Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 29 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29 Part 1
آج ایمن کی منگنی تھی اسی لیے صبح سے زایان اور رایان تیاری میں لگے ہوئے تھے کیونکہ منگنی کا فنکشن لان میں رکھا میں گیا تھا اسی لیے لان کو سجایا گیا تھا
وہ اس وقت پھپھو کے کمرے میں تھی
“ربانیہ میں تمہارا کس طرح شکریہ کرو تم واپس گئی “۔۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی اس سے شفقت بھرت لہجے میں کہ رہی تھی اور وہ چپ چاپ انہیں سن رہی تھی
جی پھپھو آپ فکر مت کرے میں کبھی آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دونگی۔۔۔۔۔
اس نے سر جھکائے کہا
میں جانتی ہو بیٹا خیر تم نے ڈریس تو لے لیا تھا ۔۔۔۔۔
جی پھپھو آپی نے دلا دیا تھا ۔۔۔۔
اس نے جواب دیا
چلو پھر ایمن نے کمرے میں بیوٹیشن بیٹھی ہے تم بھی جائو وہ کیا کہتے ہیں آج کل لڑکیاں کرواتی ہے نہ وہ فیشل وہ کروا رہی ہے ایمن تم بھی جائو۔۔۔۔
انھوں نے اسے کہا
پھپھو میں ۔۔۔ اس نے حیرانی سے اپنی طرف اشارہ کیا
ہا بیٹا تم جائو شاباش۔۔۔۔
جی پھپھو۔۔۔۔۔ اس نے کہا اور اس کے روم میں چلی گئی
۔۔
شام ہو چکی تھی تیاریاں اپنے عروج پر تھی لان کو بہت ہی خوبصورت ڈیکوریٹ کیا گیا تھا درختوں پر رنگ برنگی لائٹس چمک رہی تھی لان میں جو سٹیج تھا وہ انتہائی خوبصورت تھا اور پھولوں سے سجا ہوا تھا
جہاں مہمانوں کی آمد شروع ہونے والی تھی
وہ اور ایمن اس کے کمرے میں تیار ہورہی تھی
ایمن نے آج پنک کلر کی لانگ فراک زیب تن کی ہوئی تھی جس پر گولڈن پرلز کا کام کیا گیا تھا
چمک درا دوپٹہ جس کے باڈر پر پرلز چمک رہے تھے سر پر سیٹ کیا گیا
جس پر میچنگ کا پنڈنٹ اور جھمکے پہنے ہوئے تھے بالوں کو ایک سائڈ پر اکٹھا کیا گیا تھا اور بیوٹیشن کے کیے گئے لائٹ میک اپ سے تو آج وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی
ربانیہ کو تیار ہونے کا ٹائم ملا ہی نہیں وہ پچھلے تین گھنٹے سے اس کے بیڈ پر بیٹھی اس کی تیاریاں دیکھ رہی تھی
جب وہ مکمل تیار ہوگئی تو پھر اس بیچاری کو موقع ملا
کالے رنگ کے شارٹ فراک جس کے گلے پر ریڈ پرلز کا ہلکا سا ورک جو اس کی چمک میں اضافہ کررہا تھا سرخ جامہ وار کی کیپری زیب تن کیے وہ بیوٹیشن کے پاس والی چیئر پر بیٹھ گئی
میم آپ کے بال نیچرل گولڈن ہے ۔۔۔۔بیوٹیشن نے اس کے لمبے کھلے بال دیکھ کر پوچھا
وہ تو جھینپ گئی
ہاں بھئی میری بھابھی کے نیچرل بال ایسے ہی ہیں اس کے بابا کے بال گولڈن تھے۔۔۔۔ بیڈ پر ہائی ہیلز پہنتی ایمن نے شوخ ہوکر جواب دیا
بیوٹیشن نے اس کی تیاری شروع کی
ہلکے سے میک اپ میں اس کی گوری رنگت نیلی آنکھوں کے ساتھ اور بھی نکھر رہی تھی بالوں کو ہاف ایک کندھے پر اور ہاف دوسرے کندھے پر کھلا چھوڑا اور رول کیا سائڈ رول سٹائل سیٹ کیا گیا وہ بہت حسین لگ رہی تھی جیسے پری
میم آپ کے ہسبنڈ نے آج آپ کو دیکھ کر پہچاننا ہی نہیں ہے۔۔۔۔
بیوٹیشن اس کا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے اسے چھیڑنے لگی
اس کی پلکیں مارے حیا کے جھک گئی مگر ایمن کہا رکنے والی تھی
مطلب مجھے بھائی کی نظر اتارنی ہے۔۔۔۔
آپی۔۔۔۔ اس نے اسے گھورتے ہوئے کہا
اچھا بھئی سوری وہ دوبارہ اپنے کام میں مگن ہوگئی
اس کا دوپٹہ دونوں بازوئوں میں فولڈ کیا گیا
میم آپ کی جیولری ۔۔۔۔بیوٹیشن نے پوچھا
ربانیہ تمہارے جھمکے ماما نے تمہارے روم میں رکھوا دیے تھے اور تمہارے سینڈل بھی وہی رکھے ہے تم جاکر پہن لو۔۔۔۔۔
ایمن نے اسے بولا
جی وہ کہتی روم میں چلی گئی
۔۔۔
وہ روم میں آئی اسے لگا زایان نیچے کاموں میں بزی ہے اسی لیے وہ ریلکس ہوکر آئی تھی اور ڈریسر پر اسے جھمکے دکھائے دیے ان کے ساتھ بلیک کلر اور ریڈ کلر کی مکس کانچ کی چوڑیان
بھی رکھی تھی
وہ ڈریسر میں اپنا جائزہ لینے لگی وہ واقعی آج پری لگ رہی تھی اس کے سرخ دوپٹے کی تو بات ہی الگ تھی وہ خوب چمک رہا تھا
اس نے اپک جھمکا اٹھایا اور اسے پہننے لگی مگر وہ اس سے پہنایا ہی نہیں جارہا ہے اوپر سے درد الگ ہورہا تھا
اتنے میں روم کا دروازہ کھلا اور زایان اندر آیا دروازہ کھلنے پر وہ پیچھے مڑی اور اندر آنے والی شخصیت کو دیکھنے لگی
وہ زایان جو اسی کو حیرت سے دیکھ رہا تھا بلیک کلر کی شلوار قمیض پر بلیک کوٹ پہنے وہ کوئی شہزادہ معلوم ہورہا تھا
ربانیہ کے چہرے پر اسے دیکھ کر ناگواری آئی غصے سے اس نے اپنے دانت آپس میں جوڑ لیے
اس نے اپنے جھمکے اٹھائے پھر بیڈ کے پاس پڑی اپنی سینڈلز اور دروازہ کہ جانب بڑھی جس کے آگے زایان ٹھہرا سنجیدگی سے اس کی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا
ہٹے۔۔۔۔۔ وہ اس کے سامنے ٹھہری تھی مگر وہ دروازے کے آگے سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر وہ غصے سے بولی
کوئی فائدہ نہیں ہے ماما نے کہا ہے تم دونوں ساتھ آنا نیچے۔۔۔۔
اس کے چہرے پر سنجیدگی کے تاثرات عیاں تھے
زایان نے ڈور لاک کیا اور چابی لیے بیڈ پر دونوں بازو سر کے نیچے رکھے لیٹ گیا اور مزے سے اس کے تاثرات دیکھنے لگا
وہ پیر پٹکتی واپس ڈریسر کے سامنے کھڑی ہوئی
جھمکے تھے کہ کان کے اندر جا ہی نہیں رہ تھے کوشش کرتی پھر دور سے تھوڑی آواز نکالتی اور پھر کوشش کرتی
“اگر کسی کو اعتراض نہ ہو خادم مدد کردے”۔۔۔۔۔
ربانیہ کو جھمکوں میں الجھا دیکھ ہنسی دبانے وہ بولا وہ شیشے سے اس کی حرکات دیکھ کر غصے سے دوبارہ کوشش کرنے لگی مگر اس بار تو خون ہی نکل آیا
درد سے وہ چیخی
اس کی آواز پر زایان بغیر دیر کیے اس کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ سے جھمکہ لے لیا
اور اسے ڈریسر پر رکھ کر اپنی جیب سے ایک رومال نکالا اور اس کے کان پر رکھ دیا جہاں سے خون بہ رہا تھا
ربانیہ درد کی وجہ سے اسے کچھ کہ بھی نہ سکی
“کیو کرتی ہو اپنے ساتھ ظلم “وہ اس کا خون صاف کرتے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا
آپ سے شادی کرلی اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا۔۔۔۔۔ اسے نرم پڑتا دیکھ وہ سختی سے بولی
زایان نے اسے کمر سے جکڑا وہ اس کی سینے سے چپک گئی اور آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی لیے اسے دیکھنے لگا
ربانیہ اس کی آنکھیں دیکھ کر ڈر گئی
اور نظریں جھکا لی
مطلب معافی نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ پھر سے نرمی اختیار کرگیا ربانیہ کی جھکی پلکوں کو تو جیسے آسرا مل گیا اور وہ اٹھی
۔۔۔
آپ مجھے معاف کردے اور جان چھوڑ دے میری۔۔۔۔۔
وہ اس سے تنگ آکر بولی اور اپنی کمر سے اس کے دونوں ہاتھ نکالنے کی بےکار کوشش کرنے لگی کیونکہ زایان کے آگے وہ چوہیا جیسی تھی اور اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی
تم ناراض ناراض سے لگتے ہو کوئی ترکیب بتاؤ منانے کی !!💔
💔ہم زندگی امانت رکھ دیں گے تم قیمت بتاؤ مسکرانے کی 💕
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھے ہوئے بولا
جب اس نے اپنا ہر ہربہ ہر کوشش اپنا لی اور ناکامیاب ہوئی تو روہانسی ہوگئی
چھوڑ دے اب۔۔۔
کیو بہت زور ہے نہ تم میں بہت اکڑ دکھا رہی تھی اب کرو کوشش کیونکہ میرا دل تو بے ایمان ہورہا ہے میرا کیا بھروسہ میں کچھ بھی کرجائو ۔۔۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر زایان نے اپنی ہنسی دبائی اور معنی خیز بولا
اس کی بات سن کر ربانیہ کے تو ہوش اڑ گئے اس نے زایان کے سینے پر ہاتھ رکھ کے اسے دھکیلا تو زایان نے اسے چھوڑ دیا اور بیڈ پر بیٹھا شاید اسے بھی ربانیہ پر ترس آگیا تھا
ربانیہ اب دوبارہ اپنے جھمکے پہننے لگی شیشے وہ زایان کی نظریں خود پر دیکھ رہی تھی کیسے وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
ایک کان میں تو جیسے تیسے اس نے جھمکا گھسیرا مگر اسے زخمی کان سے ڈر لگ رہا تھا کہ کیا کرے
جیسے ہی وہ اسے اندر ڈالنے کی کوشش کرتی درد کے مارے اس کی ہمت ہی نہ ہو پاتی اور رک جاتی
زایان اٹھ کر دوبارہ اس کے پاس آیا اور اس سے جھمکا لے لیا اس بار ربانیہ نے بھی کوئی مزمت نہ کی کیونکہ اب اسے بھی کسی کی ہیلپ کی ضرورت تھی
زایان نے آہستہ سے اس کے کان میں جھمکا ڈالا اسے تھوڑا درد ہوا جسے وہ برداشت کر گئی اور آنکھیں میچے کھڑی رہی
ہوگیا ۔۔۔۔جھمکا پہنانے کے بعد زایان نے اسے کہا اس نے اپنی آنکھیں کھولی
زایان دوبارہ بیڈ پر جا بیٹھا اور اپنے موبائل میں بزی ہوگیا
ربانیہ نے اپنی چوڑیاں پہنی اسے کے بعد سینڈلز اٹھائے صوفے پر انہیں پہننے لگی جھمکے سے زیادہ مشکل کام تو اس کا سٹیپ تھا جو اس سے آ نہیں رہا تھا
یا اللہ ساری مصیبتیں آج ہی آنی تھی اس نے دل میں سوچا
اب کیا مسلئہ ہے ۔۔۔۔اس کی چوڑیوں کی مسلسل کھنکھناہٹ سن کر وہ موبائل سے نظریں اٹھائے پوچھنے لگا
وہ ڈور کھولے مجھے آپی کے کمرے میں جانا اس کا سٹیپ نہیں آرہا۔۔۔۔۔ وہ ان کے سٹیپس میں الجھی اسے بتا رہی تھی
تو میری بہن اپنا فنکشن چھوڑ کر تمہارے سٹیپ دے گی وہ بھی تب جب وہ تیار ہوچکی ہے۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں سنجیدگی لیے اس سے بولا
تو کیا میں سلیپرز پہن کر جائو سب کے سامنے۔۔۔۔۔ وہ غصے سے دانت پیس کر رہ گئی
ہاں پہن لو
اٹس ناٹ آ بگ اشو وہ کندھے اچکائے دوبارہ اپنے موبائل دیکھنے لگا
ٹھیک ہے میں سلیپرز ہی پہن لیتی ہوں ۔۔۔۔
وہ غصے سے اٹھی اور اپنے عام روٹین سلیپرز پہن لیے
چلے۔۔۔۔ وہ وہی سے زایان سے بولی
یار اب کیا سب کے سامنے میری بےستی کرائو گی کہ میں تمہیں اچھے شوز بھی کے کر نہیں دے سکتا ۔۔۔۔
وہ وہی سے اسے کہنے لگا
تو میں کیا کرو نہیں آرہا مجھ سے سٹیپ ۔۔۔۔
وہ روہانسی ہوکر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی
زایان نے اپنا موبائل پاکٹ میں ڈالا اور اس کے سلیپرز اٹھائے اس کے گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا
یہ ۔۔۔یہ کیا کررہے ہیں آپ وہ جھینپ کر بولی
مگر زایان نے اس کے پیر زبردستی کھینچا اور اسے سینڈل پہنایا
اس نے چپ کرکے پہن لیا سٹیپ بھی ایزی آگیا
اس نے دوسرا سینڈل بھی پہنایا اور اس کا سٹیپ دیا
چلے ۔۔۔۔۔وہ اٹھ کھڑا ہوا
وہ بھی اٹھی
اور وہ دونوں باہر چلے گئے
۔۔۔۔
ایمن کو نیچے لان میں لایا گیا جہاں فیصل پہلے سے سٹیج پر اس کا انتظار کررہا تھا
بلیک کلر کا تھری پیس سوٹ پہنے آج وہ سب سے الگ لگ رہا تھا چہرے پر خوشی واضح جھلک رہی تھی
ایمن کی فرینڈز اسے سٹیج کے پاس لائی فیصل نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جسے ایمن نے شرمیلی مسکراہٹ سے تھام لیا وہ دونوں سٹیج پر بیٹھ گئے
آج تو ڈاکٹر صاحبہ بجلیاں گرا رہی ہے ۔۔۔۔
سٹیج پر بیٹھتے ہی فیصل نے ایمن کے کان میں سرگوشی کی
مگر مراد انڈسڑی کے مالک آج بجلیاں نہیں گرا رہے
ایمن نے بھی اپنا بدلہ لیا فیصل کا تو منہ ہی بن گیا
توپیں گرا رہے ہیں ۔۔۔۔
ایمن نے ہنستے ہوئے کہا تو فیصل کا قہقہ گونجا
میں اگر تم سے نظریں ملایا کرو
تم شرما کے مجھ سے پردہ کرو
فیصل نے ایمن کے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
اوہوووو لگتا ہے لو برڈز بزی ہیں۔۔۔ نمرہ سٹیج پر آتے ہی فیصل کے قریب بیٹھ گئی
وہ ایمن کی فرینڈ تھی اور اسے ایمن نے انوائیٹ کیا تھا
آپ کی تعریف ۔۔۔فیصل نے ناگواری سے اس ماڈرن لڑکی سے پوچھا جو ایک مہنگے سلیو لیس ڈریس میں ڈارک لپسٹک لگائے کھلے کرلی بال کے ساتھ اس کے قریب بیٹھی تھی
میں آپ کی سالی۔۔۔۔ اس نے اکڑ کر جواب دیا
وہ دیکھے وہاں۔۔۔۔ فیصل نے سامنے پڑی چیئر کی طرف اشارہ کیا
نمرہ نے دیکھا تو سوالیہ نظروں سے فیصل کو دیکھا
آئوٹ ڈور سالیوں کی جگہ وہاں ہے۔۔۔اس نے معنی خیز بولا
تو نمرہ ناک چرائے وہاں سے اٹھی سٹیج سے اترتے ہی اس کی نظر سامنے سے آتے زایان پر پڑی جو ربانیہ کے ساتھ قدم پر قدم ملائے چل رہا تھا
وائووووو اتنا ہینڈسم۔۔۔۔۔ اس نے زایان کو دیکھتے ہی دل میں کہا زایان اور ربانیہ اس کے پاس سے گزرتے ہی سٹیج پر چڑھے جس سے نمرہ کو آگ لگ گئی
