Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 27 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27 Part 1
وہ کمرے سے نکلتے ہی نیچے بھاگی اور کچن میں گھس گئی گہرے سانس لینے لگی وہ سب کچھ برداشت تھا مگر زایان کی قربت برداشت نہیں تھی وہ اس سے ابھی بھی خوفزدہ تھی اس نے جگ اٹھایا اور گلاس میں پانی انڈیلا اور ایک ہی سانس میں سارا گلاس خالی کردیا اس کی کلائی جہاں چار چوڑیاں ٹوٹ چکی تھی وہاں ہلکی سی خراشیں اور خون تھا جو وہی جم گیا
اسے یہ سوچ کر ہی خوف آرہا تھا کہ اسے اس بات کی کیا سزا دی جائے گی زایان اسے نہیں چھوڑے گا وہ اسے اس بات کی سزا ضرور دے گا
وہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی اور ایمن کے کمرے کا دروازہ کھولا
ایمن اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی ساری چیزیں دیکھ رہی جو زایان اس کیلئے لایا تھا
“رابی تم آئو نہ” ایمن نے اسے دیکھتے ہی خوش دلی سے اندر بلایا اور وہ اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی
“دیکھو رابی بھائی کتنی ساری شاپنگ کرکے لائے ہیں “۔۔۔میرے لیے وہ اسے اپنی ایک ایک چیز دکھانے لگی ربانیہ کو لگا جیسے وہ بڑی ہے اور ایمن اس سے چھوٹی ظاہر ہے اتنے لاڈ پیار میں پلی ہے بھائیوں کی لاڈلی تھی اسی لیے بچپنا تو ہوگا
وہ مسکرا کر اس کی ایک ایک چیز دیکھنے لگی ہر چیز ایک سے بڑھ کر ایک تھی زایان واقعی اچھی شاپنگ کرتا تھا اس کے دل سے آواز آئی
“آپی آپ نے صبح بولا تھا کہ آج شاپنگ پر چلتے ہیں میرا بھی دل چاہ رہا ہے چلے نہ پلیز”۔۔۔ وہ زایان سے بچنے کیلیے یہ سب کہ رہی تھی کیونکہ وہ اسی طرح اس سے دور رہ سکتی تھی
شاپنگ پر یہ اتنی داری شاپنگ بھائی کرکے تو آئے ہیں تم نے اپنے گفٹس نہیں دیکھے
ایمن نے اس سے سوال کیا
نہیں اس نے سر نیچے کرکے نہ میں جواب دیا
“کیا مطلب بھائی تمہارے کیے کچھ نہیں لائے” اس نے حیرت سے پوچھا
آپی چھوڑے نہ آپ چلے نہ ویسے بھی آپ کی اینگیجمنٹ ہے کل میں نے اس کیلیے بہت ساری چیزیں لینے ہے ۔۔۔۔
اس نے ایمن کا ہاتھ پکڑ کر منت کی یہ سنتے ہی ایمن کے چہرے پر شرمیلی مسکان سج گئی
اور آپی ویسے بھی ہم نے جیولری نہیں لی تھی وہ بھی تو لینی ہے ۔۔۔۔
اس نے یاد آنے پر کہا
ارے ہاں اچھا ہوا تم نے یاد دلا دیا میں نے ابھی تک جیولری لی ہی نہیں۔۔۔۔۔ ایمن نے یاد آنے پر اپنا سر پکڑ لیا
اچھا تم ایک کام کرو جلدی سے چینج کرکے آئو میں بھی تیار ہوکر آتی ہو پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔
ایمن نے اسے تاکید کی
اسے چینج کرنے کیلئے روم میں جانا پڑتا اور وہ وہی تو نہیں جانا چاہتی تھی
“آپی میں ایسے ہی ٹھیک ہو آپ تیار ہوجائے میں آپ کا یہی ویٹ کررہی ہوں “۔۔۔۔
اس نے ایک دم بولا
اچھا پھر اپنی چادر تو لے آئو یار۔۔۔۔۔ اس نے پھر کہا
افف یہ کیسی مصیبت ہے۔۔۔۔ اس نے دل میں سوچا
جائو ۔۔۔۔ ایمن نے اسے ویسے بیٹھے دیکھا تو پھر کہا
ج۔۔جی۔جی جارہی ہو وہ اس سے کہتی روم سے باہر چلی گئی
ساتھ والا کمرہ اسی کا تو تھا مگر ڈور کھولتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اپنے دل میں کئی سورتیں پڑھتی اندر آئی
اس نے کمرے کے چاروں طرف نظر گھمائی مگر زایان وہاں نہیں تھا اسے واشروم سے پانی کی آوازیں آئی
اس نے دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ واشروم میں ہے وہ جلدی سے ڈریسنگ روم میں گئی اور اپنی چادر نکالی زایان کا ایک بیگ جو اسی کی الماری کے پاس رکھا ہوا تھا اس نے دیکھا اس لگا شاید جلدی میں زایان نے وہی رکھ دیا ہے اسی لیے وہ اسے نظرانداز کرتی باہر آئی اور روم سے باہر چلی گئی ایمن کے کمرے میں آئی تو وہ ابھی بھی واشروم میں تھی پانچ منٹ اس نے بیڈ پر بیٹھے اس کا انتظار کیا وہ باہر آئی
“تم تیار ہوگئی”۔۔۔ ایمن نے اسے پوچھا جو سر پر چادر پہنے اسی کا انتظار کررہی تھی
جی اس نے بس اتنا کہا
ایمن نے پہلے دوپٹہ سر سیٹ کیا پھر اپنی چادر شانوں پر پھیلائی اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور وہ دونوں اکٹھے باہر آئی
“ارے یار میں تو بھول گئی بھائی کا کریڈٹ کارڈ لینا پڑے گا میرا تو کل ہی ختم ہوگیا تھا”۔۔۔ ایمن یاد آنے پر بولی
رابی بھائی کہا ہے اس نے ربانیہ سے پوچھا
وہ۔۔مجھے نہیں پتا وہ پچکچاتی ہوئی بولی
روم میں نہیں ہے کیا
میں جب روم میں گئی تھی تو وہ نہیں تھے وہاں۔۔۔۔
اچھا چلو ہم ماما سے لے لیتے ہیں ایمن نے یاد آنے پر کہا
ربانیہ نے بھی چین کا سانس لیا
اس سے پہلے وہ دونوں نیچے اترتے زایان آنکھوں پر گلاسس لگائے بلیو جینز پر بلیک شرٹ پہنے روم سے باہر آیا
یہ کہا جانے کی تیاری ہے۔۔۔۔۔ زایان نے ان دونوں کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا ایمن مڑی تھی مگر ربانیہ نہیں مڑی وہ ویسی اپنی انگلیوں کو آپس میں مسلتی رہی
“بھائی اچھا ہوا آپ آگئے ہم شاپنگ کرنے جارہے ہیں آپ اپنا کارڈ دے میرا کل ختم ہوگیا تھا پلیز جلدی”۔۔۔۔
ایمن نے اسے کہا
ارے یہ جو میں اتنی ساری چیزیں لے کر آیا ہو تمہارے لیے ان کا کیا۔۔۔۔ وہ اپنی گلاسس ہٹائے اس سے پوچھنے لگا
آپ نے میرے لیے شاپنگ کری تھی مگر ربانیہ کیلیے تو نہیں کی نہ ربانیہ کا دل چاہ رہا تھا شاپنگ کرنے کا تو میں نے سوچا کیو نہ میں آپ کی ٹینشن کم کردو
وہ کسی سخی کی طرح بولی
اچھا ربانیہ کو شاپنگ کرنی ہے تو کریڈٹ کارڈ بھی میں اسی کو دونگا ۔۔۔۔۔
اس نے ربانیہ کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا ربانیہ کا یہ سن سانس ہی اٹک گیا
بھائی میں نے بھی جیولری لینی ہے ایمن نے خفا ہو کر کہا جس سے زایان کا قہقہ گونجا
اس نے اپنا والٹ نکالا اور کریڈٹ کارڈ ایمن کو تھمایا
جائو گے کس کے ساتھ تم لوگ زایان نے کریڈٹ کارڈ دینے کے بعد پوچھا
ڈرائیور کے ساتھ ایمن نے جواب دیا
مگر ڈرائیور ماما کے ساتھ گیا انھوں نے انویٹیشن بانٹنے تھے
زایان نے کہا
آپ کہا جارہے ہیں ایمن نے پوچھا
میں اپنے ایک دوست سے ملنے
چلے پھر صحیح ہے آپ ہی ہمیں مال تک چھوڑ دے
ایمن نے کہا
مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ہو سکتا ہے ربانیہ کو ہو پوچھ لو اس سے
زایان نے ربانیہ کی پشت کو گھورتے ہوئے کہا
کیو ہوگا اسے اعتراض ربانیہ تمہیں کوئی اعتراض ہے کیا
ایمن نے اب ربانیہ کو بلایا جو ان کی طرف پیٹھ کیے ٹھہری تھی
ربانیہ نے پریشانی سے اپنی آنکھیں میچ لی
ربانیہ ایمن نے اسے دوبارہ بلایا
نہی۔۔نہیں مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے اس نے اسی پوزیشن میں ٹھہرے ہوئے جواب دیا
بس چلو پھر زایان نے ایمن سے کہا اور ربانیہ کے پاس سے گزرتا ہوا اس کے کندھے کو ٹچ کرکے نیچے اتر گیا
یہ کس مصیبت میں پھنس گئی میں ربانیہ نے دل میں سوچا
وہ دونوں نیچے آئی تو زایان کو حسان کے پاس کھڑا پایا
ایمن حسان بھی ہمارے ساتھ چلے گا اس کو تم لوگوں نے شاپنگ کیو نہیں کرائی
زایان نے ایمن کو دیکھتے ہوئے کہا اور ربانیہ دوسری جانب دیکھ رہی تھی
وہ بھائی رایان نے کہا تھا کہ وہ اسے لے جائے گا شاپنگ پر
حسان تم چلو آئو آج ہم مل کر تمہارے لیے شاپنگ کرے گے
سچی بھیا حسان نے ایکسائیٹڈ ہوکر پوچھا
ہا سچی چلو زایان اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر چلا گیا
اور وہ دونوں بھی اسی کے پیچھے چل دی
ربانیہ تم آگے نہیں بیٹھو گی۔۔۔۔۔ اس کو کار کا پچھلا دروازہ کھولتے دیکھ ایمن نے پوچھا
نہیں آپ بیٹھ جائے میں پیچھے ہی ٹھیک ہو۔۔۔۔ وہ اس سے کہتی پیچھے بیٹھ گئی
جہاں حسان پہلے سے بیٹھا تھا مگر حسان اب اس سے ڈرا ہوا تھا اسی لیے وہ شیشے سے باہر دیکھتا رہا
ایمن آگے بیٹھی تو زایان نے کار سٹارٹ کردی
وقفے وقفے سے وہ ایک نظر پیچھے بیٹھی ربانیہ کو دیکھتا جو شیشے سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی
۔۔۔۔
گاڑی مال کے آگے رکی وہ لوگ گاڑی سے اترے
بھائی آپ بھی ہمارے ساتھ آئے گے۔۔۔۔۔۔
ایمن اس کا پارکنگ کی طرف گاڑی لے کر جاتے دیکھ بولی
ہا میں نے حسان سے پرومس کیا کہ آج اس کو میں خود ساری شاپنگ کروائو گا ۔۔۔۔۔۔۔
زایان نے حسان کو دیکھ کر کہا جو اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہا تھا
تم لوگ انٹرنس پر ویٹ کرو میں کار پارک کرکے آیا
اس نے ایمن سے کہا اور کار پارکنگ کی طرف لے گیا
۔۔۔۔
وہ جتنا اس اے دور بھاگتی وہ اتنا ہی اس کے قریب آجاتا تھا
یہ اللہ یہ میرا کیسا امتحان ہے اس نے آسمان کے طرف دیکھتے ہوئے سوچا
زایان ان کی طرف آیا اور حسان کا ہاتھ پکڑ کر اندر کی جانب چل دیا وہ دونوں بھی اس کے پیچھے چل دی
ربانیہ میں کیا کہتی ہو بھائی کی پسند بہت اچھی ہے آج ہمیں موقع ملا ہے آج ساری شاپنگ بھائی کی پسند کی کرتی ہے کہا کہتی ہو ۔۔۔۔۔۔
ایمن نے اس کے کان میں سرگوشی کی
مگر ہم خود بھی تو کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ربانیہ نے ایمن سے کہا
مگر وگر کچھ نہیں بس ان سے کہتے ہیں۔۔۔۔ ایمن نے اسے ٹالا
بھائی۔۔۔ زایان کو آواز دی جو حسان کے ساتھ لفٹ پر چڑھ رہا تھا
ہممم ۔۔۔۔وہ ان کی جانب مڑا
وہ ربانیہ کہ رہی تھی آپ اس کی شاپنگ میں ہیلپ کرادے ۔۔۔۔۔
ایمن اس کی طرف آکر کہنے لگی
ربانیہ یہ سنتے ہی پورا منہ کھولے ایمن کو دیکھنے لگی
یہ کب اس نے ایمن سے کہا تھا
زایان اس کی بات سن کر ربانیہ کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا جو اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی ایمن کو دیکھنے لگی
ربانیہ کیا تم نے ایسا کہا ہے۔۔۔۔ اس نے ربانیہ کو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
مگر وہ دوسری طرف نظریں کیے چپ رہی
بھائی کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں ایمن اب خفا ہوئی
میں نے ایسا کب کہا تم حس۔۔۔۔ان کو لے کر اوپر چڑھو میں اسے لے کر آتا ہو
اس نے ربانیہ کو دیکھتے ہوئے ایمن سے کہا
ربانیہ اب اس کی طرف خونخار نظروں سے دیکھنے لگی
ایمن حسان کا ہاتھ پکڑے لفٹ کے ذریعے اوپر چلی گئی
چلو زایان اس کو وہی ساکت کھڑا دیکھ بولا
مجھ۔۔مجھے اس لفٹ سے نہیں جانا میں سیڑھیوں سے آجاتی ہو
وہ اٹکتے ہوئے بولی کیونکہ اسے سلیڈر لفٹ سے ڈر لگتا تھا پچھلی بار وہ اور ایمن سیڑھیوں سے اوپر گئے تھے
میڈم سیڑھیوں والی سائڈ پر تمہیں کنسٹرکشن بورڈ دکھائی دے رہا ۔۔۔۔۔
اس نے وہاں لگے بورڈ کی طرف اشارہ کیا
تو ہم دوسری لفٹ سے بھی تو جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
اکیلے جانا ہے تو جائو میں جا رہا ہو
زایان اسے کہ جانے ہی لگا تھا کہ
میں۔۔میں چلتی ہو۔۔۔۔ وہ اس کی طرف آئی وہ بہت ڈری ہوئی کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اس پر چڑھ رہی تھی
ہیلپ چاہیے ۔۔۔۔وہ لفٹ کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسے نگل جائے گی اسی لیے زایان بولا
اس کے اس طرح اوفر کرنے پر اس نے فورن سر کو ہا نہیں ہلایا
زایان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ربانیہ نے بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا
اور وہ دونوں ایک ساتھ لفٹ پت چڑھے
“وائو وٹ آ بیوٹیفل کپل”۔۔۔۔ دوسری طرف سے اترتے ایک کپل نے ان کی طرف سرائتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ان کی تعریف کی ربانیہ نے تو سنتے ہی سر جھکا گئی مگر زایان اسے دیکھ کر مسکرایا
۔۔۔۔۔
