Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

جب زایان کی آنکھ کھلی تب اس نے سامنے سوئی ہوئی ربانیہ کو دیکھا جو کسی طرح خود کو وہاں مینج کررہی تھی رات ٹھیک سے نہ سونے کی وجہ سے وہ صوفے پر ہی گہری نیند سو گئی
وہ اسے دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ وہ اسی کا انتظار کرتے کرتے سوگئی ہوگی وہ اسے فرحین کے بارے میں سب کچھ بتانا چاہتا تھا مگر فرصت میں رات وہ واقعی بہت تھک گیا تھا اسی لیے خاموشی سے سو گیا
وہ اس کے پاس آیا اور اسے بازو پر اٹھالیا نیند گہری تھی اسی لیے اسے محسوس ہی نہ ہوا وہ اسے بیڈ پر سلانے کے بعد وہ سلمی بیگم کے کمرے میں چلا گیا
اس نے سلمی بیگم کو فرحین کے حالات کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ جب تک اس کا شوہر اسے طلاق نہیں دے دیتا وہ یہی رہے گی کیونکہ کل رات فرحین نے اسے اسی لیے بلایا تھا کہ اس کا شوہر نعمان مسلسل اسے کال کرکے مارنے کی دھمکی دے رہا تھا اور آج زایان اور فرحین اسی سے ملنے والے تھے
سلمی بیگم نے بھی اس کی حالت جاننے کے بعد اس کے رہنے سے کوئی اعتراض ظاہر نہ کیا وہ خود بھی فرحین سے ملی اور اسے تسلی دی
۔۔۔۔۔۔
جب ربانیہ کی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پاکر اسے پہلے حیرت ہوئی مگر وہ سمجھ گئی کہ اسے زایان نے ہی یہاں لٹایا ہوگا وہ اکثر اس کی لاپرواہی پر اسے ڈانٹتا تھا
گھڑی پر نظر پڑتے ہی اس نے سکھ کا سانس لیا کہ زیادہ دیر نہیں ہوئی سب ابھی بریک فاسٹ کررہے ہو گے
وہ جلدی سے چینج کرنے چلی گئی
۔۔۔۔۔
نیچے آئی تو کوئی بھی ڈائننگ ٹیبل پر موجود نہیں تھا
فریدہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ رایان یونیورسٹی چلا گیا تھا اور حسان سکول باقی زایان اور سلمی بیگم انہیں کے کمرے میں تھے
وہ اس کے ساتھ بریک فاسٹ بنانے لگی
فریدہ ڈائننگ ٹیبل پر بریک فاسٹ لگا رہی تھی جب سلمی بیگم اپنے کمرے سے باہر آئی اور انہیں کے پیچھے زایان اور فرحین بھی
ربانیہ ابھی جوس کا جگ ہاتھ میں لیے ڈائننگ ٹیبل پر آئی تھی کہ اس کی نظر سامنے سے آتی فرحین اور زایان پر پڑی یہ منظر اس کی آنکھوں
کو کس طرح چبھا یہ وہی جانتی تھی
سلمی بیگم نے کرسی سنبھالی تو زایان کے ساتھ والی کرسی پر فرحین بیٹھی جو ربانیہ کو بہت ناگوار گزرا
مگر زایان اس کی طرف کیو نہیں دیکھ رہا تھا یہی سوچ سوچ کر اسے جلن ہورہی تھی
وہ غصہ پیتی ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی
جب کہ فرحین بار بار اپنی طرف اس کی چبھتی نظریں محسوس کررہی تھی
فرحین تم تیار ہوجائو آج تم میرے ساتھ آفس چل رہی ہو ۔۔۔۔
بریک فاسٹ کرتے ہوئے زایان نے فرحین سے کہا تو فرحین نے ایک نظر اسے غصے سے گھورتی ربانیہ کو دیکھا پھر پلیٹ میں جھک گئی
تم بریک فاسٹ کیو نہیں کررہی ۔۔۔۔۔
اسے مسلسل بائول میں رکھے کارن فلیکس میں چمچ ہلاتے زایان بولا
مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔دانت پیستے ہوئے اس نے زایان سے کہا اور چمچ کو زور سے بائول میں چھوڑے وہ اٹھی اور جانے لگی اس کے اس بی ہیویر کو وہاں بیٹھے تمام لوگوں نے نوٹ کیا
واپس آئو۔۔۔۔ اس کے اس طرح جانے پر زایان نے اپنی بھاری آواز میں اس کے قدم روکے
مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔وہ پھر سے ضبط کرتی بولی
میں نے تم سے کہا واپس آئو اور بریک فاسٹ ختم کرو ۔۔۔۔۔اب کی بار لہجے میں مزید سختی آئی
ربانیہ کو لگا جیسے زایان نے اس کی کھلے عام انسلٹ کی ہے وہ پیر پٹکتی واپس اس کے سامنے آ بیٹھی
تم سے جتنا کہا جائے اتنا کیا کرو سب کے سامنے میں تمہارے یہ نخرے بلکل برداشت نہیں کرونگا ۔۔۔۔۔
اس کے بیٹھتے ہی زایان اس کی طرف سرد نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا
سلمی بیگم اور فرحین نے تو چپی میں ہی عافیت جانی جبکہ اسے اپنی انسلٹ کچھ زیادہ ہی محسوس ہوئی
ایک غصیلی نظر سے فرحین کو گھورتے اس نے کارن فلیکس کے دو چمچ بھرے جیسے زہر کھا رہی ہو
تم بس پانچ منٹ رکو میں ابھی چینج کرکے آتی ہو ۔۔۔۔۔
ناشتہ ختم ہوتے ہی فرحین نے زایان سے کہا اور روم میں چلی گئ
اس کے پیچھے سلمی بیگم بھی اپنے کمرے میں چلی گئی
میں نے تم سے دو چمچ کھانے کو نہیں کہا تھا۔۔۔۔
ان کے جاتے ہی زایان پھر بولا
اس کے اس طرح سے کہنے پر دوبارہ چمچ کو بائول میں دے مارا اور زایان کی پرواہ کیے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئی
زایان کو تو ابھی بھی یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اسے غصہ کس بات پر آرہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے اپنے دوپٹہ اتار کر دور پھینکا اور بیڈ پر بیٹھی غصے سے بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں جکڑ لیا
پانچ منٹ ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ بالکونی میں آگئی تاکہ اس کا غصہ تازہ ہوا سے کچھ کم ہو مگر نیچے کا منظر اسے مزید تیش دلا گیا
فرحین اس کی بلیک فراک میں ملبوس زایان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اور وہ چلے گئے
میرے گھر اور شوہر کو تو پہلے ہی اپنے قبضے میں کرچکی ہے اور اب میرے کپڑے بھی ۔۔۔۔۔
اس نے کمرے میں آتے ہی بڑبڑائے ہوئے زایان کی فیورٹ پرفیوم بوٹل دیوار پر دے ماری اور وہ زمین پر کرچی کرچی ہوکر پڑی تھی
۔۔۔۔
تم اسے چھوڑنے کی کیا قیمت لوگے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے آفس میں بیٹھا سامنے بیٹھے نعمان سے بولا اور اسی کے ساتھ فرحین بیٹھی تھی جو سر جھکائے سب سن رہی تھی
تم ہوتے کون ہو اس کے جو باڈی گارڈ کا فریضہ انجام دے رہے ہو۔۔۔۔
نعمان فرحین کو دیکھتا ہوا ڈھٹائی سے بولا
اٹس نن آف یور بزنس ۔۔۔۔۔
زایان اسے شہادت کی انگلی دکھاتے ہوئے وارن کرتے بولا
افکارس اٹس مائی بزنس کوئی بھی ایرا گیرا آکر کہے گا کہ اپنی بیوی کو چھوڑ دو تو کیا میں پاگل ہو جو چھوڑ دونگا ۔۔۔۔۔
میں تمہاری بیوی کے بارے میں ایسا بولو تو کیا تم میری بات مان لوگے
وہ کسی بھی حال میں فرحین کو چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھا
زایان یہ سنتے ہی کھڑا ہوگیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا تو نام بھی مت لینا ۔۔۔۔۔۔
زایان اسے ایک مکے نوازتا دور پھینک چکا تھا جبکہ فرحین اس سب کیلئے تیار نہ تھی تو شاک کیفیت میں تماشہ دیکھتی رہی
جا جا بہت دیکھے تیرے جیسے دیکھ لو نگا میں تجھے ۔۔۔۔۔
زایان کے مکے سے اس کے ہونٹوں پر بری چوٹ آئی جسے وہ صاف کرتا اسے وارن کرنے لگا
دیکھو گا تو میں تجھے وہ بھی کورٹ میں ۔۔۔۔۔
زایان کے گارڈز اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جارہے تھے جب زایان نے اسے آخری بار کہا
تم پریشان مت ہو کچھ نہیں کرے گا یہ تمہیں ۔۔۔۔۔
نعمان کے جاتے ہی وہ اپنے سامنے روتی فرحین سے بولا
مگر کیسے تم نے دیکھا نہ وہ کسی بھی صورت میں طلاق نہیں دے گا مجھے۔۔۔۔۔
وہ اپنے آنسو صاف کرتی زایان سے پوچھنے لگی
وہ میرا کام ہے تم اس کی ٹینشن مت لو ابھی اٹھو میں تمہیں گھر چھوڑ کر آتا ہو ۔۔۔۔۔
اسے فرحین کی یہ حالت اریٹیٹ کررہی تھی اور اسے ربانیہ کو بھی منانا تھا پتا نہیں اس نے دوپہر کا ناشتہ کیا بھی ہوگا یہ سوچتے ہی اس نے گھر جانے کا ارادہ کیا اور فرحین کے ہمراہ گھر کیلئے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔
جب وہ گھر آیا تو سلمی بیگم نے اسے بتایا کہ ربانیہ اس کے جانے کے بعد باہر ہی نکلی فریدہ دو بار اسے دوپہر کے کھانے کیلئے بلانے گئی تھی مگر اس نے طبیعت خرابی کا کہ کر منع کردیا سلمی بیگم بھی ایک بار اس کے کمرے میں گئی مگر اسے لیٹا دیکھ وہ واپس چلی آئی
۔۔۔۔۔۔
وہ روم میں آیا تو ربانیہ بیڈ پر بیٹھی اپنے آئرن کیے گئے ہینگر میں ہینگ کررہی تھی
اس کی موجودگی کا احساس ہوئے ہی ربانیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا
مگر اسے دیکھتے ہی اسے صبح والی اپنی انسلٹ یاد آئی اور اسے نظر انداز کرتی اپنا کام کرنے لگی
اس کے اس طرح کرنے سے زایان کو ہنسی آئی بلکہ خوشی ہوئی کہ وہ اسے لے کر اتنی پوسیسیو ہے جسے وہ چھپا گیا
ربانیہ اس نے ربانیہ کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ نرمی سے پکارا جسے ربانیہ نے اریٹیٹ ہوتے ہوئے ہٹایا
سوری
زایان نے اس کے آگے آکر اپنے دونوں کان پکڑتے ہوئے معصومیت سے کہا
جسے ربانیہ نے گھور کر اگنور کر دیا
آخر تمہیں اتنا غصہ کس بات پر آرہا ہے
اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر بیڈ پر رکھے اور کندھوں سے پکڑ کر اس سے پوچھنے لگا
آپ کو اس سے کیا آپ جائے اپنی اس فرحین کے پاس
وہ ناک پر دنیا جہان کا غصہ سجائے اپنے کندھوں کو اس کی پکڑ سے آزاد کرتی دوبارہ اپنے کپڑوں میں الجھ گئی
یار اب میں تمہیں کیا بتائو کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے تم اس موڈ میں ہو
ایک بار پھر وہ اس کے سامنے آکر صفائی پیش کرنے لگا
تو آپ ایک کام کیو نہیں کرتے اپنے گھر میں ایک دارالامان کھول لے اور ہر ضرورت مند کو میرے سر پر لا کر بٹھا دے
زایان کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ ضبط کر گیا کیونکہ پچھلے دو ماہ سے اسے ربانیہ کے اس بی ہیویر کی عادت ہو گئی تھی
ربانیہ تم اب اوور ریکٹ کررہی ہو
تو آپ سے کس نے کہا ہے کہ میرے نخرے اٹھائے اسی کے پاس جائے یا پھر اس نے کمرے سے نکال دیا
اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ بولی
ربانیہ مائنڈ یور لینگویج جانتی بھی ہو کیا کہ رہی ہو
اب کی بار وہ سختی سے بولا
ٹھیک ہے مت کرے مجھ سے بات اور جائے اسی سے بات کرے
یہ تمہاری سوئی بار بار فرحین پر ہی کیو اٹکتی ہے
وہ اسے اب آزما رہی تھی
اسے آپ ہمارے درمیان لے کر آئے ہیں بلکہ سوری آئی تو میں ہو آپ دونوں کے درمیان وہ تو مجھ سے بھی پہلے آپ کے کمرے۔۔۔
اس کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے جب زایان کا ہاتھ ہوا میں رکا
مارے نہ رک کیو گئے پہلے بھی مارتے تھے اب بھی مارے
وہ اس کے مزید سامنے آگئی
میں سارا دن آفس میں کام کرتا ہو اور گھر تھکا ہوا آتا ہو تاکہ کچھ تمہاری سنو کچھ اپنی سنائو مگر تمہاری سوئی تو ایک ہی بات پر اٹک گئی ہے تمہارا تو میں کچھ بندوبست کرتا ہو
وہ اسے بیڈ پر دھکا دیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا غصے سے وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
زایان کے کمرے سے جاتے ہی اس نے رونے کا کام دوبارہ شروع کردیا اسے شدت سے احساس ہوا کہ کوئی ایسا ہو جسے وہ اپنے دل کا حال سنائے
اپنے دل کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے اس نے نگار کو کال ملائی
جسے دو تین بلز کے بعد اس نے ریسیو کیا
ارے آج میری یاد کیسے آگئی
نگار کی میٹھی آواز اس کے کانوں میں گھلی تو وہ جذباتی ہوگئی
اور زور زور سے رونا شروع کردیا
کیا ہوا بیٹا رو کیو رہی ہو
نگار کو اس کا رونا پریشانی میں مبتلا کرگیا
آپا زایان ویسے بلکل نہیں ہے جیسے وہ دکھتے ہیں اب وہ مجھ سے بیزار ہوگئے ہیں
روتے روتے اس نے اپنی بات مکمل کی
ایسا ہوا کیا ہے جو تم اس طرح رورہی ہو بتائو مجھے
نگار نے اسے پیار سے سمجھایا
بات بات پر لڑائی کرتے ہیں مجھ سے ہمیشہ اپنی منواتے ہیں مجھ سے اور آج میں نے انکار کیا تو مجھ پر ہاتھ اٹھانے لگے
اب وہ نگار کو فرحین کے بارے میں تو بتا نہیں سکتی تھی اسی لیے ہر الزام کا رخ زایان کی طرف موڑ دیا
پاگل ہو تم بھی اگر وہ تم سے کچھ کہتا ہے تو تمہاری بہتری کیلئے کہتا ہے اور میں اتنا تو جانتی ہو اسے خوام خواہ غصہ تو آیا نہیں ہوگا ضرور تم نے اسے کچھ کہا ہوگا
نگار جب بھی اسے ملنے آتی زایان اسے کسی نہ کسی بات پر سمجھا رہا ہوتا تھا اسی لیے وہ اتنا تو جانتی تھی کہ اس کا کوئی تو قصور ہوگا
ٹھیک ہے آپ کو بھی میں ہی غلط لگتی ہو نہ مجھے نہیں کرنی کسی سے بھی بات