Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Part 2

آج ربانیہ کے لیے ایک امتحان تھا کیونکہ اس نے
سوچ لیا تھا کہ آج وہ تیمور کو ساری حقیقت بتا دے گی اس کے بعد تیمور اس سے چاہے رشتہ رکھے یا نہ رکھے آغوش بھی آج اس کے گھر تھی کیونکہ سمیرا نے اسے ربانیہ کو تیار کرنے کیلئے بلایا تھا
دل کا درد کو چھپانا کتنا مشکل ہے
ٹوٹ کے پھر مسکرانا کتنا مشکل ہے💕
“کیسی دوست ہو تم تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی اچھا نہیں کیا تم نے سمجھی”
آغوش روٹھے انداز میں بولی وہ دونوں اس وقت ربانیہ کے کمرے میں تھی
“آغوش می۔۔میں خود بہت پریشان ہو پلیز مجھے اور پریشان مت کرو”
اس نے آغوش کے سامنے ہاتھ جوڑے
“ربانیہ کیا ہوا مجھے بتائو”
ربانیہ کا التجائی لہجا سن کر وہ پریشان ہوگئی اور صوفے سے آٹھ کر بیڈ پر ربانیہ کے سامنے بیٹھ گئی
“آغوش مجھے سمجھ نہیں آرہا کے میں کیا کرو اس وقت میں خود کو دنیا کا سب سے بے بس انسان محسوس کررہی ہو جس کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہیں”
بات کرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی نکلی جسے اس نے فورن صاف کیا
“دیکھو میری جان ہر کام اللہ کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی تم پریشان نہ ہو دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا”
آغوش نے اسے ترسلی دیتے ہوئے گلے لگایا
“ربانیہ ربانیہ کہا ہو بھئی”
باہر سے رایان کی آواز آئی آج سلمی بیگم اور رایان ربانیہ کے گھر آئے ہوئے تھیں بیٹھک میں سمیرا سلمی اور عمر صاحب بیٹھے باتیں کرہے تھے اور تیمور باہر گیا ہوا تھا تو رایان اکیلا بور ہونے کی وجہ سے اوپر آگیا
“یہ رایان بھائی کئ آواز ہے”
ربانیہ کا اتنا بولنا تھا کہ وہ اندر آگیا آغوش کی اس کی طرف پیٹھ تھی
“ارے رایان بھائی آپ” وہ آٹھ کر اس کی طرف گئی
تو آغوش بھی مڑی مگر ربانیہ اس وقت رایان کے آگے تھی جس سے آغوش اسے دیکھ نہ پائی
“ہاں یار نیچے میں بور ہورہا تھا اس لیے سوچا تمہیں کمپنی دے دو”
“ہاں آئیے نہ پلیز” ربانیہ نے اس صوفے کی طرف اشارہ کرکے کہا
تب تک آغوش بھی پیٹھ کیے بیٹھی تھی
رایان نے جب آغوش کی بیک سائڈ دیکھی گرے ٹائٹس کے اوپر گرے کلر کی گھٹنوں تک آتی شرٹ پہنے اور بالوں کو ٹیل پونی کی شکل دیے سر پر دوپٹہ پہنا ہوا تھا
اس نے ربانیہ کو اشارہ کرکے پوچھا یہ کون ہے
تو نیچے سے سمیرا کی آواز آئی
“آپ رکیں میں ابھی آتی ہو”
ربانیہ کہتی نیچے چلی گئی
رایان صوفے پر بیٹھ گیا
آغوش نے ایک نظر اسے مڑ کر بھی نہ دیکھا اور کتاب میں مصروف رہی
اھ اھ اھ
رایان نے گلہ کنگھارا
پھر بھی وہ نہ مڑی
“مجھے لگتا ہے یہاں کوئی بہرا ہے اگر بہرا نہیں تو گونگا ضرور ہے”
آغوش نے جب کوئی رسپونس نہ دیا تو وہ بولا
آغوش یہ بات سن کو مڑی اور اس شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌷
آہ ہ
رات کے تین بجے اس کے پیٹ میں درد ہوا تو وہ آٹھ بیٹھی
“کیا ہوا تمہیں” اس کے شوہر کو جب اس کی آواز آئی تو وہ اٹھا اپنی سائڈ والا لیمپ جلایا اور اس سے پوچھنے لگا
“کچھ نہیں” اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا
اس کا ساتواں ماہ چل رہا تھا اور ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ اسے جڑوا بچے ہیں
اس نے اس کی میڈیسن اٹھائی اور پانی کا گلاس اس کے آگے کیا
اس نے وہ دوائیاں اس کے ہاتھ سے لی اور کھالی
“ہوا کیا ہے اب بتائو گی”
اس بار ذرا سختی سے پوچھا
“پتا نہیں کیو درد ہوتا پھر رک جاتا ہے پھر دوسری جگہ ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کوئی مار رہا ہے”
اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھے کہا
اس کی بات سن کر اس کے شوہر نے قہقہ لگایا
“آپ ہنس کیو رہے ہیں”
اس نے حیرانی دے پوچھا
“مجھے لگتا میرے بچے بہت زیادہ شیطان ہیں اس لیے لاتیں مار رہے ہیں” اس نے اپنی بیوی کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا
اس کی بات سن کر وہ بھی اپنی ہنسی روک نہ پائی
کچھ دیر بعد اسے حیرانی سے دیکھنے لگی
“کیا” اس کی نظروں کا تسلسل اپنی اور دیکھ اس نے پوچھا
“دیکھ رہی ہو کہ اولاد واقعی انسان کو بدل دیتی ہے”
اس کے اس قدر بولنے سے وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اپنی جگہ کا لیمپ بجھا اس کی طرف اپنی پشت کیے سو گیا
اس کی بیوی کتنی دیر اس کی پشت دیکھتی رہی پھر خود بھی سوگئی
کبھی آہ لب پر مجل گئی کبھی اشک آنکھ سے ڈھل گئے
یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بُجھ گئے کبھی