Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 44 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44 Part 2
بکواس کررہا ہے یہ اپنا گناہ چھپانے کیلئے یہ جھوٹی فائل لے کر آیا ہے اصل فائل تو میرے پاس ہیں ۔۔۔۔۔
وہ چیخ کر سب کو کہتا اپنے کمرے میں گیا اور وہ فائل لے کر آیا جو ربانیہ کے پاس تھی
یہ ہے وہ فائل جو ربانیہ کے پاس تھی۔۔۔۔۔
اس نے وہ فائل سلمی بیگم کو دی
جبکہ ان کے ہاتھ سے وہ فائل تیمور نے لے لی
یہ اس پر نام سیرت کا ہے اس کی رپورٹس نیچے اٹیچڈ ہے دو ماہ پہلے کی ڈیٹ بھی ہے اور اگر میں غلط نہیں ہو تو ربانیہ کی پریگننسی کو سات ماہ ہوچکے ہیں
جو کہ اس فائل میں لکھا ہے آج کی نیو پریسپرکشن بھی لکھی ہے اندر پچھلے سات ماہ کی ساری ہسٹری بھی لکھی۔۔۔۔
اس نے سب کو چیخ چیخ کر وہ دونوں فائلز دکھائی
اب سب لوگ بے بس نظروں سے زایان کو دیکھ رہے تھے
اس نے وہ دونوں فائلز تیمور کے ہاتھ سے کھینچی اور ان دونوں کو دیکھا
ساری زندگی مقروض رہو گی آپ کی کہ آپ نے میرے تن پر کپڑے رہنے دیے ان کا حساب نہیں مانگا ۔۔۔۔۔
فائلز دیکھنے بعد اس کے کانوں میں ربانیہ کے وہ الفاظ گونجنے لگے
چہرہ ندامت کے پسینے سے شرابور تھا نظریں تھی کہ کسی سے مل نہیں پارہی تھی
میری بہن نے آپ کو اپنی بیٹی سونپی تھی اس یقین کے ساتھ کہ اسے آپ لوگ وہ ساری خوشیاں دے گے جن کیلئے وہ بچپن سے ترستی رہی نہ کی اس لیے کہ وہ دن رات آپ کے بیٹے کے ہاتھوں پٹتی رہے زلیل ہوتی رہے وہ صرف میری بہن کی ہی نہیں آپ کے بھائی کی بھی اکلوتی بیٹی تھی آپ نے کیا کیا اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔
عمر صاحب اپنی دونوں آنکھوں کے آنسوئوں کو انگلیوں سے دبائے سلمی بیگم کے سامنے بیٹھ گئے
بھائی صاحب مجھے میری اپنی اولاد نے بے بس کردیا تھا میں چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکی ۔۔۔۔
وہ عمر صاحب سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی
اس حالت میں جانے وہ کہا گئی ہوگی اس کا تو نہ باپ ہے نہ ماں کہیں وہ کسی غلط ہاتھوں میں آگئی تو کیا منہ دکھائو گا میں اپنی بہن کو۔۔۔۔۔
میں کہا جائو گی اس وقت میرا تو آپ کے سوا اور کوئی بھی نہیں ہے مجھے بتائے میں کہا جائو گی۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ذہن میں پھر ربانیہ کے الفاظ گونج رہے تھے
مطلب بھائی صاحب وہ آپ کے پاس نہیں آئی ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے حیرت سے پوچھا
مگر عمر صاحب سر جھکائے روتے رہے
بیگم صاحبہ وہ پچھلے پانچ گھنٹے سے گھر سے باہر ہیں ان کی تو صبح سے طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی اسی لیے وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی ۔۔۔۔۔
فریدہ سلمی بیگم کے آگے کھڑی انہیں بتانے لگی
میرا فون کہا ہے۔۔۔۔۔ اس نے اپنی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالا مگر اس کی نظر سامنے ٹوٹے اپنے فون پر گئی
رایان اپنا فون دو مجھے جلدی ۔۔۔۔
اس نے رایان سے کہا
کوئی ضرورت نہیں ہے اسے اپنا فون دینے کی
رایان یہ اس کے گھر کی چابیاں ہے وہ وہی ہوگی۔۔۔۔۔
انھوں نے زایان کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے رایان کو اپنے پرس سے چابیاں نکال کردی
اس نے وہ چابیاں لی اور جانے لگا
رکو میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔۔۔۔
تیمور بھی رایان کی طرف بڑھا
ابا جان چلے میں آپ کو گھر چھوڑ کر ربانیہ کو ڈھونڈتا ہو گھر پر سیرت اور منہل اکیلے ہیں آپ ان کے پاس چلے ۔۔۔۔۔
اس نے عمر صاحب کو سہارا دے کر اٹھایا اور رایان کے ساتھ باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔
نگار کے گھر پر اسے تین ہفتے ہوچکے تھے کھانا پینا تو اس کا نا ہونے کے برابر دیکھا سارا دن وی جائے نماز بچھا کر روتے ہوئے سجدے میں گری ہوتی نگار میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کی حالت دیکھ کر اور اس کے ساتھ جو ہوچکا تھا وہ جان کر اسے زایان کے پاس واپس بھیجتی
اس کی حالت دنبدن خراب ہوتی چلی جارہی تھی ڈاکٹر کے پاس جانے کا اگر نگار کہتی تو وہ کوئی جواب نہ دیتی
نگار اس کی وجہ سے اپنے دفتر بھی نہیں جارہی تھی اسے ڈر تھا کہ اس کے پیچھے اس کی طبیعت خراب ہوگئی تو وہ کیسے کرے گی کیونکہ اس کی ڈلیوری کا وقت قریب آچکا تھا
اس کی طبیعت کو دیکھ کر نگار نے اپنے بھائی علی اور بھابھی شیلہ کو اسلام آباد سے بلوایا تھا کہ ان کی بیٹی انعم کے ساتھ وہ کچھ گھل مل جائے گی زندگی کی طرف لوٹ آئے گی علی سمیرا بیگم کو جانتا تھا جب نگار ان سے ملنے جاتی تھی وہی انہیں چھوڑ کر آتا تھا جب اسے پتا چلا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ یہ سب ہوا ہے وہ تو حیران رہ گیا اور نگار سے اگلے ہفتے آنے کا کہا
نگار کو وہ کئی بار کہ چکی تھی کہ وہ یہاں سے بہت دور جانا چاہتی اسے یہاں کی پر چیز میں زایان کا عکس نظر آتا ہے وہ اگر یہاں سے نہیں گئی تو مر جائے گی
رات کو وہ کئی بار ڈر کے مارے آٹھ جاتی اور رونے لگتی نگار اسے جس طرح سنبھالتی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی
اسی لیے نگار نے اپنے دفتر میں ٹرانسفر کی درخواست دی تھی تاکہ وہ اسے لے کر اپنے بھائی کے یہاں اسلام آباد میں شفٹ ہوجائے مگر درخواست کے پچیس دنوں کے اندر ٹرانسفر کروانا ممکن تھا اس سے پہلے دفتر والوں نے صاف انکار کردیا تھا
وہ سورہی تھی جب باہر سے آتی شور کی آواز نے اسے نیند سے بیدار کردیا
آج سے پہلے اس نے نگار کے فلیٹ میں اتنا شور نہیں سنا تھا
آپا آپا ۔۔۔۔اس نے کمرے سے ہی آواز لگائی
وہ دوڑتی ہوئی کمرے میں آئی
کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔ اس کی آواز سن کر وہ پریشان ہوگئی تھی اسی لیے بھاگتی ہوئی آئی
باہر سے شور کی آواز آرہی ہے سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔
وہ ابھی پوچھ ہی رہی تھی کہ کمرے میں شیلہ اور اس کی بیٹی انعم داخل ہوئے
اسلام و علیکم۔۔۔۔ شیلہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
وعلیکم سلام۔۔۔۔ اس نے بھی مئودبانہ جواب دیا
اس کی بیٹی انعم نے تو اسے کس کے گلے ہی لگا لیا
ربانیہ یہ میری بھابھی ہے شیلہ اور یہ میری بھتیجی انعم ۔۔۔۔
نگار نے ان کے بیٹھتے ہی سب کے تعارف کروائے
علی بھی اندر آگیا
اسے دیکھتے ہی وہ نظریں جھکا گئی
علی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس نے سر اٹھا کر علی کی طرف حیران نظروں سے دیکھا
ربانیہ یہ میرا چھوٹا بھائی ہے علی۔۔۔۔
علی کے بیٹھتے ہی نگار نے اسے بتایا
کیسی ہو بیٹا ۔۔۔۔
علی نے اس سے پوچھا
میں ٹھیک ہو ۔۔۔۔
اس نے نظریں نیچے کیے جواب دیا
وہ سب اسی کی طرف دیکھ رہے تھے اور وہ ان کی نظروں کی تپش اپنی اور محسوس کرکے سر جھکائے بیٹھی تھی
اچانک اسے درد کا احساس ہوا اس کے چہرے کے زاویے تبدیل ہوئے
کیا ہوا ربانیہ ۔۔۔۔نگار نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پریشانی میں پوچھا
آپا بہت درد ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ آنکھیں میچے بولی
مجھے لگتا ہے اسے ہسپتال لے کر جانا ہوگا علی آپ گاڑی نکالے میں اور آپا اسے لے کر آتے ہیں ۔۔۔۔۔
شیلہ نے آٹھ کر علی سے کہا تو وہ جلدی سے باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
کل شام جب وہ اسے ہسپتال لے کر آئے تھے تو ڈاکٹر نے ارجنٹ آپریشن کا بتایا تھا
نگار علی شیلہ اور انعم سب ہسپتال میں ہی تھے
دو گھنٹے بعد ڈاکٹر نے انہیں جڑوا بچوں کی آمد کی خوشخبری سنائی
بچوں کو نرسری میں رکھا گیا تھا جبکہ ربانیہ بے حوش تھی
صبح صبح وہ سب لوگ ربانیہ کے کمرے میں موجود تھے
ڈاکٹر انہیں بتا کر گئی تھی کہ وہ ایک گھنٹے تک بچوں کو دے جائے گی
ربانیہ ابھی تک بےحوش تھی اسے کل بلڈ کی ضرورت تھی جو اسے شیلہ نے دیا تھا
۔۔۔۔
تین ہفتے ہوچکے تھے وہ دن رات ربانیہ کا ڈھونڈ رہا تھا سلمی بیگم اور رایان نے تو اس سے بات کرنا ہی چھوڑ دی تھی
اس نے اپنے دوست ایس ایچ اور ولید سے بھی ربانیہ کے سلسلے میں مدد مانگی تھی مگر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا اس کا فون اسی دن ہسپتال میں بیٹری ڈیڈ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا تھا جو ابھی تک نہیں کھلا تھا ورنہ وہ آسانی سے لوکیشن ٹریس کروا سکتا تھا
ربانیہ کے تین دن بعد اسے فرحین کا خیال آیا وہ اپنی گن لیے اس کے فلیٹ میں گیا تھا مگر وہاں پہنچتے ہی جو منظر اس نے دیکھا وہ دنگ رہ گیا فرحین کو پہلے ہی ساری صورت حال سے آگاہی مل چکی تھی زایان کے خوف سے اس نے زہر کھاکر خود کشی کر لی تھی
اور یہی بات اسے دن بدن دیمک کی طرح کھائے جارہی تھی
وہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھا سگریٹ پے سگریٹ پیے جارہا تھا
آپ نہ بہت برے ہیں سارا دن میں آپ کا انتظار کرتی ہو کہ آپ آئے گے میں آپ سے اتنی ساری باتیں کرو گی مگر آپ آتے ہی میرے سامنے اتنی بڑی کھانے کی ٹرے لے آتے ہیں اور سب ایک ساتھ ختم کرو اوڈر آجاتا ہے میں اب سے آپ کے آنے سے پہلے ہی سو جائو گی ۔۔۔۔
حد ہے ویسے یہ نہیں کہ جاکر سارے کپڑے سمیٹے باتیں کرا لو بس دنیا جہاں کی باتیں سنائے گے مگر یہ نہیں کہ جاکر سارے کپڑے سمیٹے ۔۔۔۔۔
اسے اس کمرے کی ایک چیز سے ربانیہ کی آواز آتی تھی
کہاں ہو تم یار کہاں چلی گئی ہو اتنی بڑی سزا بھی کوئی دیتا ہے کسی کو۔۔۔۔۔۔
اپنا سر صوفے سے لگائے آنکھیں بند کیے وہ ربانیہ کو پکار رہا تھا بند آنکھوں سے رخسار پر بہتے آنسوں اس کی اذیت کو واضح کررہے تھے
۔۔۔۔۔
وہ اب ہلکی ہلکی بیدار ہورہی تھی نگار نے اسے جاگتا دیکھ آٹھ کر اسے سہارا دے کر بٹھایا
علی ابھی انعم کو گھر لے کر گیا تھا کیونکہ وہ کل رات سے وہی پر تھے اور وہ بہت تھک چکی تھی
وہ ابھی بھی آنکھیں پوری نہیں کھول پارہی تھی
کیسی طبیعت ہے اب تمہاری۔۔۔۔ نگار نے اس کے پیروں کے پاس بیٹھ کر پوچھا
ٹھیک ہو۔۔۔۔ ہلکی سی آواز نگار اور شیلہ کو سنائی دی
اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک نرس اور وارڈ بوائے دونوں بچے لے کر اندر داخل ہوئے
نرس نے بچہ نگار کو دیا اور وارڈ بوائے میں نے شیلہ کو نرس نے ربانیہ کی ڈرپ چیک کی اور اس کی طبیعت کا پوچھ کر وارڈ بوائے کے ساتھ باہر چلی گئی
ارے ماشا اللہ ماشا اللہ یہ تو بلکل ہماری ربانیہ کی طرح دکھتا ہے ۔۔۔۔
نگار نے شیلہ کو بچہ دکھاتے ہوئے پیار سے کہا
مگر وہ تو اپنی گود میں بچے کے ساتھ مست تھی اسے اور کسی کا خیال ہی نہیں تھا
کیسا لگ رہا ہے ماں بن کر۔۔۔۔۔
نگار بچے کو ہاتھوں میں لیے اس کے سرہانے آکر پوچھنے لگی جو آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی
نگار کے پوچھنے پر اس نے آنکھیں کھولی
ربانیہ جب ہمارا بے بی ہو جائے گا نہ تو میں اس کیلئے ایک الگ الماری بنوائو گا اور اس کے اتنی ساری شاپنگ کرو گا کہ تم دیکھتی رہ جائو گی۔۔۔۔۔۔
ذہن بیدار ہوتے ہی اس کے کانوں میں زایان کی آواز گونجی
ماں بن کر کیسا لگ رہا ہے وہا آپا کیا سوال پوچھا ہے آپ نے ۔۔۔۔
باپ نے ان کے مجھے بے گھر بے سہارا چھوڑ دیا اور آپ پوچھ رہی ہیں ماں بن کر کیسا لگ رہا ہے
جانتی ہے میرا دل کیا چاہ رہا ہے
کہ خود بھی زہر کھا لو اور انہیں بھی زہر کھلا کر مار ڈالو ۔۔۔۔
وہ کرب سے کہتی منہ موڑ گئی اور بچہ دیکھا تک نہیں
اللہ نہ کرے ربانیہ یہ کیسی باتیں کررہی ہو یہ تو اللہ کی طرف سے تمہارے صبر کا تحفہ ہے اس جاہل آدمی کیلئے تم خود کو اور اپنی اولاد کو مارو گی یہ دونوں تو ننھے فرشتے ہیں تمہارے جینے کا سہارا ہیں وہ آدمی تو اتنا کم ظرف ہیں دیکھو آج اس کی اولاد اس دنیا میں ہے مگر وہ اسے دیکھ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔
شیلہ اس کے پاس آکر اسے سمجھانے لگی
دیکھو نہ کتنا پیارا ہے گود میں لو اسے۔۔۔۔
شیلہ نے بچے کو اس کے آگے کرتے ہوئے کہا
مگر وہ اس سے پہلے ہی آنکھیں بند کرچکی تھی
