No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
ایمن کی بارات کی تیاریاں عروج پر تھی ملک ولا میں ہر طرف ہلچل مچی ہوئی تھی ایمن یا تو صبح سے مہمانوں سے مل رہی تھی یا پھر بورنگ رسموں میں الجھی ہوئی تھی
ادھر ربانیہ کا بھی یہی حال تھا کبھی مہمانوں کی خاطر توازو کرنا کبھی کوئی کام تو کبھی کوئی کام
آخر تھک ہار کر شام کو وہ اپنے کمرے میں آئی تاکہ کچھ آرام کر سکے
ڈریسنگ روم سے ایک لائٹ سا ڈریس نکال کر وہ سونے کا ارادہ رکھتی تھی مگر ڈریسنگ روم میں اس نے جب الماری کھولی تو سامنے ایک ریڈ کلر کا شاپنگ بیگ ہینگ دیکھا پہلے تو اسے حیرانی ہوئی کہ یہ یہاں کس نے رکھا پھر اس نے وہ بیگ باہر نکالا اور روم میں آئی تاکہ وہ اسے ریلکس ہوکر دیکھ سکے
وہ بیڈ پر بیٹھی اور اس بیگ کے اندر سے ایک ریڈ کلر کا پیروں تک آتا فراک نکالا جس پر نیٹ کی ایمبرائیڈری ہوئی تھی ساتھ چوڑی دار اور ریڈ کلر کا نیٹ کا دوپٹہ تھا اور میچنگ ایئر رنگز
یہ کس کا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔اس نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا
بیڈ پر پڑا اس کا موبائل رنگ ہوا سکرین پر چمکتا نام زایان کا تھا اس نے بغیر دیر کیے کال ریسیو کی
جی ۔۔۔۔اس کی ناراضگی کا خیال کرتے ہوئے وہ بس اتنا ہی کہ سکی
ڈریس دیکھا تم نے۔۔۔۔۔
زایان کا اتنا کہنا تھا کہ وہ سمجھ گئی کہ یہ وہی رکھ کر گیا ہے
جی دیکھا ۔۔۔۔
وہ اس کا ڈریس کا جائزہ لیتے ہوئے بولی
میں نے سوچا اگر میری بیوی مجھے منانا ہی چاہتی ہے تو کیو نہ اس طریقے سے منائے جو مجھے پسند ہے ۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔ وہ واقعی اس کا مطلب نہ سمجھ سکی
مطلب یہ کہ ابھی اٹھو اور یہ ڈریس پہن کر تیار ہوجائو ۔۔۔۔۔
اس کی آواز سے یہ بلکل نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس سے ناراض ہے
ہم کہی جارہے ہیں کیا۔۔۔۔۔
یار تم سوال نہ کیا کرو بس جتنا کہا ہے اتنا ہی کرو ۔۔۔۔۔
وہ اس کی باتیں سن کر تنگ آگیا
ٹھیک ہے میں تیار ہوجاتی ہو۔۔۔۔
ہممم گڈ گرل۔۔۔۔
اس نے پیار سے کہا اور کال ڈسکنکٹ کردی
ربانیہ وہ ڈریس لے کر واشروم میں چلی گئی
۔۔۔۔۔
وہ ڈریس پہن کر باہر روم میں آئی اور ڈریسر کے سامنے کھڑی ہوئی
وہ ڈریس بنا ہی اسی کیلئے تھا اس پہن کر یہ سوچ اس کے ذہن میں آئی
اس نے اپنے بالوں کو کیچر سے آزاد کیا اور انہیں سلجھایا
پھر ان کو سائڈ فرینچ ہیئر سٹائل دیا اور پیچھے کھلا چھوڑ دیا
ریڈ کلر کی لپسٹک سے اپنے ہونٹوں کو رنگا
آج تو وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ اسے خود ہی شرم آگئی اور چہرے پر ہاتھ رکھے وہ مسکرائی
جب شرمانے سے فارغ ہوئی تو بیڈ پر پڑا دوپٹہ گلے میں سجایا اور ریڈ کلر کے ایئر رنگز جو اسی بیگ میں تھے وہ پہنے۔۔۔۔
اب وہ بیڈ پر بیٹھی زایان کا انتظار کررہی تھی کہ ایک گھنٹہ ہوگیا تھکن کی وجہ سے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ سوگئی
رات کے دس بجے جب وہ روم میں آیا تو سامنے ربانیہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکان کھل اٹھی وہ اسی وقت آنے والا تھا مگر بیچارہ حال کی سیٹنگز میں پھنس گیا اور دو گھنٹے ہوگئے
وہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی جانب آیا تاکہ ربانیہ کی نیند نہ ٹوٹے وہ اس رات واقعی ناراض تھا مگر صبح اسے وہ اسے اپنی من پسند سزا دینا چاہتا تھا اسی لیے وہ ڈریس اس کی الماری میں ہینگ کردیا
کیا کوئی اتنا بھی خوبصورت لگ سکتا ہے۔۔۔۔ اس کے حسین چہرے کو دیکھ اس کے دل میں پہلا خیال یہی آیا
وہ اس کے پیروں پر اپنی انگلیاں پھیرنے لگا
جب ربانیہ کو کسی انجانے لمس کا احساس اپنے پیروں پر محسوس ہوا تو اس کی نیند میں خلل آیا اور وہ اٹھی
زایان کو اپنے پیروں کے پاس بیٹھا دیکھ اس نے اپنے پیر کھینچ لیے
سوری مجھے نیند آگئی تھی وہ کیا ہے نہ میں صبح سے مہمانو۔۔۔۔
اس کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے جب زایان نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کر اشارہ کیا
چلو۔۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر زایان نے اسے بیڈ اٹھایا اس نے سینڈلز پہنے اور زایان کے ہمراہ باہر چلی گئی
۔۔۔۔
وہ اسے ایک ریسٹورنٹ میں لے آیا جہاں ایک خوشگوار ماحول ان کا انتظار کررہا تھا کافی کپلز وہاں ڈنر کررہے تھے
جو ٹیبل اس نے بک کرائی تھی ویٹر انہیں وہی لے گیا
جہاں آس پاس کوئی دوسرا کپل نہیں تھا صرف وہ دونوں تھے
انہیں ٹیبل دکھا کر ویٹر وہاں سے چلا گیا
زایان نے اس کیلئے چیئر آگے کی اور وہ اس چیئر پر خاموشی سے بیٹھ گئی اس کی ذہن تو یہ سب دیکھ کر ہی مائوف ہوگیا
پھر زایان بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا
کیسی لگی تمہاری سزا۔۔۔۔ وہ اس کے حسین چہرے کو دیکھ کر مسکراتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
بہت بری آپ کو کیا پتا کہ کل رات سے میں کتنی اپسٹ تھی آپ سے پوچھ کر مامو کے گھر گئی تھی پھر بھی آپ اتنا ناراض ہوگئے ۔۔۔۔
وہ چہرا دوسری طرف کیے ازلی غصے سے اسے بولی
ہاں تو تمہیں بھی ایک بار موبائل چیک کر لینا چاہیے تھا نہ جانتی ہو کتنی کالز کی میں نے۔۔۔۔ وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے اسے بولا
انسان سے غلطی ہوجاتی ہے پھر میں نے ایکسکیوز بھی کیا تھا آپ سے ۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھنے سے بھی گریز کررہی تھی
ربانیہ میں یہاں تمہیں اس لیے لایا تھا کہ تمہارا موڈ فریش ہو اس لیے نہیں کہ تم اپنے مامو کے گھر کی باتیں لے کر بیٹھ جائو ۔۔۔۔۔
اس بار زایان کے لہبے میں سختی آئی
اچھا نہ اب غصہ تو نہ کرے۔۔۔۔ وہ اسے نارمل کرنے کیلیے جود ہی کم پڑ گئی
زایان بھی نارمل موڈ میں واپس آگیا
اس کے بعد ویٹر ان کے آگے ڈنر سجانے لگا
دونوں نے بہت خوشگوار موڈ میں ڈنر کیا اور کافی ساری باتیں کی
زایان نے اسے اپنے بچپن سے لے کر یونیورسٹی تک کے قصے سنائے کہ کیسے وہ پہلے سیمسٹر میں فیل ہوگیا تھا اور پھر آخری سیمسٹر میں ٹاپ کیا
ربانیہ فیل ہونے والی بات پر پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی جب زایان نے اسے گھورا تو وہ بلکل چپ ہوگئی مگر اندر ہی اندر وہ خوب ہنسی
رات دیر تک وہ لونگ ڈرائیو انجوائے کرتے رہے پھر گھر واپس آگئے
۔۔۔۔۔
دولھن کے عروسی لال رنگ کے لہنگے میں ایمن سٹیج پر بیٹھی اپسرا لگ رہی تھی بھاری زیور زیب تن کیے جب کہ اس کے ساتھ بیٹھا فیصل کالی شیراوانی میں آج محفل میں چار چاند لگا رہا تھا
جب کہ آغوش صاحبہ دودھ پلائی کہ رسم سر انجام دے رہی تھی
پرپل کلر کی گھٹنوں تک آتی قمیض اور غرارہ زیب تن کیے لائٹ میک اپ اور جیولری میں ہمیشہ کی طرح پیاری لگ رہی تھی
فیصل بھائی چلے نکالے پچاس ہزار اور پیے یہ دودھ
فیصل کے آگے دودھ کا گلاس لیے ناک پر غصہ سجائے اپنی ڈیمانڈ اس کے آگے رکھی
کیا مطلب اس چھوٹے سے گلاس کیلئے میں آپ کو پچاس ہزار دونگا طوبہ ہے بھئی یہ کیا بات ہوئی
فیصل بھی آج اس کا پورا مقابلہ کررہا تھا
آپ اتنی بڑی انڈسٹری کے اک لوتے مالک ہوکر پچاس ہزار نہیں دے سکتے چچ چچ چچ آپی آپ نے کس کنجوس سے شادی کرلی ہے آپ کا اللہ ہی مالک ہے
گھونگھٹ میں شرماتی ایمن سے وہ بولی
اس کی بات سن کر سٹیج پر کھڑی ساری ینگ گینگ کا مشترکہ قہقہ گونجا
فیصل بھائی چلے آپ یہاں سے روانہ ہوجائے کیونکہ ہم آپ کو ایسے ہی اپنی پیاری آپی لے کر تو جانے نہیں دینگے۔۔۔
وہ اب باقائدہ سٹیج پر بیٹھ چکی تھی
اے بھائی تو ہی کچھ مدد کردے مجھ غریب کی
وہ رایان سے بولا جو ان کی فائٹ انجوائے کررہا تھا
نہیں فیصل بھائی بلکل نہیں میں تو ہر گز لڑکیوں کے درمیان نہیں آئو گا کیا پتا یہ لڑکیاں مجھے کچا ہی چبا جائے۔۔۔۔۔
اس نے تو ڈائریکٹ اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے
ٹھیک ہے بھائی یہ لو۔۔۔۔ فیصل نے ہار مان کر چک بک کر سائن کیے اور وہ آغوش کو دے دیا
سب کے قہقے گونجنے
۔۔۔۔۔
پنک کلر کا لانگ فراک اور میچنگ جیولری پہنے ہمیشہ کی طرح وہی دل لبھا لینے والے انداز میں ربانیہ سب مہمانوں سے مل رہی تھی جب اسے دور بیٹھی نگار بیگم نظر آئی
انہیں اکیلا بیٹھے دیکھ وہ ان کے پاس آئی
نگار ربانیہ کو اپنی جانب آتا دیکھ کرسی سے اٹھی اور اس سے ملی
ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو اللہ نظریں بد سے بچائے۔۔۔۔
وہ اس کی بلائیں لینے لگی
تمہارا شوہر کہا ہے۔۔۔۔
ربانیہ ان کے ساتھ بیٹھی جب انہوں نے پوچھا
جی وہ وہاں سٹیج پر ۔۔۔۔۔
اس نے سٹیج پر کھڑے زایان کی طرف اشارہ کیا
نگار نے بھی اسے دیکھا
کیا تمہارا شوہر تم سے محبت کرتا ہے ۔۔۔
جی بہت میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔
اس نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ان سے بولا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں آپ “۔۔۔
وہ مسلسل سٹیج پر کھڑے زایان کو دیکھ رہی تھی ربانیہ نے پوچھنے میں ہی عافیت جانی
تم کہتی ہو کہ تمہارا شوہر تم سے بہت محبت کرتا ہے مگر اس کی آنکھیں اس کی ہنسی کا ساتھ کیو نہیں دے رہی ۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی زایان کو دیکھ رہی تھی
ربانیہ کو تعجب ہوا
میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چار ہی ہے ۔۔۔۔۔
ربانیہ انسان عادتیں کپڑوں کی طرح بدلتا ہے مگر فطرت تو اس کی روح کا ایک حصہ ہے کیا تم اس کی روح کو اس سے جدا کر سکتی ہو نہیں نا اسی لیے محتاط رہو جب تک روح ہے فطرت بھی ہے جب تک انسان خدا کے آگے جھک کر اپنی فطرت پر مبنی غلطیوں کی معافی نہ مانگے تو وہ کیسے بدلے گا ۔۔۔۔
ربانیہ نے بمشکل تھوک نگلا
ضروری نہیں جو میں کہ رہی ہوں وہ سچ ہو اور ضروری یہ بھی نہیں کہ جو میں کہ رہی ہو وہ جھوٹ ہو منافق کی آنکھیں اس کے چہرے سے الگ ہوتی ہے دیکھو اس کی آنکھیں اس کے چہرے کا ساتھ کیو نہیں دے رہی۔۔۔۔۔۔
نہیں وہ دراصل ان کی بہن کی شادی ہے اور اسی لیے تھوڑے اپسٹ ہے۔۔۔۔
ہممم شاید تم صحیح کہ رہی ہو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
رخصتی کی تیاریاں ہوئی ایمن سب سے ملی خاص کر سلمی بیگم سے مل وہ بہت روئی
فیصل ڈرائیو کررہا تھا جبکہ وہ شیشے سے باہر دیکھتی سو سو کررہی تھی
بس کرے ڈاکٹر صاحبہ میری گاڑی میں سیلاب لانا ہے کیا۔۔۔۔۔
وہ ایمن کو چھیڑتے ہوئے بولا
ایمن نے غصے سے اس کی بازو پر ایک مقہ جڑا
اب میں روئوں بھی نہیں۔۔۔۔۔
رو لینا مگر پلیز یہاں نہیں مجھے اڑیٹیسن ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔
فیصل نے گاڑی مراد پیلس کے آگے روکی
سب لوگوں نے ان پر پھول برسائے
پھر فیصل کی کزنز کچھ رسموں کے بعد اسے فیصل کے روم میں لے گئی
۔۔۔۔۔
وہ ابھی چینج کرکے زایان کے پاس بیڈ پر بیٹھی
تھک گئی ہو۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا
جی بہت ۔۔۔۔
اس نے زایان کے کندھے پر سر رکھ دیا
آپ کو پتا ہے کبھی کبھی میں سوچتی ہو یہ سب ایک خواب ہے آنکھیں کھلے گی اور سب کچھ ختم ہوجائے گا۔۔۔۔
ایسا میں کبھی ہونے ہی نہیں دونگا بس بہت ہوگئی آزمائشیں اب صرف تم اور میں ہونگے اور ہماری آنے والی خوشگوار زندگی ۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے محبت سے بولا
آپ کبھی میرا ہاتھ تو نہیں چھوڑے گے۔۔۔۔۔
جس ہاتھ کو سب کے سامنے تھاما تھا اسے کبھی نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔
زایان نے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کردی
آپ نماز کیو نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے پوچھا
تم پڑھتی ہو نہ میرے حصے کی ۔۔۔۔
ارے نماز کسی کے حصے کی نہیں پڑھتے سب کو اپنی بخشش کیلئے اپنے نفس پر قابو پانا پڑتا ہے
وہ اس سے علیحدہ ہوتی اسے بڑی اماں کی طرح سمجھانے لگی
جب تم ساتھ ہو تو مجھے اور کوئی چیز نہیں مانگنی ۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
وہ تو میں ہو مگر پھر بھی آپ کو پڑھنی چاہیے امی کہتی تھی قیامت میں کوئی کسی کا ثگہ نہیں ہوتا اس وقت صرف ہمارے اعمال ہمارے کام آتے ہیں ۔۔۔۔۔
ربانیہ میں بہت تھک گیا ہو ابھی رسٹ کرنا چاہتا ہوں تمہارا نماز نامہ میں کسی اور دن سن لونگا
وہ لاپرواہی سے کہتا بلینکٹ اوڑھے لیٹ گیا
وہ بھی مایوس سی اپنی اس کی طرف کروٹ لیے لیٹ گئی
۔۔۔۔۔
فیصل اپنے سارے دوستوں سے فری ہوکر اپنے روم میں آیا
جہاں اس کی ہم سفر اس کی منتظر تھی
وہ آہستہ قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کے قریب بیٹھا
مجھے یقین نہیں آتا کہ جسے آپ دل سے چاہو وہ ہمیشہ کیلئے اس طرح آپ کے پاس آپ کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا محبت سے بولا
ایمن کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آئی
تو پھر یقین کرلے۔۔۔۔۔
وہ مغرور بن کر بولی
تو فیصل کی قہقہ گونجا
اس نے سائڈ ڈرور سے ایک باکس نکالا اور اسے کھولا
جس میں بہت ہی خوبصورت کڑے تھے
اس نے انہیں ایمن کے ہاتھوں میں پہنایا
ان کی خوبصورتی تو اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔۔۔۔
وہ اس کی کلائیاں دیکھتا بولا
ایمن میں تم سے وعدہ کرتا ہو تم زندگی کے ہر سفر مجھے ہی اپنا ہم قدم پائو گی میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دونگا اور تم سے بھی میں یہی امید کرونگا کہ تم ہمیشہ میرا ساتھ دوگی ۔۔۔۔
اس نے ایک ایک بات اسے سچے دل سے بولی
ایمن نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
تو فیصل کے ہونٹوں پر دلکش مسکان سج گئی
……
