Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ارے ایمن اتنی چپ چپ کیو ہو بھئ” ۔۔۔۔۔
ایمن کو کتاب میں سر دیے دیکھ فیصل بول پڑا
“میں کسی سٹرینجر سے زیادہ بات نہیں کرتی” ۔۔۔۔ایمن نے اتراتے ہوئے کہا جسے سن کر فیصل کا قہقہہ بلند ہوا
“اب اس میں ہنسنے والی کون سی بات ہے “۔۔۔۔۔
ایمن نے غصے سے کہا
“سٹرینجر سے بات نہیں کرسکتی ڈاکٹر ایمن مگر اس کی گاڑی میں بیٹھ سکتی ہیں” ۔۔۔۔۔۔۔
فیصل نے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ بھائی کے دوست ہے نہ مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں اور اگر آپ کہتے ہیں تو میں آپ کی گاڑی سے اتر جائو”۔۔۔۔۔
ایمن نے غصے سے بھرپور لہجے میں کہا
“ارے نہیں نہیں میرے کہنے کا وہ مطلب بلکل نہیں تھا ایم سوری پلیز اب میں کچھ نہیں کہو گا “۔۔۔۔۔
فیصل نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اور بلکل سیدھا ڈرائو کرنے لگا
اور ایمن پھر اپنی کتاب میں مصروف ہوگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آنی ناشتہ میں خود بنائوں گی فریدہ کے ہاتھ کے ٹوسٹ نہیں کھائے جاتے مجھ سے”۔۔۔۔۔۔
رابی نے الٹی سیدھی شکلیں بناتے ہوئے کہا
“اچھا بیٹا جائو کچن میں اور آج میں بھی تمہارے ہاتھ کا ناشتہ کرو گی”۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم کا بھی آج کچھ نیا کھانے کا دل تھا
“جی بس ابھی بنا کے لائی گرم گرم پراٹھے “۔۔۔۔۔
رابی بہت خوش دلی سے بولتی کچن میں چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے وہاں باجی کیا پراٹھے بنائے ہیں آپ نے پورے گھر میں خوشبوں پھیلی ہوئ ہے” ۔۔۔۔۔
فریدہ بھی دات دیے بغیر نہ رہ سکی
“اچھا باتیں کم کروں اور اپنے صاحب کیلیے ٹوسٹ بنائوں وہ آتے ہی ہونگے ” ۔۔۔۔۔
“جی باجی” ۔
فریدہ نے اثبات میں سر ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Good morning ماما
زایان کرسی سنبھالتے ہوئے بولا
اس وقت وہ پوتا آفس گیٹ اپ میں تھا آتے ہی اس نے اپنا کوٹ کرسی پر ٹانگا
Good morning
سلمی بیگم نہایت ہی میٹھے لہجے میں بولی
“ماما آج فریدہ کے ہاتھ میں اتنا ذائقہ کہا سے آگیا خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئ ہے” ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے موبائل میں کچھ ٹائپ کررہا تھا زایان بھی دات دیے بغیر نہ رہ سکا
“ارے یہ ذائقہ فریدہ میں کہا میری سلیقہ مند بچی رابی بنا رہی ہے پراٹھے” ۔۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے رابی کی دل سے تعریف کی
“اچھا اچھا وہی میں کہو کہ فریدہ میں اتنا بڑا انقلاب کہا سے آگیا “۔۔۔۔۔۔
زایان آنکھوں میں شرارت لیے بولا
“صاحب یہ لے آپ کا ناشتہ “۔۔۔۔۔
فریدہ ٹوسٹ اور آملیٹ کی پلیٹ زایان کے آگے سجانے لگی اس نے اپنا موبائل میز پر رکھ دیا
تبھی رابی بھی وہاں آئی
“آگئ میری بچی فریدہ تو بھی کچھ سیکھ لے رابی سے دیکھ کیسے پورے گھر میں خوشبوں پھیلی ہوئ ہے” ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم رابی کے بعد فریدہ کو سمجھانے لگی
اور فریدہ کا تو منہ ہی بن گیا
“آنی یہ لے آپ کا ناشتہ اور پراٹھے میں گھی بلکل نہ ہونے کے برابر ڈالا ہے” ۔۔۔۔۔۔
وہ زایان کو بلکل نظرانداز کرتے بولی شاید وہ ابھی بھی کل رات والی بات پر ناراض تھی
رابی سلمی بیگم کے آگے پراٹھے اور چائے رکھتی بولی
“جیتنے رہے میری بچی” ۔۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم رابی کے سر پہ ہاتھ پھیرا
“ماما یہ کیا آپ پراٹھے کھائے اور فریدہ کے ہاتھ کے بد ذائقہ ٹوسٹ” ۔۔۔۔۔۔
زایان ٹوسٹ دیکھ کر شکلیں بنانے لگا
“بیٹا مجھے لگا تم پراٹھے نہیں کھائو گے اتنے ڈائٹ کانشس جو ہو اس لیے رابی نے صرف اپنے اور میرے لیے پڑاٹھے بنائے ہے “۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے زایان کو کہا
“اب آدمی ہر وقت ڈائٹ کا خیال رکھے آپ میرے لیے ایک پڑاٹھا بنوا دے” آج وہ خلاف توقع بات کررہا تھا اور دیکھ بھی رابی کو رہا تھا
زایان نے منہ بنا کے کہا
“جائو فریدہ ذایان کیلئے پراٹھا بنا لائو” ۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے فریدہ کوہدایت کی
“ماما مجھے اس کے ہاتھ کے پراٹھے نہیں کھانے” ۔۔۔۔۔
زایان نے کن اکھیوں سے فرید کو دیکھا
اور فریدہ بھی زایان کی جلی کٹی سن رہی تھی
“صاحب آپ ٹھیک ہے نہ “۔۔۔۔ اب فریدہ کو شک ہوا
“ہان بلکل میں ٹھیک ہو ” ۔۔۔۔فریدہ کو آرام سے بولا
رابی جو کب سے زایان کی ہٹ دھرمی سن رہی تھی آخر بول پڑی
“آنی میں نے ایک پڑاٹھا اور بھی بنایا ہے فریدہ باجی نکال کے دو “۔۔۔
رابی نے سنجیدگی سے فریدہ کو ہدایت کی اس کے چہرے میں کہی ہنسی نہ تھی آنکھیں بھی سو جی تھی جسے وہ بار بار نوٹ کرہا تھا
“جی باجی” ۔۔۔۔۔
“یہ لے صاحب” ۔۔۔۔۔
زایان کی پلیٹ میں پراٹھا رکھتے فریدہ بولی
“وہاں ربانیہ کیا پراٹھے بنائے ہے “۔۔۔۔۔زایان پراٹھے کے ساتھ انصاف کرتا بولا
مگر رابی کچھ نہ بولی
“آنی آپ ڈرائیور سے بولے کے مجھے گھر چھوڑ آئے”۔۔۔۔
رابی کھانے کے بعد سلمی بیگم سے بولی
مگر جواب زایان نے دیا
“ماما آج نوید(ڈرائیور) تو چھٹی پر ہے صبح ہی فون آیا ہے اس کا ربانیہ تم تیار ہوجائو میں آفس جاتے وقت چھوڑ دوں گا”۔۔۔۔۔
وہ رابی کی طرف سنجیدگی سے گویا ہوا
“ہاں بیٹا تیار ہوجائے آپ “۔۔۔۔
سلمی بیگم نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا
“جی آنی” ۔۔۔۔۔
رابی کبھی بھی نہ جاتی مگر آنی کو انکار نہ کرسکی اور کمرے کی طرف دوڑ لگائی
“پتا نہیں کیا چاہتے ہیں اتنی جلدی ہے مجھے نکالنے کی “۔۔۔۔۔
رابی زیریں لب بڑبڑائ
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ کمال ہنر یوں بھی کرتا گیا
زخم دیتا گیا زخم بھرتا گیا
دور اس کی نگاہوں سے منزل ہوئ
جادہ عشق میں جو بھی ڈرتا گیا
رات پھولوں پہ شبنم برستی رہی
رنگ پھولوں کے رخ کا نکھرتا گیا۔۔