No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
آغوش مجھے بتائو گی کہ ہوا کیا ہے آخر کیو اگنور کررہی ہو مجھے ۔۔۔۔۔۔
آغوش کو اکیلا کھڑا دیکھ وہ اس کے پاس آیا
تم کل کس کے ساتھ مال میں تھے۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی
وٹ بس اتنی سے بات ۔۔۔۔وہ تو حیران رہ گیا
یار کل میں مال میں اپنی شاپنگ کرنے گیا تھا وہی مجھے میری کلاس فیلو عائشہ ملی ہم ایک ہی شاپ میں تھے اسی لیے ہائے ہلو ہوگئی پھر وہ اپنی سائڈ اور میں اپنی سائڈ ۔۔۔۔۔
وہ اسے ایک ایک تفصیل دینے لگا
پکا یہی بات ہے ۔۔۔۔۔اس نے یقین دھانی کرنا چاہی
تو اگر اعتبار نہیں ہے تو پھر میرا تمہیں یہ سب کہنے کا مطلب۔۔۔۔۔
وہ کندھے اچکائے وہاں سے جانے لگا
اچھا سوری نہ
۔۔۔۔۔آغوش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا
میں بس کچھ زیادہ اموشنل ہو گئی تھی ایم سوری پلیز معاف کردو۔۔۔۔۔
ہممم اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور آئندہ ایسی باتیں پہلے مجھ سے کنفرم لینا اس سے بدگمانی دل میں جگہ بناتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس کو سمجھانے لگا
آغوش نے اثبات میں سر ہلایا
۔۔۔۔۔
وہ اپنے روم سے باہر کچن میں آگئی مگر اس کی آنکھوں نے جو دیکھا کیا وہ سچ تھا کہ واقعی زایان نے ایسا کیا تھا یہ انسان اس کی سوچ سے باہر تھا مگر اب جو بھی تھا اب اس کا اس گھر میں رکنے کا کوئی جواز نہ تھا
یہ سب سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوں کی لڑیاں نکلنے لگی چاہے وہ جیسا بھی تھا اس کا شوہر تھا وہ اس کے ساتھ جو بھی کرتا رہا مگر ربانیہ کو لگا تھا کہ سب وہ واقعی اپنے کیے پر شرمندہ ہے مگر نہیں اب جو وہ دیکھ کر آئی تھی وہ سب کیسے جھٹلا دیتی
پانی کا گلاس اٹھایا اور اسے اپنے اندر انڈیلا
پھر وہ باہر چلی آئی جہاں رنگ سرمنی سٹارٹ ہوچکی تھی
زایان سٹیج پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
نمرہ تو روم سے نکلتے ہی جا چکی تھی وہ دور سے سٹیج کا سارا منظر دیکھ رہی تھی اس کے پیر اس کا ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے کہ وہ وہاں جائے
فیصل نے پہلے ایمن کو رنگ پہنائی پھر ایمن نے فیصل کو وہ دونوں کتنے خوش تھے سب کی لائف میں خوشیاں تھی سب اپنی زندگیوں میں خوش تھے سیرت اس کے پاس آئی
ربانیہ آپ یہاں کیو کھڑی ہیں آپ کی نند کی منگنی ہے آپ کو سیلیبریٹ کرنا چاہیے پھر آپ یہاں کیو کھڑی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسی کے ساتھ کھڑی اس سے پوچھنے لگی
ارے نہیں ایسی بات نہیں اکچیولی مجھے زیادہ بھیڑ میں الجھن ہوتی ہوتی ہے اسی لیے میں یہاں کھڑی ہوں۔۔۔۔۔
اس نے نارمل انداز میں جواب دیا
مامو کہا ہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے منہل کے ساتھ بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔ سیرت نے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں عمر صاحب منہل کے ساتھ باتیں کررہے تھے
آئے ہم بھی وہی چلتے ہیں۔۔۔۔ ربانیہ اس کے ساتھ وہی چلی گئی جہاں عمر صاحب منہل کے ساتھ بیٹھے تھے
وہ دونوں ان کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھ گئے
ربانیہ بیٹا تم ہماری لاڈلی سے ملی۔۔۔۔۔
انھوں نے منہل کو پیار کرتے ہوئے ربانیہ سے پوچھا
جی میں منہل سے مل چکی ہو اور ہماری تو اچھی دوستی بھی ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے مسکراتے ہوئے عمر صاحب کو جواب دیا
اتنے میں تیمور بھی انٹر ہوا
منہل اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بھاگی
سب لوگ اسی کی طرف متوجہ ہوئے
تیمور نے مسکراتے ہوئے منہل کو اٹھا لیا
پاپا آپ میری نیو فرینڈ سے ملے۔۔۔۔۔
اس نے معصومیت سے تیمور سے پوچھا
ارے یہ کون خوش قسمت ہے جو منہل دا گریٹ کی دوست بن گئی۔۔۔۔۔
تیمور نے شرارت میں پوچھا
آپ آئے نہ میں ملواتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اسے اسی ٹیبل پر لے گئی جہاں وہ سب بیٹھے ہوئے انہیں دیکھ رہے تھے
ربانیہ اسے دیکھتے ہی نظریں جھکا گئی
وہ سیرت کے ساتھ والی چیئر پر منہل کو اٹھائے بیٹھ گیا
سیرت کے چہرے پر اسے دیکھتے ہی خوشی ریگنے لگی
پاپا یہ ہے میری فرینڈ۔۔۔۔۔۔ اس نے سامنے بیٹھی ربانیہ کی طرف اشارہ کیا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی وہ نظریں ملاتی بھی کیسے زایان نے اسے اس قابل چھوڑا ہی نہ تھا
تیمور کی نظریں بھی سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی
کیسی ہو ربانیہ۔۔۔۔۔ اس نے ربانیہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
ربانیہ کی نظریں بھی یک وقت اس سے ملی
جی ۔۔میں ٹھیک ہو
اس نے مختصر سا جواب دیا اور آٹھ کر چلی گئی
اس کے دل میں ایک جلن سی اٹھی سن خوش تھے اپنی لائف میں کسی کو کوئی تکلیف نہ تھی اور ایک وہ تھی جسے بچپن سے محرومیوں کے سوائے کچھ نہ ملا
وہ سب سے الگ لان کی پچھلی سائڈ پر چلی آئی
کیا دیکھ رہی ہوں تیمور اس سے فاصلے پر کھڑا اس سے پوچھنے لگا نظریں اس کی آسمان پر تھی
کچھ نہیں۔۔۔
وہ نظریں چرائے جانے لگی
تم سے کچھ پوچھنا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ ویسی ہی پوزیشن میں کھڑا تھا
ربانیہ کے چلتے قدم رکے
تم زایان کے ساتھ خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔
ربانیہ اس کے سوال پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی
جی بہت خوش ہو وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اسے تیمور کا یہ سوال بلکل اچھا نہ لگا اسی لیے اس نے روکھے لہجے میں جواب دیا
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے ۔۔۔۔۔
وہ آسمان کو دیکھتا ہوا ہاتھ پیچھے کیا بولا
جانتی ہو اس دن جب تمہیں اس حالت میں دیکھ کر گھر آیا تو ٹوٹ گیا تھا میں ایک شخص اپنی ہی اولاد کو کیسے کسی دوسرے کا گناہ کہ سکتا ہے سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔
سیرت میرے آفس کی ایک ورکر تھی منہل کے باپ نے بھی اسے ناجائز کہا تھا اور سیرت کو طلاق دے دی وہ منہل کے ساتھ ایک ہاسٹل میں رہتی تھی اور جیسے تیسے منہل کے ساتھ گزارا کر رہی تھی ابا جان مجھے شادی کیلئے فورس کیے ہوئے تھی۔۔۔۔۔۔
ابا جان نے مجھ سے کہا
تمہارے نصیب جس سے جڑے ہیں اسے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔
سیرت کے حالات مجھ سے یا آفس کے ہر ورکر سے چھپے نہ تھے سیرت کا چہرہ میرے سامنے آیا اگر شادی کرنی ہی ہے تو کیو نہ اس سے کرو جسے ایک سہارے کی ضرورت ہے کیو نہ میں ایک بے آسرا بچی کو باپ کا پیار دو جو باپ کے پیار کیلئے ترستی رہی ہوں اسی لیے ابا جان کو سیرت کیلئے قائل کیا اور وہ مان گئے تین ماہ پہلے سیرت سے نکاح کیا اس وقت یہ نہیں جانتا تھا کہ کیا میں وہ سب کر پائو گا جس کیلئے یہ سب کررہا ہو مگر اللہ ہے نہ اس نے منہل اور سیرت کیلئے خود بخود میرے دل میں محبت ڈال دی کہ دینا زایان سے اپنی اولاد کا ٹھکرا رہا تھا وہ اسی لیے خدا نے اس سے اولاد سے محروم کردیا قدر کرے وہ تمہاری اور اپنی آنے والی زندگی کو مزید برباد مت کرے۔۔۔۔۔
وہ اس پر بغیر ایک نظر ڈالے وہاں سے چلا گیا
ربانیہ کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اگر زایان اس دن وہ سب نہ کرتا تو آج اس کی زندگی بھی خوشیوں سے بھری ہوتی ایک مضبوط مرد کا سہارا ہوتا جو اسے ہر وہ خوشی دیتا جس کی وہ حقدار تھی
۔۔۔۔
جب سارے مہمان چلے گئے تو وہ بھی اپنے کمرے میں چلی آئی زایان اسے بات کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ اسے نظر انداز کرتی رہی
وہ ڈریسر کے سامنے کھڑی بے دردی سے اپنی بازو سے چوڑیاں اتار رہی تھی
جب زایان کمرے میں آیا اور ٹھیک اس کے پیچھے کھڑا ہوا ربانیہ نے ایک نظر اسے دیکھا بھی نہیں
ربانیہ ویسا کچھ بھی نہیں تھا جیسا تم بے دیکھا۔۔۔۔۔
اس نے ربانیہ کو کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا
آپ سے کچھ مانگو تو دے گے ۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اسے بولی
خود سے الگ کرنے کے سوائے سب کچھ مانگو تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دونگا بس ایک بار مجھے معاف کردو ۔۔۔۔۔وہ اس کے گھٹنوں میں بیٹھ گیا شرمندگی ندامت اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی آج ربانیہ کو لگا کہ وہ سچ میں شرمندہ ہے
مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا میں آپ جیسے شخص کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔
وہ آنسو ضبط کیے بولی
وہ اٹھا اور آنکھے لال ہوگئی
کیا مجھے میری بات کہنے کا ایک موقع بھی نہیں ملے گا”
وہ اس کا بازو زور سے پکڑے لال انگارہ ہوتی آنکھوں سے پوچھنے لگا
“جب میں آپ کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تو میں کیا کرونگی آپ کی بات سن کر”۔۔۔۔۔
چھوڑے میرا ہاتھ۔۔۔۔۔
اس نے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے آزاد کیا اور ڈریسنگ روم میں جانے لگی
رکو غلطی میری ہے نہ تو سزا بھی مجھے ہی ملنی چاہیے تم کہی نہیں جارہی میں آج کے بعد ہر ممکن کوشش کرونگا کہ تمہارے سامنے بھی مہ آئو ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پاس سے گزرتا ہوا وہ ڈریسنگ روم میں گیا اپنا سفری بیگ اٹھایا اور چند کپڑے اس میں رکھے بیگ اٹھائے وہ بغیر اس پر ایک نظر ڈالے روم سے چلا گیا
ربانیہ تو روتے ہوئے نیچے بیٹھتی چلی گئی شاید خدا نے اس کے نصیب میں خوشیاں لکھی ہی نہیں تھی
۔۔۔۔۔
ایمن کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی تھی ایک ماہ بعد اس کی شادی تھی زایان اس رات جرمنی چلا گیا تھا اور صرف فون پر رابطہ تھا اس کا سلمی بیگم سے ربانیہ کو اس نے ایک بار بھی فون نہیں کیا تھا اور نہ ربانیہ نے کسی سے اس کا پوچھا
پندرہ دن ہوگئے تھے اس بات کو ربانیہ کو اب کمرے کی تنہائی کاٹنے لگی تھی اسے ایک وہشت سی ہوگئی تھی اس کمرے سے زایان جاتے وقت اس کا چین سکون سب لے گیا تھا
وہ کبھی کبھی ایمن کے کمرے میں سونے کیلئے آجاتی وہ دونوں دیر رات تک باتیں کرتی تھی وہ اس عرصے میں ایمن کے زیادہ قریب ہوگئی تھی وہ اسے زایان کے بچپن کی باتیں بتاتی اس کی شرارتوں کے قصے سناتی اور وہ بھی انہیں انجوائے کرتے سنتی
اسے لگا اس دن وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ایمن نے اسے نمرہ کی نیچر کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ کچھ دن پہلے ایک امیر زادے سے بھاگ کر شادی کرچکی تھی
اسی لیے ایمن نے اس ست دوستی ختم کردی تھی اسے زایان کی بات سن لینی چاہئے تھی اسے اپنی غلطی کا احساس تھا مگر یہ بات بھی تھی کہ
غلطی زایان کی بھی تھی اسے اتنی بھی کیا پڑی تھی کہ وہ یہ سب کرتا پھر رہا تھا
۔۔۔۔۔
رات کے ایک بجے اسے بادلوں کی گرج سنائی دی بالکونی کا دروازہ کھلا تھا اسی لیے آواز اندر تک آئی
وہ ڈر کے مارے اٹھی اور بالکونی کا دروازہ کھلا دیکھ اس کی جان نکل گئی وہ تو ہمیشہ ڈور لاک کرکے سوتی تھی پھر بالکونی کا لاک کیسے کھل گیا
وہ بستر سے اٹھی اور آہستہ قدموں کے ساتھ بالکونی کی طرف بڑھی
دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے اندر جھانکا تو کسی کی چوڑی پشت اسے دیکھائی دی
اسے دیکھتے ہی اس کی جان میں جان آئی وہ زایان تھا وہ واپس بھی آگیا اور اسے پتا بھی نہ چلا
زایان اس کی آہٹ محسوس کرکے پیچھے مڑا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
آ۔۔۔آپ کب آئے ۔۔۔۔
وہ ہچکچاہٹ سے اسے بولی
تم فکر مت کرو صبح ہی چلا جائو گا تمہارے سر ہر مزید عذاب نہیں بنو گا ۔۔۔۔۔
وہ روکھے پن سے اسے بولا اور واپس اس کی طرف پشت کرلی
وہ یہ سنتے ہی زور سے رونے لگی
زایان اس کے پاس آیا اور اس کی تھوڑی کو اونچا کیے اسے دیکھنے لگا جو رو رو کر لال ٹماٹر ہورہی تھی
کیا ہوا اگر اتنا برا لگتا ہو تو ابھی جارہا ہوں تم ریلکس کرو نہیں آئو گا تمہارے سامنے ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا وہ سمجھ گیا تھا کہ ربانیہ کیو رو رہی ہے مگر وہ اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا
وہ تو یہ سنتے ہی اس سے لپٹ گئی
مجھے معاف کردے میں نے آپ کو سمجھنے میں غلطی کردی اب کبھی ایسا نہیں کرو گی ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے سینے سے لگی روتے ہوئے بولی
زایان نے اپنی ہنسی کسی طرح روکی
کیو تم تو میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ایون مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتی اسی لیے جارہا ہوں میں ۔۔۔۔۔
وہ اپنے مزاج میں سنجیدگی لائے اسے دور کیا اور جانے لگا
ربانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
غصے میں بولی گئی تھی میں اور آپ کو کیا ضرورت تھی اس سے اتنا چپکنے کی۔۔۔۔۔ وہ دوبارہ اس کے سینے سے لگی شکوہ کرنے لگی
تو اب تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔
وہ اس سیدھا کیے پوچھنے لگا
آپ کہیں مت جائے بس ۔۔۔۔۔۔وہ لال ناک لیے معصومیت سے اسے بولی
تو ٹھیک ہے تم یہاں سو جائو میں گسٹ روم میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
نہیں آپ یہی رہے ۔۔۔۔۔وہ تنگ آکر بولی
تو تم نے مجھے معاف کیا ۔۔۔۔۔
ربانیہ کچھ دیر ایسے ہی ساکت رہی وہ جانے لگا
ہاں معاف کیا ۔۔۔۔۔اسے جاتا دیکھ وہ فورن بولی
زایان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا
سچے دل سے معاف کیا یا اوپر سے بول رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا
سچے دل سے معاف کیا ۔۔۔۔۔۔وہ اس کے سینے سے لگی بولی
اور اگر آپ نے دوبارہ مجھے کوئی دکھ دیا نہ تو میں سچ میں چلی گئی اور کبھی واپس نہیں آئو گی ۔۔
۔
وہ معصومیت سے بولی
کبھی نہیں اب تو سوچو گا بھی نہیں۔۔۔۔۔
وہ بچوں کی طرح اس کی پیٹ سہلانے لگا
کہیں ایسا نہ ہو پاوں مرے تھرا جائیں
اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں
اور ترے ریشمی انچل کا کنارا نہ مل
