Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

آٹھ بج رہے تھے وہ پھپھو سے اجازت لے کر آئی تھی انھوں نے خوشی خوشی اسے جانے کی اجازت دےدی انھیں خوشی تھی کہ زایان اور ربانیہ اپنے رشتے کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں وہ ڈریسنگ روم میں اپنے لیے ڈریس سیلکٹ کررہی تھی ایمن کے ساتھ جو شاپنگ وہ کرکے لائی تھی ان میں سے ایک پیچ کلر کا ڈریس نکالا گھٹنوں تک آتی نیٹ کی قمیض اور پیچ کلر کی کیپری اسے کافی پیاری لگی وہ اسے چینج کرنے چلی گئی
چینج کرکے واپس آئی تو ڈریسر کے سامنے اپنا جائزہ لینے لگی وہ کلر اس پر کافی سوٹ کررہا تھا بالوں کو کھلا چھوڑا اور ہلکا سا پیچ کلر کا گلوس لگایا دوپٹہ گلے میں سیٹ کیے آج تو وہ کوئی الگ ہی روپ دے رہی تھی پھر زایان کا دیا پنڈنٹ ڈرور سے نکالا اور اسے اپنے گلے میں پہنا
ایک مسکراتی نظر سے اپنا جائزہ لیے وہ بالکونی میں آئی اور زایان کا انتظار کرنے لگی دس بجنے والے تھے مگر زایان کا کوئی پتا ہی نہ تھا کافی دیر وہاں ٹہلنے کے بعد وہ واپس روم میں آئی اور بیڈ پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور زایان کو کال ملائی مگر فون بند جارہا تھا گیارہ بجنے والے تھے مگر زایان ابھی تک نہ آیا تھا
غصے سے اپنا موبائل بیڈ پر پھینکے ڈریسنگ روم سے اپنا لائٹ ڈریس نکالے واشروم چلی گئی چینج کرکے ڈریس واپس رکھا اور بالوں کا جوڑا بنائے کیچر میں قید کیے بیڈ پر آئی اور ایک آخری بار زایان کو کال ملائی مگر فون بند
موبائل ڈرور پر رکھے بلینکٹ اوڑھے وہ لیٹ گئی
۔۔۔۔
رات کے تقریبا بارہ بجے گھر آیا تو تمام لائٹس آف تھی وہ اپنے روم میں آیا تو ہو حسب معمول ربانیہ کی سائڈ والا لیمپ آن تھا اور وہ سو رہی تھی
اس نے کمرے کی لائٹس آن کی تو پورا کمرہ روشن ہوگیا
ربانیہ شاید سو نہیں رہی تھی اس سے ناراض تھی اچانک اسے اپنا شام والا ربانیہ سے کیا پرومس یاد آیا
“او شٹ میں کیسے بھول گیا” وہ زیر لب بڑبڑایا
اور ایک نظر ربانیہ پر ڈالے جو منہ تک بلینکٹ اوڑھے سو لیٹی ہوئی تھی ڈریسنگ روم میں چلا گیا
چینج کرکے واپس آیا تو اپنی سائڈ پر جاکر بیٹھا
ربانیہ جاگ رہی ہوں ۔۔۔۔ربانیہ اس کی طرف پشت کیے سو رہی تھی وہ اس کی آواز سن کر نہ ہلی
“اچھا سوری یار میں بھول گیا تھا”۔۔۔ وہ اس کا کندھا ہلاتے بولا
مگر وہ نہ پلٹی
“اچھا چلو ایک کام کرو تم تیار ہوجائو ہم ابھی چلتے ہیں”۔۔۔ اب وہ بیڈ سے اتر کر اس کی سائڈ پر آیا اور اس کے منہ سے بلینکٹ اتار کر کہنے لگا
ربانیہ نے اپنی آنکھیں کھولی
“مجھے کہی نہیں جانا جب لے کر نہیں جانا تھا تو مجھے کہا کیو تھا”۔۔۔
وہ اس سے خفا خفا سی کہتی منہ دوسری سائڈ پر کر لیا
یار اچانک میٹنگ آگئی اسی لیے فون آف کردیا تھا۔۔۔۔۔ وہ دوبارہ اس کا رخ اپنی طرف کیے وضاحت دینے لگا
ٹھیک ہے آپ نے کہا میں نے سن لیا اب مجھے سونے دے ۔۔۔۔۔
وہ تو میٹنگ کا نام سن کر غصہ پی کر رہ گئی اسی لیے اسے کہے وہ دوبارہ کروٹ لیے آنکھیں بند کرلی
تم نے ڈنر کیا ۔۔۔۔
اب وہ دوبارہ بیڈ پر بیٹھا اور اس سے پوچھنے لگا
مگر ربانیہ نے پھر بلینکٹ منہ تک اوڑھ لیا
اب تو زایان نے بھی ٹھان لی کہ کچھ بھی ہوجائے اسے منا کر ہی رہے گا
وہ بیڈ سے اٹھا اور اس کی سائڈ آیا اس کا بلینکٹ ہٹایا
وہ تلملا کر اٹھ بیٹھی
کیا کررہے ہیں آپ ۔۔۔
مگر زایان اسے ان سنا کرتا اسے گود میں اٹھالیا
وہ تو اس کی پکڑ میں مچل کر رہے گئی
اتارے مجھے نیچے کیا کررہے ہیں آپ ۔۔۔
وہ اسے اٹھائے بالکونی میں آیا اور اسے گریل پر بٹھا دیا
اب بتائو ناراض ہو مجھ سے
اس کی جان اٹکائے اس کے گرد حصار بنائے اس سے پوچھنے لگا
نہیں ہو بلکل نہیں ہو پلیز مجھے نیچے اتارے میں گر جائو گی۔۔۔۔
وہ کبھی نیچے دیکھتی تو کبھی زایان کو جو اس کی حالت سے مزے لے رہا تھا
پکا ۔۔۔۔وہ اپنی ہنسی دبائے
سنجیدگی سے بولا
پکا پکا اب مجھے نیچے اتار دے ۔۔۔۔
وہ ہکلاتی ہوئی بولی
زایان کو آخر اس کی حالت پر ترس آگیا اسی لیے اسے نیچے اتار دیا
اس نے بھی لمبا سانس لیا
حد ہے ویسے ایک تو جھوٹا وعدہ کیا مجھ سے اوپر سے عجیب زبردستی ہے۔۔۔۔
وہ اس سے غصیلی گھوری سے نوازے روم میں جانے لگی جب زایان نے اس کا بازو کھینچا اور اسے دیوار سے ٹیک لگایا
اس کے دونوں اطراف بازو حائل کردیے
ایم سوری قسم سے بھول گیا تھا کبھی اس طرح کسی کو ڈنر کو بولا نہیں ہے اسی لیے دھیان نہیں رہا۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے کے قریب چہرہ کیے وہ بولا
اس نے نظریں جھکا لی
ہئے تمہاری یہی ادائیں میری سزائیں بن جاتی ہیں ۔۔۔۔
اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کیے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی
اب ناراض تو نہیں ہو۔۔۔۔
نہیں ۔۔نہیں ہو
تو پھر ڈنر پر چلے
وہ اس کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے بولا
ابھی
اس نے حیرانی سے پوچھا
ہاں ابھی۔۔۔
نہیں ابھی نہیں میں بہت تھک گئی ہوں کسی اور دن ۔۔۔۔
کیو ہم ڈنر گھر پر بھی تو کر سکتے ہیں۔۔۔۔
گویا اس نے مشکل آسان کی
ہاں یہ ٹھیک ہے آپ ویٹ کرے میں ابھی کھانا گرم کرکے آتی ہوں
وہ اس کے بازو ہٹاتی بولی
اوکے جلدی آنا ۔۔۔۔۔
زایان نے بھی اسے چھوڑ دیا
۔۔۔۔۔۔
ایمن کی شادی کو صرف پانچ دن رہے گئے تھے صرف نکاح کا فنکشن رکھا گیا تھا کیونکہ فیصل کو فضول کی رسموں سے اریٹیٹ ہوتا تھا
ایمن نے بھی لیو لے تھی ہوسپیٹل سے اس کے تو روز کے مال کے چکر ہوا کرتے تھے کبھی ربانیہ کے ساتھ تو کبھی فرینڈز کے ساتھ
سلمی بیگم حال میں بیٹھی تھی جب ان کے گھر کسی ادھیڑ عمر کی خاتون کی آمد ہوئی
سلمی بیگم انہیں دیکھتے ہی پہچان گئی
وہ اٹھ کر ان سے گلے ملی گندمی رنگت اور چمکتی آنکھیں ان خاتون کو الگ بنا رہی تھی
یہ سمیرا بیگم کی ایک دوست تھی سلمی بیگم کی ان سے ملاقات بھی سمیرا بیگم کے گھر پر ہوئی تھی تبھی سے وہ سلمی بیگم کی بھی دوست بن گئی تھی آج وہ خصوصن ربانیہ سے ملنے آئی تھی آخری بار انھوں نے ربانیہ کو تب دیکھا تھا جب وہ پانچ سال کی تھی
کیسی ہو نگار۔۔۔۔ صوفے پر بیٹھتے ہی سلمی بیگم نے ان سے پوچھا
میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہیں۔۔۔۔
خوش اخلاقی سے جواب آیا
میں بھی ٹھیک ہو۔۔۔۔
سمیرا کا سن کر بہت افسوس ہوا اس کے گھر بھی گئی تھی مگر دروازے کو تالا لگا ہوا تھا پڑوس سے پتا چلا اس کے بارے میں اور یہ بھی کہ اس کی بیٹی آپ کی بہو اسی لیے سوچا کہ آکر مل لو۔۔۔۔
چہرے پر آہٹ بھری سنجیدگی سجائے انھوں نے ایک ایک بات سلمی بیگم کو بتائی
جی بس جو اللہ کو منظور ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا
گھر کی سجاوٹ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ کوئی
تقریب ہے
انھوں نے ایک نظر پورے حال میں دوڑائی اور سلمی بیگم سے پوچھا
ہاں وہ میری بیٹی کی شادی ہے چند دنوں میں ۔۔۔۔
ان کی بات سن کر نگار کے چہرے ہر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
بہت مبارک ہو آپ کو وہ پاک ذات جس نے نصیب لکھے آپ کی بیٹی کے بھی نصیب اچھے کرے۔۔
بہت شکریہ آپ بیٹھے میں ربانیہ کو بلاتی ہو اور آپ کیلئے چائے کا اہتمام بھی کرتی ہو ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے ان سے کہا اور کچن کی جانب چلی گئی
فریدہ نے ربانیہ کو نگار کی آمد کا بتایا تو وہ انہیں سلمی بیگم کی رشتہ دار سمجھ بیٹھی اور دوپٹہ اوڑھے نیچے آئی
اسلام و علیکم ۔۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں زمین کو گھور رہی تھی جب ربانیہ کی میٹھی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی
وعلیکم سلام سمیرا کی بیٹی ہو ۔۔۔۔
انھوں نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
آپ امی کو جانتی ہیں۔۔۔۔ ربانیہ ان کے منہ سے سمیرا کا نام سن کر ان کے ساتھ بیٹھے پوچھنے لگی
ہاں بیٹا میں سمیرا کی دوست ہو پانچ سال کی تھی تم جب آخری بار دیکھا تھا تمہیں اب تو ماشااللہ کافی بڑی اور پیاری ہوگئی ہو۔۔۔۔
وہ اسے مسکرا کر ایک ایک بات بتا رہی تھی
شکریہ۔۔۔
اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا
تمہارا میاں کہا ہے اس سے تو ملوائو ۔۔۔۔
انھوں نے زایان کے مطلق پوچھا
جی وہ اس وقت آفس میں ہوتے ہیں
صحیح اور تمہارے نند کہا ہے جس کی شادی ہے
انھوں نے ایمن کے بارے میں پوچھا
وہ اپنے کمرے میں ہیں ان کی کچھ دوست آئے ہیں اسی لیے وہ جیسے ہی فری ہوتی ہے میں آپ سے ملواتی ہوں۔۔۔۔
ربانیہ کو یہ خاتون بہت اچھی لگی اپنی سی
سلمی بیگم بھی آگئی فریدہ ان کے پیچھے لوازمات کی ٹرے لے آئی اور ان کے آگے سجانے لگی
ربانیہ یہ نگار ہیں سمیرا کی کافی پرانی دوست ۔۔۔۔
سلمی بیگم نگار کو دیکھتے ہوئے ربانیہ کو بتانے لگی
جی پھپھو میں ان سے مل چکی ہوں بتایا انہوں نے ۔۔۔
بہن آپ کا ٹرانسفر واپس یہی ہوگیا ۔۔۔۔
سلمی بیگم نے نگار سے پوچھا وہ اخبارات کے ایک
دفتر میں ایڈیٹر کی نوکری کرتی تھی کوئی اولاد ان کی نہیں تھی خاوند کا بھی دو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا
جی دوبارہ یہی ہوگیا ہے اسی شہر میں۔۔۔۔
اچھا اور آپ کی رہائش کہاں ہے
وہ دفتر کی طرف سے ایک فلیٹ ہے وہی پر بس دو دن پہلے ہی آئی تھی سامان شفٹ کررہی تھی آج فارغ ہوئی تو سوچا آپ سے مل لو ۔۔۔۔
انھوں نے ایک ایک تفصیل سلمی بیگم کو دی اور ربانیہ بھی غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی
چلے یہ تو اچھا ہوا آپ میری بیٹی کی شادی میں ضرور آئیے گا ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم ان کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولی
جی کیو نہیں اب تو میں اپنی بیٹی سے ملنے آتی رہوں گی ۔۔۔۔۔
انھوں نے ربانیہ کو پیار کرتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔
زایان شام میں آفس سے آیا تو سیدھا کمرے میں چلا گیا
ربانیہ ابھی ڈنر کا انتظام کررہی تھی کیونکہ ایمن کے کافی فرینڈز آج اسی کے یہاں رکنے والے تھے
ڈنر بنانے کے بعد وہ کمرے میں آئی تو زایان صوفے پر لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا
اس کے جوتے کوٹ سب اپنی جگہ رکھنے لے بعد وہ بھی اسی کے ساتھ بیٹھ گئی
ان چند دنوں میں وہ زایان سے بہت اٹیچ ہوگئی تھی وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھتا وہ اس سے اپنی ہر بات بلا جھجک شیئر کرتی جبکہ وہ ہر بات غور سے سنتا اس کا بہت خیال رکھتا ایمن کی شادی کیلئے ساری شاپنگ زایان نے ہی اسے کرائی تھی
کہاں بزی تھی۔۔۔۔ وہ بغور لیپ ٹاپ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا
ڈنر کی تیاری کررہی تھی آپی کے بہت سارے فرینڈز آئے ہوئے ہیں نہ اسی لیے میں نے فریدہ کی ہیلپ کردی ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ زایان نے بس اتنا کہا
وہ مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی ۔۔۔۔
دل میں کئی وسوسے لیے وہ بولی
ہاں کہو ۔۔۔۔
آپ پہلے اسے تو بند کرے ۔۔۔۔
وہ اس کا لیپ ٹاپ ہٹاتی بولی
اچھا لو بند کردیا اب بولو۔۔۔۔
لیپ ٹاپ سٹڈی ٹیبل پر رکھنے کے بعد وہ واپس ربانیہ کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگا
میں مامو کے گھر جانا چاہتی ہو ۔۔۔۔
وہ زایان کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے بولی
تو جائو کس نے روکا ہے۔۔۔۔۔
زایان نے نارمل جواب دیتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا
سچ۔۔۔۔ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا
زایان نے اسے گھورا
تھینکیو۔۔۔۔ وہ بچوں کی طرح اس کے گلے لگی بولی
ہمم اب اپنے مجازی خدا سے ڈنر کا بھی پوچھ لو۔۔۔۔
ربانیہ جب اس سے الگ ہوئی تو زایان نے کہا
ارے میں بھول گئی میں ابھی لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔
وہ اس سے کہتی روم سے چلی گئی
پاگل ہے پوری۔۔۔۔
ربانیہ کے جانے کے بعد مسکراتے ہوئے اس نے سر جھٹکا بیڈ پر لیپ ٹاپ اٹھائے آیا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا
۔۔۔۔۔
ایمن اپنے روم میں سو رہی تھی آج ہی اسے مایو بٹھایا گیا تھا اور وہ ان ساری رسموں سے بہت تھک چکی تھی اور پچھلے چار گھنٹے ست نیند کی وادیوں میں کھوئی تھی جب اس کے موبائل پر رنگ ہوئی
اس نے بے دلی سے کروٹ لی اور ساتھ پڑا اپنا موبائل اٹھایا
نام دیکھے بغیر اس نے کال ریسیو کی
ہلو۔۔۔ آواز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ سو رہی تھی
ڈاکٹر صاحبہ سو رہی ہیں ۔۔۔۔
دوسری طرف سے فیصل کی آواز آئی
اس کی آواز سن کر نیند میں بھی وہ مسکرانے لگی
جی سو رہی تھی۔۔۔
اچھا جی سو لے سو لے پھر جب سسرال کی ذمہ داریاں آئیں گی تو ساری نیندین پھر ہو جائیں گی
کیا مطلب آپ مجھ سے کام کرائیں گے
آواز میں یک دم سنجیدگی آئی
نہیں تو یہ کس نے کہا
ابھی آپ نے ہی تو کہا
میرا مطلب تھا کہ جب ہمارے بچے ہو جائے گے تو کب سونے کا ٹائم ملے گا آپ کو
وہ دبی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
فیصل آپ بھی نہ مطلب ہر ٹائم شروع ہوجاتے ہیں بس
سوری سوری آپ تو برا ہی مان گئی
ہممم آئے نہ اب لائن پر
اچھا یہ بتائو کہ شادی کا ڈریس دیکھا
ہاں دیکھا بہت پیارا لگ رہا تھا آپ نے دیکھا
جی ہم ہی تو دینے آئے تھے ظالم سماج نے آپ سے ملنے ہی نہ دیا
اس نے اپنے دکھڑے روئے
ایمن قہقہ لگائے ہنسی
اچھی بات ہے نہ
ایمن کو اس کی باتیں مزہ دے رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔