Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35 Part 1

دو ماہ ہوگئے تھے ایمن کی شادی کو فیصل اسے لے کر مری شفٹ ہوگیا تھا کیونکہ اس کی انڈسٹری کی مین برانچ وہی تھی اسی لیے وہ اسے شادی کے ایک ہفتے بعد مری لے گیا ایمن اپنی زندگی میں بہت خوش تھی اس نے اپنی ہائوس جاب بھی وہی سٹارٹ کردی تھی
ربانیہ بھی اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن تھی بلکہ خوش تھی بس ایک نہیں بدلا تھا تو اس کا رویہ حسان کے ساتھ نہیں بدلا تھا وہ ہمیشہ اسے نظر انداز کرتی تھی اب تو حسان بھی سب سے کٹا کٹا رہتا تھا زیادہ کسی سے بات نہ کرتا
ربانیہ ہر ہفتہ دو گھنٹے کیلئے مامو کے گھر بھی جاتی تھی زایان خود اسے چھوڑ کر آتا تھا اب تو اسے بھی لگتا کہ اس کا بھی کوئی میکہ ہے نگار بھی اکثر اس سے ملنے آتی
۔۔۔۔۔
دوپہر کا وقت تھا حسان کے سکول سے آنے کا وقت تھا وہ حال میں سلمی بیگم کے ساتھ خوش گپو میں مصروف تھی جب زایان حسان کا ہاتھ پکڑے حال میں آیا
حسان کے چہرے پر جگہ جگہ چوٹ کے نشان تھے یونیفارم پر جگہ جگہ مٹی کے دھبے لگے تھے
وہ دونوں اسے دیکھتے ہی اپنی پریشانی میں اٹھی سلمی بیگم تو اس کی حالت دیکھ کر دوڑ کر اس کے پاس آئی
کیا ہوا ہے بیٹا تمہیں کیسی لگی یہ چوٹیں ۔۔۔۔۔
وہ حسان کا چہرہ دیکھتی پریشانی میں بولی جبکہ ربانیہ تو اس کے پاس ہی نہ آئی دور سے اسے دیکھتی رہی
اپنے کلاس فیلو کا سر پھوڑ کر آیا ہے سکول سے کال آئی تھی اس کے۔۔۔۔۔
زایان غصے سے حسان کو دیکھتا ہوا سلمی بیگم سے بولا
حسان زایان سچ کہ رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ اب حسان سے پوچھنے لگی
جو رو رہا تھا
میں اب نہیں جائو گا سکول مجھے نہیں کرنی پڑھائی بس ۔۔۔۔
وہ ان دونوں کی طرف دیکھتا ہوا ازلی غصے سے بولا
کیو نہیں جائو گے سکول۔۔۔۔۔۔
اب کی بار زایان سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا
سب کہتے ہیں کہ اس کا کوئی نہیں ہے نہ ہی ماں نہ باپ اور بات بات پر مجھے یتیم کہتے ہیں میں اب میں نہیں جائو گا سکول۔۔۔۔۔
زایان کو اس کی بات سن کر واقعی افسوس ہوا ایک سات سالہ بچہ کیسے یہ سب برداشت کرسکتا ہے
زایان نے اسے گود میں اٹھایا اور اسے لیے صوفے بیٹھ گیا
دیکھو چیمپ جب تک ہم خود کو دوسروں کے سامنے کمزور ثابت کرتے رہے گے تب دوسرے ہمارے اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں جب ہم خود کو سٹرانگ دکھائے گے بتائے گے کہ دیکھو ہم بھی کسی سے کم نہیں ہے تو کیا کسی دوسرے میں اتنی ہمت ہوگی کہ وہ ہمیں کچھ بھی کہ سکے ۔۔۔۔
زایان نے اس کے چہرے پر آئے آنسوئوں کو ٹشو پیپر سے صاف کیا
اب تم ایک سٹرونگ بوائے بنو گے جو کسی سے نہیں ڈرتا بی بریو اوکے۔۔۔۔۔
زایان نے اسے بہت پیار سے ٹریٹ کیا وہ بلکل اپنی ماں پر گیا تھا چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتا تھا
زایان سوچتے ہوئے مسکرایا
ربانیہ تم ہمارے سٹرانگ بوائے کو اس کے روم میں لے جائو اور اسے چینج کرائو پھر ہم رات کو رائڈ پر چلے گے ۔۔۔۔۔
وہ حسان کے بال خراب کرتا ربانیہ کو بولا جو انہیں کے سامنے کھڑی ساری کاروائی دیکھ اور سن رہی تھی
حسان اب بڑا ہوچکا ہے اسے خود اپنے سارے کام کرنا آتے ہیں وہ خود ہی چینج کرلے گا۔۔۔۔۔
وہ زایان کو بولتے ہوئے حسان کو دیکھ رہی تھی جو سر جھکائے بیٹھا تھا
وہ روم میں چلی گئی جبکہ سلمی بیگم حسان کو اس کے روم میں لے گئی
۔۔۔۔۔
زایان کمرے میں آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی
وہ بھی اسی کے پاس بیٹھ گیا
ربانیہ پہلے مجھے لگتا تھا کہ تم حسان سے کسی بات کو لے کر ناراض ہو مگر نہیں شاید میں غلط تھا بات کچھ اور ہے۔۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے آپ کو ۔۔۔۔
نہیں میں بلکل غلط نہیں کہ رہا جس پر کل تک تم اپنی جان چھڑکتی تھی آخر ایسا کیا ہوا ہے جو تم اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی
ربانیہ کی آنکھوں سے یہ سنتے ہی اشک گرے جنہیں وہ کب سے روکے بیٹھی تھی
وہ میرا نہیں آپ کا بھائی ہے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے
وہ نم آنکھوں سے سر جھکائے بولی
اس کی اس دقیانوسی بات پر زایان چونک گیا
مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ تم کہ رہی ہوں تم جانتی بھی ہو تمہارے اس بہیویر سے وہ منٹلی سٹریس کا شکار ہورہا ہے تم اسے ایک اور زایان بنا رہی ہو
ربانیہ نے اسے حیرت سے دیکھا
بلکل ٹھیک کہ رہا ہو میں تمہارے اسے اگنور کرنا اسے ٹائم نہ دینا اسے ذہنی مریض بنا رہا ہے تم جانتی ہو تم اس کے ساتھ وہی کررہی ہو جو چچی نے میرے ساتھ کیا
اس نے ربانیہ کی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا
مجھے بتائو تمہیں کیا بات ڈسٹرب کررہی ہے
میں ڈرتی ہو اگر وہ بھی سب کی طرح مجھ سے دور چلا گیا اگر میرے نصیب کے کالے بادل اس کی زندگی کو کالا کردے گے تو کیا کرونگی میں
وہ اس کے سینے سے لگی بولی زایان کو اس سے اس بات کی توقع ہرگز نہ تھی
پاگل ہو تم پوری ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا اگر تم اس طرح اس کے ساتھ کرو گی تو وہ اور زیادہ منٹلی سٹریس کا شکار ہورگا۔۔۔۔۔۔
وہ تمہیں ممانی کے بعد اپنی کل کائنات سمجھ بیٹھا اور تم اس کے ساتھ یہ سب کررہی ہو
میں کم از کم تم سے ایکسپٹ نہیں کررہا تھا
آخری بات وہ آہستہ آواز میں بولا
تو آپ ہی بتائیں جسے میں امی کے بعد اپنی کل کائنات سمجھ رہی تھی وہ تو کبھی میرا تھا ہی نہیں میں نے جسے بھی دل و جان سے چاہا ہے وہ ہمیشہ مجھ سے اس طرح جدا ہوجاتا ہے پہلے بابا پھر امی ۔۔۔۔۔
پھر آپ کی بے رخی جانتے ہیں پھر ہمارا بچہ
میں نہیں چاہتی کہ حسان کے ساتھ کچھ ایسا ہو
زایان نے اسے خود سے علیحدہ کیا اور اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں تھاما
کچھ نہیں ہوگا اس کے ساتھ میں کچھ نہیں ہونے دونگا اسے اور نہ ہی اب ہماری زندگی میں مزید مشکلات آئی ھیں
یہ میرا وعدہ ہے تم سے ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا جیسا تم سوچ رہی ہو
زایان نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھاما
اب تم مجھ سے ایک وعدہ کرو تم حسان کے ساتھ کچھ بھی ایسا نہیں کروگی جس سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو
زایان نے اس کی طرف آس بھری نظروں سے دیکھا
ربانیہ نے کچھ دیر تو خاموش بیٹھی رہی پھر زایان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا
گڈ گرل زایان نے اس کا اقرار سننے کے بعد اس کے ناک شرارت میں کھینچی
تو وہ ہلکا سا مسکرائی
اب میں آفس جارہا ہو مگر جب میں واپس آئو تو مجھے یہ چہرہ فریش چاہیے اوکے
وہ اس کا گال سہلاتا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔
شام کی نماز کے بعد وہ حسان کے کمرے میں آئی وہ اپنی سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا میتھس کا کوئسچن سولو کررہا تھا
ربانیہ کو وہ کچھ الجھا ہوا لگا
اسے ربانیہ کے آنے کا احساس ہی نہ ہوا
وہ بغیر آواز کیے اس کے پیچھے آئی اور اس کی آنکھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے
پہلے تو وہ چونک گیا پھر اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھے اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگا
آپی اس نے چونک کر کہا
ارے واہ میرا بھائی تو بہت انٹلیجنٹ ہے جھٹ سے پہچان گیا
وہ اس کی گدگدی کرتی ہنستے ہوئے بولی
وہ بھی ہنسا
آپ تو مجھ سے ناراض ہے نہ
ربانیہ اس کی ٹیبل کے پاس ٹھہری تو وہ مایوس سا بولا
ارے بلکل نہیں جس کا اتنا کیوٹ سا بھائی ہو وہ بھلا کیو ناراض ہوگی
مگر آپ تو مجھ سے بات ہی نہیں کرتی ہے
وہ معصومیت سے بولا
سوری ربانیہ نے اپسٹ پوز دیتے اپنے دونوں کام پکڑ لیے
اٹس اوکے وہ اتنے مہینوں کے بعد اسے اپنے کمرے میں اس سے باتیں کرتے ہوئے اسے بہت سکون محسوس ہوا اسی لیے وہ اس سے لپٹ گیا
اب بتائو کیو اتنے الجھے ہوئے لگ رہے تھے
وہ اس سے پوچھنے لگی
مجھ سے ایک کوئسچن سولو نہیں ہو رہا رایان بھیا تو گھر پر نہیں ہے ورنہ وہ مجھے سولو کرا دیتے
وہ اس کے آگے نوٹ بک کیے اسے بتانے لگا
بس اتنی سی بات یہ تو ہم ایسے سولو کرکے
ربانیہ نے اس کے آگے چٹکی بجائی اور اس کے ہاتھ سے نوٹ بک لیے اسے سمجھانے لگی
حسان کو سارا ہوم ورک کروانے کے بعد وہ کچن میں اس کیلئے نگٹس بنانے آئی فریزر سے نگٹس نکالے اور انہیں پلیٹ میں نکالا مگر انہیں دکھتے ہی اسے عجیب سا محسوس ہوا اس کا دل عجیب ہونے لگا اچانک متلی کا احساس ہوتے ہی وہ کچن سے بھاگتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
۔۔۔۔۔
کچھ ہفتوں سے اس کے ساتھ ایسے ہی ہورہا تھا مگر اس نے کسی کے آگے شو ہی نہیں ہونے دیا مگر چکن کو دیکھ جو اس کی حالت خراب ہوئی وہ واقعی نہ سنبھل پائی
وہ صوفے پر بیٹھی گہرے سانس لے رہی تھی جب اسے وہ دن یاد آیا جب اسے پہلی بار متلی کا احساس ہوا
کہیں مجھے پھر سے وہی سوچتے ہی اس کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہوئی
نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے اس نے دل کو تسلی دی مگر دل اس بات پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھا