Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Last Episode pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode pt.1
پارٹ1
وہ سب گھر آئے تو ایمن عبیر کو لے کر کمرے میں چلی گئی
رایان اور آغوش نے سلمی بیگم کو خوشخبری سنائی جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئی زایان بھی خوش تھا کہ اس کی بہن اپنی زندگی میں سیٹل ہورہی ہے اور رایان اور آغوش بھی اب خوش ہیں
اسے شدت سے ایان روحان کی یاد آئی وہ سوچ چکا تھا شادی کی ڈیٹ فکس ہوتے ہی وہ ان دونوں کو لے آئے گا
ربانیہ کو عمر صاحب نے فون پر خوشخبری سنائی اس نے آغوش سے عمر صاحب کا نمبر لیا تھا پھر اسے سیرت کے بارے میں پتا چلا تھا تبھی اس نے عمر صاحب کو شادی کا مشورہ دیا تھا
۔۔۔۔
آج ایک انجانی خوشی اس کے دل میں جاگی تھی کیا وہ بھی زندگی میں ایک ساتھی چاہتا تھا کیا اسے بھی ایک ساتھی کی ضروت تھی جب عمر صاحب نے اسے ایمن کے بارے میں بتایا تھا تو اسے کچھ خاص خوشی نہ ہوئی تھی مگر ایمن سے ملنے کے بعد وہ خوش تھا
وہ واقعی اپنی زندگی میں ایک ساتھی چاہتا تھا
کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ کر وہ مسکرا رہا تھا
کیونکہ اگلے ہفتے اس کا اور ایمن کا نکاح ہونا طے پایا تھا
دوسری طرف ایمن بھی اس سب سے نا خوش نہیں تھی
وہ خود اس بات سے انجان تھی کہ آخر وہ کیسے اس بات پر راضی ہو گئی تھی
۔۔۔۔۔
رایان اب ہمیں زایان بھائی کے بارے میں کچھ سوچنا چاہیے ۔۔۔۔
وہ ایک فائل سٹڈی کررہا تھا جب آغوش اس کے پاس آکر بیٹھی اور اسے بتایا
کیا مطلب ۔۔۔
زایان کی بات سننا تو اسے گوارا ہی نہ تھا
مطلب ان کے بچے ہیں بیوی ہے تو کیا وہ ساری زندگی اکیلے رہے گے ۔۔۔۔
رایان نے اس کی طرف ناگواری سے دیکھا
یہ سب ان کا اپنا کیا ہے ہمارا اس سب سے کیا لینا دینا ۔۔۔۔۔
وہ تمہارے بڑے بھائی ہیں رایان بس کر دو انہوں نے جو بھی کیا وہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے تم کون ہوتے ہو ان کو سزا دینے والے ۔۔۔۔
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی
اچھا تو مس بلاسٹ بتائو ہم کیا کرسکتے ہیں ۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا
تو سنو میرے پاس ایک آئیڈیا ہے ۔۔۔۔
اس نے رایان کے کان میں اپنا سارا پلین بتایا جسے سن کر وہ اسے دات دیے بغیر نہ رہ سکا
۔۔۔۔۔۔
علی شیلہ اور نگار اپنے ایک رشتہ دار کی شادی میں گئے ہوئے تھے وہ انعم اور بچے گھر پر اکیلے تھے بچے اکیلے تھے اسی لیے وہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی
انعم بچوں کے ساتھ چھت پر تھی اور وہ کچن میں ان کیلئے سنیکس بنا رہی تھی
تبھی باہر کا دروازہ بجا
وہ چولہے کی آنچ دھیمی کرتی اپنا دوپٹا سنبھالتی دروازہ کھولنے کی کیلئے دروازے کی طرف گئی
کون۔۔
اب نے آواز لگائی مگر باہر سے کوئی آواز نہ آئی
شاید ارحم ہوگا
اس نے سوچا کیونکہ اکثر وہی بچوں کے ساتھ کھیلنے آتا تھا
اس نے دروازہ کھولا اور باہر جھانکا تو زایان اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا
دروازہ کھلنے پر وہ اس کی طرف مڑا
آج تو اس کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے کلین شیف نیلے رنگ کی شلوار قمیض بالوں کی کٹنگ آستین اوپر چڑھائے
آج تو وہ کسی کا بھی دل لوٹنے کا ارداہ رکھتا تھا ورنہ جب وہ پچھلی بار اس سے ملی تھی تو وہ اس کی حالت کسی نشائی جیسی تھی
ایسے کیا دیکھ رہی ہوں اندر نہیں بلائو گی ۔۔۔۔۔۔
اس کی نظریں خود پر جمی دیکھ وہ بولا
تو وہ حوش کی دنیا میں واپس آئی
وہ پیچھے ہٹی تو وہ اندر آیا
وہ اسے لے کر حال میں آئی
بچوں کا سامان پیک کردو ایمن کی شادی ہے تو کچھ دنوں کیلئے لینے آیا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھ کر مصروف انداز میں بولا
ایمن کی شادی تھی تو وہ کیسے منع کرسکتی تھی
وہ سمجھتے ہوئے جانے لگی جب زایان نے ایک اور آواز لگائی
بچے کہا ہیں انہیں بھی بلائو ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے اپنی مٹھیوں کو آپس میں بھینچ لیا
ایان روحان نیچے آئو
اس نے وہی سے اونچی آواز لگائی جسے سن کر زایان نے اپنے کان پکڑ لیے
بچے انعم کے ساتھ بھاگتے ہوئے نیچے آئے
ڈیڈ ۔۔۔۔دونوں نے اسے دیکھا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا
وہ دونوں اس کے پاس بھاگتے ہوئے آئے اور اس سے لپٹ گئے
ڈیڈ یو لکنگ ہینڈسم ۔۔۔۔
ایان اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے بولا
تو وہ مسکرایا
میں تم دونوں کو لینے آیا ہوں۔۔۔۔۔
ان کو ساتھ بٹھانے کے بعد وہ بولا
انعم اور ربانیہ تو اندر ان کا سامان پیک کرنے چلی گئی
تم دونوں کی پھپھو کی شادی ہے اسی لیے۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں تو بہت خوش ہوگئے
انعم اور ربانیہ ان کا سامان بیگ میں پیک کرکے باہر لائی اور بیگ زایان کے سامنے رکھ دیا
ڈیڈ مما بھی چلے گی ہمارے ساتھ ۔۔۔۔
روحان نے ربانیہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
بیٹا آپ کی مما میری بات تو نہیں مانتی آپ ہی بولو کے چلے۔۔۔۔۔۔
ربانیہ کو بغیر دیکھے وہ روحان سے بولا
جس پر انعم نے شرارت سے اپنا گلہ کھنگارا
مما چلو نا ۔۔۔۔
وہ دونوں اس کے پاس آکر منت بھرے انداز میں بولے
نہیں بیٹا آپ دونوں جائو ۔۔۔۔
وہ ان کے گال سہلاتے کمرے میں چلی گئی
تم دونوں اپنا خیال رکھنا
انعم ان کے پاس آکر سمجھانے لگی
زایان نے ان کا سامان اٹھایا اور وہ دونوں انعم کے ہمراہ باہر نکلے
وہ دونوں انعم کے ساتھ گاڑی کے پاس کھڑی تھے اور زایان ان کا سامان ڈگی میں رکھ رہا تھا
جب فہیم اور ارحم انہیں دیکھ کر ان کے پاس آئے
اوئے یہ تم دونوں کس کی گاڑی کے پاس کھڑے ہو
ارحم عمر میں پانچ سال کا تھا اور وہ دونوں ابھی ساڑھے تین سال کے تھے اسی لیے وہ ان دونوں پر رعب جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایان اس کے سامنے آگیا
ہماری گاڑی ہے یہ ۔۔۔۔
وہ بھی فل رعب جھاڑتے ہوئے بولا
ڈیڈ یہ کتنا جھوٹ بولتا ہے اس کی گاڑی وہ بھی اتنی مہنگی اور بڑی اٹس ایمپوسیبل ۔۔۔۔
وہ اپنے باپ فہیم کو دیکھتا ہوا بولا
ارحم کی آواز سنتے ہی زایان سامان رکھنے کے بعد ایان کے پاس آیا
یہ ہمارے ڈیڈ ہیں دیکھو کتنے ہینڈسم ہیں تمہارے ڈیڈ کی طرح گنجے بھی نہیں اتنے سارے بال ہیں۔۔۔۔۔۔
ایان زایان کا ہاتھ پکڑ کو ارحم سے بولا
زایان اس کی بات سن کر دنگ رہ گیا
اور ہمارے ڈیڈ کی باڈی تو دیکھو کتنے بڑے مسلز ہیں ۔۔۔۔۔
اب کی بار روحان آگے آیا
اور تمہارے ڈیڈ تو صرف گنجے ہی نہیں پتلے بھی ہیں
ایان نے فہیم پر ایک ٹونٹ کیا
بیٹا بس اب اتنی بےستی بھی اچھی نہیں ہے ۔۔۔
زایان پورے دانت نکالے فہیم کا اترا چہرہ دیکھ کر ایان سے بولا
او ہلو میرے ڈیڈ نے ہیٹ پہنا ہوا ہے اسی لیے ان کے بال نظر نہیں آرہے ورنہ تو ان کے بال تو بہت سارے ہیں ۔۔۔۔۔
ارحم اپنے باپ کے بےستی پر تپ کر رہ گیا
میں نے خود تمہاری ڈیڈ کو کہتے سنا تھا کہ تمہاری ممی کی ٹینشن میں ان کے سارے بال جھڑ گئے ۔۔۔۔
ایان کہا پیچھے رہنے والا تھا
انعم جو پیچھے کھڑی سب سن رہی تھی ایان کی آخری بات پر قہقہ آور ہوئی
زایان تو فہیم سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا اور فہیم کا تو شرم کے مارے سر ہی جھک گیا
بات مزید بڑھ نہ جائے زایان گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کردی
وہ دونوں بھی فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئے
اور زایان گاڑی سٹارٹ کیے چلا گیا
۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیٹھی بچوں کو مس کررہی تھی آج سے پہلے وہ کبھی اس سے دور نہیں ہوئے تھے
زایان ایک بار اس سے کہتا کہ وہ بھی ساتھ چلے تو کیا ہوجاتا
وہ سوچتے ہوئے اپنا دل جلا رہی تھی
آخر ایمن اس کی بھی کچھ لگتی تھی
اور دوسری بات کہ یہ زایان اتنا تیار کیو ہوا تھا
وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کا موبائل بجا اور سکرین پر آغوش کالنگ دیکھ کر اس نے کال ریسیو کی
کیسی ہو بھئی ۔۔۔۔
دوسری طرف وہ سپیکر کھولے اپنے کمرے میں ایمن اور رایان کے سامنے بیٹھی تھی
میں ٹھیک ہو تم بتائو ۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بھولی
ارے یار بس نہ پوچھو ۔۔۔۔
یہاں اتنے سارے کام ہیں کہ کیا بتائو پہلے تو صرف آپی کی شادی تھی مگر اب گھر میں دو دو شادیوں کی ذمہ داری مجھ اکیلی کے کندھوں پر آگئی ہے
وہ اپنی ہنسی دبائے بیچارگی سے بولی
دوسری شادی کا سن کر وہ چونک کر اٹھی
کیا۔۔کیا مطلب دو دو شادیاں ۔۔۔۔
وہ ہکلاتی ہوئی بولی تو آغوش نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی دبائی
یار وہ زایان بھائی ہیں نہ ان کی پچھلے دنوں اپنی ایک کالج فرینڈ سے ملاقات ہوئی بس پھر کیا گھر آکر بولے کہ اب ان کی شادی بھی کرائو آخر کب تک اکیلے رہتے بیچارے ۔۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی اپنی بات مکمل کی ربانیہ کو لگا کہ اسکی اگلی سانس ہی نہیں آئے گی
رابی کہا کھوگئی یار ۔۔۔۔
دوسری طرف سے مکمل خاموشی پاکر وہ پھر بولی
کچھ نہیں میں تھکی ہوئی ہوں تم سے بعد میں بات کرونگی ۔۔۔۔
اس نے کال کاٹ دی
اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔۔۔
آغوش بیڈ سے نیچے اتر کر ناچنے لگی
ایمن اور رایان قہقہ لگائے ہنسے
۔۔۔۔۔۔۔
اسی لیے اتنے تیار ہوئے تھے ۔۔۔۔
وہ کمرے میں ٹہلتے ہوئے غصے سے سوچ رہی تھی
اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو میں بچوں کو کبھی جانے ہی نہیں دیتی۔۔۔۔
سمجھتے کیا ہیں خود کو دوسری شادی بھی کرے گے اور بچے بھی مجھ سے لے لے گے ۔۔۔۔۔۔
ایسا تو میں کبھی نہیں ہونے دونگی ۔۔۔۔
وہ گرنے والے انداز میں بیڈ پر بیٹھی اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا
۔۔۔۔۔
نکاح تک انتظار کرلو
بچوں کے ساتھ تم تک طلاق کے کاغذات بھی پہنچ جائے گے پھر تم آزاد ہوجائو گی مجھ سے۔۔۔۔
وہ بالکونی سے باہر کی تیاریاں دیکھتے ہوئے فون پر بولا
دوسری طرف یہ سن کر اس کی سانسیں تھم گئی چہرے پر پسینہ آنے لگا
کیا ہوا کچھ بولو گی نہیں آج تو تمہاری بات مانی ہے میں نے۔۔۔۔
بہت مبارک ہو نئی زندگی آپ کو ۔۔۔
اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرکے اس نے کہا
ہممم تمہیں بھی ۔۔۔
جس طرح اس نے بولا یہ صرف وہی جانتا تھا
بچے کہا ہے ان سے تو بات کروائے وہاں آکر مجھے تو بھول ہی گئے ہیں ۔۔۔۔۔
بات کا رخ بدلا گیا جو زایان کو بلکل پسند نہ آیا
ہاں وہ آغوش کے پاس ہیں میرا خیال ہے افشہ کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔۔۔۔
زایان۔۔۔۔۔
پیچھے سے اس کی آواز آئی
جسے سن کر ربانیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی
اور کچھ کہنا ہے تو کہو مجھے کچھ کام ہے ۔۔۔۔۔
پیچھے مڑ کر سیکھتے ہوئے زایان نے جلدی سے کہا
آپ اپنا ضروری کام کرے جو آپ کو اب ساری زندگی کرنا ہے ۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتی کال کاٹ گئی
پیچھے سے ایک لڑکی نے اسے آواز دی تھی وہ مہمانوں میں سے تھی اور سلمی بیگم اسے بلا۔رہی ہیں یہ کہنے آئی تھی
اسے کیا ہوا ۔۔۔۔
اس نے فون کو دیکھتے ہوئے سوچا
۔۔۔۔۔۔
آج نکاح تھا اور وہ صبح سے تیاریوں میں لگا ہوا تھا
دوپہر وہ سارا کام دیکھ کر اپنے کمرے میں آرام کررہا تھا
جانتے ہیں آپ ایک عورت سب کچھ برداشت کرسکتی ہے مگر اپنے کردار پر اٹھائی انگلی کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتی میں بہت کمزور ہوں شاید پہلے سے بھی زیادہ مگر اس بار میری اولاد نے مجھے کمزور کر دیا۔۔۔۔۔
ایک گہرا سانس لیے وہ اس کی طرف مڑی اور زایان کے سامنے آ کھڑی ہوئی جو آس بھری نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا
ایان روحان آپ کے بچے ہیں آپ انہیں لے جائے ۔۔۔
ربانیہ میں تمہیں بھی لینے آیا ہو تم بھی ساتھ چلو گی وہ صرف میرے نہیں تمہارے بھی بچے ہیں مجھ سے زیادہ حق ہے ان کا تم پر ۔۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا نرمی سے بولا
اگر وہ میرے بچے ہوتے تو میں آج اس آزمائش میں نہ ہوتی شاید خون کا اثر ہے جو وہ آج میرے ساتھ نہیں آپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ نظریں پھیر گئی
ایک پاکدامن عورت کی خاموشی ایک گناہگار مرد کا صبر بن جاتی ہے کیونکہ گناہ چاروں اطراف سے آپ کے گریبان کو پکڑتا ہے ندامت ایک مرد کی انا غرور سب خاک میں ملا دیتی ہے زبان کو حلق سے جدا کردیتی ہے کچھ بولنے سے پہلے گناہ آپ کے سر پر پہاڑ بن کر ٹوٹتے ہیں
میں جانتا ہو میرا گناہ معافی کے لائق نہیں ہے مگر تم چاہو تو کیا نہیں ہوسکتا ۔۔۔
میں آپ کو معاف نہیں کرسکتی
اسے نیند میں ایک جھٹکا سا لگا اور وہ آٹھ بیٹھا اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا
اب تو یہ اس کا مقدر بن چکا تھا جو وہ کرچکا تھا اسے یہ سب بھگتنا تو تھا
گھڑی کی سوئی میں وقت دیکھا جو شام کے چھ بجا رہی تھی
تین گھنٹے میں نکاح تھا
