No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
اب ان دونوں نے ربانیہ کو دیکھا جو ڈیڈ لفظ پر زایان کو ہی دیکھ رہی تھی
مما کیا یہ ہمارے ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔۔
ایان نے ربانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
سب لوگ اب جواب ربانیہ کے منہ سے سننے کیلئے منتظر تھے
ربانیہ نے سب کی آس بھری نظریں دیکھتے ہوئے سر ہا میں ہلایا
سب لوگوں نے سکھ کا سانس لیا
وہ دونوں یہ سنتے ہی چہک اٹھے اور زایان کے پاس آئے
دونوں ہی اس سے لپٹ گئے
یہ خون کا ہی اثر تھا جو وہ دونوں اس سے گلے لگ گئے
آپ ہمارے ساتھ کیو نہیں رہتے جیسے ارحم کے ڈیڈ اس کے ساتھ رہتے ہیں اسے پلے لینڈ لے کر جاتے ہیں آئسکریم بھی کھلاتے ہیں ۔۔۔۔
وہ دونوں اس کی گود میں بیٹھے جب ایان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
آپی یار یہ سامان اتنا بھاری ہے مجھ نازک کو پکڑا دیا ۔۔۔۔
انعم سامان اور بیگ لے کر حال میں آئی سب سے بے خبر مگر سب پر نظر پڑتے ہی اس نے چپ کرکے سامان ایک سائڈ پر رکھ دیا
خالہ یہ ہمارے ڈیڈ ہیں دیکھو اب جب تم ہم دونوں کو ڈرائو گی تو ڈیڈ تمہاری پٹائی لگائے گے۔۔۔۔۔
ایان انعم کے پاس آکر اکڑ کر بولا
انعم کل رات اسے دیکھ تو چکی تھی مگر خود ربانیہ سے نہیں پوچھا
اور یہ ہماری بہن ہے ۔۔۔۔
وہ اسے افشہ کے پاس لے کر آیا
انعم خاموشی سے آغوش کے پاس بیٹھ گئی
رابی ہم تمہیں لینے آئے ہیں ۔۔۔۔
ایمن نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو سر جھکائے اپنی سوچوں میں گم تھی
ایمن کی بات سنتے ہی وہ چونک گئی اور حیران نظروں سے سب کو دیکھا
بھابھی ۔۔۔۔
اس نے شیلہ سے کہا جو اس کی بات کا مفہوم سمجھ گئی اور اٹھی
ایان روحان چلو بیٹا تمہاری بہن کیلئے نگٹس بناتے ہیں ۔۔۔۔۔
شیلہ نے ان دونوں سے کہا تو وہ دونوں بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے
اوکے بڑی ماما چلو ۔۔۔۔
انعم تم بھی چلو
شیلہ نے انعم کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا تو وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھی
مما اپنا موبائل تو دو میں نے گیم کھیلنی ہے ۔۔۔۔
ایان اس کے پاس آکر بولا
بیٹا اس میں چار جنگ نہیں ہے روم میں پڑا ہے چارج پر لگا دو ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے اسے نرمی سے کہا
مما!!!! وہ روٹھ کر بولا
ڈیڈ آپ کے موبائل میں گیمز ہیں ۔۔۔۔
روحان نے زایان کے پاس آکر پوچھا
اس نے آج تک اپنا موبائل کسی کو نہیں دیا تھا
مگر آج اس کا بیٹا اس سے لاڈ سے مانگ رہا تھا وہ کیسے انکار کرتا
اس نے اپنا موبائل پاکٹ سے نکالا
اور روحان کو دیا ایان بھی اس کے پاس آیا
اس میں گیمز تو نہیں ہے تم دونوں انسٹال کرلو جو اچھی لگے۔۔۔۔
اس نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا
وہ دونوں خوشی خوشی شیلہ اور انعم کے ساتھ اندر چلے گئے
ربانیہ تو ان دونوں کی زایان سے اٹیچمنٹ دیکھتی رہ گئی
پھپھو میں واپس نہیں جائو گی ۔۔۔۔
کتنی دیر سے وہ اپنے اندر ہمت جمع کررہی تھی ان دونوں کے جاتے ہی وہ سنجیدہ نگاہوں سے سلمی بیگم سے بولی
وہ سب جو اس کے جواب کا انتظار کررہے تھے اس کا جواب سنتے ہی مایوس ہوگئے
آپ بڑی ہیں میری ماں کی جگہ پر ہیں آپ آئی مجھ سے ملی مجھے دل سے بہت خوشی ہوئی مگر آپ سب جو چاہتے ہیں وہ اب میرے لیے نا ممکن ہے میں واپسی کے سارے دروازے بند کرکے آئی تھی ۔۔۔۔
تھوک نگلتے ہوئے اس نے اپنی بات کہی
میں آپ کے بیٹے کو تین سال پہلے جواب دے چکی تھی مگر شاید انہیں میری بات سمجھ نہیں آئی
وہ زایان کو دیکھتے ہوئے بولی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
میرا جواب آج بھی یہی ہے اور کل کو آپ جتنی بار مجھ سے پوچھے گی میرا جواب یہی ہوگا
اس نے اپنی بات کہ کر سر جھکا لیا
اور اگر میں کہو کہ میں تمہیں واپس لیے بغیر نہیں جائو گا تو ۔۔۔۔۔
اب کی بار زایان اسے دیکھتے ہوئے بولا
تو پھر میرا جواب جو ہوگا وہ آپ سن نہیں پائے گے
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
نہیں میں سننا چاہتا ہوں تمہارا جواب
اس نے ایک گہرا سانس لیا
میں اپنے پورے حوش و حواس میں آپ سے طلاق مانگتی ہوں اور آپ کو مجھے طلاق دینی ہی ہوگی میں اب مزید اپنی زندگی آپ کے نام کے ساتھ نہیں گزار سکتی جس رشتہ کی عمارتیں کچی ہو اسے توڑ دینا ہی بہتر ہے نہیں تو وہ عمارت ویسے ہی گرتی ہے جیسے تین سال پہلے میرے سر پر گری
مجھے بدکردار کہ کر دھکے مار کر آپ نے اپنے گھر سے نکالا تھا میں نے پھر بھی آپ کا انتظار کیا تھا
باہر تپتی دھوپ میں بیٹھی رہی مگر آپ نے کیا کیا میرے منہ پر آپ فرحین کا ہاتھ پکڑ کر اندر گئے تھے مجھ سے کہا کہ میں تم جیسی گھٹیا عورت کو اپنے گھر میں تو کیا اپنی آنکھوں کے سامنے بھی نہیں دیکھنا چاہتا
میری ساری وفا محبت کو بدکرداری کا نام دے کر آپ میرے منہ پر مار کر گئے تھا نہ اندر اس کا ہاتھ پکڑ کر
تو آج زایان ملک میں انکار کرتی ہوں تمہارا ساتھ سے مجھے نہیں چاہیے یہ رشتہ جو اتنا کھوکھلا ہے
وہ اپنی بات مکمل کرتی اٹھی
ربانیہ یہ تم کیا کہ رہی ہو تم حوش میں تو ہوں۔۔۔
نگار اس کے پاس آکر غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولی
میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ میرے دل سے اتر چکا ہے میرے دل میں میری زندگی میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔
یہ میری محبت تھا سب کچھ تھا اس نے میرے ساتھ جو بھی کیا میں نے اسے معاف کردیا اپنا تن من سب اسے سونپ دیا تھا میں مانتی ہوں میری غلطی تھی میں آزما رہی تھی اسے
مگر اس نے میرے ساتھ جو کیا وہ ۔۔۔۔
آغوش تم کہتی تھی نا کہ یک طرفہ محبت انسان کو برباد کردیتی ہے ۔۔۔۔۔
اب وہ آغوش کی طرف مڑی
برباد ہوگئی ربانیہ احمد اس شخص نے اسے برباد کردیا ۔۔۔۔
مجھے تم سے طلاق چاہیے ۔۔۔۔
وہ زایان کے آگے کھڑی چیخ کر بولی
زایان جو کب سے صبر کا گھونٹ پیے بیٹھا تھا اپنی جگہ سے اٹھا
طلاق چاہتی ہو تم مجھ سے۔۔
زایان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے آگے کھڑا کیا
تو یاد رکھنا تم مجھ سے چھٹکارا تمہیں میرے مرنے کے بعد ہی ملے گا مگر جب تک میں زندہ ہو تم صرف میری رہو گی
صرف میری
اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ اسے بہت کچھ باور کراچکا تھا
زایان نے ربانیہ کا بازو چھوڑ دیا
چلے ماما اب یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں شاید آپ کی بہو بہت تھک چکی ہے آفٹر آل یونیورسٹی سے جو آئی جب اس کا دماغ ٹھنڈا ہوجائے گا ہم پھر آئے گے
سب لوگ زایان بات سن کر کھڑے ہوگئے
ربانیہ ۔۔۔۔
وہ کب سے چپ بیٹھی کہیں کھوئی ہوئی تھی جب نگار نے اسے آواز دی
مگر وہ ویسی ہی ساکت رہی آنکھیں ایک جگہ پر ٹھہر گئی
سب لوگ اس کی کیفیت سمجھ نہ پائے
ربانیہ۔۔۔ ایمن نے اس کا کندھا ہلایا
ہاں ۔۔۔۔اسے ایک جھٹکا سا لگا
وہ سب کو یک ٹک دیکھے جارہی تھی
پھپھو آپ مجھے لینے آئی ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے سلمی بیگم سے پوچھا
ہاں بیٹا میں تمہیں لینے آئی ہوں
مگر زایان نے تو مجھے گھر سے نکال دیا تھا کہا تھا کہ میں تمہیں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔
وہ کھوئی ہوئی سلمی بیگم سے بولی
اس کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا وہ بیٹھے بیٹھے کہی کھو جاتی عجیب سی باتیں کرتی
علی اسے ایک سائکیٹریس کے پاس بھی لے گیا تھا مگر اسے بھی ربانیہ کی کنڈیشن سمجھ نہ آئی
زایان کا سر شرمندگی سے جھک گیا
وہ ایان روحان کہتے ہیں کہ ہمارے ڈیڈ ہمارے ساتھ کیو نہیں رہتے میں ان سے کیا کہو کہ زایان نے مجھے گھر سے نکال دیا
میرے منہ پر فائل ماری اور میرا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے مجھے گھر سے نکال دیا
پھر میرے سامنے فرحین کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر کے اندر لے گئے مجھے باہر چھوڑ دیا
پھپھو آپ کہا تھی اس وقت۔۔۔۔
وہ سلمی بیگم کا ہاتھ پکڑے پوچھنے لگی
نگار اٹھ کر اس کے پاس آئی
ربانیہ اندر چلو اٹھو ۔۔۔۔
نگار نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا
اور اسے اندر لے گئی
اسے کیا ہوا تھا۔۔۔ اس کے جاتے ہی ایمن نے حیرت سے پوچھا
