Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51 Pt.1

پارٹ1
ایان روحان کو سلانے کے بعد وہ سٹڈی ٹیبل کی جانب آئی اور کرسی پر بیٹھی کیا مجھے زایان کو معاف کرنا چاہیے
مگر انھوں نے جو میرے ساتھ کیا وہ
وہ اپنے کمرے سے باہر آگئی اور نگار کے کمرے میں چلی آئی
جہاں وہ عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی
وہ ان کے بیڈ پر بیٹھ گئی ان کا انتظار کرنے لگی
انھوں نے عشاء کی نماز ادا کی ربانیہ کی جانب آئی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی
کیا ہوا سب خیریت۔۔۔۔
اس کی چہرے پر پریشانی دیکھ کر انھوں نے پوچھا
آپا آپ کہتی ہیں زایان کو معاف کردو مگر انھوں نے جو میرے ساتھ کیا وہ اس کا کوئی حساب نہیں سزا تو صرف مجھے ملی ۔۔۔۔
غلط انھوں نے ربانیہ کی بات کاٹی
سزا اسے بھی ملی ہے ۔۔۔
یہ تمہاری نند ایمن اپنا دو سال کا بچہ گود میں اٹھائے بیٹھی تھی
ہاں تو ۔۔۔
تو یہ کہ وہ بچہ یتیم ہے وہ اس کا باپ اسے دیکھے بغیر اس دنیا سے چلا گیا
نگار نے جیسے ہی اسے یہ بات بتائی اس نے بے یقینی میں اپنے منہ پر ہاتھ رکھا
وہ بیچاری جوانی میں بیوگی کاٹ رہی ہے کیا ایک بھائی کیلئے یہ سزا نہیں ہے کہ
جس بہن کو بچپن سے اس نے باپ بن کر پالا ایک بھائی کیلئے اسی بہن کی بیوگی دیکھنا جلتی سیخوں پر ننگے پائوں چلنے کے برابر ہے
مجھے بتائو سزا کس کو ملی ۔۔۔۔
اس کی اولاد جس کے آنے کا وہ بے صبری سے انتظار کررہا تھا اسے تین سال دور رہا تمہارے ساتھ تو پھر بھی ہم سب تھے وہ دونوں تھے وہ تو اکیلا تھا
ندامت کی موت مررہا تھا وہ تین سال
میں تمہیں ایک آسان مثال دو
جب فرحین کو وہ لے کر آیا تھا تمہارے گھر
حالانکہ صرف ہمدردی میں یہ بات تم ہی نے مجھے بتائی تھی
تم نے شک کیا تھا اس پر اسے وہ باتیں سنائی جو ایک مرد کی انا پر وار کرتی ہے وہ تو سب چھوڑ چکا تھا
اس نے تمہاری خوشی کیلئے اپنے گھر سے نکالا تھا اسے تب جاکر تمہارے اور اس کے رشتے میں سب ٹھیک ہوا تھا
تو ایک شخص جو تمہارا منگیتر رہ چکا تھا تم اس کے گھر جاتی تھی
اس سے ملتی تھی جب وہ تصویریں اور رپورٹس دیکھنے کے بعد کیا اس کی غیرت کو یہ گوارا تھا کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہتا
جہاں غلطیاں اس کی ہیں وہی تمہاری بھی ہیں
میں یہ نہیں کہ رہی کہ تم آج اس کے ساتھ چلی جائو کچھ وقت اسے دو کچھ تم لو اسے باور کروائو کہ وہ غلطی کر چکا ہے
انھوں نے ربانیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا
جائو سو جائو باقی اللہ کارساز ہیں جو نصیب میں ہے وہ ہی ملے گا نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم
ان کے کہتے ہی وہ ان کے کمرے سے چلی گئی
۔۔۔۔۔
ساری رات وہ اس بارے میں سوچتی رہی کہیں نہ کہیں اس کی غلطی تھی
صبح وہ ایان روحان کے اٹھنے سے پہلے وہ یونیورسٹی چلی گئی
علی کو ابھی کسی نے کچھ نہیں بتایا تھا
جب وہ اور انعم یونیورسٹی سے واپس آئے تو نگار نے انہیں بتایا کہ بچوں کو زایان اپنے ساتھ لے گیا ہے رات تک چھوڑ جائے گا
اسے یہ بات سن کر بہت غصہ آیا
وہ رات تک ان کا انتظار کرتی رہی مگر وہ نہ آئے اسے بچوں کے بغیر نیند کہا آنی تھی
ایک بجے سے اوپر ہونے کو تھا مگر بچوں کا ابھی کوئی پتا نہیں تھا
وہ مسلسل پریشانی میں کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی
جب دو بجے تو اس کا صبر جواب دے گیا
اس نے اپنا موبائل اٹھایا
اسے زایان کا نمبر آج بھی یاد تھا
اس نے زایان کا نمبر ملایا
رات کے دو بجے اس کے فون پر کال آئی ان نون نمبر دیکھ کر چونکا اس نے کال ریسو کی
ہلو۔۔۔۔۔ نیند سے بوجھل آنکھیں ملتے ہوئے وہ بولا
مگر دوسری طرف مکمل خاموشی رہی
ہلو۔۔۔۔ وہ دوبارہ بولا
دوسری طرف اس کی آواز سن کر اس کا دل مٹھی میں آگیا آخر وہ ہمت کرتی بولی
وہ۔۔وہ۔۔۔
تم ہو ۔۔۔۔۔۔۔ایک پل کو اس کی آواز سن کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“میں بچوں کا انتظار کررہی تھی وہ نہیں آئے ابھی تک”
اٹکتی آواز اس کی پریشانی واضح کررہی تھی
“ہاں وہ تھک گئے تھے تو سو گئے ہیں صبح میں چھوڑ جائو گا ان کو”
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ وہ اتنا کہتی کال ڈسکنکٹ کرنے لگی
بس بچوں کا پوچھنا تھا ۔۔۔۔۔۔اس کی آواز سن کر اس کے ہاتھ رکے
جی۔۔۔۔۔۔ اس نے بس اتنا کہا
“دوسرا موقع تو خدا بھی دیتا ہے کیا میں اس قابل بھی نہیں”۔۔۔۔۔
کیا کیا نہ تھا اس کی آواز میں درد شکوہ آس پچھتاوا
یہ بات سن کر اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
“میں بے بس ضرور ہوں بے حیا نہیں ہو پہلی دفع میں بدکرداری گناہ گار کہلائی دوسری دفع کچھ کہلانے کی ہمت نہیں ہے”۔۔۔۔
اس نے کہتے ہی کال کاٹ دی
وہ اس کی بات سن کر اٹھا
اور وضو کیا پھر جائے نماز بچھا کر تہجد کی نیت کی
دعا میں بس اس کا ساتھ مانگا اور اپنے گناہوں کی معافی
تین سال پہلے جب وہ نشا کرکے گھر آیا تھا تو سلمی بیگم نے اسے تھپڑ مارا تھا
اور کہا تھا
کہ اگر اسے مانگنا ہی ہے تو اس سے مانگو جو اسے تمہیں دے سکتا ہے نہ کہ یہ نشا کرکے
وہ تب سے نماز کا پابند ہوگیا تھا تہجد بھی وہ باقاعدگی سے پڑھتا تھا
شاید یہ اس کی دعا کا ہی اثر تھا جو آج وہ اسے ملی تھی
۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت وہ بچوں کو چھوڑنے آنا چاہتا تھا مگر ربانیہ یونیورسٹی گئی ہوگی اسی خیال سے اس نے دوپہر کو جانے کا فیصلہ کیا
دوپہر کت وقت وہ بچوں کو چھوڑ گیا تھا
اندر نہیں آیا تھا کیونکہ وہ کل رات والی بات کے بعد ربانیہ کا سامنہ نہیں کرنا چاہتا تھا
بچوں کو چھوڑ کر وہ چلا گیا تھا
وہ جب گھر آئے تو کافی سارے شاپنگ بیگز تھے ان کے پاس جو وہ سب کو خوشی خوشی دکھا رہے تھے
ربانیہ نے ان سے کوئی بات نہ کی
“مما ڈیڈ نے کہا ہے کہ وہ کل ہمیں پلے لینڈ لے کر جائے گے “۔۔۔۔۔۔
وہ ان کے کپڑے پرس کررہی تھی ایان کی بات سن کر اس کے ہاتھ رکے
“تم دونوں کو صرف ڈیڈ چاہیے مما کی کوئی فکر نہیں کل میں سارا دن اکیلی رہی تم دونوں نے پوچھا کہ آپ اپسٹ کیو ہیں اوکے کل اپنا سارا سامان پیک کرنا اور ڈیڈ کے پاس چلے جانا۔۔۔۔
وہ غصے سے آئرن بند کرتی ایان سے بولی اور جانے لگی
وہ دونوں اس کی ڈانٹ سن کر رونے لگے
“مجھے جلن کی بدبو آرہی ہے کیا جل رہا ہے”۔۔۔
وہ دروازے میں کھڑا سب سن چکا تھا
ایمن اور باقی سب بھی کمرے میں آئے
زایان نے بچوں کو اٹھا لیا اور انہیں بہلانے لگا
ربانیہ سب سے ملی اور عبیر کو گود میں اٹھا لیا
آپی یہ بلکل فیصل بھائی پر گیا ہے ۔۔۔۔
عبیر کو پیار کرتے وہ ایمن سے بولی
فیصل کے نام پر اس کی مسکراتے چہرے پر سنجیدگی آئی
رابی یہ تو غلط بات ہے بھئی میری افشہ کو تو تم نے پیار ہی نہی کیا
آغوش روٹھ کر بولی
ارے بھئی افشہ کو تم دو تو ہم پیار بھی کرے
وہ عبیر کو ایمن کو پکڑاتی افشہ کو آغوش کی گود سے لے لیا
اور اسے پیار کرنے لگی
یہ بلکل تم پر گئی ہے
اس نے آغوش سے کہا تو وہ مسکرائی
ربانیہ ہم سب کل جارہے ہیں تمہارا جو بھی فیصلہ ہے تم بتا دو ہمارے طرف سے تم پر کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے کہا
زایان جو ان دونوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کی طرف متوجہ ہوا
پھپھو میں اپنا جواب دے چکی ہوں ۔۔۔۔
وہ نظریں نیچے کیے بولی
ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی میرا نہیں خیال کے اب ہمیں مزید یہاں رکنا چاہیے ۔۔۔۔
سلمی بیگم جو اسے آس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی اس کے جواب پر اٹھی
پھپھو آپ ناراض ہو کر جارہی ہیں ۔۔۔۔
وہ ان کے ساتھ اٹھی اور ان سے پوچھنے لگی
۔۔۔۔
نہیں بلکل نہیں اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے
انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
آغوش اور ایمن کے سنگ باہر چلی گئی
زایان بھی اٹھا اور بچوں کو پیار کیے چلا گیا ایک نظر اسے دیکھا تک نہیں