Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51 Part 3

پارٹ3
وہ افشہ کو سلانے کے بعد بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی
تبھی اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور رایان اپنے سفری بیگ کے ہمراہ اندر آیا
اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
مگر اب اسے رایان کے اس بیہیویر کی عادت ہوگئی تھی ربانیہ کے ساتھ جو بھی ہوا تھا رایان کو لگتا تھا کہ زایان کے ساتھ وہ بھی اس سب کا قصور وار ہے کیونکہ اسی نے زایان کی باتوں میں آکر تیمور کو اغواہ کیا تھا
وہ گھر میں کسی سے بات نہ کرتا زایان کو تو وہ دیکھنا بھی پسند نہ کرتا تھا
اسے مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوتے دیکھ سلمی بیگم نے اس کی شادی کروانے کا فیصلہ لیا تھا
جب اسے یہ بات پتہ چلی کہ سلمی بیگم آغوش کے گھر جاکر اس کا رشتہ طے کر آئی ہے اس نے بہت ہنگامہ مچایا تھا کہ وہ ایک اور لڑکی کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتا
مگر ان میں سے کسی نے اس کی بات نہ مانی
تو اس نے آغوش کو ملنے بلایا اور اسے کہا تھا کہ وہ اس شادی سے منع کردے مگر وہ بھی اس کی محبت میں مجبور تھی
کسی طرح سے نکاح تو ہوگیا تھا مگر رایان بہت بدل گیا تھا وہ آغوش سے صرف کام کے متعلق بات کرتا تھا
ابھی وہ ایک کرب میں تھا کہ فیصل کی موت اور اکلوتی بہن کی بیوگی نے اسے مزید ڈپریس کردیا
جب اسے پتہ چلا تھا کہ وہ باپ بننے والا ہے وہ خوش بھی ہوا تھا آغوش کا خیال بھی رکھتا تھا افشہ کے پیدا ہوتے ہی وہ بلکل پہلے جیسا ہوگیا وہی خود کو آفس تک مرکوز رکھنا افشہ کے ساتھ وہ بلکل باپ جیسا رویہ رکھتا تھا مگر اسے زایان سے نفرت ہوگئی تھی
وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زایان ایسا کرسکتا ہے
تم چینج کرلو میں تمہارے لیے ڈنر لگاتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اس سے کہتی جانے لگی جیسے ہی وہ اس کے پاس سے گزری رایان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
اسے اس سب کی کہا عادت تھی رایان کا یہ رویہ اس کی سمجھ سے بالا تر تھا
وہ مڑی اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
ناراض ہو ۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو صاف صاف شکوہ ظاہر کررہی تھی
مجھے یہ حق تم نے دیا ہے کبھی کہ میں تم سے ناراض ہوسکو۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑانے لگی
وہ اس کا ہاتھ پکڑے بیڈ پر لایا اور ایک نظر بےبی کوٹ میں سوئی افشہ کو دیکھا جو گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی
اسے بٹھانے کے بعد وہ خود اس کے سامنے بیٹھ گیا
ایک مہینے میں تمہیں ایک بار بھی میری یاد نہیں آئی ایک بار کال تو کرلیتی ۔۔۔۔۔۔۔
اسے پہلے تو حیرت ہوئی کہ یہ رایان ہی کہ رہا ہے پھر اسے گھور کر دیکھنے لگی
تو تمہیں کون سی میری یاد آئی ۔۔۔۔۔
وہ ناک پر غصہ سجائے بولی
مائی مس بلاسٹ سوری سوری سوری ۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ کو چھوتے ہوئے وہ شرارتی انداز میں بولا
کیا بولا تم نے ذرا پھر بولنا ۔۔۔۔۔
اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا
سوری۔۔۔۔ اس نے اپنے دونوں کا پکڑ کر معصوم شکل بنائی
ذرا پنچ کرو مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ تم ہو ۔۔۔۔
اس نے اپنی کلائی آگے کی
رایان نے اس کی ناک کھینچ لی
اب آگیا یقین۔۔۔۔۔
اس کے پوچھنے پر وہ مسکرائی
اسے سلمی بیگم نے کال کرکے ربانیہ لے متعلق سارا حوالہ دیا تھا
وہ فضول میں اپنی زندگی ویران کیے بیٹھا تھا اس کی زندگی تو بہت خوبصورت تھی وہ چاہتا تو اسے اور زیادہ خوبصورت بنا سکتا تھا
اب اسے ایک اور کام کرنا تھا ایمن کو تیمور کیلئے راضی کرنا تھا
۔۔۔۔۔۔
بہنا کیا کررہی ہو ۔۔۔۔
وہ آغوش کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ایمن ابھی واشروم سے آئی
آجائو کچھ خاص کام نہیں کررہی ۔۔۔۔
اس نے اندر آنے کا کہا تو وہ آغوش کے ساتھ اندر آگیا
اور اور وہ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے
عبیر سویا ہوا تھا
وہ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
رایان نے اسے دیکھتے ہوئے بات کا آغاز کیا
وہ سمجھ گئی کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا ایک پچھلے کچھ دونوں سے گھر میں اسی حوالے سے تو باتیں ہورہی تھی
تم ہماری خاطر ایک بار تیمور سے مل لو ۔۔۔۔۔
رایان تم اچھے سے جانتے ہوں میں ایک بچے کی ماں ہو ویل سیٹلڈ ہو اپنے بچے کی پرورش اچھی طرح سے کرسکتی ہوں مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
بات کو سمجھتے ہوئے وہ بیزار ہوکر بولی
تم عبیر کو ایک باپ کا پیار دے سکتی ہو کل کو وہ بڑا ہوگا اسے کبھی نہ کبھی ایک باپ کی ضرورت محسوس ہوگی ۔۔۔۔۔
رایان اسے سمجھانے لگا
تو کیا اس دنیا میں بن باپ کے بچے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔
آپی ہم آپ سے یہ تھوڑی کہ رہے ہیں کہ آپ شادی کرلے ہم ابھی صرف اتنا چاہتے ہیں کہ آپ تیمور بھائی سے ملے کچھ ان کی سنے کچھ اپنی سنائے ہو سکتا ہے مزاج ہم آہنگ ہوجائے فیصلہ بدل جائے ۔۔۔۔۔
آغوش اس کے پاس آکر بولی
اور بچے بن باپ کے ہوتے مگر خدا عبیر کو ایک باپ کا پیار دینا چاہ رہا ہے تو تمہیں اعتراض کیا ہے ابھی عبیر بچا ہے تیمور ایک باپ کے روپ میں قبول لے کل کو وہ بڑا ہوجائے گا تو اس کیلئے مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔
تم ایک بار مل تو لو باقی آخری فیصلہ تمہارا اپنا ہوگا پھر ہم اپنے ہاتھ پیچھے کر لے گے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں صرف تم لوگوں کے کہنے پر مل رہی ہوں مگر اس کے بعد میرا جو بھی فیصلہ ہوگا تم لوگوں کو قبولنا ہوگا ۔۔۔۔۔
اس کی شرط سنتے ہی وہ دونوں خوشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
رات کو تیار رہنا ۔۔۔۔
رایان اور آغوش اس سے کہتے کمرے سے چلے گئے
۔۔۔۔
ابا جان آپ کس سے پوچھ کر گئے تھے وہاں ۔۔۔۔
وہ رشتے کی بات سنتے ہی آگ بگولا ہوگیا
مجھے اب کچھ کرنے کیلئے تمہاری اجازت لینی پڑے گی ۔۔۔۔
وہ اسے قہر برساتی نظروں سے دیکھنے لگے
کیا میں نے آپ سے کہا کہ مجھے بیوی کی ضروت ہے ۔۔۔
تمہیں ضرورت نہیں ہے لیکن منہل کو ایک ماں کی ضرورت ہے وہ بڑی ہورہی ہے کل کو اس کی زندگی میں کچھ ایسے موڑ آئے گے جہاں اسے صرف ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے تم نہیں ۔۔۔۔
وہ اسے سمجھانے لگے
ابا جان کل کی کل دیکھی جائے گی مجھے اب کسی اور ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
کیا تم نہیں چاہتے کہ میں اپنی زندگی میں تمہاری اولاد دیکھو تم تو سارا دن گھر سے باہر آفس میں ہوتے ہوں منہل اور میں اکیلے سارا دن گزارتے ہیں کبھی تم نے ہمارے بارے میں سوچا ہے۔۔۔۔۔
اس نے دو سال پہلے ہی اپنے دوست کے ساتھ بسنز پاٹنر شپ کی تھی اور ان دونوں کا بزنس کافی اچھا چل رہا تھا
تیمور نے اپنا ذاتی بنگلہ بھی لے لیا تھا منہل اور عمر صاحب کیلئے ایک خانصامہ چوکیدار اور ایک میڈ ہمیشہ رہتی تھی
اس نے ان دونوں کو ایک اچھا لائف سٹائل اور ایک آسائیشوں بھری زندگی دی تھی مگر وہ خود سیرت کے بعد بہت تنہاہ ہوگیا تھا
سیرت کے ابوٹ کے بعد ڈاکٹر نے انہیں جواب دے دیا تھا کہ وہ ماں نہیں بن سکتی اسی ڈپریشن نے اس کے دماغ پر گہرا اثر کیا تھا تیمور نے کبھی اس سے اولاد کی خواہش نہیں کی تھی مگر وہ خود اپنے آپ کو کم تر سمجھنے لگی تھی
اور اسی ڈپریشن میں اسے برین ٹیومر ہوگیا تھا اور بروقت علاج نہ کروانے پر وہ ان سب کو چھوڑ کر چلی گئی
منہل اور ابا جان کو تو اس نے سنبھال لیا تھا مگر وہ خود کو تنہاہ محسوس کرتا اس نے خود کو کام کی حد تک محدود کرلیا تھا
تیمور نے اپنا سر پکڑ لیا
تیمور اگر تم مجھے کچھ سمجھتے ہو تو اس رشتے کیلئے مان جائو یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ ہی دیکھ لو ۔۔۔۔۔
انھوں نے اس کی کمزوری آزمائی
ابا جان آپ ہمیشہ مجھے بے بس کر دیتے ہیں ۔۔۔۔
پاپا کیا سوچ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ ریسٹورنٹ میں منہل کے ساتھ بیٹھا ان لوگوں کا انتظار کررہا تھا
اس کی سوچ عمر صاحب کی باتوں کے گرد گھوم رہی تھی جب دس سالہ منہل نے اسے ہلایا
کچھ نہیں بیٹا ۔۔۔۔
اس نے منہل سے کہا
ہم یہاں کیا کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔۔
بیٹا یم یہاں آپ کی مما سے ملنے آئے ہیں آپ کہتی ہو نا کہ آپ کو ایک مما چاہیے تو ہم آج آپ کی مما سے ملنے آئے اور یہ گفٹ بھی انہیں کیلئے لائے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس نے ایمن کیلئے ایک ڈائمنڈ رنگ بھی لی تھی
رئیلی پاپا آپ سچ کہ رہے ہوں ۔۔۔۔۔
اس نے معصومیت سے پوچھا
جی بیٹا سچ کہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ ابھی باتیں ہی کررہے تھے جب رایان آغوش افشہ اور عبیر کے ساتھ ان کے سامنے آئے
رایان کو دیکھتے ہی وہ کھڑا ہوا
اور اس سے ہاتھ ملایا آغوش کو بھی سلام کیا
ایمن بھی ان کے پیچھے آئی
وہ سب کرسیوں پر بیٹھ گئے
رایان میرا خیال ہم بچوں کو ساتھ والے پلے لینڈ لے کر چلتے ہیں۔۔۔۔
۔
آغوش نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چلنے کا اشارہ کیا وہ سمجھ گیا
ہاں چلو کیو نہیں منہل تم بھی چلو ۔۔۔۔۔
رایان نے منہل سے کہا
اس نے تیمور کو دیکھا تیمور نے اسے مسکرا کر دیکھا تو وہ مفہوم سمجھ کر اٹھی
رایان نے ایمن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے ریلکس کیا اور سب کو لے کر جانے لگا
وہ دونوں تو چلے گئے مگر ساتھ میں بچے بھی لے گئے ایمن نے انہیں جاتے ہوئے دیکھ سوچا
سامنے وہ خود پریشان بیٹھا تھا بار بار چشمہ ٹھیک کررہا تھا بھلے ہی وہ اب بزنس مین بن چکا تھا مگر آج بھی اس کی عادات میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی
میرا خیال ہے آپ کمفرٹیبل نہیں ہیں ۔۔۔۔
ایمن کی نظروں میں ڈر دیکھ کر اس نے پوچھا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ خود نروس لگ رہے ہیں ۔۔۔۔
اس کے کہتے ہی وہ مختصر ہنسا
پہلے کچھ اوڈر کر لے پھر بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔
ایمن نے بھی ہاں میں سر ہلایا
ویٹر کو ہاتھ کے اشارے سے بلایا اور ایمن سے پوچھ کر اوڈر دیا
دونوں نے ہی فریش خوش کا آرڈر دیا
آپ کو مجھ سے کچھ پوچھنا ہے تو بلا جھجک پوچھے۔۔۔۔۔
اب وہ ایمن کو دیکھنے لگا جو پنک کلر کے ڈریس میں شانوں کے گرد چادر پھیلائے ڈری ڈری کافی پیاری لگ رہی تھی
اس کے کہتے ہی وہ یک ٹک اسے دیکھنے لگی
چلے پھر میں ہی پوچھ لو ۔۔۔۔۔۔
وہ شرم کی دیوار گرانا چاہتا تھا
ایمن نے ہاں میں سر ہلایا
آپ جانتی ہیں کہ آپ میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی نہیں ہے آپ سے پہلے میری ایک شادی ہوچکی ہے اور ایک بیٹی بھی ہے ۔۔۔۔۔
دونوں ہاتھ آپس میں جوڑے وہ کہنے لگا
ابا جان کہتے ہیں زندگی کی گاڑی اگر چلانی ہے تو ایک ہم سفر ہم قدم بہت ضروری ہے جو آپ کے پر دکھ سکھ میں آپ کا ساتھی ہوں آپ کو سمجھے آپ کو خوش رکھے
تب آپ پر بھی لازم ہے کہ آپ اس کی خوشی کا خیال رکھیں
وہ کہتے جارہا تھا اور ایمن سنتی جارہی تھی جانے کیو اسے تیمور کی باتیں اچھی لگ رہی تھے
جہاں آپ میری خوشی کا خیال رکھیں گی وہی مجھ پر بھی ذمہ داری عائد ہوگی کہ میں آپ کا اور آپ سے جڑے ہر رشتے کا پاس رکھو
آپ میری بیٹی کو ماں کا پیار دے گی وہی آپ کا بیٹا میرے پیار میری توجہ کا حقدار ہوگا اور میں اپنے ذمہ داریوں سے کتراتا نہیں ہوں
اس نے اپنی بات مکمل کی
زبردستی کے یا پھر مجبوری میں طے کیے گئے رشتوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا مجھے لگتا ہے آپ اس رشتے میں صرف ذمہ داری کی بات کررہے ہیں
شادی ساری زندگی کا ساتھ ہے کوئی دو چار دن کی تو بات ہے نہیں اور اگر رشتے میں محبت نہیں ذمہ داری ہو فرض ہو تو میرا نہیں خیال کہ ایسا رشتہ بنانا چاہیے ۔۔۔۔
ایمن نے اپنی بات سامنے رکھی
جی بلکل جب دو بچھڑے ہوئے کنارے ملتے ہیں تو ایک لہر بنتی ہے جو دور تک جاتی ہے
محبت ہر رشتے میں لازم ہے شروعات میں پر چیز نئی ہوتی ہے سمجھ آنے میں وقت لگتا ہے
جہاں میں اپنی اور آپ اپنی ذمہ داری نبھائے گی وہی میں آپ کو اپنی ساری توجہ اور محبت بھی دونگا بدلے میں آپ سے بھی میں اسی چیز کی خواہش رکھو گا ۔۔۔۔۔
باقی میں جو ہو جیسا ہو آپ کے سامنے ہو آپ کے جیسی حیثیت تو نہیں مگر اس قابل ہو کہ آپ کو زندگی کی ہر خوشی دے سکوں
اس نے اپنے ساتھ کرسی پر رکھا پیکٹ اٹھایا اور اس میں سے ایک ڈبی نکالی
یہ آپ کیلئے اسے پہناتے ہی آپ کی سارے سکھوں میں دکھوں میں آپ کا ہم سفر ہوجائو گا
آپ کا بیٹا میرا بیٹا اور میری بیٹی آپ کی بیٹی
اس نے ایمن کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا
وہ تو یہاں یہ سوچ کر آئی تھی کہ وہ اسے منع کردے گی مگر تیمور کی باتیں اس کے دل و دماغ پر اثر کررہی تھی جب عبیر کو ایک باپ اور اسے ایک ہم سفر مل رہا تھا تو وہ کیو دوسروں کے بارے میں سوچے
اس نے جھجھکتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
تیمور نے اس کی رضامندی جانتے ہوئے رنگ نکالی اور اس کے ہاتھ میں پہنا دی
وہ سب جب واپس آئے تو تیمور ایمن کو رنگ پہنا رہا تھا
ان دونوں نے خدا کا شکر ادا کیا
منہل تیمور کے پاس بھاگ کر آئی
بیٹا یہ آپ کی ماما ہیں ۔۔۔۔
اس نے منہل سے کہتے ہوئے ایمن کی طرف اشارہ کیا
پھر وہ کھڑا ہوا اور رایان سے عبیر کو لے لیا
اور یہ آپ کا چھوٹا بھائی ۔۔۔۔
عبیر کو لے کر وہ دوبارہ ایمن کے سامنے بیٹھ گیا
سچی پاپا ہماری بھی فیملی ہوگی ۔۔۔۔۔
وہ بچی جب سب کی فیملی دیکھتی اکھٹے تو وہ اکثر تیمور سے کہتی کہ اسے بھی ماں چاہئے بھائی بہن چاہیے
ہاں بیٹا یہ ہماری فیملی ہے ۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے منہل سے کہا
تو وہ ایمن کے گلے لگ گئی
جب وہ عبیر کو باپ کا پیار دے رہا تھا تو اس کا بھی فرض تھا کہ وہ منہل کو ماں پیار دے
اس نے بھی منہل کو پیار کیا