Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

EPISODE 40

ریڈ کلر کی پٹیالہ شلوار کے اوپر بلیک کلر کی شارٹ شفون کی کرتی پہنے گلے میں ریڈ کلر کا نیٹ کا دوپٹہ ڈالے اور اپنے سنہری لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ منہل کے ساتھ دیواروں پر لگے بلونز کو ایک بعد پھوڑ رہی تھی منہل کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے بعد اور ڈنر کے بعد وہ منہل اور مامو کافی دیر کیرم کھیلتے رہے تیمور اور سیرت بھی انہیں کے ساتھ انجوائے کرتے رہے
مامو تو کیرم کے بعد کافی تھک گئے تھے اسی لیے سونے چلے گئے جبکہ تیمور سیرت کے ساتھ کچن میں برتن دھلوا رہا تھا وہ اسے بار بار منع کررہی تھی مگر وہ اس کی سن ہی نہیں رہا تھا
اب وہ منہل کے ساتھ لگے سارے بلونز پھوڑ رہی تھی یہاں آکر اس کا موڈ کافی اچھا ہو گیا تھا وہ زایان اور فرحین کو تو بھول ہی گئی تھی
منہل یہ تو بہت ہی اوپر ہے اسے کیسے پھوڑے۔۔۔۔۔ وہ اپنی ہائیٹ سے اوپر لگے دو بلونز کے بارے میں منہل کو بتا رہی تھی جیسے ان سے بڑا اور کوئی مسئلہ ہی نہ ہو
جان میں چیئر لے کر آتی ہو آپ رکو ۔۔۔۔
منہل اس مسئلے کو سولو کرتی چیئر لینے چلی گئی
اس نے چیئر لا کر رکھی تو وہ اسے جگہ پر سیٹ کیے اوپر چڑھی
دروازہ کھلا تھا تو وہ اپارٹمنٹ کے اندر آیا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسے ربانیہ پر بےحد غصہ آیا
وہ چیئر کے اوپر چڑھ کر بلونز پھوڑ رہی تھی اور چیئر بلکل ان بیلنس تھی جو بار بار ہل رہی تھی
وہ لمبے لمبے قدم بھرتا اس کے پاس آیا
نیچے اترو ۔۔۔
اس کی بھاری آواز ربانیہ کے کانوں سے ٹکرائی جو اپنی ہی مستی میں بلونز پھوڑ رہی تھی
اس نے چونک کر پیچھے دیکھا تو زایان غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
آ۔۔آپ یہاں
اس امید نہ تھی کہ زایان وہاں بھی پہنچ جائے گا اسے دیکھ کر اس کی تو سماعتیں ہی ہل کر رہ گئی زبان سے بمشکل لفظ ادا ہوئے
زایان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے نیچے اترنے کا اشارہ کیا تو وہ چپ کرکے نیچے اتری
تیمور اور سیرت باہر سے آوازیں سن کر حال میں آئے
اسلام و علیکم بھائی۔۔۔۔۔
سیرت نے آگے بڑھ کر اسے مسکراتے ہوئے سلام کیا کیونکہ وہ پہلی بار اسے اپنے گھر پر دیکھ رہی تھی وہ جب بھی آتا ربانیہ کو باہر سے ہی چھوڑ کر چلا جاتا
وعلیکم سلام۔۔۔۔۔ اس نے بھی اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا جبکہ اس کے ساتھ کھڑی ربانیہ سہمی سی انہیں دیکھ رہی تھی
تیمور سیرت کے پیچھے ہی کھڑا تھا
وہ بھی آگے بڑھا اور اسے ہاتھ ملایا اس نے بھی سنجیدگی سے اس سے ہاتھ ملایا
تیمور نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ اس سے ذرا فاصلے پر بیٹھ گیا
سیرت اور ربانیہ بھی انہیں کے سامنے صوفے پر بیٹھے منہل سیرت کے ساتھ کھڑی زایان کو دیکھ رہی تھی
بھائی آپ ربانیہ کو لینے آئے ہیں ۔۔۔۔۔
سب کو خاموش دیکھ سیرت نے اس سے بات کا آغاز کیا
جی ۔۔۔۔۔اس نے سیرت کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
مگر آج تو اس کا یہی رکنے کا پروگرام ہے۔۔۔۔۔
سیرت نے اپنے ساتھ بیٹھی ربانیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو زایان سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
مگر ربانیہ تم نے تو مجھے ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔
اب وہ ربانیہ کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
(یہ نہیں کہا تو لینے کا بھی نہیں کہا تھا) اس نے زایان کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا
وہ آپ کو فون سوئچ آف آرہا تھا میں نے پھپھو کو بتا دیا تھا ۔۔۔ ۔
وہ وہاں بیٹھے سب لوگوں کو دیکھتے ہوئے زایان سے بولی
ربانیہ کے فون سوئچ آف والی بات پر اس نے ربانیہ کو گھورا کتنی صفائی سے جھوٹ بول رہی تھی
ہممم مگر جان تمہیں کل رات سے بخار ہے اور تم نے میڈیسنز بھی نہیں لی ہوگی اسی لیے آج تم واپس چلو ۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتا ہوا نرمی سے بولا اور جان لفظ پر تو وہاں بیٹھے سب لوگ چونک گئے
ربانیہ نے تو شرمندگی سے سر جھکا لیا اس میں کہا ہمت تھی کہ سب کو دیکھتی
تیمور تو اس کے کھلے عام شوخ ہونے پر ادھر ادھر دیکھنے لگا جبکہ سیرت نے شرارت سے ربانیہ کی بازو پر کونی ماری جسے کیلئے ربانیہ نے اسے گھوری سے نوازا
انکل ہم نے تو ابھی لان میں پکڑن پکڑائی کھیلنی ہے ۔۔۔۔۔
اب کی بار منہل اس کے سامنے آئے بولی
ہم نے ابھی تک صرف کیرم ہی کھیلا ہے۔۔۔۔۔
وہ منہ بنائے بولی وہ اتنی خوش تھی کہ ربانیہ آج وہی رک رہی ہے کل سنڈے تھا اسی لیے اس نے ساری رات جاگنے کا پلان بنایا تھا
اچھا اور یہ کیا کیا کرتی ہے یہاں ۔۔۔۔۔۔
زایان نے ایک غصیلی نظر سے سامنے سیرت کے ساتھ بیٹھی اسے دیکھتی ربانیہ پر ڈالی اور منہل سے پوچھا
بیڈ منٹن کرکٹ اور ہاں فٹ بال بھی کھیلتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے زایان کو یہ باتیں ایسے بتائی جیسے ان سے ضروری اور کچھ ہو ہی نہیں
جب کہ وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا رہا تھا اور وقفے وقفے سے ایک نظر اس پر بھی ڈال رہا تھا جو مسلسل پریشانی میں اپنی انگلیاں آپس مسل رہی تھی
انکل آپ میری جان کو آج نہ لے جائے نہ میں نے اتنے سارے پلینز بنائے ہیں آج رات کیلئے پلیز انکل۔۔۔۔۔
اب وہ زایان کا ہاتھ پکڑے معصومیت سے منت کرنے لگی
لٹل گرل تمہاری یہ جو جان ہے نا اس میں بھی میری ایک چھوٹی سی جان ہے جس کا میں بہت ویٹ کررہا ہو آج نہیں کسی اور دن روک لینا آج مجھے بھی اس کے ساتھ فٹ بال کھیلنی ہے ۔۔۔۔
وہ وہاں موجود تمام لوگوں کی پرواہ کیے بغیر منہل سے بولا جبکہ ربانیہ اب آنکھوں ہی آنکھوں سے اس سے منت کررہی تھی
منہل تم انکل کو اپنا برتھ ڈے کیک تو کھلائو ۔۔۔۔
سیرت نے اس کی باتوں سے نروس ہوکر منہل سے کہا
اوکے مما ۔۔۔۔ایک اداس نظر زایان پر ڈالے وہ سیرت کے ساتھ کچن میں چلی گئی
میں بھی ان کی ہیلپ کراتا ہو۔۔۔۔ تیمور کو ان دونوں کے درمیان خود کو بیٹھا دیکھ انکمفرٹیبل لگا اسی لیے وہ ان دونوں سے کہتا کچن میں چلا گیا
تیمور کے جاتے ہی اس نے سامنے بیٹھی سلمی بیگم کی بہو کو دیکھا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی اس کی ڈریسنگ کا بھرپور جائزہ لینے لگا شارٹ شرٹ میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی مطلب وہ اسے صحیح نام دے کر آیا تھا کوئین یہ سوچ کر وہ مسکرایا
مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ اس کے ساتھ زیادہ فری نہیں ہوگا اس کی لاپرواہیاں دیکھ کر وہ اس کی اچھی خاصی طبیعت صاف کرنے والا تھا
اتنے میں سیرت منہل کے ساتھ ٹرالی لے کر باہر آئی اور تیمور عمر صاحب کو بلانے چلا گیا
ربانیہ نے بھی سکھ کا سانس لیا کیونکہ وہ مسلسل زایان کی نظریں خود پر محسوس کرکے نروس ہورہی تھی
انکل یہ لے۔۔۔۔ منہل نے پھولے ہویے منہ کے ساتھ اس کے کیک کی پلیٹ کی
کیونکہ اس شخص نے آتے ہی اس کے پورے پلین کا بیڑا غرق کردیا تھا
ارے آج تمہارا برتھ ڈے ہے ۔۔۔۔
زایان نے کیک دیکھ کر اس سے پوچھا
یس ۔۔۔۔منہل نے جواب دیا
مگر میں تو کوئی گفٹ ہی نہیں لایا ہو ۔۔۔۔
اس نے کہتے ہی منہل کا گال کھینچا
اس نے پلیٹ میں رکھا کیک دیکھا اور تھوڑی سے کریم منہل کی ناک پر لگا دی
ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔ کیک لگاتے ہی زایان نے مسکراتے ہوئے اسے وش کیا تو وہ بھی مسکرائی
دو مہینے پہلے ہماری اینیورسری انہیں تو یاد ہی نہیں تھی تو کسی کا برتھ ڈے کیسے یاد رکھے گے
وہ انہیں دیکھ کر دل ہی دل جل کر بولی
زایان نے بس تھوڑا سا کیک ہی ٹیسٹ کیا اتنے میں عمر صاحب بھی تیمور کے ہمراہ باہر آئے
انہیں دیکھتے ہی وہ کھڑا ہوگیا اور ان سے ملا
بیٹا بہت رات ہو گئی تھی تم کال کردیتے ہم ربانیہ کو پہنچا دیتے۔۔۔۔ عمر صاحب نے بیٹھتے ہی اس کی سہولت کیلئے کہا
مامو جان وہ کیا ہے نا آپ کی بھانجی نے مجھ سے کہا تھا اگر آپ لینے نہ آئے تو میں نہیں آئو گی۔۔۔۔۔
اس نے ربانیہ کو دیکھتے ہوئے شرارت میں کہا تو عمر صاحب اور سیرت تو ربانیہ کو دیکھ کر مسکرائے جبکہ تیمور نے کوئی عمل ظاہر نہ کیا
ہا مامو یہ جھوٹ بول رہے ہیں میں نے ایسا کب کہا تھا ۔۔۔۔
اپنے اوپر اٹھنے والے اتنے بڑے الزام سے تو وہ تپ کر رہ گئی
اچھا یہ بات نہیں بتانی تھی کیا ۔۔۔۔۔وہ اسے دیکھ کر معصوم بن کر بولا
وہ تو روہانسی ہوکر سب کے منہ ہی دیکھتی رہ گئی خاص کر سیرت کی شرارتی نظریں اگر وہ اکیلی ہوتی تو وہ ضرور اسے چھیڑتی
ماشا اللہ ماشا اللہ اللہ تم دونوں کو ایسے ہی خوش رکھے ایسے ہی ہنستے رہو ۔۔۔۔۔
عمر صاحب نے انہیں مسکراتے ہوئے دعا دی
اچھا مامو جان اب ہمیں اجازت دے ۔۔۔۔۔
کچھ باتو کے بعد وہ کھڑا ہوگیا
ارے بیٹا تم نے تو کچھ لیا ہی نہیں ۔۔۔۔عمر صاحب بھی کھڑے ہوگئے
بس مامو جان ویسے بھی میں ڈنر اس کے ساتھ گھر جاکر ہی کرو گا ۔۔۔۔۔۔
اس نے پھر ٹونٹ کیا تو ربانیہ چادر کے بہانے اندر بھاگ گئی
تمہارا برتھ ڈے گفٹ ادھار رہا لٹل گرل ۔۔۔۔
زایان نے منہل کے بال خراب کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا
وہ بھی مسکرائی
ربانیہ تیار ہوکر باہر نکلی تو سب سے مل کر وہ لوگ چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے نوٹ کررہا تھا کہ وہ اسے دیکھ رہا تھا مگر اس کی نظریں باہر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی
بور ہوکر اس نے میوزک آن کیا
اے ناراضگی کاغذی ساری تیری میرے سوڑھیاں سن لے میری۔۔۔۔۔
دل دیاں گلاں
گانا سنتے ہی ربانیہ نے تو زبان تالو سے چپکا لی
مگر زایان کافی انجوائے کررہا تھا
مگر اگلی لائنیں اسے کافی بورنگ لگی تو میوزک آف کردیا
ویسے میرے دل کی طرح میوزک بھی تمہارا دیوانا ہو گیا دیکھو تمہارے موڈ کے حساب سے سونگ لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
زایان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جس کی نظر شیشے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی
مگر وہ چپ رہی
اچانک زایان نے گاڑی کو بریک لگائی
اور ایک سڑک پر سائڈ میں کار روک دی
ربانیہ نے مڑ کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
کب تک ناراض رہو گی ۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
میں تو گھر سے اس لیے آئی تھی تاکہ آپ کو میرا روز والا روتا دھوتا سوجا ہوا چہرہ نہ دیکھنے کو ملے ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے روٹھے انداز میں بولی
جب سے شادی ہوئی ہے پہلا کام صحیح کیا ہے تم نے ۔۔۔۔
توقع کے خلاف جواب آیا وہ سوچ رہی تھی کہ زایان اسے پیار سے منائے گا مگر وہ تو اس کے ایک ہی جملے میں ڈھیر ہوگیا
تو رہنے دیتے وہی پر آپ کے سر سے بھی عذاب ختم ہوجاتا اور جو کرنا تھا آواز سے کرتے فرحین کے ساتھ ۔۔۔۔
وہ زایان کی باتیں سن کر تپ کر بولی
اب ہمارے درمیان فرحین کہا سے آگئی ۔۔۔۔۔
اسے اپنے درمیان فرحین کی مداخلت پسند نہ آئی
دیکھو میں اسے اس لیے گھر لایا تھا کیونکہ ۔۔۔۔
مجھے آپ کے فرحین نامے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے آپ اسے کیو لائے کس لیے لائے وہ سب آپ اپنے تک رکھے آپ کا جو دل کرتا ہے کرے مجھے اس سب میں مت گھسیٹے ۔۔۔۔۔۔
اس نے دوٹوک اپنی بات کہی جو زایان کو بلکل اچھی نہ لگی زایان نے غصے میں اپنا ہاتھ زور سے سٹیرنگ پر دے مارا ربانیہ آواز سن کر ڈر کے مارے پیچھے ہٹی
جب نہیں بتا رہا تھا کہ وہ کیو آئی ہے تب بھی تمہیں مسئلہ تھا اور اب جب بتا رہا ہو تب بھی تمہاری اس عقل پر تالے پڑے ہوئے ہیں
تم گھر چلو میں تمہیں بتاتا ہو ۔۔۔۔۔
غصے میں لب بھینچے وہ بولا اور گاڑی سٹارٹ کردی
ربانیہ تو گاڑی کی سپیڈ دیکھ کر ہی دھل گئی کبھی وہ سامنے دیکھتی تو کبھی زایان کا سرخ ہوتا چہرہ
۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی وہ اس کا ہاتھ پکڑے گھسیٹنے والے انداز میں اسے کمرے میں لے کر آیا
کمرے میں لا کر اسے درمیان میں کھڑا کر دیا اور کمرہ لاک کردیا
ساری رات یہی کھڑی رہنا خبردار جو یہاں سے حلی تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا میں اور اگر ایک بھی آنسو بہایا نہ تو دیکھنا میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہو
اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوتا دیکھ وہ اس کی تھوڑی پکڑے وہ غراتے ہوئے بولا
اسے آنکھیں دکھاتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا
اس کے جاتے ہی ربانیہ نے اپنی آنکھیں صاف کی ایک تو اتنا ہیوی ڈریس اوپر سے چادر اور ہینڈ بیگ کے ساتھ وہ جیسے کھڑی تھی وہی جانتی تھی
بار بار اپنی آنکھیں صاف کررہی تھی مگر ڈر کی وجہ سے ان میں نمی آرہی تھی
چینج کرکے باہر نکلا تو اسے ایک کاٹ دار نظر سے گھورتے ہوئے بیڈ پر جا بیٹھا
اور آنکھ پر آنکھ ٹکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ کمرے میں درمیان خود میں سمٹی کھڑی تھی
مشکل سے پانچ منٹ ہوئے ہونگے کہ اس کی ٹانگیں کانپنا شروع ہوگئی
مجھے ۔۔معاف کردے۔۔ پھر کبھی ایسی ۔۔۔غلطی نہیں کرونگی۔۔۔۔
اس کی آواز کسی کھائی میں سے آئی
زایان کو بھی اس پر ترس آگیا
آئندہ ایسی غلطی ہونی بھی نہیں چاہیے دفعہ ہوجائو ۔۔۔
وہ اسے کہتا خود لیٹ گیا اور آنکھوں پر اپنی بازو رکھ دی
پندرہ منٹ لگے اسے چینج کرنے میں
چینج کرکے روم میں آئی اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ زایان کے پاس جا سوتی اسی لیے صوفے پر سونے کے ارادے سے وہی جانے لگی
اب انوائیٹ کرو کہ تمہیں کہا سونا ہے ۔۔۔۔اس کے قدم پر صوفے کی طرف جاتے دیکھ اس نے آنکھوں سے بازو ہٹائی اور غراتی آواز میں کہا
وہ اس کی آواز سن کر دبے پائو واپس بیڈ کی طرف آئی اور اس کی طرف کروٹ لیے لیٹ گئی
عجیب مصیبت ہے لائٹ اچھی نہ لگے تب بھی جلائو میڈم کو ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔
ایک اور آواز جو اس کے کانوں میں سوئی کی طرح چبھی
ایک سال بعد اسے اس چیز کا خیال آیا تھا
ربانیہ نے افسوس کرتے ہوئے اپنی سائڈ والا لیمپ آف کردیا
اور بلینکٹ میں منہ چھپائے سو گئی
لائٹ بند ہونے پر زایان نے ایک نظر اسے دیکھا جو منہ تک بلینکٹ اوڑھے سوئی ہوئی تھی مگر وہ اسے آج کوئی رعایت نہیں دینے والا تھا اسی لیے وہ بھی سو گیا
۔۔۔۔۔۔
صبح پہلے زایان کی آنکھ کھلی تو اس نے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا جو گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اسے بھی اب کہا عادت تھی اندھیرا دیکھنے کی
ساتھ سوئی ہوئی ربانیہ پر ایک نظر ڈالی جو اندھیرے کے ڈر کی وجہ سے ابھی بھی بلینکٹ میں منہ چھپائے سو رہی تھی
اسے کل رات والا اس کے ساتھ اپنا بہیویر یاد آیا وہ واقعی ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ربانیہ ایک ہی بات وہ دو دن سے سن سن کر تھک گیا تھا
اب وہ اس سے پکا ایک ہفتے تک تو بات بھی نہیں کرے گی زایان نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا
آزان کی آواز آئی کچھ دیر بعد بھی ربانیہ نہ اٹھی تو زایان نے اس کے منہ سے بلینکٹ ہٹایا
ربانیہ ۔۔۔۔اس نے ربانیہ کا کندھا ہلایا
پکا پھر ایسا نہیں کرونگی کبھی فرحین کا نام بھی لونگی۔۔۔۔۔
اس کے ہلاتے ہی وہ نیند میں بڑبڑائی
زایان کو اندازہ ہو گیا کہ وہ نیند میں بھی اس سے ڈری ہوئی تھی
ربانیہ۔۔۔۔ زایان نے اس کے کان کے پاس جاکر آواز لگائی تو وہ جھٹکا کھا کر اٹھی
نہیں نہیں میں نے کچھ نہیں کہا فرحین کا نام بھی لیا پکا ۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہی جلدی جلدی بولی
اے سی آن تھا مگر اس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چھائیں ہوئی تھی
ریلکس کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔ زایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نرمی سے کہا اس کے رات والے رویے سے وہ بہت ڈر گئی تھی
ربانیہ نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیا
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔زایان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھوڑا ٹمپریچر تھا
ربانیہ نے ویسے ہی بیٹھے سر ہا میں ہلایا
آپ کو کوئی کام تھا۔۔۔۔۔ نارمل ہوتے ہی اس نے زایان سے پوچھا
مجھے کوئی کام ہوگا تبھی تمہاری یاد آئے گی۔۔۔۔
اس کے بالوں کی لٹیں اس کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے زایان نے آہستہ سے کہا
تم کچھ بول کیو نہیں رہی ویسے تو سارا دن میرا دماغ کھاتی ہو۔۔۔۔۔
اسے مسلسل چپ بیٹھے دیکھ زایان نے پوچھا اسے وہ وہی ربانیہ لگی جسے وہ شروع شروع میں دیکھتا تھا
رات کو آپ نے بہت کچھ باور کرادیا تھا ضرورت سے زیادہ بات مجھے آپ سے نہیں کرنی ۔۔۔۔
نطریں چرائے اس نے کہا اپنا ہاتھ اس سے چھڑانے لگی مگر زایان کی گرفت سخت تھی
زایان نے اسے جھٹکے سے اسے واپس لٹایا اور اس کے گرد بازوئوں کا حصار بنا دیا
تو میرا دماغ خراب کس نے کیا تھا ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
مگر وہ چپ رہی اور اسے دیکھتی رہی
میں اپنی وہ والی ربانیہ کو مس کررہا جو سارا دن بولتی رہتی ہے چپ ہی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔
زایان نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے بولا مگر کل رات وہ اس سے بہت ڈر گئی تھی
میرے منہ سے جو باتیں نکلتی ہے وہ آپ کو ناگوار لگتی ہے۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے خفا نظروں سے بولی
ارے کہا میری جان مجھے تو بہت اچھی لگتی بس تم ہمارے ٹائم میں صرف ہماری باتیں کیا کرو نہ کی کسی اور کی ۔۔۔۔
اچھا چلو ایک کام کرو بریک فاسٹ کرنے کے بعد تیار ہوجانا آج ہم سارا دن ایک ساتھ گزارے گے ۔۔۔۔
اس کی کہی باتوں پر بھی ربانیہ خاموش تھی اسی لیے وہ دوبارہ بولا
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے مجھے کہی نہیں جانا ۔۔۔۔
سنڈے والے دن انکو یاد آئی ہے میری کہ تیار ہوجائو نہیں جانا مجھے اس نے دل میں سوچا اور منع کردیا
ربانیہ اب اتنی ناراضگی بھی اچھی نہیں ہے دو دن سے میں تمہیں منا رہا ہو مگر تم تو۔۔۔
دیکھو میری جان تمہیں فرحین سے مسئلہ ہے نہ وہ آج ہی یہاں سے چلی جائے گی اب تم کسی غیر کیلئے مجھ سے اس طرح ناراض ہوگی
بگڑتے موڈ کو زایان نے دوبارہ نارمل کیا
غیر وہ میرے لیے تو غیر ہے مگر آپ کی تو بہت کچھ لگتی ہے آپ ہی نے مجھا بتایا تھا۔۔۔۔۔
کیو تمہیں شک ہے کہ میں نے اس سے خوفیہ نکاح کیا ہوا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شرارت سے بولا
ربانیہ نے اس کی بازو کی مکہ جڑا
آئوچ اتنی زور سے کون مارتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ تو بیچارا تڑپتا رہ گیا
بہت شوق ہے آپ کو خوفیہ نکاح کرنے کا ۔۔۔
وہ ازلی غصے سے بولی
زایان نے اس کی بات پر قہقہ لگایا
شوق تو میرے بہت ہیں کوئی سمجھتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔
افسوس کرتا وہ بولا
آپ کے تو سارے شوق ہی خطرناک ہوتے ہیں ۔۔۔۔
وہ اس کی گردن میں اپنے دونوں بازو حائل کرتی اکڑ کر بولی
جیسے تم سے شادی شوق ۔۔۔
ربانیہ نے اسے آنکھیں دکھائی
مطلب یار تم کوئی بلاسٹ سے کم تھوڑی ہو ۔۔۔۔
اس کے اس طرح کہنے پر ربانیہ کو ہنسی آئی
ایسی سمائل ہر وقت تمہارے چہرے پر ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے بولا
اچھا اب ہٹے مجھے واشروم جانا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہنسی دبائے بولی
تم کہو تو میں تمہیں اٹھا کر چھوڑ آئو ۔۔۔
اور یہ کرم نوازی کس لیے ۔۔۔
وہ بھی اب مغرور ہوئی
یہ جو تمہارے شوہر نے اتنے سال جم میں یہ شولڈرز اور سکس پیکس بنائے ہیں کہیں تو استعمال کرنے ہیں نا۔۔۔۔۔
ترکی با ترکی جواب آیا
اچھا اب زیادہ پھیلے نہیں بریک فاسٹ کے بعد میں ریڈی رہو گی۔۔۔۔
وہ آرڈر دیتی ہوئی معنی خیز بولی
بندہ حاضر ہے وہ بھی محبت سے کہتا اس سے دور ہوا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔