Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

ربانیہ کو سوتے ہوئے دو گھنٹے اور ہوچکے تھے ڈاکٹر نے انہیں کہا تھا کہ وہ دوائیوں کے زیر اثر ہے اسے مکمل ہوش آتے آتے شام بھی ہوسکتی ہے
شیلہ تو کبھی ایک کو گود میں لیتی پیار کرتی تو کبھی دوسرے کو جبکہ نگار ربانیہ کی باتوں کو لے کر بہت پریشان تھی اب وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ دو بچوں کا ساتھ بھی تھا جنہیں باپ کی ضرورت تھی زایان جیسا بھی تھا جو کچھ بھی کرچکا تھا اس کے ساتھ مگر وہ اس بات کو کیسے جھٹلا سکتی تھی کہ وہ ربانیہ کے بچوں کا باپ تھا اسے بچوں کی پرورش کیلئے ایک سائبان کی ضرورت تھی جو صرف زایان تھا
نگار فیصلہ کرچکی تھی کہ ربانیہ کے سٹیبل ہوتے ہی وہ اس سے بات کرے گی اور اسے جلد از جلد زایان کے پاس بھیج دے گی
۔۔۔۔۔
ماما کیا بھائی نے سچ میں ربانیہ کے ساتھ ایسا سلوک کیا ۔۔۔۔
ایمن کو کسی نے کچھ نہیں بتایا تھا وہ ربانیہ کی ڈیلیوری کیلئے آئی تھی اکیلی مگر یہاں آکر اس کے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ زایان ایسا کرسکتا ہے
سلمی بیگم نے روتے ہوئے سر کو ہاں میں ہلایا
مگر اب وہ کہا ہے اس کی تو اگلے ہفتے کسی بھی وقت ڈیلیوری ہوسکتی ہے ۔۔۔۔
کسی کو کچھ نہیں پتا کہ وہ کہا ہے رایان نے آغوش سے اس کی ساری سہیلیوں کا پتا کیا ہے مگر کسی کو اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا پتا نہیں زندہ بھی ہے کہ مر گئی ہے ۔۔۔۔
وہ کرب کی کیفیت میں بولی
ادھر حسان کا بھی رو رو کر برا حال تھا اس نے تو کھانا پینا بھی چھوڑ دیا تھا سارا دن وہ ربانیہ کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا
بھائی وہ کہا ہے ۔۔۔۔
ایمن کو زایان کا خیال آتے ہی اس نے پوچھا
سارا دن پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتا رہتا ہے
اسے اپنا ہوش ہی کہا ہے رات کو نشے کر کے آتا ہے گھر
اور صبح جب نشا اترتا ہے تو کمرے میں توڑ پھوڑ کرتا ہے
مجھے تو لگتا ہے کچھ دن اور گزرے تو پاگل ہوجائے گا ۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ کے حوالے سے تو پریشان تھی ہی مگر انہیں زایان کی اس حالت نے بھی کہی کا نہیں چھوڑا تھا
۔۔۔۔۔
اسے رات ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا شیلہ اور انعم تو کل ہی بچوں کو علی کے ساتھ گھر لے آئے تھے کیونکہ ربانیہ نے انہیں فیڈ کروانے سے صاف انکار دیا تھا نگار کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی وہ کسی صورت بچوں کو دیکھنے کیلئے راضی نہیں تھی
شیلہ اور انعم تو سارا دن انہیں گود میں لے کر کھیلتے رہتے تھے وہ کافی چھوٹے اور کمزور تھے ڈاکٹر نے ان کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی تھی
سب نے مل کر ان کے نام بھی رکھ لیے تھے ایک بچہ تو بلکل ربانیہ کے جیسا تھا نیلی آنکھوں والا اس کا نام انعم نے روحان رکھا تھا جبکہ دوسرے کا نام علی نے ایان رکھا تھا
وہ سب اسے سمجھاتے کہ وہ دونوں کافی کمزور ہیں انہیں ربانیہ کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے مگر وہ کسی کی نہیں سنتی
ایسے کرتے کرتے پندرہ دن گزر گئے تھے نگار بھی اب اپنے دفتر معمول کی طرح جاتی تھی جبکہ علی اور اس کی فیملی گھر پر ہوتے تھے سارا دن بچوں کے ساتھ کھیلتے شیلہ تو ان کیلیے علی کے ساتھ بہت ساری شاپنگ بھی کر آئی تھی روز وہ دونوں نئے کپڑے پہنتے شیلہ ان کو اپنی گود سے اتارتی ہی نہیں تھی
وہ ساری رات نہیں سو کی اس کا دل بے چین رہا کیونکہ رات ہی شیلہ نے اسے بتایا تھا کہ ایان کافی دیر سے رورہا تھا وہ لوگ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو ڈاکٹر نے اسے کہا کہ اسے مدر فیڈ کروایا جائے دوسرا دودھ اس کی صحت کو نقصان پہنچا رہا تھا
ابھی پانچ منٹ ہی ہوئے تھے اس کی آنکھ لگی تھی کہ ایان رونے لگا مگر وہ نہ جاگی اب ایان کے رونے میں شدت آئی جس کی وجہ سے اس کی نیند میں خلل پیدا ہوا
وہ تنگ آکر اٹھ بیٹھی اور اپنے کانوں پر زور سے ہاتھ رکھ دیا
ان پندرہ دنوں میں رات کو انہیں نگار سنبھالتی اور دن میں شیلہ انہیں سنبھالتی مگر آج شیلہ ایان کو سلا کر اس کے ساتھ لٹا گئی تھی اور روحان تو انعم کے پاس تھا
وہ تو ان دونوں کو دیکھتی ہی نہیں تھی انہیں گود میں ہی نہیں لیتی
کیا مصیبت ہے۔۔۔۔ کانوں پر ہاتھ رکھنے سے بھی جب اس کی آواز میں کمی نہ آئی تو وہ تنگ آکر بولی
باپ کی طرح سارا دن چیختے رہتے ہیں دونوں پہلے اس نے میری نیندیں حرام کی اور اب یہ
ایک مصیبت جاتی ہے تو دوسری آجاتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے کانوں سے ہاتھ ہٹائے ایان کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی مگر اس کا دل بے چین ہو رہا تھا
ماں تھی اسے کہا برداشت تھا اس کا رونا
دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ایان کو اپنی گود میں اٹھایا اور سہلانے لگی
کہ اس کی نظر ایان کے چہرے پر پڑی بے ساختہ اس کا دل دھڑکنے لگا وہ بلکل زایان کے جیسا تھا شیلہ اور باقی سب بھی یہی کہتے تھے کہ روحان تو اس سے ملتا ہے مگر ایان بلکل مختلف ہے
اس کے دل میں جانے کیسی ہلچل مچی وہ خود ہی نہ سمجھ پائی
وہ جب سے پیدا ہوئے تھے وہ آج اسے اتنا غور سے دیکھ رہی تھی
وہ بہت چھوٹا سا تھا رنگت میں وہ بلکل اس پر گیا تھا مگر نقوش بلکل زایان کے جیسے تھے
کتنے بد بخت ہیں یہ دونوں لاوارث بے آسرا ۔۔۔
یہ سوچتے ہی وہ ایان کو سینے سے لگائے رونے لگی
کیا ہوگیا اگر ان کا باپ نہیں ہے تو ان کی ماں تو ہے نا میں ان کو بہت پیار دونگی اتنا پیار کہ یہ دونوں کبھی اپنے باپ کا نام تک نہیں لے گے ۔۔۔۔
اس نے ایان کو چوم لیا یہ لمس اسے اندر تک سر شار کرگیا
۔۔۔۔۔
ربانیہ تم میری بات کو سمجھو ایک اکیلی عورت وہ بھی دو چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں اس کیلئے اس معاشرے میں اکیلے رہنا ممکن نہیں ہے زایان کو جب پتا چلے گا کہ وہ باپ بن چکا ہے وہ تمہیں اور اپنے بچوں کو لے جائے گا ۔۔
آج ہی نگار کو دفتر سے درخواست کی منظوری کا جواب آیا تھا اور کل ہی وہ علی کے ساتھ واپس اسلام آباد جانے والی تھی
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ربانیہ کو سمجھا کر رہے گی وہ اب سارا دن اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتی انہیں پیار کرتی شیلہ اور انعم تو بچوں کو اٹھانے کیلئے ترس جاتے
آپا اور میری عزت نفس اس کا کیا مجھے کوئی بھی راہ چلتا ٹھوکر مار کر چلا جائے گا اور میں دوبارہ اس کے پاس واپس چلی جائو ۔۔۔۔
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اتنے دن میرا اور میرے بچوں کا بہت خیال رکھا آپ کا یہ احسان میں ساری زندگی نہیں اتار سکتی میں ابھی اپنے بچوں کو لے کر کسی دارالامان میں چلی جائو گی مگر اس گھر میں واپس نہیں جائو گی جہاں سے مجھے بد کردار کہ کر نکالا گیا ۔۔۔۔۔
وہ نگار سے دو ٹوک کہتی اٹھی اور اپنی چادر ڈھونڈنے لگی
ربانیہ میری بات کو سمجھو تم اب اکیلی نہیں ہو ۔۔۔
وہ آٹھ کر اس کے پاس آئی اور اسے روکا
ایک منٹ آپ ۔۔۔۔
علی جو باہر کھڑا سب سن رہا تھا شیلہ کے ساتھ اندر آیا
صحیح کہ رہی ہے بچی وہ کیو جائے ایسے بے غیرت مرد کے پاس جو اسے دھکے مار کر گھر سے نکال چکا ہے کہیں نہیں جائو گی تم ۔۔۔۔۔
شیلہ تم اس کا اور بچوں کا سامان پیک کرو یہ کل ہمارے ساتھ جائے گی ہمارے گھر
اس نے نگار کے بعد شیلہ سے کہا
مگر علی ۔۔۔
مگر وگر کچھ نہیں اگر آپ مجھے کچھ سمجھتی ہیں تو میرے اس فیصلے میں میرا ساتھ دے ۔۔۔۔
اس نے نگار سے کہتے ہوئے ربانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا
تم اب اکیلی نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں تم کل ہمارے ساتھ چل رہی ہو ۔۔۔۔۔
اس نے اسے پیار سے کہا کہ ربانیہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
۔۔۔۔
شیلہ انعم اور نگار سارا سامان پیک کرچکے تھے علی نیچے ٹیمپو میں سارا سامان رکھوانے کے بعد گاڑی کے پاس کھڑا تھا آدھے گھنٹے میں انہیں نکلنا تھا
شیلہ اور انعم باہر بیٹھے تھے
جبکہ اس نے دونوں بچوں کو فیڈ کرا کر ابھی سلایا تھا اور نگار واشروم میں تھی
آپی بات سنے۔۔۔۔ انعم نے دروازے میں کھڑے ہوکر آواز لگائی
جی اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
وہ اندر آئی
آپی صبح میں نے یہ فون دیکھا تھا تو ڈیڈ تھا چارج پر لگایا اور ابھی آن کیا
یہ آپ کا فون ہے
اس نے اسے بتاتے ہوئے فون آگے کیا
فون دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی
یہ تم نے کیو آن کیا میں نے خود سوئچ آف کیا تھا ۔۔۔
وہ فون دیکھتے ہوئے پریشانی میں بولی
مگر آپی اس پر اتنی ساری مسڈ کالز اور میسجز آئے ہوئے ہیں آپ ایک بار چیک تو کریں
۔
اس نے وہ فون اسے دیا
نگار واشروم سے نکلی تو اسے پریشان بیٹھا دیکھا
کیا ہوا سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ نگار نے اس کے پاس آکر پوچھا
آپا اس نے میرا فون آن کر دیا ہے ہمیں ابھی نکلنا ہوگا یہاں سے اس سے پہلے کہ کوئی ہمیں ٹریس کرکے یہاں پہنچے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں فلور پر بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا کہ اچانک اس کا موبائل رنگ ہوا
اس نے بیڈ پر نظر دوڑائی اور فون اٹھایا
بغیر نام دیکھے اس نے یس کیا
ہلو زایان تمہاری وائف کا فون ابھی ایکٹیو ہوا ہے ہم لوکیشن ٹریس کروا رہے ہیں تمہیں میں پک کرتا ہوا چلو گا تیار رہنا ۔۔۔۔۔
ایس ایچ او ولید نے اسے ہڑبڑی میں ساری بات بتائی
یہ سنتے ہی وہ سیدھا ہوا
ہا تم جلدی پہنچو میں انتظار کررہا ہو ۔۔۔۔۔
اس نے کہتے ہی کال کاٹی اور ربانیہ کا نمبر ڈائل کیا
۔۔۔۔۔
ابھی وہ نگار کو سب بتا ہی رہی تھی کہ اس کا موبائل بجنے لگا
فون کے بجتے ہی وہ تینوں ایک دوسرے کو ایسے دیکھنے لگے جیسے کسی نے ان کے سروں پر بم پھوڑا ہو
آپی کسی زایان کی کال ہے ۔۔۔۔۔
انعم نے دیکھتے ہی اسے کہا
اس نے انعم کے ہاتھوں سے موبائل کھینچا اور کال کاٹی
آپا ہمیں ابھی چلنا ہوگا یہاں سے ۔۔۔۔۔
وہ نگار کا ہاتھ پکڑ کر منت بھرے لہجے میں بولی
تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے نا ۔۔۔۔۔
نگار اسے کہا
خود سے بھی زیادہ ۔۔۔۔۔
وہ سچائی سے بولی
تو ایک بار اس کی بات سن لو اپنے لیے نہیں تو اپنے ان معصوم بچوں کیلئے ۔۔۔۔۔
دوبارہ فون بجا تو نگار نے اس کا ہاتھ میں وہ فون پکڑایا
مگر آپا۔۔۔۔ وہ بے بسی کی انتہا پر تھی
فون سننے کے بعد جو تمہارا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا
نگار نے اسے تسلی دی اور انعم کے ساتھ باہر چلی گئی
کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے کال یس کی اور فون کان پر لگایا
ہلو ربانیہ ۔۔۔۔
دوسری طرف سے زایان فورن بولا
کچھ تو بولو یار پچھلے ڈیڑھ مہینے سے تمہاری آواز سننے کیلئے ترس گیا ہو ۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے مکمل خاموشی رہی تو وہ پھر بولا
کیا سننا چاہتے ہو مر گئی ہو یا زندہ ہو ۔۔۔۔۔
زایان کی آواز سننے بعد اس کا دل بے قابو ہونے لگا
مجھے معاف کردو بہت بڑی غلطی ہوگئی مجھ سے فرحین کی باتوں میں آگیا تھا میں ۔۔۔۔۔
کتنا آسان ہے نہ تمہارے لیے یہ کہنا کہ معاف کردو اس ڈیڑھ مہینے میں جو اذیت میں نے کاٹی اس کا کوئی حساب نہیں ۔۔۔۔۔۔
تم سب چھوڑو مجھے بتائو تم کہا پر ہو میں آتا ہو تمہیں لینے ہم مل کر بات کرے گے
میں اب تم سے مر کر بھی نہیں ملو گی تم نے مجھے بے آسرا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوٹی مگر میرے اللہ نے کبھی مجھے در بدر نہیں ہونے
میں تم سے محبت کرتا ہو تمہارے بغیر جینا ایسے ہوگیا ہے کہ میں تمہیں بتا بھی نہیں سکتا روز مرتا ہو تمہیں یاد کرکے
میں بھول کر تُجھے زندہ بھی رہ سکوں خوش بھی
اب اِس قدر بھی نہیں خُود پہ اختیار,, مُجھے


جب محبت میں دل ٹوٹتا ہے نہ تو انسان کو خود سے نفرت ہو جاتی ہے جب کسی کو خود سے نفرت ہوجائے تو وہ زندہ لاش بن جاتا ہے اس زندہ لاش کے ساتھ کوئی کچھ بھی کرے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔
اس آنسو ضبط کرتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا
تم نے مجھے میری نظروں میں گرا دیا اور اب کوئی وجہ نہیں واپس آنے کی۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی کہ ہی رہی تھی کہ اس کے ساتھ سویا ہوا ایان بھوک کی وجہ سے رونے لگا
ربانیہ ۔۔یہ ۔۔کس۔۔کی یہ کس کی آواز ہے
بمشکل اس کی زبان سے لفظ ادا ہوئے
کیا یہ ہمارے بچے کی۔۔۔۔
اپنی گندی زبان سے نام بھی مت لینا میرے بچے کا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا تم سے آج سے تم میرے لیے اور میں تمہارے لیے مر گئی۔۔۔۔
اس نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا اور فون بند کردیا