No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
آغوش ابھی بکس شوپ سے نکل کر رکشے کا انتظار کررہی تھی کہ اچانک ایک گاڑی اس کے پاس سے گزری کہ سڑک پر پڑا سارا کیچڑ اس کے کپڑوں پر اچھلا اس کا پورا سفید جوڑا کیچڑ کی پکڑ میں آگیا ۔۔۔۔۔
“او آنکھوں کے اندھے گدھے کہیکے دیکھ کے گاڑی چلائو”۔۔۔۔ آغوش غصے سے آگ بگولا ہو گئ اتنے میں گاڑی دوبارہ ریورس آئ اور وہ شخص دروازہ کھول کر باہر آیا بلیک جینز پر وائیٹ شرٹ پہنے وہ شاندار شخص باہر آیا
“اندھے ہو دکھائ نہیں دیتا تمہیں لوفر کہیں کے “۔۔۔۔۔
آغوش تو اس پر برس پڑی آس پاس کے لوگ بھی انہیں کو دیکھ رہے تھے
“جب سڑک پر پری کھڑی ہو تو انسان اندھا ہوہی جاتا “۔۔۔۔۔۔۔رایان چہرے پر مسکان سجائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا آغوش تو یہ سنتے ہی سرخ ہوگئ
“ابے او یہ اپنی لوفر گیریاں کسی اور کے آگے کرنا
ساری بکس خراب کردی اس کمینے نے”۔۔۔۔۔ وہ اپنی بکس کی طرف دیکھ رہی تھی جو پوری طرح کیچڑ کی لپیٹ میں آگئ تھی “میڈم آپ سچ میں لیڈئ ہے نہ” ۔۔۔۔۔رایان کو اس کی باتیں عجیب لگی
“او ہلو لیڈئ کس کو بولا بڈھے” ۔۔۔۔۔۔۔آغوش کو اس کا لیڈی کہنا بلکل نہ بھایا جسے سن کر آس پاس کے لوگ رایان کو دیکھ کر ہنسنے لگے “او میڈم آپ کو میں بڈھا لگتا ہوں”۔۔۔۔ اس نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کیا “جی تمہیں بولا دادا جی اب سیدھی طرح میرے نقصان کی بھرپائ کرو ورنہ” ۔۔۔۔۔وہ اسے انگلی دیکھاتے بولی “اوح ایم سوری رکے میں اپنا وولٹ لے کر آتا ہوں” ۔۔۔۔وہ شرمندہ ہوا “او مسٹر میں تمہارا وولٹ لے کر کیا کروں گی” ۔۔۔۔۔۔۔آغوش نے حیران ہوکر کہا “کیا مطلب کیا کرے گی میں آپ کو آپ کے نقصان کے پیسے دوں گا سمپل”۔۔۔۔ اس نے مشکل آسان کی “او مسٹر میں اپنے گھر اس حلیے میں گئ تو سب میری جان کو آجائے گے اس لیے سیدھی طرح سے ڈریس دلوائو نئ بکس لے دو اور مجھے گھر بھی چھوڑ دو”۔۔۔۔ آغوش نان سٹاپ بولی “مس مجھے لگتا آپ ٹھیک نہیں ہے یہ لے آپ کے پیسے ڈریس لےلینا بکس بھی لےلینا اور ٹیکسی لے کر گھر بھی چلی جانا “۔۔۔۔۔رایان نے اسے پیسے تھمائے اور اپنی گاڑی کی طرف چلاگیا اور گاڑی بھگادی آغوش سکتے کے عالم میں وہی جم گئ “ارے باجی آپ کو کہیں جانا ہے” ۔۔۔۔۔رکشے والے کی آواز پر آغوش حوش کی دنیا میں واپس آئی” اوئے باجی کس کو بولا”۔۔۔۔ اب وہ رکشے والے پر برسی” آپ کو باجی”۔۔۔۔ رکشے والا نے اس کی طرف اشارہ کیا “ابے چل نہیں جانا مجھے تیرے ساتھ نکل”۔۔۔ آغوش کہتے ہی چلی گئ “پاگل تھی کوئ” رکشہ والا بھی اس کی عقل پر ماتم کرتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“”کیا کروں فون کروں انھیں تین دن ہوگئے ہیں اس بات کو وہ کیا سوچے گے کہ میں مطلب پرست لڑکی ہو فون کرلے ربانیہ کرلے” ۔۔۔۔۔فون وہ فون ہاتھ میں پکڑے بڑبرا رہی تھی “بس کرلے فون زیادہ مت سوچ” ۔۔۔۔۔۔اس نے فون بک سے ایک نمبر نکالا جو شاید تین سال سے اس میں سیو تھا مگر آج تک اس نمبر کو اس نے استعمال نہیں کیا تھا اس نے جنھکتے ہوئے کال ملائی
اس کی ٹیون ایسی تھی طوبہ ہے اس دن کار میں اور اب موبائل میں ایسا گانا اللہ معاف کرے ربانیہ نے اپنے کان پکڑے کافی دیر بعد فون اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔۔
“ہیلو زایان بھائی”۔۔۔۔۔ ربانیہ فون کان پے رکھتے ہی بول پڑی مگر دوسری طرف سے کوئ لڑکی بولی “کون ہو تم” ۔۔۔۔لڑکی نے روکھے پن سے پوچھا ربانیہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہے گیا وہ۔۔ “مجھ مجھے زایان بھائی سے بات کرنی ہے “۔۔۔۔ربانیہ نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا “وہ ابھی بزی ہے میرے ساتھ تم صبح کال کرنا اوکے “۔۔۔
اور پھر کال ڈسکنکٹ ہوگئ ربانیہ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے” آپ ایسے نکلے میں نے آپ کو کیا سمجھا اور آپ کیا نکلے میں ہی بےوقوف تھی جو اس دن کے بعد سمجھ بیٹھی کہ آپ میری فکر کرتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر آنسو اس کا پورا چہرہ بھگو رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کسی کا فون تھا “۔۔۔۔زایان واشروم سے واپس آیا تو فرہین کے ہاتھ میں اپنا موبائل دیکھا” نن نہیں کسی کا فون نہیں تھا چلو نا کچھ اوڈر کرو بھوکا مارو گے کیا “و۔۔۔ہ دونوں اس وقت ایک ریسٹرونٹ میں ڈنر کیلیئے آئے تھا “ہاں کیو نہیں ابھی کرتے ہیں ویٹر”۔۔۔۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سی ویٹر کو بلایا
اور آڈر کرنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغوش جب گھر واپس آئ تو اسے مما سے خوب ڈانٹ پڑی اب وہ فریش ہونے کے بعد پڑھ رہی تھی کہ اچانک اسے رایان کا خیال آیا “کتنا ہیندسم تھا نہ وہ مگر بےحد کھڑوس” ۔۔۔۔۔اس نے خود کلامی کی “چھوڑ آغوش تو بھی کس کو لے کر بیٹھ گئ لعنت بھیج اس پر “۔۔۔۔۔۔اور دوبارہ پڑھنے میں مصروف ہوگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی خیر ہے آپ نے اتنی جلدی اٹھا دیا مجھے” ۔۔۔۔۔۔ربانیہ نے گھڑی پر وقت دیکھا تو صبح کے پانچ بج رہے تھے اور اس کی ماں پریشان سی اس کے سامنے بیٹھی تھی “ربانیہ جو بات میں تم سے کرنے والی ہو اسے تحمل سے سننا “۔۔۔۔آج اس کی ماں اسے عجیب لگی “امی کیا ہوا سب خیر تو ہے”۔۔۔۔ اس نے ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ” بیٹا کل تمہارے ماموں کا فون آیا تھا وہ آنا چاہ رہے ہیں “انھوں نے جھجکتے ہوئے کہا ” ہا تو اس میں اتنا پریشان ہونے والی کون سی بات امی “۔۔۔۔اس نے اپنی ماں کو گلے لگایا “ربانیہ انھوں نے تمہارے اور تیمور کے رشتے کی بات کی ہے “۔۔۔۔۔اب وہ اس کے ریئکشن سے پریشان ہوگئ “کیا امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ “۔۔۔۔۔ربانیہ کو ماں سے اس بات کی امید نہ تھی “بیٹا پہلے میری بات غور سے سنو” سمیرا نے ربانیہ کے چہرے پر ہاتھ رکھا ” دیکھو ربانیہ زندگی کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیتی میں آج ہو کل نہیں اگر کل کو مجھے کچھ ہوگیا تو کہا جائو گی “۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں آئ نمی کو صاف کرتے بولی “امی یہ کیسی باتیں کررہی ہے آپ”۔۔۔۔ ربانیہ کی آنکھ سے آنسو آگئے جسے سمیرا نے فورن صاف کیا “جانتی ہو کتنی حساس ہی میری ربانیہ بیٹا تم بہت معصوم ہو تمہیں اس دنیا کی ابھی سمجھ نہیں ہے یہ دنیا ایک ایسا دلدل ہے کہ اگر ایک دفع ہم اس کی پکڑ میں آگئے تو یہ ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی”۔۔۔۔ سمیرا نے ربانیہ کو گلے لگا کر سمجھایا “مگر امی تیمور ہی کیو” ۔۔۔۔ربانیہ نے روتے ہوئے شکوہ کیا “کیو کہ بیٹا جسے تم چاہتی ہو وہ تمہیں نہیں چاہتا” ۔۔۔۔۔ربانیہ فورن ماں سے الگ ہوئی اور حیرت سے دیکھنے لگی ” جانتی ہو بیٹا کہ تمہارے دل میں کیا ہے میں تمہاری ماں ہو تمہارے دل کے حال سے اچھی طرح واقف ہو مگر بیٹا اگر وہ ایسا نہیں چاہتا وہ تو ہمارے اس غریب خانے میں آنا ہی پسند نہیں کرتا تو وہ تمہیں کیسے اپنائے گا” سمیرا بیگم اپنا لہجہ نہایت ہی میٹھا رکھا” امی میں کیا کروں اس میرا تو کوئی قصور نہیں شاید میں غریب ہو اس لیے وہ مجھے پسند نہیں کرتے”۔۔۔۔۔۔ ربانیہ آج بہت افسردہ ہوئ اور ماں کو پھر سے گلے لگایا ” نہیں میری جان وہ اب لوگوں کی سوچ ہے اللہ نے ہم سب انسانوں کو ایک جیسا درجہ دیا وہ الگ بات ہے کہ انسان دولت کے لالچ میں خود کو بلند کردیتا ہے مگر اللہ کے ہاں صبر کرنے والے کا درجہ سب سے بلند ہے اس لیے صبر کرو اور اسے قدرت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرلو تیمور ایک بہت اچھا لڑکا ہے اگلے ہفتے وہ آرہا ہے ہم سے ملنے تم اسے سمجھو اسے جانوں ہوسکتا ہے کہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہو “۔۔۔۔۔انھوں نے ربانیہ کو ایک دوست کی طرح سمجھایا” جی امی آپ صحیح کہ رہی ہے میں کیو ایک صراب کے پیچھے خود کو حلقان کرو آپ کو جو ٹھیک لگے آپ کرے مجھے کوئ اعتراض نہیں”۔۔۔۔۔ وہ اپنی ماں کے گلے لگی رہی “میری پیاری ربانیہ انھوں نے اس کے سر پہ بوسہ دیا” چلو اب جلدی وضو کرو نماز کا وقت نکلا جارہا ہے” ۔۔۔۔جی امی جارہی ہوں وہ آٹھ کھڑی ہوئ
