Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

وہ کمرے میں آیا تو ربانیہ بیڈ پر لیٹی آنکھوں پر ہاتھ رکھے سو سو کررہی تھی رونے کی وجہ سے اسے زکام ہو گیا تھا
اسے زایان کی موجودگی کا احساس ہوا مگر اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا
جوتے اتارا کوٹ بیڈ پر رکھنے کے بعد وہ واشروم میں چلا گیا
واشروم کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر ربانیہ نے آنکھوں سے بازو ہٹایا
بستر سے آٹھ کر اس نے زایان کے جوتے اور کوٹ اپنی جگہ پر رکھے
کیونکہ وہ زایان کے صبح والے رویے سے ڈر گئی تھی سوچ کے بیٹھی تھی جب زایان آئے گا تو وہ اس سے ایکسکیوز کرلے گی
بیڈ پر بیٹھی وہ زایان کے واپس آنے کا انتظار کررہی تھی وہ چینج کرکے باہر نکلا تو ایک سنجیدہ نظر اس کے راہ تکتے وجود پر ڈالے وہ ڈریسر کے آگے جا کھڑا ہوا اور اپنی کلائی سے واچ اتارنے لگا
وہ اس کے پاس آئی
آپ مجھ سے ناراض ہیں
اس کی کلائی پکڑے وہ خود اس کی واچ اتارنے لگی
میرے زیادہ منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے ہٹو آگے سے
وہ روکھے پن سے کہتا اپنی کلائی اس کی بازو سے کھینچی
اچھا صلہ ملا مجھے میری محبت اور وفا کا کہ اب آپ کا یہ رویہ بھی برداشت کرو
اسے لگا تھا کہ اس کی ایک پکار پر زایان مان جائے گا مگر زایان کا اسے نظر انداز کرنا اسے بلکل نہ بھایا وہ بےبسی سے بولی
مجھے بھی اچھا صلہ ملا میری محبت کا مجھے بھی لگا تھا کہ تم مجھ سے اپنی ہر بات شیئر کرتی ہو مگر میں غلط تھا تم تو مجھے کچھ سمجھتی ہی نہیں
ربانیہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ غصے سے چور لہجے میں بولا
وہ نم آنکھوں سے اس کی سر کو شکوہ میں ہلاتی کمرے سے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔
ڈنر کیلئے جب وہ نیچے آیا تو سلمی بیگم ڈنر کرکے اپنے کمرے میں جا چکی تھی اور حسان جلدی سو چکا تھا
فریدہ بھی جاچکی تھی وہ اسی لیے نیچے آیا تھا کہ ربانیہ وہاں موجود ہوگی مگر وہ اسے کہیں نظر نہ آئی وہ اتنا تو جانتا تھا کہ وہ سلمی بیگم یا حسان کے کمرے میں اس وقت تو نہیں جائے گی
کچن سے صرف وہ جوس پی کر واپس اپنے کمرے میں آیا مگر ربانیہ اسے وہاں بھی نظر نہ آئی اب اسے پریشانی ہونے لگی کیونکہ اس کی کنڈیشن بھی ایسی نہ تھی
اسے ڈھونڈے ڈھونڈتے وہ بالکونی میں آیا تو وہ اسے نیچے لان میں کرسی پر بیٹھی دیکھائی دی آنکھیں بند کیے وہ تازہ ہوا کو محسوس کررہی تھی
یہ لڑکی آخر چاہتی کیا ہے
غصے سے دانت پیسے وہ نیچے آیا اور اس کے پاس جا بیٹھا
اس کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی اس نے آنکھیں کھولی اور آٹھ کر جانے لگی
بیٹھو واپس ۔۔۔۔چند قدم ہی وہ چلی ہوگی جب زایان کی بھاری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
اب کیا تمہیں گود میں اٹھا کر لائو
اس کی ہٹ دھرمی پر وہ پھر بولا
وہ واپس آکر بیٹھ گئی
ماما نے بتایا مجھے کہ تمہیں کیا بات پریشان کررہی ہے
زایان کی بات پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
مجھے لگتا تھا کہ میں اس عرصے میں صرف تمہارا شوہر ہی نہیں بلکہ دوست بھی بن چکا ہو مگر شاید میں غلط تھا
زایان نے اس کی طرف سنجیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
آپ ایسا کیو سوچ رہے ہیں
وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں لیے بے بسی سے بولی
تو تم نے مجھے کیو نہیں بتایا کہ تمہیں کیا بات پریشان کررہی ہے
ایک اور شکوہ آیا
ڈر گئی تھی میں کہیں اولاد کی خواہش آپ کو مجھ سے دور نہ کردے
وہ شرمندہ ہو گئی
جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہوگا میں ہونا میں کچھ بھی نہیں ہونے دونگا تم ایک بار بھروسہ تو کرو مجھ پر
اسے سمجھاتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر اپنی پکڑ سخت کردی
اور اگر ایسا کچھ ہوا تو
کیا ہو جائے گا اگر زایان نہیں رہے گا تو ربانیہ تو ہوگی نہ
آپ ایسا مت بولے آپ ہی تو میرے سب کچھ ہیں آپ کے سوا میرا ہے ہی کون
وہ رونے لگی
تو پھر میرا یقین کرو جب تک میں ہو کچھ نہیں ہوگا نہ تمہارے ساتھ اور نہ ہمارے بچے کے ساتھ
کیا یقین کیا آپ کا یقین
وہ اس کے سینے سے لگ گئی
تو پھر میری جان اپنے اس دماغ سے یہ سوچ نکال دو کہ ماضی کا کیا ہمارے مستقبل پر آئے گا
وہ اس کی پیٹ سہلانے ہوئے سمجھانے لگا اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب اس کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ ظہر کی نماز پڑھ کر کمرے میں آئی تھی جب اس کا موبائل بجا
موبائل پر چمکتا نام دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی
صبح مجھے دیکھ دیکھ کر دل نہیں بھرا جو اس وقت بھی میری یاد آگئی
فون کان پر رکھتے ہی وہ مسکراتے ہوئے بولی
کیا کرو میں آفس تو آجاتا ہو مگر اپنا دل دماغ سب تمہارے پاس چھوڑ کر آتا ہو
دوسری طرف سے اس کی آواز آئی
وہ یہ سن کر مسکرائی
اچھا جی ایسی بات ہے تو میں آجائو وہاں
نہیں بلکل نہیں اچھے سے جانتی ہو ڈاکٹر نے منع کیا ہے خطر ناک حرکتوں سے پھر بھی تم ایسی باتیں کررہی ہو
ربانیہ کی پریگننسی کو تین ماہ ہوگئے تھے اب تو وہ تھوڑی بلکی بھی ہوگئی تھی زایان اسے کل ہی ڈاکٹر کے پاس سے چک کرا کر لایا تھا ڈاکٹر نے صاف کہا تھا کہ اب اسے زیادہ سے زیادہ رسٹ کرنے کی ضرورت ہے زایان کی توجہ نے اسے اس ٹرومہ سے باہر نکال دیا تھا جس کا اسے بہت ڈر تھا
بس کردے میں دیکھ رہی ہو آپ کو مجھ سے زیادہ آنے والے کی فکر ہے
ایک اور شکوہ جو زایان سن کر مسکرایا
تو مسز زایان کو اپنے آنے والے بچے سے ان سکیورٹی فیل ہورہی ہے
دوسری طرف سے وہ شرارتی ٹون میں بولا
جائے نہیں کرتی میں آپ سے بات بہت برے ہیں آپ
اسے زایان کی بات سن کر غصہ آ گیا اسی لیے لال ٹماٹر گال کے ساتھ اس نے کال کاٹ دی
پیچھے سے وہ آوازیں دیتا رہ گیا
زایان کے کیبن کا دوڑ ناک ہوا تو اس نے موبائل سائڈ پر رکھا اور سنجیدہ ہوا
آجائے زایان کے کہتے ہی اس کی سیکریٹری اندر آئی
سر آپ سے ملنے کوئی آیا ہے
کون ملنے آیا ہے
سر آپ خود ہی دیکھ لے
وہ منمنائی
اوکے آپ انھیں اندر بھیج دے
۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ نیچے آئے اتنے میں اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا
آجائے اس کے کہتے ہی نگار اندر آئی
ان کو دیکھتے ہی ربانیہ کے چہرے پر خوشی کھل اٹھی
وہ اٹھی اور نگار سے گلے ملی
آپا آپ آئی تھی اور مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں ورنہ میں خود ہی نیچے آجاتی
نگار کو جب پتا چلا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے اس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا وہ ہر ہفتے اس سے ملنے آتی
ارے ایسے کیسے ابھی تمہاری ساس نے بتایا کہ وہ تمہاری طبیعت کو دیکھ کر تمہیں نیچے شفٹ کرنے کا سوچ رہی ہے
اس کی طبیعت اکثر بگڑ جاتی تھی ایک تو وہ کم عمر تھی اور پورے گھر میں اچھلتی کودتی رہتی تھی
ہاں زایان بتا رہے تھے مگر مجھے تو اچھا لگتا ہے سیڑھیاں اترنا چڑھنا
اس کنڈیشن میں اس کے جو نخرے زایان نے اٹھائے تھے بس وہی جانتا تھا اسی لیے وہ اتنا سر چڑھ گئی تھی
بیٹا تم اس حالت میں نہیں ہو زیادہ اتار چڑھائو تمہاری اور بچے کی صحت کو نقصان دے رہا ہے
وہ اسے سمجھانے لگی
ٹھیک ہے آپا میں خیال رکھو گی
اسے لگا کہ اب نگار کے سامنے کوئی دلیل دینا بےکار ہے اسی لیے سہولت برتی
میری اچھی بیٹی انھوں نے اس کے سر پر پیار کیا وہ جب بھی آتی اس کا بیٹیوں جیسا خیال رکھتی تھی
اچھا یہ بتائو کہ زایان خوش ہے
ایسے ویسے اتنے خوش ہے کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے جیسے انھیں مجھ سے زیادہ بچے سے پیار ہے جو ابھی تک اس دنیا میں آیا بھی نہیں ہے
وہ منہ بناتی نگار کو ایک ایک تفصیل دینے لگی جسے سن کر وہ مسکرائی
پاگل ہو تم بھی اچھا تمہاری ساس بتا رہی تھی کہ تمہارے پیر کافی سوج گئے ہیں
وہ اس کے پیروں کو دیکھتے ہوئے بولی
ہاں بس تھوڑی سی سوجن ہے ڈاکٹر نے میڈیسن لکھ دی تھی کل
چلو ٹھیک ہے
۔۔۔۔۔۔
رات کے آٹھ بج گئے وہ اس وقت لان میں واک کے ساتھ زایان کا انتظار کررہی تھی
وہ اب آٹھ بجے آجایا کرتا تھا اور وہ دونوں مل لان میں واک کرتے تھے
سب لوگ گھر میں اس کے ناز نخرے اٹھائے تھے ایمن بھی اگلے میہنے آ رہی تھی وہ اکثر کال کرتی اسے اس کی طبیعت کو لے کر اسے احتیاط بھی بتاتی
اتنی دیر ہوگئی ابھی تک کیو نہیں آئے
وہ واک کرتے کرتے تھکی تو چیئر پر بیٹھ گئی تھی
تبھی رایان گھر میں داخل ہوا کار پارک کرنے کے بعد وہ اسے دیکھتے ہی اس کے پاس آیا
کیسی ہو ربانیہ
اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ کر اس نے پوچھا
میں ٹھیک ہو رایان بھائی بس بور ہورہی تھی
اچھا بس اتنی سی بات فکر ناٹ ڈیئر بھابھی جب تمہارا دیور اتنا شوخیہ ہے تو تم کیو بور ہورہی ہو
وہ فرضی کالر جھاڑتے ہوئے بولا تو ربانیہ ہنسی
ایک کام کرتے ہیں حسان کہا ہے اسے بلائو ہم سب آئسکریم کھانے چلتے ہیں
اس نے آہستہ سے اپنا آئیڈیہ اسے سنایا
ارے واہ میرا بھی دل چاہ رہا تھا آئسکریم کھانے کا میں ابھی اسے بلا کر لاتی ہو
اسے رایان کا آئیڈیہ اچھا لگا وہ اندر چلی گئی حسان کو بلانے
۔۔۔۔۔۔
زایان نے گاڑی پورچ میں پارک کی
چلو اندر ساتھ بیٹھی ہوئی شخصیت کو اس نے جب کہا تو فرحین نے بے بس نظروں سے اسے دیکھا
کچھ نہیں ہوتا میں ہو نہ چلو اس نے اسے تسلی دی اور گاڑی سے اترا وہ بھی اتری اور اس کے پیچھے اندر چلی گئی
سلمی بیگم تو سو چکی تھی چوکیدار نے اسے باقی سب کا بتایا تھا کہ وہ لوگ کہی باہر گئے ہیں
فرحین کو گسٹ روم میں چھوڑنے کے بعد وہ اسے ربانیہ کے کچھ کپڑے بھی دے آیا تھا تاکہ وہ چینج کرسکے اب وہ حال میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ گھر والوں کو کیا بتائے گا کہ وہ اسے یہاں کیو لایا تھا
آج جب فرحین اس کے کیبن میں آئی تو اس کی حالت کافی بری تھی اس نے زایان سے کہا کہ اس کا شوہر روز اسے مارتا پیٹتا تھا روز کی مار پیٹ سے بچ کر وہ اپنے بھائی کے گھر بھی گئی تھی مگر اس نے اسے اندر ہی نہ آنے دیا
زایان کو ندامت ہوئی کہ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے وہ اتنا ارجنٹ اس کیلئے کوئی رہنے کا انتظام تو نہیں کرسکتا تھا اسی لیے اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا
۔ ۔۔۔۔۔
وہ لوگ کافی دیر سے گھر آئے آئسکریم کھانے کے بعد رایان نے انہیں اپنی فیورٹ جگہ جو کہ ایک اوپن ایریہ ریسٹرونٹ تھا وہاں ڈنر بھی کروایا
وہ اپنے کمرے میں آئی تو زایان صوفے پر بیٹھا پایا
آپ آگئے مجھے لگا کافی لیٹ آئے گے
وہ چادر ڈریسنگ روم میں رکھنے کے بعد اس کے پاس آکر بیٹھ گئی
ہاں کچھ کام میں پھنس گیا تھا تم بتائو کہا گئی تھی
میں حسان اور رایان بھائی آئسکریم کھانے گئے تھے تب حسان کی ضد پر انھوں نے ہمیں ایک بہت اچھی جگہ پر ڈنر بھی کرایا تھا کافی مزہ آیا
وہ اسے مسکرا کر ایک ایک بات بتا رہی تھی
اور وہ بھی اس کی باتیں سن کر مسکرا ہی رہا تھا
اچھا جی تو مجھ سے پرے پرے یہ مزے کیے جارہے تھے
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے اپنے بال سلجھا رہی تھی جب وہ اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتا اس کے کان میں سرگوشی کی
تبھی ان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور فرحین اندر آئی وہ جلدی سے اس سے علیحدہ ہوا
ربانیہ کو اسے دیکھتے ہی حیرت کا جھٹکا لگا
ایم سوری مجھے نوک کرنا چاہیے تھا
وہ ربانیہ کو دیکھتے ہوئے زایان سے بولی
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے زایان پلیز جلدی آنا
وہ زایان سے کہتی وہاں سے چلی گئی
جبکہ ربانیہ ابھی بھی زایان کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی
یہ یہاں کیا کررہی تھی وہ حیرت سے اس سے پوچھنے لگی
ہم صبح بات کرے گے اس بارے میں تم ابھی آرام کرو میں آتا ہو
وہ اسے ریلکس کرتا روم سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
ایک گھنٹے بعد جب وہ روم میں واپس آیا تو ربانیہ ابھی بھی جاگ کر اسی کا انتظار کررہی تھی
تم جاگ رہی ہو بیڈ کی دوسری سائڈ پر بیٹھتا وہ بولا
فرحین یہاں کیا کررہی ہے
وہ غصے سے دانت پیستے بولی
ربانیہ ابھی میں بہت تھک گیا ہو ہم صبح بات کرے گے
وہ اسے واقعی اس وقت کوئی صفائی پیش نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے اپنی سائڈ کا لیمپ بجھائے وہ سو گیا
۔۔۔۔۔۔
وہ ساری رات بےچین رہی آخر ایسی کیا بات تھی جو زایان اسے نہیں بتا رہا تھا زایان تو ساری رات مزے سے سوتا رہا مگر اس کی سوچوں کی سوئی فرحین پر ٹک گئی تھی
نماز پڑھنے کے بعد اس نے زایان کیلئے کپڑے نکالے اب وہ صوفے پر بیٹھی اس کے جاگنے کا انتظار کررہی تھی
انتظار کرتے کرتے صوفے پر ہی اس کی آنکھ لگ گئی