Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

نگار صبح کی نماز کیلئے جاگی تو ربانیہ کو سامنے جائے نماز پر بیٹھا دیکھا وہ اپنے ہاتھ پھیلائے روتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی
کیا میں بھی گناہ گار ہوں میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا میں تو اس کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزارنا چاہتی تھی ہاں میں اولاد نہیں چاہتی تھی کیونکہ میں ڈر گئی تھی کہ کہیں میرے لیے اس کی محبت میں کمی نہ آجائے ۔۔۔۔۔
نگار اٹھ کر اس کے پاس آئی اور نیچے اس کے ساتھ بیٹھ گئی
اس نے جلدی سے دعا ختم کی
بےشک تم اس کی محبت میں شراکت نہیں چاہتی تھی مگر پھر تم اسے کیو آزما رہی تھی ۔۔۔۔۔
نگار نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
اس نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا
میں اسے کب آزما رہی تھی۔۔۔۔
اس نے پوچھا
تم تیمور کے گھر اس لیے جاتی تھی کیونکہ تم اس کی محبت کو آزما رہی تھی اس کی آنکھوں میں وہ جلن دیکھنا چاہتی تھی جو محبت کو شدت کو دگنا کردیتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ یہ بات سنتے ہی نظریں جھکا گئی
آپ ٹھیک کہ رہی ہیں مگر میں نے یہ تو کبھی نہی چاہا تھا کہ وہ مجھے گھر سے نکال دے وہ بھی تب جب مجھے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔۔۔
کئی بار ہماری کیا ہم پر ہی الٹ جاتا ہے جیسے زایان کا کیا اس پر اور تمہارا کیا تم پر مگر اب فیصلہ تم کرو گی زایان کو معاف کروگی یہ پھر اس سے علیحدہ ہوجائو گی
وہ اس کی جھکی نظروں کو دیکھتے ہوئے بولی
آپا آپ مجھے بتائے کہ میں کیا کرو ۔۔۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر پوچھا
میں چاہتی ہو کہ تم اسے ایک موقع دو کیا پتہ وقت سچ میں طبیب بن گیا ہو وہ اپنی غلطیاں سدھارنا چاہتا ہو ۔۔۔
۔
وہ میرے دل سے اتر چکا ہے آپا ۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولی
غلط تم تو اسے کبھی بھولی ہی نہیں وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہا ۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
مگر آپا کیا اتنی ذلت کے بعد مجھے واپس جانا چاہیے ۔۔۔۔
بیٹا ہم کئی بار ایسی آزمائش میں پھنس جاتے ہیں جہاں ہمارے آگے کنواں تو پیچھے کھائی نظر آتی ہے
تم سب وقت پر چھوڑ دو ہوسکتا ہے جو ہم سوچ رہے ہوں ویسا کچھ بھی نہ ہو ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپا مگر میں اب جو بھی فیصلہ لونگی اپنی مرضی سے لونگی اور مطمئن ہو کر لونگی ۔۔۔۔
وہ نگار سے کہتی آٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔
تمہیں ایڈریس کیسے ملا ۔۔۔۔
سلمی بیگم کو جب رات ایمن نے بتایا تو وہ صبح صبح وہاں پہنچ گئی
اور اب وہ سب ربانیہ کی طرف آرہے تھے
زایان ڈرائیو کررہا تھا جب سلمی بیگم نے پوچھا
وہ اسی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہے میں نے کل رات ہی اس کا ایڈریس نکلوا لیا تھا ۔ ۔۔
زایان نے بتایا
دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد زایان نے گاڑی ایک گھر کے آگے روکی
وہ سب لوگ گاڑی سے اترے
ماما ایڈریس یہی کا ہے۔۔۔۔۔
زایان نے سلمی بیگم سے کہا
بڈی ارحم کی بہن کتنی کیوٹ ہے نہ چھوٹی چھوٹی ۔۔۔۔
وہ دونوں اپنے دوست ارحم کے گھر سے آرہے تھے جب ایان نے روحان سے کہا
ہاں ویری کیوٹ ہم بھی مما سے بولتے ہیں کہ ہمیں بھی ارحم کے جیسی بہن چاہیے ۔۔۔۔
وہ دونوں چپس کھاتے ہوئے باتیں کرتے آرہے تھے جب ان کی نظر ان سب پر پڑی جو ان کی طرف پشت کیے کھڑے تھے
لگتا ہے گسٹ آئے ہیں چلو ہم نانو اور بڑی ماما کو بتاتے ہیں مما اور خالہ تو یونیورسٹی میں ہے ۔۔۔۔۔
ایان نے کہا اور وہ دونوں ان کے سامنے آگئے
مگر زایان کو دیکھ کر دونوں ہی ڈر گئے روحان نے ایان کا ہاتھ پکڑ لیا اور دونوں سہم کر زایان کو ہی دیکھ رہے تھے
زایان کے چہرے پر انہیں دیکھتے ہی مسکراہٹ آئی
ماما یہ دونوں ۔۔۔۔
زایان نے ان دونوں کی طرف اشارہ کرکے سلمی بیگم کو بتایا
چلو بڈی یہ تو وہی ڈیڈ والے انکل ہیں ۔۔۔۔
ایان نے ہلکی آواز میں روحان سے کہا اور وہ دونوں جانے لگے
رکو تم دونوں۔۔۔۔
زایان نے پیچھے سے آواز لگائی تو وہ دونوں رکے
وہ ان کے سامنے آیا اور گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھ گیا
ان کے معصوم چہرے کو دل میں اتارنے لگا
چوٹ کیسی ہے اب تمہاری ۔۔۔۔۔
روحان کے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے جہاں پر پٹی بندھی ہوئی تھی زایان نے پوچھا
روحان نے ڈرتے ہوئے ایان کو دیکھا
سلمی بیگم ایمن اور آغوش بھی ان کے سامنے آئی
ماما دیکھا آپ نے کتنے پیارے ہیں ۔۔۔۔۔
ایمن نے انہیں دیکھتے ہوئے سلمی بیگم سے کہا
سلمی بیگم تو بس انہیں دیکھے جارہی تھیں
ڈر کیو رہے ہوں میں آپ دونوں کا ڈیڈ ہوں ۔۔۔۔۔
زایان نے ان کے ڈرے چہرے دیکھتے ہوئے ان سے کہا
انکل ہماری مما نے کہا ہے کسی بھی سٹرینجر سے بات نہیں کرنی ۔۔۔۔۔
ایان نے ہمت جمع کرکے کہا
زایان کو ان کی بات پر ہنسی آئی جسے وہ دبا گیا
اور پیچھے مڑ کر ان تینوں کو دیکھا
سلمی بیگم آگے آئی
تم دونوں نے اپنا نام نہیں بتایا ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے مسکرا کر پوچھا
مگر وہ دونوں نظریں نیچے کیے چپ رہے
اچھا چلو ہم دوستی کرلیتے ہیں پھر تو میں آپ دونوں کیلئے سٹرینجر نہیں رہونگا ۔۔۔۔۔
زایان ان کی طرف دیکھتے ہوئے آفر کی
دوستی لفظ پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
پھر آپ ہمیں ارحم کی طرح اپنی بہن سے نہیں کھیلنے دو گے ۔۔۔۔
روحان نے معصومیت سے کہا
مطلب ۔۔۔
زایان نے ناسمجھی میں پوچھا
ہمارا فرینڈ ہے ارحم اس کی ایک چھوٹی بہن ہے کرن وہ ہمیں اس کے ساتھ نہیں کھیلنے دیتا ۔۔۔۔
اس بار ایان نے منہ پھلائے کہا
زایان کا بے ساختہ قہقہ گونجا
آغوش افشہ ۔۔۔۔
اس نے آغوش سے کہا تو اس نے افشہ کو زایان کی گود میں دیا
یہ لو آج سے یہ آپ کی چھوٹی بہن ہے ۔۔۔۔۔
اس نے افشہ کو ان دونوں کے آگے کیا
سچی ۔۔۔۔
دونوں نے افشہ کو دیکھتے ہوئے خوش ہوکر یک وقت کہا
مچی مگر یہ بہت چھوٹی ہے آپ اسے گود میں کیسے اٹھائو گے اندر چلو وہی بیٹھ کر کھیلنا۔۔۔۔۔
آغوش نے آگے آکر ان سے کہا تو ان دونوں نے ہا میں سر ہلایا اور سب اندر چلے گئے
۔۔۔۔۔
شیلہ یہ ایان روحان کہا گئے ہیں کتنی دیر ہوگئی۔۔۔۔۔
نگار نے حال میں بیٹھی کپڑوں کو تہ کرتے ہوئے شیلہ سے پوچھا جو کچن میں کھڑی دوپہر کا کھانا بنا رہی تھی
آپا ارحم کے گھر گئے ہیں اس کی بہن دیکھنے صبح وہی لے کر گیا تھا کہ رہا تھا کہ اس کی بہن پیدا ہوئی ہے اسی کو دکھانے لے گیا ہے آتے ہی ہوگے ۔۔۔۔
شیلہ نے وہی سے جواب دیا
نانو نانو
ان دونوں نے آتے ہی اونچی آواز میں نگار کو پکارا
اور اسے دیکھتے ہی دوڑتے ہوئے آئے اور نگار سے چپک گئے
ارے ارے لڑکوں سنبھال کے کیو اتنا شور مچا رہے ہوں ۔۔۔۔۔
نگار نے ان کے اچانک افتاد پر ان دونوں سے کہا
نانو ہماری بہن آئی ہے آپ اس کیلئے نگٹس بنائے نا پلیز ۔۔۔۔
روحان نے لاڈ سے بولا
اتنے میں وہ سب لوگ اندر آئے نگار نے قدموں کی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو سلمہ بیگم اور باقی سب کو دیکھ کر حیران رہ گئی
سلمی بیگم خود نگار کو دیکھ کر حیران تھی
جب سے ربانیہ گئی تھی انہیں نگار کا خیال ہی نہ آیا تھا
نگار کھڑی ہوئی اور ان سب کو بیٹھے کا اشارہ کیا تو وہ سب وہاں صوفے پر بیٹھ گئے
شیلہ بھی آوازیں سن کر کچن سے باہر آئی
اور سب کو سلام کیا
وہ نگار کے ساتھ بیٹھ گئی
آپا میں نے ان کو پہچانا نہیں آپ کے مہمان ہیں ۔۔۔۔
شیلہ نے انہیں دیکھتے ہوئے نگار سے پوچھا
یہ ربانیہ کی ساس ہیں اور یہ انہیں کی فیملی ہے۔۔۔۔۔
نگار نے اسے بتایا تو وہ سب کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی
بہن ربانیہ آپ کے پاس تھی اور آپ نے مجھے بتایا نہیں ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے بات کا آغاز کیا
وہ جب میرے پاس آئی تھی اس کی حالت ایسی تھی کہ کچھ بھی سوچنے کرنے کا وقت نہیں ملا
پھر یہ اسی کا فیصلہ تھا کہ وہ اب زایان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی
نگار نے انہیں دیکھتے ہوئے ساری تفصیل دی
ربانیہ ہے کہا۔۔۔۔
ایمن نے پوچھا
وہ یونیورسٹی گئی ہے بس آتی ہی ہوگی
بڑی ماما آپ ہمارے اور ہماری بہن کیلئے نگٹس بنائے نا۔۔۔۔
وہ دونوں کب سے آغوش کے پاس بیٹھے افشہ سے کھیل رہے تھے
ان کی باتوں پر ان کا دھیان ہی نہیں تھا
روحان کو خیال آتے ہی اس نے شیلہ سے کہا
اس کے کہتے ہی سب لوگوں نے اسے دیکھا
بیٹا آپ اپنی دادی سے تو ملو ۔۔۔۔۔
شیلہ نے اسے کہا
دادی کون دادی ۔۔۔
دونوں نے حیران ہوکر پوچھا
یہ آپ کی دادی ہیں ۔۔۔۔
اس نے سلمی بیگم کی طرف اشارہ کیا
وہ دونوں افشہ کو چھوڑے اب سلمی بیگم کو دیکھ رہے جو مسکرا کر انہیں ہی دیکھ رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔
بھائی یہ آپ کی بیٹی ہے نا اسی کی وجہ سے دیر ہوگئی ۔۔۔۔۔
علی ان دونوں کو لے کر ابھی گھر پہنچا تھا اس کے پوچھنے پر ربانیہ نے بتایا
آپی ۔۔۔انعم نے اسے گھورا
اچھا بھئی اب لڑنا بند کرو یہ سامان لو اور شیلہ کو دے دینا اسی نے منگوایا ہے مجھے ایک ضروری کام ہے رات کو دیر سے آئو گا ۔۔۔۔۔۔
علی نے ربانیہ کو سامان پکڑایا گاڑی سٹارٹ کی
اور چلا گیا
وہ دونوں گھر کے اندر آئی
بھابھی یہ سامان لے لے ۔۔۔۔
ربانیہ نے گھر کے اندر داخل ہوتے ہی شیلہ کو آواز لگائی
مما آگئی چلو بڈی ۔۔۔۔
ایان ربانیہ کی آواز سنتے ہی روحان کو لے کر دروازے کی طرف بھاگا
اور اسے دیکھتے ہی وہ دونوں اس سے لپٹ گئے
مما آپ آئے نا ہم آپ کو اپنی بہن سے ملواتے ہیں ۔۔۔۔
ان دونوں نے الگ ہوتے ہی اس سے کہا
ہے یا دن دہاڑے کون سی بہن پیدا ہوگئی تمہاری ۔۔۔۔
انعم نے حیرانی سے پوچھا
ربانیہ نے اس کی بازو پر چپیت لگائی
تم نا فضول مت بولا کرو ارحم کی بہن کی بات کررہے ہیں دونوں ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا
مما آپ آئے تو صحیح ۔۔۔۔
وہ دونوں اس کا ہاتھ پکڑے اسے لے جانے لگے
ربانیہ ان کی ایکسائیٹمنٹ دیکھ کر سمجھ نہ پائی انعم کو سامان اور اپنا بیگ پکڑاتی ان کے ساتھ حال میں آئی
جہاں سب اسی کے منتظر تھے
پھپھو ۔۔۔۔وہ ان سب کو دیکھ کر حیران رہ گئی
سلمی بیگم آٹھ کر اس کے پاس آئی اور اسے گلے لگا لیا
ایمن اور آغوش بھی اس کے پاس آئی جبکہ زایان وہی بیٹھ کر یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا
اسے کل سے ایک کے بعد ایک جھٹکا مل رہا تھا
ایمن اور آغوش بھی اس سے ملی
پھپھو آپ یہاں کیسے۔۔۔۔
اس نے آنکھوں میں حیرت لیے سلمی بیگم سے پوچھا
تم نے مجھے یاد نہیں کیا میں نے ہی کر لیا ۔۔۔
سلمی بیگم آنکھوں میں شکوہ لیے اس سے بولی
ربانیہ بیٹھو تو صحیح ۔۔۔۔۔
نگار نے اس سے بولا
تو وہ سلمی بیگم کے ساتھ بیٹھ گئی
مما یہ ہماری دادی ہیں ۔۔۔۔۔
ایان روحان نے اس کے سامنے آکر سلمی بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
اس نے بے بسی سے نگار کو دیکھا
نگار نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا
ہاں یہ آپ دونوں کی دادی ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے ان کو جواب دیا
ان دونوں کو اور کسی کی بات پر یقین نہیں تھا ۔ربانیہ کے کہتے ہی ان دونوں نے سلمی بیگم کو گلے لگایا
کیسی ہیں آپ دادی ۔۔۔۔
وہ دونوں ان کے پاس بیٹھ گئے اور ایان نے پوچھا
میں ٹھیک ہو تم دونوں کیسے ہوں کب سے دیکھ رہی تھی دادی کو کوئی لفٹ ہی نہیں
سلمی بیگم نے ان سے شکوہ کیا
سوری دادی ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ آپ ہماری دادی ہیں ۔۔۔۔
روحان نے معصومیت سے کہا
ربانیہ زایان کی نظریں خود پر اٹھتی محسوس کرکے سر جھکائے بیٹھی تھی
۔
تم دونوں نے اپنا نام نہیں بتایا ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے ان سے مسکرا کر پوچھا
میرا نام ایان
اور میرا روحان
ان دونوں نے باری باری بتایا
اچھا بھئ اب اپنی پھپھو سے بھی مل لو ۔۔۔۔۔
ایمن جو آغوش کے ساتھ بیٹھی تھی دادی پوتوں کا پیار دیکھتے ہوئے بولی
ہاں یہ آپ کی پھپھو ہیں
نگار نے ان دونوں سے کہا
وہ دونوں اٹھ کر اس ملے پھر آغوش نے بطور چاچی اپنا تعارف کروایا
آخر میں اب وہ زایان کو دیکھ رہے تھے جو انہیں کی طرف دیکھ رہا تھا
بیٹا یہ آپ دونوں کے ڈیڈ ہیں ۔۔۔۔۔
ایمن نے ان کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے ان سے کہا
تو ان دونوں نے ربانیہ کو دیکھا
جو ڈیڈ لفظ پر زایان کو ہی دیکھ رہی تھی