No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
ایمن کی شادی کو صرف دو دن رہتے تھے پورے ملک ولا کو دولھن کی طرح سجایا گیا تھا ہر طرف گہما گہمی تھی حالانکہ فکشن حال میں رکھا گیا مگر ملک ولا کی سجاوٹ دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے تقریب یہی ہو ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم کو تو فرصت ہی نہیں تھی پورا دن ان کا انویٹیشنز دینے میں گزر جاتا تھا
عمر صاحب کے گھر آج ربانیہ خود انویٹیشن دینے جارہی تھی
سفید کلیوں والا گھٹنوں تک آتا فراک پہنے بالوں کو جوڑا بنائے سفید ہی دوپٹہ اوڑھے اور شانوں کے گرد چادر سیٹ کیے وہ تیار تھی
زایان کافی دیر سے تیار ہوکر باہر گیا تھا
وہ خود اسے چھوڑنے جارہا تھا کافی دیر کے بعد جب وہ ربانیہ کو بلانے روم میں آیا آیا تو اس کی نظر تو وہی ٹھہر گئی سفید فراک میں وہ کوئی گڑیا لگ رہی تھی
زایان اس کے پاس آیا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا
کبھی میرے لیے بھی ایسے تیار ہوجایا کرو ۔۔۔۔
ایک مسکراتی نظر اس کے سراپے پر ڈالے وہ بولا
ہوئی تو تھی تیار آپ ہی بھول گئے تھے کہ ہمیں ڈنر پر جانا ہے ۔۔۔۔۔
وہ نخرے دکھاتی بولی اس دن کے بعد وہ تیار ہی نہیں ہوئی تھی
اچھا جی بڑی بڑی باتیں کرنی آگئی ہیں تمہیں ۔۔۔۔۔
جی اب چلے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔
وہ اپنا رخ واپس ڈریسر کے آگے کیے شیشے سے اسے دیکھتی بولی
چھوڑو نہیں چلتے بس تم ایسے کھڑی رہوں اور میں تمہیں دیکھتا رہو گا ۔۔۔۔۔
اس کے کندھے پر اپنا سر رکھے وہ اس کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
جی نہیں میں نیچے جارہی ہو آپ بھی آجائے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی پکڑ سے آزاد ہوتی اپنا ہینڈ بیگ اٹھائے نیچے چلی گئی
وہ بھی اس کے پیچھے چلا گیا
۔۔۔۔
زایان نے گاڑی تیمور کے اپارٹمنٹ کے آگے روکی
لینے کب آئو تمہیں۔۔۔۔۔
زایان نے ساتھ بیٹھی ربانیہ سے پوچھا
میں آپ کو کال کردونگی جب فری ہونگی ۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے یاد سے کردینا بھول مت جانا کہ تمہارا ایک عدد شوہر بھی ہے ۔۔۔
اسے گاڑی سے اترتا دیکھ زایان بولا
یہ کوئی بھولنے والی بات ہے ۔۔۔۔
اس نے بھی اسی انداز میں جواب دیا اور چلی گئی
زایان کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا جب وہ اندر چلی گئی تو زایان بھی گاڑی سٹارٹ کیے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
ڈور منہل نے کھولا
وہ ربانیہ کو دیکھتے ہی مچل اٹھی
آنٹی آپ ہمارے گھر ۔۔۔۔۔
وہ وہی کھڑی ایکسائیٹڈ ہوکر ربانیہ سے بولی
میں نے سوچا میری بسٹ فرینڈ کو میری یاد آئی ہوگی تو اس سے مل آئو ۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے منہل کے گال کھینچتے بولی
منہل بھی کھل کر مسکرائی
کون ہے منہل۔۔۔۔
سیرت نے کچن سے منہل کو آواز لگائی
مما ربانیہ آنٹی آئی ہیں ۔۔۔۔
منہل ربانیہ کو حال میں لے آئی اور وہی سے سیرت کو آواز دی
سیرت ربانیہ کا نام سنتے ہی کچن سے حال میں آئی
اسلام و علیکم کیسی ہیں آپ ۔۔۔۔ربانیہ اس کے گلے لگی بولی
و علیکم سلام میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔سیرت نے بھی خوش دلی سے جواب دیا
بیٹھے نہ آپ۔۔۔۔۔
سیرت نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا کہا
تو وہ منہل کے ساتھ بیٹھ گئی
میں ابا جان کو بلا کر لاتی ہو۔۔۔۔۔
سیرت اس سے کہتی عمر صاحب کے کمرے کی طرف چلی گئی
آنٹی آپ کو پتا ہے میں نے آپ کو بہت مس کیا ۔۔۔۔۔
منہل نے معصومیت سے ربانیہ سے کہا
اچھا جی میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا اسی لیے تو آئی ہو آپ سے ملنے ۔۔۔۔۔
وہ بھی اس کی باتیں انجوائے کرنے لگی اور اس کا گال کھینچتے پیار سے بولی
اتنے میں عمر صاحب ان کی طرف آئے
ارے آج تو ہماری بیٹی گھر آئی ہے ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اس کے پاس آئے
وہ بھی اٹھی اور عمر صاحب کو سلام کیا انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
مامو میں آپ سے ناراض ہوں آپ اس دن کے بعد آئے ہی نہیں ۔۔۔۔
وہ منہل کے ساتھ بیٹھی روٹھے انداز میں بولی
بھئی ہم نے سوچا کہ تمہیں اپنے گھر دعوت دے گے ۔۔۔۔
وہ بس ہنس دی زایان کی سنگت میں اب وہ کافی بدل گئی سب سے ہنس کر بات کرنا جلدی گھل مل جانا
خیر میں آج سارا دن آپ کے پاس رکو گی۔۔۔۔
وہ منہل کے پاس آٹھ کر عمر صاحب کے ساتھ جا بیٹھی اور انہیں اپنا پروگرام سنایا
ارے یہ بھی کوئی کہنے والی بات ہے تمہارا اپنا گھر ہے جب چاہو جتنی دیر چاہو رکو ۔۔۔۔
آنٹی آئے نہ آپ میرا روم تو دیکھے ۔۔۔۔
منہل اس کا ہاتھ پکڑے بولی
مامو میں اس کا روم دیکھ آئو پھر واپس آتی ہوں۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے منہل کے ساتھ چلی گئی
۔۔۔۔
آج اس نے منہل اور مامو کے ساتھ بہت انجوائے کیا تھا منہل تو سارا دن اس کے پاس تھی اس سے ایک منٹ کیلئے بھی دور نہ ہوئی
آج وہ کھل کر مسکرائی تھی
کہتے ہیں نہ انسان اپنی زندگی میں دو تبدیلیوں سے بدل جاتا
ایک جب اس کی زندگی سے کوئی اپنا چلا جاتا ہے اور دوسرا جب اس کی زندگی کوئی خاص شامل ہوجاتا ہے وہ بھی زایان کی توجہ سے زندگی کی طرف واپس آگئی تھی اسے اپنی یہ زندگی بیزار نہیں بلکہ خوبصورت لگنے لگی
پہلے وہ منہل کے روم میں اس کے ساتھ خوب کھیلی پھر انھوں نے لڈو کا میچ سجایا
وہ اور منہل ایک ٹیم میں تھے اور مامو اور سیرت دوسری
اس کی ٹیم جیت گئی تو منہل نے خوب بھگڑے ڈالے
پھر اس کے بعد وہ اور منہل اپارٹمنٹ کے لان میں کرکٹ کھیلے عمر صاحب اور سیرت نے بھی حصہ لیا اور اس بار عمر صاحب اور سیرت کی ٹیم جیت گئی
منہل پہلے تو اداس تھی مگر پھر اس نے اور عمر صاحب نے اسے منایا
پھر کھانے کا دور چلا اس نے سیرت کے ساتھ کھانا بنوایا سیرت اور اس کی کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی سیرت نے ہی اسے بتایا تھا کہ سلمی بیگم جب منگنی کا انویٹیشن دینے آئی تھی تبھی انھوں نے اس کے میسکیریج کا بتایا تھا شام ہونے کو تھی نماز پڑھنے کے بعد اس نے مامو سے جانے کی اجازت لی مگر منہل نے اسے رات تک روک لیا یہ کہ کر ساتھ والا آئسکریم پارلر آٹھ بجے کھلتا ہے وہ سب واک کرتے ہوئے آئسکریم کھانے جائے گے اس نے بھی منہل کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دیے
۔۔۔
ساڑھے سات بجے تھے اور سیرت نے دروازہ کھولا
یہ ٹائم تیمور کے آنے کا تھا اس نے تیمور کے ہاتھ سے بیگ لیا
وہ بھی اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھا
سیرت منو کہا ہے اسے بتائو کہ پاپا آئے ہیں۔۔۔
وہ منہل کے کمرے کی طرف نظریں کیے ہوئے سیرت سے بولا
آج آپ کی بیٹی بزی ہے کیونکہ اس کی بسٹ فرینڈ آئی ہے۔۔۔
سیرت اس کو پانی کا گلاس تھماتی اسے بتانے لگی
اچھا کون سی دوست۔۔۔۔
وہ پانی کا گھونٹ بڑھتا اس سے پوچھنے لگا
ربانیہ آئی ہے۔۔۔۔
سیرت کے منہ سے ربانیہ کا نام سن کر تیمور میز پر رکھ دیا اور ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا
کون آئی ہے ۔۔۔۔
اس نے شاک کے عالم میں پوچھا
ربانیہ آئی ہے اس کی نند کی شادی ہے نہ اسی کا انویٹیشن دینے آئی تھی صبح منہل تو اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی ہم سب نے اس کے ساتھ بہت انجوائے کیا خاص کر ابا جان اور منہل۔۔۔۔
سیرت اس کے ساتھ بیٹھی مسکرا کر اسے ایک ایک بات بتانے لگی
وہ بس سنجیدگی سے اسے سنتا رہا
اور ہاں ربانیہ منہل کے روم میں اس کو تیار کررہی ہے آج منہل نے آئسکریم کا پلین بنایا ہے آپ بھی چینج کرلے پھر سب ساتھ چلے گے ۔۔۔۔
ربانیہ آئی کس کے ساتھ تھی۔۔۔۔
تیمور اس کی باتوں کو ان سنا کرتا اس سے پوچھنے لگا
اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔
میں بہت تھک گیا ہو اب آرام کرو گا تم لوگ ابا جان کے ساتھ چلے جانا ۔۔۔۔
وہ اسے دو ٹوک کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔
ربانیہ ابھی منہل کو تیار کرکے باہر نکلی تھی جہاں عمر صاحب اور سیرت ان کا انتظار کررہے تھے
وہ لوگ ان کے آتے ہی آئسکریم کھانے چلے گئے
واک کرتے ہوئے انھوں نے آئسکریم کے مزے لیے تقریبا نو بجے وہ لوگ واپس اپارٹمنٹ میں آئے
ربانیہ منہل کے روم سے اپنا ہینڈ بیگ کے آئی اپنا موبائل نکالا تاکہ زایان کو کال کرکے بلا سکے
مگر موبائل دیکھتے ہی اس کے پسینے چھوٹنے لگے اس کا موبائل سائلنٹ پر تھا جہاں زایان کی پچاس مسڈ کالز چمک رہی تھی وہ یہاں آکر تو اسے بھول ہی گئی تھی اس نے ہربڑاہٹ میں زایان کا نمبر ڈائل کیا جو اب سوئچ آف آرہا تھا
وہ دوپہر سے اسے کالز کررہا تھا مگر جب اس نے اس کی کالز ریسیو نہ کی تو اس نے غصہ میں اپنا موبائل آف کردیا
منہل بھی سوچکی تھی وہ حال میں آئی جہاں سیرت اور عمر صاحب بیٹھے تھے
مامو آپ مجھے گھر چھوڑ دے زایان کا موبائل آف آرہا ہے شاید وہ کہی بزی ہیں ورنہ وہ خود مجھے لینے آتے۔۔۔۔
وہ ہربڑاہٹ میں ان سے بولی
ہا بیٹا تم تیار ہوجائو میں تیمور سے کہتا ہو وہ تمہیں چھوڑ دے گا۔۔۔۔
انھوں نے اسے ریلکس کیا اور سیرت سے تیمور کو بلانے کا کہا وہ تیمور کو بلانے چلی گئی
تیمور سو رہا تھا جب سیرت نے اسے جگایا اور ربانیہ کا بتایا
تو وہ جلدی جلدی اٹھا اور کار کیز اٹھائی
سیرت تم بھی ساتھ چلو ہمارے۔۔۔۔
اس نے سیرت سے کہا
نہیں میں بہت تھک گئی ہو اور ابا جان کو میڈیسنز بھی دینی ہیں آپ چلے جائے ۔۔۔۔
سیرت واقعی بہت تھک گئی اسی لیے انکار کردیا تیمور نے بھی اسے فورس نہ کیا
تیمور اس کے ہمراہ باہر آیا جہاں ربانیہ عمر صاحب کے ساتھ بیٹھی بار بار زایان کا نمبر ٹرائے کررہی تھی وہ اسے کافی پریشان لگی
میں کار سٹارٹ کرتا ہو تم آجائو ۔۔۔
وہ ربانیہ کو بولتا باہر چلا گیا
ربانیہ بھی عمر صاحب اور سیرت سے مل کر تیمور کے پیچھے چلی گئی
۔۔۔۔۔
تیمور نے گاڑی ملک ولا کے آگے روکی
تم کہو تو میں چلو تمہیں چھوڑنے۔۔۔۔ ربانیہ کار سے اتری تو تیمور بھی اس کے ساتھ اترا اور اس سے بولا
نہیں میں چلی جائو گی ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ زایان غصے میں ہوگا اور اس وقت وہ تیمور کو دیکھے گا تو وہ اور بھی زیادہ ہائپر ہوجائے گا اسی لیے اس نے تیمور کی سہولت سے انکار کردیا
اور اندر چلی گئی تیمور بھی واپس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حال میں آئی تو اسے کوئی نظر نہ آیا وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی اسے کسی بھی طرح زایان کو منانا تھا
وہ اپنے کمرے میں آئی تو پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
اس نے لائٹس آن کی تو سامنے بیڈ پر لیٹے زایان کو دیکھا جو اپنی آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا ہوا تھا وہ اس سے سخت ناراض تھا آخر اس کی غلطی بھی تھی
وہ اپنی چادر اور ہینڈ بیگ صوفے پر رکھے بیڈ کی جانب آئی اور زایان کی سائڈ پر اس کے سرہانے آئی
آپ جاگ رہے ہیں نہ ۔۔۔۔
وہ اس کے سرہانے کھڑی ہربڑاہٹ سے بولی
جاگ رہا ہوں مرا نہیں ہو۔۔۔۔ زایان کی سخت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
وہ اپنی سائڈ پر آئی اور بیڈ پر بیٹھی زایان کا بازو اس کی آنکھوں سے ہٹایا
سوری فون سائلنٹ پر تھا آپ کی کالز نہیں سن پائی ۔۔۔۔
وہ اس کی ناراض آنکھوں میں دیکھتی اسے منانے لگی
میں نے تم سے وضاحت مانگی ۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھوں سے اپنا بازو کھینچتے ربانیہ کی طرف کروٹ لے لی
سوری پھر کبھی ایسی غلطی نہیں کرونگی مجھے معاف کردے۔۔۔۔
وہ ویسی ہی بیٹھی مایوسی سے اسے بولی
مگر زایان نہ پلٹا ۔۔۔۔
اسے لگا کہ اب اسے منانا بےکار ہے تو وہ اسے وہی چھوڑے ڈریسنگ روم سے ایک لائٹ سا ڈریس نکالے واشروم چلی گئ
چینج کرکے واپس آئی تو ابھی بھی زایان ویسے ہی لیٹا ہوا تھا
وہ بھی اپنی سائڈ پر آئی اور اس کی طرف کروٹ لیے بلینکٹ اوڑھے سو گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
صبح جب ربانیہ کی آنکھ کھلی تو زایان ڈریسر کے آگے کھڑا خود پر پرفیوم سپرے کررہا تھا وہ کل رات اتنی تھک گئی تھی کہ نماز کے وقت بھی اس کی آنکھ نہ کھلی
وہ بستر سے اٹھی اور زایان کت پیچھے آ کھڑی ہوئی خو اسے دیکھنے سے بھی گریز کررہا تھا
میرا یقین کرے موبائل سائلنٹ پر تھا مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ آپ کی اتنی ساری کالز آئی ہیں ۔۔۔۔
وہ اس کو شیشے سے دیکھتے ہوئے بولی جو کلائی میں واچ باندھ رہا تھا
مگر وہ کچھ نہ بولا
وہ اس کے آگے آئی اور اس کی کلائی پکڑی
اتنا بھی کوئی ناراض ہوتا ہے سوری بولا تو ہے پلیز اب مان جائے نہ۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ مایوسی سے بولی
زایان نے اس کے گال پر اپنا ہاتھ رکھا
تم کل سارا دن اتنی بزی تھی کہ تمہیں میرا خیال ہی نہ آیا اب تمہیں بھی سزا ملے گی نہ جان اسی لیے مجھے ڈسٹرب مت کرو مجھے آج بہت سارے کام ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اس کا گال سہلاتا نرمی سے بولا اور اپنی کلائی اس کے ہاتھ سے چھڑائے روم سے چلا گیا
