Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 47 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 47 Part 3
وہ ایان روحان کو لے کر بیک یارڈ میں آگئی جہاں کوئی بھی نہیں تھا
ایان میرا فون دو ۔۔۔۔اس نے ایان سے کہا ایان نے اپنی پاکٹ سے اس کا موبائل نکال کر دیا
اس نے انعم کو کال ملائی
انعم روحان مل گیا ہے بیک یارڈ میں آجائو ہم بیک گیٹ سے نکلتے ہیں گھر کیلئے ۔۔۔۔
مگر آپی ابھی تو کیک کٹ بھی نہیں ہوا اتنی جلدی ۔۔۔۔
دوسری طرف سے انعم بولی
روحان کو چوٹ لگی ہے بس تم جلدی آئو اور بھائی کو کال کرو وہ جلدی آئے ہمیں لینے
اس نے جلدی جلدی کہا اور کال کاٹ دی
کچھ دیر بعد انعم بھی وہی آگئی جہاں وہ بچوں کو لڑ کھڑی تھی
کہا چلے گئے تھے تم اور یہ چوٹ کیسے لگی ۔۔۔۔۔
انعم نے آتے ہی روحان سے پوچھا
خالہ میں آپ کو ڈھونڈ رہا تھا پھر مجھے چوٹ لگ گئی اور ایک انکل نے یہ بینڈیج کی ۔۔۔۔۔
وہ اپنا پٹی سے بندھا ہاتھ آگے کیا اسے بتانے لگا
آپی بابا کہ رہے ہیں وہ آدھے گھنٹے تک پہنچ جائے گے آپ یہاں کیو کھڑی ہیں چلے نہ سارے آپ کا پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔
اس نے ربانیہ سے کہا جو وہاں چیئر پر اپنا سر پکڑے بیٹھی تھی
نہیں میرے سر میں درد ہے اور وہاں کافی شور ہے اسی لیے یہاں آئی ہو تم بھی یہی رہو بھائی آتے ہیں تو ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے انعم کا ہاتھ پکڑ کر بولا آنکھوں میں بےبسی واضح تھی
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ۔۔۔۔
انعم نے اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
ہاں ٹھیک ہو میں تم فکر مت کرو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
وہ پہلے تو شاک میں تھا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ ربانیہ سے ملا اتنے سال بعد اور سب سے بڑھ کر وہ اپنے بچے سے ملا اس سے بات کی اس کی بینڈیج کی اور دوسرا بیٹا وہ تو اسے بس ایک جھلک ہی دیکھ سکا
بھائی آپ اس سے بات تو کرے ۔۔۔۔۔
ایمن اسے مسلسل چپ کھڑا دیکھ بولی
ایمن تم نے دیکھا وہ میرے بیٹے تھے دونوں ایک سے تو میں مل چکا ہو بات کرچکا ہو اور دوسرا وہ اسے لے گئی مجھے اس سے ملنے بھی نہیں دیا۔۔۔۔۔۔
حوش میں آتے ہی اس نے نم آنکھوں سے ایمن سے کہا
ہاں زایان بھائی ایک تو بلکل آپ کے جیسا دکھتا ہے کتنے پیارے ہیں دونوں ۔۔۔۔۔
آغوش بھی آج بہت خوش تھی
وہ اب کہا ہے مجھے اس سے ملنا ہے ان دونوں سے ملنا ہے انہیں بتانا ہے کہ میں ان کا ڈیڈ ہو ۔۔۔۔۔
وہ بیک یارڈ کی طرف گئی ہے بھائی
ایمن نے اس سے کہا تو وہ بھاگتا ہوا وہی چلا گیا
۔۔۔۔
وہ چاروں ایک روم بیٹھے تھے جب زایان انہیں ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچا
روحان دروازے کے پاس ایان کے ساتھ بیٹھا اسے بتا رہا تھا کہ وہ کیسے گم ہوگیا تھا اور اسے کیسے چوٹ لگی
انکل۔۔۔۔ روحان نے اسے دیکھتے ہی کہا
ربانیہ اور انعم جو آگے بیٹھی تھی روحان کی آواز پر پیچھے مڑی
ایان بھیا یہ وہ انکل ہیں جنہوں نے میری ہیلپ کی
وہ ایان کو لے کر اس کے پاس پہنچا
وہ تو گھٹنوں کے بل بیٹھ نیچے بیٹھ گیا
اور ان دونوں کو گلے لگا لیا
ربانیہ سامنے کھڑی بے بس سی انہیں دیکھ رہی تھی
تھینکیو انکل آپ نے میرے بڈی کی ہیلپ کی
ایان اور روحان اس سے الگ ہوئے تو ایان نے مسکرا کر بولا
انکل نہیں بیٹا میں آپ کا ڈیڈ ہو ۔۔ ۔۔
وہ ان دونوں سے بولا
۔
انعم تم ایان روحان کو لے کر باہر جائو ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے اونچی آواز میں انعم سے کہا جو زایان کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی
ربانیہ کے کہتے ہی وہ ان دونوں کو لے کر باہر چلی گئی
ان کے جاتے ہی وہ کھڑا ہوا اور ربانیہ کے پاس آیا
اور اپنے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ لیے
میں جانتا ہو میں معافی کے لائق نہیں ہو مگر مجھے معاف کردو میں بہت اذیت میں ہو میرے یہ تین سال کیسے گزرے یہ صرف میں ہی جانتا ہو تم جو سزا دو گی مجھے قبول ہوگی بس مجھے معاف کردو میں بہت شرمندہ ہو ۔۔۔۔۔۔
” معافی معافی چاہیے تمہیں “۔۔۔۔۔۔
وہ تقریباً چیخ کر بولی مگر زایان شرمندگی لیے ہاتھ جوڑے کھڑا اپنے کیے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا
“میں اس قابل ہوں کے تمہیں معاف کرسکوں “۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھوں میں درد لیے اس سے پوچھ رہی تھی یہ شاید اسے جتلا رہی تھی
“ارے میں آج بھی وہی دو کوڑی کی عورت ہوں جسے تم نے چھوڑ دیا پورے زمانے میں بدنام کرکے اور دو کوڑی کی عورت اس قابل نہیں ہوتی کے شریف مردوں کو معاف کرے”
وہ اتنا کہتی روتی ہوئی چلی گئی اور زایان کو ماضی کی تلخ یادوں کے کچھ صفحے دوبادہ کھول کر دکھا گئ
۔۔۔۔۔۔
زایان ایمن اور آغوش کو لے کر ریسٹورنٹ میں رکا ہوا تھا وہ جب سے وہاں آئے تھے زایان اپنے کمرے میں تھا
آپی آپ کو کیا لگتا ہے رابی واپس آئے گی ۔۔۔۔
وہ دونوں بالکونی میں کھڑی تھی جب آغوش نے پوچھا
پتا نہیں آغوش جس طرح وہ ہاتھ چھڑا کر گئی تھی مجھے کچھ بھی صحیح ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔۔
وہ آغوش کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولی
مگر جو بھی ہو زایان بھائی اپنے بچوں سے مل کتنے خوش ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔
ہاں کتنے پیارے بچے تھے معصوم ۔۔۔۔
ایمن نے مسکراتے ہوئے کہا
ہم چلتے ہیں اس کے پاس اس سے بات کرتے ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔
آغوش نے بولا
ہاں کیو نہیں ماما کو بھی بلاتے ہیں انھوں نے کتنا انتظار کیا ہے بھائی کے بچے دیکھنے کا
میں ابھی انہیں کال کرتی ہو ۔۔۔۔۔
ایمن نے کہتے ہی اپنا فون اٹھایا اور سلمی بیگم کو کال ملائی
۔۔۔۔۔
وہ علی کے ساتھ ایک گھنٹے پہلے ہی گھر آئے تھے بچے تو راستے میں ہی سو گئے تھے
ان دونوں کو ان کی جگہ پر سلانے کے بعد وہ نگار کے کمرے میں آئی جہاں وہ سو رہی تھی
وہ بیڈ کی دوسری سائڈ پر آئی اور کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی
وہ جانتی تھی کہ صبح جب بچے اٹھے گے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوگا کہ مما وہ ہمارے ڈیڈ تھے
ربانیہ آگئی بیٹا ۔۔۔۔۔
ربانیہ کو دیکھتے ہی وہ آٹھ بیٹھی
جی آپا آگئی ۔ ۔
انہیں دکھتے ہوئے اس نے کہا آنکھیں پوری سرخ ہوچکی تھی
کیا ہوا تم روئی ہو ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے نگار نے پوچھا
یہ سنتے اس نے نگار کی گود میں سر رکھ دیا
آپا اگر کل کو زایان ایان روحان کے سامنے آجائے اور کہے کہ وہ ان کا باپ ہے تو کیا وہ دونوں مجھے چھوڑ دے گے ۔۔۔۔۔
بھیگی آواز میں اس نے پوچھا
یہ کیسا سوال ہوا۔۔۔
انہیں حیرانی ہوئی
آپا وہ آگیا ہے اس نے مجھے دیکھ لیا ہے بچوں کو دیکھ لیا ہے اب وہ انہیں لے جائے گا۔۔۔۔
وہ آٹھ کر بے بس ہوکر بولی
نگار حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی
ربانیہ پر تم نے تو مجھ سے تین سال پہلے کہا تھا کہ اس نے تمہیں کہا ہے کہ وہ تم سے اور بچوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے نگار سے یہی کہا تھا کہ زایان نے اسے کال کرکے یہی کہا ہے کہ وہ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا نہ ہی اسے بچے چاہئے
ربانیہ شرمندگی کے مارے نظریں چرا گئی
تمہیں شرم نہیں آئی دو معصوم بچوں کو ان کے باپ سے دور کرتے ہوئے جانتی ہو گناہ گار وہ ہے تو گناہ تم نے بھی کیا ہے ۔۔ ۔۔۔
ربانیہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا تو اس کی آنکھیں بلکل ویسی تھی جیسی عبدالمالک کی تھی اسی لیے میں نے تم سے کہا کہ وہ منافق ہے محتاط رہو مگر جس طرح وہ تمہارا خیال رکھتا تھا مجھے لگا کہ میں پہلی بار غلطی کرگئی کسی کو جاننے میں اور شاید میں غلط تھی بھی
جب تم اس کی فطرت سے واقف تھی تو تم کیو جاتی تھی تیمور کے گھر کیو ملی تھی اس سے
آج وہ دونوں چھوٹے ہیں کل وہ تم سے پوچھے گے کہ تم نے ان کے باپ کو کیو چھوڑا کیا بتائو گی انہیں وہ تمہیں مارتا تھا اس نے تمہیں گھر سے نکال دیا ۔۔۔۔۔۔۔
کیا اس نے تم سے معافی مانگی جھوٹ مت بولنا سچ بتانا مجھے ۔۔۔۔
نگار نے اسے کاٹ دار نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں مانگی تھی معافی تین سال پہلے بھی اور اب بھی مگر اب میں اس کے پاس نہیں جائو گی ۔۔۔۔۔
وہ بھی اسی لہجے میں بولی
مرد کا درجہ خدا نے عورت سے کہیں زیادہ اونچا رکھا مرد کو جھکانے والی عورتیں خدا کو سخت ناپسند ہیں بےشک گناہ اس نے کیا ہے
اب تمہیں فیصلہ لینا ہے معاف کرو گی یہ پھر اس سے ہمیشہ کیلئے علیحدہ ہوجائو گی اپنے بچوں کو دو حصوں میں بانٹوں گی
تم دونوں نے اپنی انا میں اپنا گھر تو اجاڑا ساتھ میں ان دو بچوں کی زندگی بھی کو بھی مذاق بنا دیا
آپا آپ کو میں غلط لگ رہی ہو اس نے پہلے مجھے مارا صرف اپنا ایک بدلہ لینے کیلئے جو بدلہ تھا ہی نہیں اور اس نے مجھے دھکے دے کر اپنے گھر سے نکالا تھا مجھ پر بد کرداری الزام لگایا کیا مجھے اس کے پاس جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہرگز نہیں جانا چاہیے تھا تم نے اسے پہلے کیو معاف کیا تھا کیو
کیونکہ تمہیں اس کی ضرورت تھی تمہیں اس کی محبت کی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی
ایسا کچھ بھی نہیں تھا آپا ۔۔۔۔
وہ جھینپ گئی
جھوٹ تم اسے صرف اپنا بنانا چاہتی تھی اسی لیے تمہیں اولاد نہیں چاہیے تھی تاکہ وہ بٹ نہ جائے اور اب ایان روحان کو اس کی ضرورت ہے
تم جلد از جلد کوئی فیصلہ لو اپنے بارے میں کیونکہ چار زندگیاں دائو پر لگی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اس سے کہتی اپنی جگہ پر لیٹ گئی اور کروٹ لے لی
ربانیہ بے بس سی ہوکر انکی پشت کو گھورتی رہی
۔۔ ۔ ۔۔۔
نہیں ہے وہ تمہارے بچے وہ صرف میرے بچے ہیں اس لیے چھوڑ دو ہمارا پیچھا ہم بہت خوش ہیں اپنی زندگی میں ۔۔۔۔۔۔
اس نے زایان کے سامنے ہاتھ جوڑے
وہ کب سے ضبط کیے کھڑا اس کی ہر بات سن رہا تھا مگر اب اس کا ضبط جواب دے گیا
لال انگارہ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتے اس کی بازو کو پکڑ کر اپنے سامنے کیا
وہ میرے بھی بچے ہیں خون ہیں میرا تم ہوتی کون ہو مجھے ان سے ملنے سے روکنے والی ….
نو مہینے انہیں اپنی کوک میں نے رکھا انہیں جنم دیتے ہوئے درد میں نے برداشت کیا تین سال سات ماہ انہیں میں نے پالا اور تم کہتے ہو وہ تمہارا خون ہیں نہیں ہے وہ تمہارا خون میں ان پر تمہارا سایہ بھی نہیں پڑنے دونگی ….
اپنی بازو اس کی گرفت سے نکالتی وہ زایان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
تم ایک باپ کو اسی کے بچوں سے ملنے سے روکو گی ….
اب وہ حیران ہوا
تم ان کے باپ ہو یاد آگیا تمہیں ….
جھٹ سے اس کی آنکھیں کھلی اور وہ اٹھا
شکر ہے خواب تھا ۔۔۔۔۔اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے ہوئے وہ بڑبڑایا
کیا ربانیہ مجھے کبھی معاف کر پائے گی کیا مجھے بچوں سے ملنے دے گی ۔۔۔۔۔
مجھے ابھی اس کے پاس جانا ہے وہ بستر سے اٹھا اور واشروم میں گھس گیا
