Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 35 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35 Part 2
آپ سے ایک بات پوچھو ۔۔۔۔وہ بیڈ پر بیٹھا ایک فائل دیکھ رہا تھا جب ربانیہ ڈریسر سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
ہاں پوچھو ۔۔۔۔وہ فائل دیکھتے ہوئے لاپرواہی سے بولا
اگر میں کہو کہ مجھے زندگی بھر صرف آپ کا ساتھ چاہیے تو کیا آپ کو اس سے کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
وہ اپنے آپ میں کھوئی ہوئی بولی
زایان کو اس کے سوال پر حیرت کا جھٹکا لگا
تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔
زایان اسے دیکھتا ہوا بولا
وہ زایان کے پیروں کے پاس بیٹھی
آپ میرا مطلب نہیں سمجھے میں ہمارے درمیان کسی تیسرے کی بات کررہی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں سنجیدگی لیے بولی
ربانیہ ہمارے درمیان کوئی تیسرا کیو آئے گا
اسے لگا کہ ربانیہ مذاق کررہی ہے اسی لیے وہ کندھے اچکائے بولا
آپ کو آج نہیں تو کل اولاد کی ضرورت محسوس ہوگی
وہ اس کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے بولی
زایان کو اس کی بات پر ہنسی آگئی
اس نے فائل سائڈ پر رکھی
تو تم چاہتی ہو کہ ہم اپنا بےبی پلین کرے
وہ شرارت سے ہنستا ہوا اس سے پوچھنے لگا
اففف آپ میری بات کیو نہیں سمجھ رہے میں
وہ تنگ آگئی
میں چاہتی ہو کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی دوسرا نہ آئے بچہ بھی نہیں
آخر وہ اپنے دل کی بات زبان پر لے آئی
کیا یہ تم کیا کہ رہی ہو۔۔۔۔
زایان کے تاثرات میں سنجیدگی آئی
مجھے لگتا ہے کہ میں میرا مطلب صرف ابھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ ۔۔۔
وہ بولتے ہوئے رکی
بولو تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔۔اسے چپ دیکھ زایان نے پوچھا
کچھ نہیں۔۔۔۔ اسے لگا کہ وہ اپنی بات زایان کو نہیں سمجھا سکے گی اسی لیے آٹھ کر جانے لگی تب زایان نے اس کی کلائی پکڑی
ربانیہ تم مجھے جب تک کھل کر نہیں بتائو گی مجھے کیسے پتا چکے گا کہ تمہیں کیا بات پریشان کررہی ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا نرمی سے بولا
ربانیہ اس کے پاس بیٹھ گئی
میں چاہتی ہو کہ آپ کبھی مجھ سے اولاد کا مطالبہ نہ کرے ۔۔۔
آخر وہ اپنے دل کی بات زبان پر لے آئی
زایان پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
مجھے لگتا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تم رسٹ کرو ۔۔۔۔۔
اسے لگا شاید وہ کسی ڈپریشن میں ہے اسی لیے اس نے بات کو رفہ دفعہ کردیا
وہ خود ہی نہ سمجھ پایا کہ ربانیہ یہ بات کیو بول رہی ہے
وہ بھی ابھی اس کنڈیشن میں نہیں تھی کہ اسے اپنی بات سمجھا پاتی اسی لیے اپنی سائڈ پر سونے چلی آئی
۔۔۔۔۔
صبح کی نماز پڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ جب دعا کیلئے اٹھے تو اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو گرے
وہ زایان کی محبت میں یہ بھول گئی تھی کہ وہ خدا سے کیا چاہتی تھی اسے اولاد نہیں چاہیے پھر وہ سب کیسے بھول گئی
رو رو کر اس نے خدا سے یہی دعا مانگی کہ جو وہ سوچ رہی ہے ویسا کچھ بھی نہ ہو اس کے تمام اندیشے غلط ہو
بریک فاسٹ بناتے ہوئے اس کا ذہن ابھی بھی الجھا ہوا تھا
انڈے کی سمل اس کے ذہن کو مائوف کرنے لگی فریدہ چولہا بند کرے
اس نے فریدہ سے کہا جو آملیٹ بنا رہی تھی
اس نے ربانیہ کی بگڑتی طبیعت دیکھ جلدی جلدی چولہا بند کیا
کیا ہوا بی بی آپ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔ وہ اس کی حالت دیکھ کر پریشانی سے بولی
ہاں بس مجھے اس کی سمل سے الجھن ہو رہی تھی اسی لیے ۔۔۔۔۔
وہ اس سے کہتی کچن سے باہر آئی اور آکر حال میں صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی
یا اللہ یہ مجھے ہو کیا رہا ہے
صوفے سے ٹیک لگائے اس نے آنکھیں بند کرکی
سلمی بیگم اپنے کمرے سے نکلی تو اسے صوفے پر ایسے بیٹھا دیکھ اس کے پاس آئی
کیا ہوا بیٹا طبیعت ٹھیک ہے
ان کی آواز پر وہ جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھی
جی پھپھو میں بلکل ٹھیک ہو بس تھک گئی تھی تو باہر آگئی
وہ نارمل ہوئی ان سے بولی
بیگم صاحبہ مجھے لگتا ہے آپ ایک بار انہیں ڈاکٹر سے چیک کرا لے
اس کے اس طرح کچن سے باہر آنے پر فریدہ کی چھٹی حس جاگ گئی
اسی لیے وہ باہر آئی
نہیں پھپھو میں بلکل ٹھیک ہو فریدہ آپ بھی نہ کچھ بھی بولتی رہتی ہے اصل میں میرا آج آملیٹ کا دل نہیں تھا اسی لیے میں نے آپ سے کہا
وہ فریدہ کی بات پر جھینپ گئی اسی لیے وہ ان دونوں کو وضاحت دینے لگی
زایان جو سیڑھیوں میں کھڑا ان کی تمام تر باتیں سن چکا تھا
ان کے پاس آیا
لگتا ہے ماما آپ کی بہو ہمیں بتانا نہیں چاہتی
ربانیہ کی کل رات والی باتیں اسے شک میں مبتلا کر گئی تھی اور اب ان کی باتیں سن کر اس کے شک کو ہوا ملی
اس نے زایان کو گھورا جو اس کی شکل دیکھ کر اپنی ہنسی ضبط کررہا تھا
کیا سچ میں ربانیہ انھوں نے خوشی سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
وہ تو حیا کے مارے کچھ بولی ہی نہ پائی
زایان تم سارے کام چھوڑو اور ابھی اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائو
ربانیہ کے بعد وہ زایان سے بولی
اس نے پہلی مرتبہ تابعداری سے ہاں میں سر ہلایا
۔۔۔۔۔
دوپہر ہونے کو تھی اور وہ اپنے کمرے میں لپٹی ہوئی تھی
زایان اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا اور انہیں جو خبر ملی اس کے بعد تو زایان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا وہ سارے رستے اس سے بس بچوں کی باتیں کرتے رہا کیونکہ ڈاکٹر انہیں ون منتھ پریگننسی کا بتایا تھا
اگر زایان کو آفس سے کال نہ آتی تو آج وہ سارے دن اس کے ساتھ ہی رہتا مگر وہ اسے گھر چھوڑنے کے بعد سیدھا آفس کیلئے نکل گیا تھا
پھپھو تو اس کے صدقے واری جارہی تھی
کسی طرح وہ اپنے کمرے میں آئی تھی
میں تو کبھی یہ سب نہیں چاہتی تھی پھر یہ سب ۔۔۔
اس کی آنکھوں سے اشک جاری تھی جو اس کے رخسار کو بھگو رہے تھے
اس نے کروٹ لی اور آنکھیں بند کرلی
۔۔۔۔
اس کا موبائل کب سے رنگ کررہا تھا مگر وہ گہری نیند سو رہی تھی زایان کچھ دیر پہلے ہی گھر آیا تھا اس کی نیند کا خیال کرکے اسے نہیں جگایا
وہ واشروم سے باہر آیا تو موبائل اٹھایا اس پر آغوش کا نام چمک رہا تھا
وہ موبائل لیے بالکونی میں آیا اور کال یس کی
ربانیہ حد ہے یار کبھی ایک بل پر کال اٹنڈ بھی کرلیا کرو
آغوش کی غصے سے بھری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اسے اتنا لائوڈ سننے کی عادت ہی نہی تھی اس نے تو اپنے کان پکڑ لیے
آہستہ لڑکی تمہاری دوست سو رہی ہے
اس کے چپ ہوتے ہی وہ بولا
اوپس سورہ زایان بھائی آپ مجھے لگا رابی ہے
اس نے زایان کی آواز سنتے ہی زبان دانتوں تلے دبائی
جب وہ جاگ جائے گی تو میں اسے بتا دونگا تمہاری کال کا
زایان بھائی مجھے آپ سے ایک گلہ ہے
دوسری طرف سے وہ بولی
مجھ سے
ہاں آپ سے جب سے آپ کی شادی ہوئی ہے آپ نے میری دوست پر جادو ہی کردیا ہے اس کے پاس میرے لیے ٹائم ہی نہیں
وہ معصومیت سے بولی تو زایان ہنسا
تو پھر تمہارا یہ گلہ کبھی دور نہیں ہونے والا کیونکہ پہلے تو صرف میں تھا اب تو تمہاری دوست کی ذمہ داری ڈبل ہونے والی ہے
مطلب۔۔۔۔
مطلب تم خود آ کر اس سے پوچھ لینا
وہ آج بہت خوش تھا اسی لیے تو اسے آغوش کی باتیں مزہ دے رہی تھی
مطلب کھلے عام دعوت نامہ وہ بھی کہا پیچھے رہنے والی تھی
جی بلکل کھلے عام بلکہ تم آئو تو صحیح پھر تمہاری دوست کو لے کر گھومنے چلتے ہیں
ٹھیک ہے پھر تو میں کل ہی حاضر ہوتی ہو
اوکے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
ربانیہ اب آٹھ بھی جائو یار کتنا سو گی
تین گھنٹے ہوچکے تھے اسے آئے مگر ربانیہ جاگی ہی نہیں
اسی لیے اب اس نے خود اسے اٹھانے کا سوچا
ربانیہ نے اس کی آواز پر موندی موندی آنکھیں کھولی
آپ کب آئے
وہ اسے اپنے پاس بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگی
تین گھنٹے ہو چکے ہے مگر مجال ہے جو تم اٹھو
تین گھنٹے میں اتنا کیسے سو گئی
وہ حیرت کا جھٹکا کھاتی اٹھی اور گھڑی میں ٹائم دیکھا جو رات کے آٹھ بجا رہی تھی
کیا ہوگیا اگر سو گئی تو اس کنڈیشن میں ایسا ہی ہوتا ہے
وہ مسکراتا ہوا بولا
زایان پلیز آپ مجھ سے ایسی باتیں نہ کیا کرے صبح سے بچہ بچہ سن کر تنگ آگئی ہو میری اپنی بھی کوئی زندگی ہے آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں یہ بچہ چاہتی بھی ہو
وہ جو صبح سے بھری بیٹھی اپنی ساری بھراس زایان پر نکالی
کیا مطلب ہے تمہارا کیا پوچھو میں تم سے
زایان اس سے یہ بات ہرگز ایکسپکٹ نہیں کررہا تھا
یہی کہ آپ کی زر خرید غلام نہیں ہو میں جو آپ چاہے گے وہی کرونگی اسی لیے آپ کو خدا کا واسطہ مجھے بخش دے
وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑتی اٹھی اور واشروم میں چلی گئی
جبکہ زایان تو ابھی بھی سکتے کے عالم میں اس کی کہی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا
۔
