک کنفرم کرکے بتاتا ہو
اوکے
کس سے بات کررہے تھے ۔۔۔۔۔
اس نے کال کاٹی تو سلمی بیگم نے پوچھا
ماما وہ اپنی یونیورسٹی کے ہیڈ کی کال تھی نیو ایئر پارٹی کیلئے انوائیٹ کررہے تھے ہر سال میں کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا ہو مگر اس بار وہ انسسٹ کررہے ہیں کہ یونیورسٹی کو پورے تیس سال ہوگئے ہیں اور اسی خوشی میں وہ کوئی کیک کٹنگ سرمنی بھی کررہے ہیں اور مجھے ضرور آنا ہے
وہ ان کی طرف دیکھتے بولا
رئیلی زایان بھائی پھر تو آپ کو جانا چاہیے اٹس آ گریٹ اپرچونیٹی فار یو ۔۔
آغوش افشہ کو کھانا کھلاتے ہوئے اس سے بولی
ہا تم لوگ بھی چلو ساتھ میں ۔۔۔۔۔۔
زایان نے اس کی ایکسائیٹمنٹ دیکھ کر اسے کہا
سچ میں پھر تو ہم ضرور چلے گے
ہے نا افشہ چلو گی نا اس نے مسکرا کر افشہ سے پوچھا تو وہ اسے دیکھ کر تالیاں بجا کر مسکرائی
سب لوگ افشہ کو دیکھ کر مسکرائے
تمہیں جانا ہے تو جائو افشہ کہی نہیں جائے گی ۔۔۔۔۔
رایان جو مسلسل سنجیدگی سے اپنا بریک فاسٹ کررہا تھا آغوش سے بولا
جی نہیں ہم سب جارہے ہیں اور ویسے بھی ایک ہی دن کی تو بات ہے کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑے گا۔۔۔۔
ایمن رایان کو آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی تو وہ چپ ہوگیا
تم سب کو جانا ہے تو جائو مجھے درمیان میں مت گھسیٹو ویسے بھی میں اگلے ہفتے شہر سے باہر جارہا ہو ۔۔۔۔
وہ وہاں بیٹھے سب لوگوں سے کہتا اپنا کوٹ سنبھالتا آفس کیلئے چلا گیا
اسے چھوڑو یہ تو ہے ہی ایسا تم سب جائو میں تو بلکل نہیں جاسکتی مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ دوسرے شہر جائو ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے ان سب کو کہا
تو ٹھیک ہے پھر اگر ہم جا ہی رہے ہیں تو دو تین دن سٹے بھی کر لے گے بچے گھوم پھر بھی لے گے ۔۔۔۔۔
زایان نے ایک اور پلین سب کو بتایا
تو ایمن اور آغوش نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا
۔۔۔۔۔
وہ کالے رنگ کے لانگ فراک میں ملبوس اپنے کانوں میں ایئر رنگ پہن رہی تھی کہ انعم اندر آئی
آپی یار کبھی کبھی نہ مجھے آپ سے جلن ہوتی ہے آپ دو بچوں کی ماں کہی سے لگتی ہی نہیں ایسے لگتا ہے جیسے کوئی سولہ سال کی لڑکی ہو۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ پھلائے بولی تو ربانیہ کو ہنسی آئی
میری پیاری بہن یہ سب تمہارے دماغ کی فتور ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سر پر چپیت لگائے اپنے سینڈلز پہننے لگی
ایسا میں نہیں یونیورسٹی کے سب سٹوڈنٹس کہتے ہیں اچھا خیر پلیز آج کے دن
حجاب مت لینا اور یہ کیا صرف گلوس ہی لگایا ہے ادھر بیٹھے آئے
انعم نے اسے ڈریسر کے آگے بٹھایا
انعم بس کافی ہے اتنا ۔۔۔۔۔
وہ اس سے بولی مگر انعم نے اس کی ایک نہیں سنی
اس کی آنکھوں پر لائینر لگانے کے بعد اس نے اس کے بندھے بالوں کو کیچر سے آزاد کیا اور انہیں کھلا چھوڑا
انعم میں ویسے بھی حجاب لونگی ان کو مت کھولو ۔۔۔۔
اپنے کھلے بالوں کو دیکھ کر وہ انعم سے بولی
کوئی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی وہ دو باڈی گارڈز ساتھ جا تو رہے ہیں کسی کا اگر آپ پر دل بھی آگیا تو وہ دونوں اسے چھوڑے گے نہیں ۔۔۔۔
انعم تم بھی نا ۔۔۔۔
اس نے انعم کو آنکھیں دکھائی
ایان اور روحان کمرے میں آئے
وائو مما لوکنگ سو پریٹی ۔۔۔۔
ایان اس کے آگے آکر پوری کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اسے بولا
آخر مما کس کو ہوں ۔
وہ اس کے گال کھینچتی شرارت سے بولی
مما ایان روحان کب سے ویٹ کررہے ہیں جانے کا ہم کب چلے گے ۔۔۔۔
روحان نے اس سے پوچھا
اتنے میں باہر سے علی نے ہارن دیا
تو وہ اور انعم اپنی چادریں اٹھائے باہر کو بھاگے
