No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
آج تیمور اور اس کے والد عمر ربانیہ کے گھر آرہے
تھے
سمیرا صبح سے تیاریوں میں لگی ہوئی تھی تیمور ایک نہایت ہی سلجھا ہوا اور شریف لڑکا تھا وہ اپنے والدین کی ایک لوتی اولاد تھا
پانچ سال کی عمر میں ہی وہ اپنی والدہ کے سایہ سے محروم ہوگیا اسے والدہ کی اچانک موت کا شدید صدما پہنچا اور وہ دن بدن چڑچڑا ہوگیا
سمیرا بیگم کو جب بھائی نے تیمور کی حالت کا بتایا تو وہ فورن اپنے بھائی کے پاس آئی اور تیمور کی دیکھ ریکھ لڑنے لگی اس سے تیمور کی صحت پر کافی اچھا اثر پڑا اور وہ جلد ریکوور ہونے لگا اس وجہ اسے اپنی پھپو سے کافی لگائو تھا
اب وہ ستائیس کا ہوگیا تھا ایک خوش باش اور اچھی شکل و صورت کا جوان تھا اور ایک بنک میں مینیجر کی جاب کرتا تھا اس کے والد نے جب بہن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو سمیرا کو ہر لحاظ سے ربانیہ کے لیئے وہ صحیح لگا تو انھوں نے فورن ہاں کردی
تیمور بچپن سے ہی ربانیہ کو پسند کرتا تھا اپنے والد کو بھی اس نے اسرار کیا جس پر وہ بہت خوش ہوئے جب وہ گیارہ سال کا تھا تب ربانیہ پیدا ہوئی تبھی سے وہ اس ننھی سی جان کو دل دے بیٹھا روز رات کو ربانیہ کی تصویر جو بچپن سے اس کے پاس تھی باتیں کرتا
اب اس کی محبت ربانیہ کے لیئے جنوں بن چکی تھی اور وہ ہر حال میں اسے پانا چاہتا تھا
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
“تمہارا پیپر کیسا ہوا “
وہ دونوں کالج کو گرائونڈ میں بیٹھی سامنے کچھ بیڈمینٹن کھیلتی لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی تب ربانیہ نے آغوش سے پوچھا
“ڈیئر پلیز اس وقت پیپر کے بارے میں کچھ نہ پوچھ کونکہ میں کون سا صحیح لکھ کر آئی ہو
ایک تو میم صابرہ کو بھی اللہ پوچھے اچھی بھلی بیٹھی تھی تمہارے ساتھ اٹھا دیا”
اس نے جس انداز سے بولا ربانیہ اپنی ہنسی روک نہ پائی
“اب زیادہ کھی کھی کھی مت کرو اچھا”
اس نے روٹھے انداز میں بولا
“اچھا اب ناراض تو نہیں ہو یار چلو ہم بھی کھیلتے ہیں ان کے ساتھ”
ربانیہ اٹھ کھڑی ہوئی اور آغوش اور وہ بیڈمنٹن کھیلنے لگی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
“اسلام و علیکم بھائی جان آگئے آپ”
بھائی کی آمد پر سمیرا بیگم بھاگتی ہوئی آئی
“وعلیکم سلام میری گڑیا کیسی ہو”
عمر صاحب نے شفقت بھرا ہاتھ بہن کے سر پر رکھا
“میں ٹھیک ہو بھائی جان میرا تیمور کہا ہے”
انھوں نے دروازے کی طرف نظرے کی
“ہاں وہ ٹیکسی والے کو پیسے دےرہا ہے ابھی آجائے گا” انھوں نے سمیرا بیگم سے کہا
“اچھا آپ اندر تو آئے نا” انھوں بھائی کو کمرے کی طرف کی اشارہ کیا
“ہاں گڑیا چلو”
ان سے سمیرا بیگم کی خوشی چھپی نہ تھی
“اسلام وعلیکم پھپو جان” تیمور نے سر سمیرا بیگم کے آگے کیا
“وعلیکم سلام میرا بیٹا کیسا ہے “
انھوں نے تیمور کے سر پہ ہاتھ پھیرا
“جی میں بلکل ٹھیک آپ سنائے آپ کیسی ہیں “
وہی ہلکی سی مسکراہٹ جو ہمیشہ تیمور کو الگ بناتی لیے سمیرا بیگم سے پوچھا
“میں بھی ٹھیک ہو بیٹا چلو اندر یہ سامان مجھے دو “
انھوں نے تیمور کے ہاتھ میں سوٹ کیس دیکھ کر کہا
“ارے نہیں پھپو جان اس میں ابا جان کا اتنا سامان ہے اتنا سامان ہے لگتا ہے وہ یہاں ڈیرے ڈالنے آئے ہیں اس لیے آپ مجھے بتائیں کہ ان رکھنا ہے آپ اتنی نازک لڑکی یہ کیسے اٹھائے گی”
تیمور نے شرارت بھرے لہجے کہا
“چلو بدمعاش انھوں نے اس کے کندھے پر چپیت لگائی “
“یہ سامان ابھی میرے کمرے میں رکھو اور بیٹھک میں آجائو میں آپ لوگوں کیلیے چائے بناتی ہو”
سمیرا بیگم نے تیمور کو ھدایت کی
“جی پھپو جان”
وہ کمرے میں سامان رکھنے چلا گیا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
“یہ کس کی کال ہے”
ایمن کے موبائل پر ان نون نمبر سے کال آئی
ہلو
اس نے فون کان پر رکھا
“ہلو ایمن بات کررہی ہے”
دوسری طرف سے مردانہ آواز آئی
“جی میں بات کررہی ہو آپ کون”
“مجھے نہیں پہچانا ارے میں فیصل اس دن آپ میرے ساتھ مری آئی تھی”
فیصل نے اپنا تعارف کروایا
“اچھا آپ جی جی میں پہچان گئی”
اس نے سر ہا میں ہلایا
“جی جی میں ہو”
دوسری طرف سے فیصل بولا
“جی میں پہچان گئی اب آپ بتائیں کس لیئے کال کی “
اسے اس کا کال اچھا تو نہیں مگر بڑا بھی نہیں لگا
“ایمن دراصل مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے کیا آج ہم مل سکتے ہیں”
فیصل نے اپنی بات کا آغاز کیا
“مگر میں تو ابھی مری میں ہو آپ ہی تو چھوڑ کے گئے تھے مجھے ہاسٹل “
اس نے بک شیلف سے ایک کتاب اٹھاتے ہوئے کہا
“ہاں میں جانتا ہو مگر آج کل میں بھی مری میں ہو ایک میٹنگ اٹنگ کرنے آیا تھا”
اس نے وضاحت کی
“وہ سب تو ٹھیک ہے مگر آپ کو مجھ سے کیا کام ہے “
ایمن نے پھر پوچھا
“وہ بات میں آپ کو فون پہ نہیں بتا سکتا آپ آج مجھ سے ملے پھر تفصیلی بات ہوگی جگہ اور وقت میں آپ کو واٹسپ کر دو گا آجائیے گا”
ایمن کا جواب سنے بغیر اس نے کال کاٹ دی
“عجیب آدمی ہے”
ایمن نے فون کو دیکھتے ہوئے کہا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“اسلام وعلیکم امی”
ربانیہ نے گھر آکر اپنا بیگ صوفے پہ رکھا اور کچن میں ماں کے پاس چلی آئی
“وعلیکم سلام آگئی ناشتہ لگائو تمہارے لیے”
وہ اس وقت ہانڈی بنا رہی تھی
“نہیں امی میں پہلے فریش ہو جائو پھر”
وہ کمرے میں جانے لگی
“ربانیہ تم میرے کمرے میں چینج کرلو
بھائی صاحب تمہارے کمرے میں آرام کررہے ہیں”
انھوں نے اسے روکا
“اچھ اچھا مام ماموں جان آگئے “
وہ منمنائی ہوئی
“ہاں بار بار تمہارا پوچھ رہے تھے جب اٹھ جائے تو مل لینا”
وہ ہانڈی میں چمچ ہلاتی بوئی بولی
“جج جی امی “
“اچھا ہاں وہ تیمور حسان کے ساتھ باہر گیا ہے حسان کے ضد کررہا تھا کہ اسے اپنے دوستوں سے ملوائے ابھی آتا ہی ہوگا چائے کا بول کر گیا ہے تم چینج کرکے آئو اور میری مدد کروائو”
ربانیہ کو تو یہ سنتے ہی پسینہ آنے لگا
سوچا آج کچھ __تیرے سوا سوچوں i
ابھی تک اس سوچ میں ہوں کہ اور کیا سوچوں…
“اچھا میں آتی ہو”
وہ کہتے ہی کمرے میں چلی گئی
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
“جی کہا ہے آپ میں پہنچ گئی”
ایمن اس ریسٹرونٹ میں آئی جہاں اسے فیصل نے بلایا تھا
“اپنے پیچھے دیکھے “
کارنر پر لگی ٹیبل کی ساتھ کرسی پر بیٹھا فیصل نے اسے اشارہ کیا
ایمن نے کال کاٹی اور اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی
فیصل تو اسے دیکھتے ہی پلک جھپکانا بھول گیا
سفید ٹرائوزر کے اوپر پیلے رنگ کی گھٹنوں تک آتی قمیض اور سر پر سفید رنگ کا دوپٹہ سیٹ کیے شانوں تک شال پھیلائے اور ہلکے گلابی رنگ کی لپسٹک لگائے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی
ہم تھے، تُم تھے، کچھ جذبات بھی تو تھے۔۔
ارے چھوڑو! کچھ نہیں، الفاظ ہی تو تھے۔۔
“جی اب کچھ بولے گے بھی کہ نہیں”
فیصل کو مسلسل اپنی طرف دیکھتے وہ اس سے بولی
“ہ ہاں پہلے اوڈر کرلے کچھ”
وہ ایمن کے بلانے پر حوش کی دنیا میں واپس آیا
“نہیں آپ نے جو بات کرنی ہے جلدی کرے مجھے دیر ہوجائے گی”
ہاتھ پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے وہ فیصل سے بولی
“ہا مگر ایک کافی تو پی لے”
اس نے التجا کی جس پر ایمن نے ہا میں سر ہلایا
اس نے کافی آڈر کی
“دیکھے ایمن میں ایک سیدھا بندہ ہو جھوٹ دکھاوا فریب سے مجھے سخت نفرت ہے اس لیے میں سیدھے سیدھے مدعے پہ آئو گا”
اس نے اپنی بات کا آغاز کیا
“ایمن پسند کرتا ہو آپ کو پسند ہی نہیں محبت ہے آپ میری اپنا بنانا چاہتا ہو شادی کرنا چاہتا ہو آپ سے میری ذات میں حصہ ہے آپ کا “
🌹آو محبت میں تمہیں آعلیٰ مقام دوں 🌹
🌹تجھ سے نکاح کرکے تمہیں اپنا نام دوں 🌹
جتنی سنجیدگی سے اس نے بولا اتنا بڑا جھٹکا ہی ایمن کو لگا اور وہ آنکھیں پھاڑے فیصل کو دیکھنے لگی
“میں چاہتا تو اپنی والدہ کو بھیج کر آپ کے گھر رشتہ بھیج سکتا تھا مگر مجھے آپ کی رائے جاننی ہے کہ آپ میرے حوالے سے کیسے جذبات رکھتی ہے”
فیصل نے ایمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
“جی ایمن تو ڈائرکٹ انکار ڈائرکٹ اقرار یا پھر سوچنے کیلیے کوئی وقت “
اس نے خود ہی آپشن دیے
“ج ج جی وہ”
ایمن نروس ہوگئی شرم کے مارے اس سے کچھ بولا ہی نہ گیا
جس سے فیصل کے ہونٹون پر مسکان آئی
“مطلب سوچنے کیلئے وقت نا “
اس نے پھر بولا
ایمن نے نظریہ نیچیں کرکے ہاں میں سر ہلایا
“تو پھر ٹھیک ہے دو دن ہے آپ کے پاس نمبر تو ہے آپ کے پاس میرا جو جواب ہو مجھے بتا دیجیئے گا اگر دودن کے بعد آپ کا فون نہ آیا تو تیسرے دن میں اپنی والدہ کو اپنے لیئے رشتے دیکھنے کا بول دو گا”
کافی کا مگ ہونٹوں کو لگائے اس نے ایمن سے کہا
ایمن اس کی آخری بات سن چونک گئی اور نظریں فیصل کی جانب کی
“آپ کافی پی لے پھر میں آپ کو ہاسٹل چھوڑ دو گا”
فیصل سمجھ گیا اگر اب اس نے کچھ بولا تو ایمن بےحوش ہو جائے گی
اس کی بات سن کر ایمن نے بھی کافی کا کپ اٹھایا اور پینے لگی مگر اس یہ کافی بھی زہر لگی
“کہ جو محبوب ہوتا ھے ذرا مغرور ھوتا ھۓ.
مدت کے بعد غالب اس لا پرواہ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس قسط پر مجھے آپ سب کے تفصیلی کمینٹ چاہیے
