Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

اس نے ربانیہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا ربانیہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے کھینچا چاہا مگر زایان کی پکڑ سخت تھی
“میں جانتا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو”
وہ اس کے کلائی پر چوڑیوں کی خراشوں کو چھوتے ہوئے بتانے لگا
ربانیہ کو حیرت کا جھٹکا لگا وہ پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی
تمہارے رزلٹ والے دن ایمن نے بتایا تھا کہ تم نے پوزیشن لی ہے سچ پوچھو تو مجھے خوشی نہیں ہوئی کیونکہ میرے نظریہ یہ ہے کہ لڑکیاں زیادہ پڑھ لکھ جائے تو وہ خود پرست ہوجاتی ہے میں نے اس سے تمہارا لیا تھا سوچا نہیں تھا کہ میں تمہارے نمبر کا کیا کرو گا مگر بس نمبر لے لیا ۔۔۔۔۔
اب تم سوچ رہی ہوگی کہ ایمن کو کیسے میں نے ڈاکٹر بننے دیا تو یہ اس نے کا نہیں میرا بھی خواب تھا اور میں اس کے خواب نہیں توڑ سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
واپس گھر میں جب فرحین کے ساتھ آیا تھا تو میں نہیں جانتا تھا کہ تم گھر پر ہو ماما نے مجھ سے کہا کہ تم آئی ہو اور تمہیں بھی ساتھ لے کر جانا ہے مگر میں نے انہیں منا کر دیا کیونکہ میں تمہارے اور فرحین کے نیچر سے اچھی طرح واقف تھا وہ تم سے کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کرتی جسے تم تو برداشت کرلیتی مگر میں نہ کرسکتا اسی لیے میں نے منا کردیا ۔۔۔۔۔۔
واپس آکر تم سے ملا تو تمہاری آنکھیں تمہارے دل کا حال صاف بیان کررہی تھی مگر اپنے جذبات پر قابو پانا میں جانتا تھا اسی لیے تم سے کہا کہ تم یہاں کسی کام سے آئی ہو میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا کام کرتا جس سے تمہیں تکلیف ہو تم ہرٹ ہو وہ کہتے ہیں نہ محبت آزمائی جائے تو اس کہ شدت پہلے سے دوگنی ہو جاتی ہے بلکل اسی طرح تمہارے کالج والے دن میں تم سے ناراض ہوا تاکہ تمہارے دل میرا مقام ہمیشہ ویسا ہی رہے اور ٹھیک تین دن بعد تمہاری کال آئی مگر بد قسمتی سے موبائل فرحین کے پاس تھا میں جانتا تھا کہ اس نے تم سے کیا کہا ہوگا اپنی فون بک میں تمہاری کال دیکھی تو ایک ان جانی خوشی مسکان کی شکل میں ہونٹوں پر آئی ۔۔۔۔۔۔
میری دو آنکھیں میرے پاس اور دو تمہارے ساتھ پوتی تھی تم جہاں جاتی میرا گارڈ مجھے پہلے سے انفارم رکھتا تھا تیمور کا رشتہ آیا اور تم نے ہاں کیسے کردی ماما نے مجھے کچھ نہیں بتایا تھا میرے گارڈ نے تمہاری اور تیمور کی ریسٹورنٹ والی پکچرز مجھے دکھائی تو مجھے ایسا لگا جیسے میری کوئی قیمتی چیز تیمور لے کر جارہا ہے اور میرے ہاتھ خالی رہے گئے ۔۔۔۔۔
زایان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ربانیہ ٹرانس سی کیفیت میں اس کی ہر بات سن رہی تھی
اس نے ڈرائیونگ سیٹ سے سر کو ٹیک لگا لیا اور آنکھیں بند کرلی
گھر آیا تو ماما سے کہا کہ میرا رشتہ لے کر جائے تمہارے لیے مگر ماما نے صاف انکار کردیا کہ تیمور کیلیے ممانی ہاں کر چکی ہے میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تمہاری مہندی والے دن کسی طرح خود کو تیار کرکے آیا تھا تمہیں تیمور کے ساتھ ہنستے ہوئے دیکھ کر سینے میں ایک آگ لگی بس اب تمہیں اپنے جذبات سے آگاہ کرنا چاہتا تھا جب تم نے مجھے تھپڑ مارا تو لگا جس آگ میں اتنے سال سے جل رہا ہوں تمہیں بھی جلا کر ہی دم لونگا شادی والے دن میں چاہتا تو تمہیں اغواہ کرسکتا تھا مگر نہیں میں جانتا تھا تم اپنی عزت بچانے کیلئے خود کشی کرو گی مگر مجھ سے کبھی نکاح نہیں کرو گی اسی لیے تیمور کو اغواہ کروایا تاکہ معاملہ درمیان میں ٹھہرے اور وہی ہوا جو میں چاہتا تھا نکاح نامہ پر دستخط کردیے مگر دل میں تم تیمور کو لیے بیٹھی تھی سوچا تھا کہ تم سے بدلہ لونگا چچی کا ماما کا اور ممانی تمہیں دیکھ کر تڑپے گی مگر میرا پورا پاسہ مجھ پر ہی الٹ گیا ممانی چلی گئی مگر میں جب بھی تمہیں دیکھتا تھا اپنی ماں اور چچی کی وہ سسکیاں یاد آجاتی جو میرے ان کانوں نے سنی تمہیں اپنے گھر میں دیکھا تو لگا میری زندگی میں بھی ایک ساتھی آیا جسے میں چاہتا تھا بچپن سے ۔۔۔۔۔۔
اس کی چلتی زبان رکی اور آنسوں سے بھری آنکھیں کھلی
ربانیہ تو اس اظہار پر ہی مدھم پر گئی کہ میں تمہیں چاہتا تھا
اس نے ربانیہ کی طرف دیکھا جو حیرت سے اسی کو دیکھ رہی تھی
تو پھر فرحین ۔۔۔۔۔۔۔
ربانیہ کے اس طرح پوچھے پر اس نے ایک نظر اسے دیکھ کر اس کا ہاتھ پھر پکڑ لیا اور اسے اپنے گالوں کو لگایا
فرحین صرف ٹائم پاس تھی جو میری ضرورت تھی میں اس سے محبت نہیں کرتا تھا صرف اپنے زخم بھلانے اس کے پاس جاتا تھا
ربانیہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے کھینچ لیا آپ جیسے مرد عورت کو کھلونا سمجھتے ہیں جی بھر کر کھیلتے ہیں اور پھر جب اپنا مطلب پورا ہو جائے تو ٹائم پاس کا نام دے دیتے ہیں کہ محض وہ ہماری دلگی کا سامان تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر ایک ایک بات پر زور دے کر بولی آنکھوں سے آنسوں کی روانی جاری تھی
زایان ایک بار پھر جھک گیا ندامت سے شرمندگی سے
روز تمہیں اذیت تو دے دیتا مگر سکون نہ ملتا دل میں ایک حصہ ایسا تھا جو خالی تھا ۔۔۔۔۔
تم تیمور کے ساتھ کیو آئی تھی تمہیں اس کے ساتھ دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے تمہاری محبت میری روز کی مار پیٹ نے ختم کردی ہے اب تم صرف مجھ سے چھٹکارا چاہتی ہو اسی لیے اس دن میں نے تمہیں بیلٹ سے مارا تاکہ تمہارے قدم تیمور کی طرف سے کمزور پر جائے مجھے لگا کہ میں کامیاب بھی ہوگیا
مگر جب ماما نے تمہاری پریگننسی والی بات بتائی دل و دماغ میں ممانی اور مامو والی بات آئی کہ بچہ تیمور کا ہی ہے میرا بچہ کیسے ہوسکتا ہے اسی لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تاکہ بات کھل کر سامنے آئے تیمور اور تم پکڑے جائو مگر جب ڈاکٹر نے کہا کہ بےبی میرا ہے تو تیمور کے چہرے پر ایک اطمینان تھا مجھے ایسے لگا جیسے میرے تن سے کسی نے کپڑے اکھاڑ کر دور پھینک دیے ہو
خود سے وعدہ کرلیا تھا کہ اب تمہارا اور اپنے بچے کا بہت خیال رکھوں گا اور بچہ پیدا ہوتے ہی تمہیں طلاق دے دونگا اور فرحین کو اپنی زندگی میں شامل کرو گا یقین جانو اس دن یہ بات کرتے ہوئے زرا افسوس نہ ہوا کہ تم پیچھے کھڑی سن رہی ہوں تم نے جب گلے لگا کر مجھ سے بچے کی بھیک مانگی دل و دماغ سن پڑ گیا چچی پھر سامنے آگئی جیسے وہ چاچو سے اپنے بچے کی بھیک مانگ رہی تھی اور وہ انہیں مار رہے تھے میں ان کے کمرے کے باہر کھڑا سب سن رہا تھا لللل میں نے تمہیں کمرے سے باہر نکالا مگر میں یہ نہی جانتا تھا کہ میری زندگی میں ایسا وقت بھی آنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے جب کہا کہ ہم بچے کو نہیں بچا سکے ایسا لگا جیسے میں خود مرگیا ایک رات اور ایک دن خود سے لڑتا رہا اور یہ تلاشتا رہا کہ غلطی تمہاری ہے یہ میری دل سے آواز آئی دونوں کی اگر اس دن تم احتیاط کرتی تو آج ہمارا بچہ زندہ ہوتا ہم اس کے آنے کی تیاری کررہے ہوتے اور اس دن کاش فرحین گھر نہ آتی تو شاید وہ سب نہ ہوتا
ہسپتال تم سے ملنے آیا تھا اپنی غلطی کی معافی مانگنے مگر ماما کی باتیں سن کر ایسا لگا میرے جسم کے ٹکڑے ہوگئے ہیں سمیٹنا مشکل تھا مگر تمہارے وہ الفاظ کہ مجھے اولاد نہیں چاہیے مکافات عمل پلٹا ہے دل سے نکلا آمین اگر سچ میں ہماری اولاد کے ساتھ بھی ایسا ہوتا تو میں کیا کرتا
تمہاری اس نظر نے مجھے چیر دیا میرے دو ٹکڑے کردیے نظریں نہ ملائی جارہی تھی مجھ سے
اسی رات میرے مینیجر کی کال آئی کہ مجھے ارجنٹ جرمنی جانا ہوگا کیونکہ ڈیڈ کی ایک برانچ وہاں بھی تھی ایسا لگا راستہ مل گیا سب سے چھپنے کا وقت مل گیا خود کو سنوارنے کا مگر اس سے پہلے ایک چیز باقی تھی
فرحین کے بھائی کو کال کی جو حیدر آباد کا ایک بہت بڑا سرجن ہے اسے فرحین کے ایک ایک کارنامے کے بارے میں بتایا اور کہاں کہ وہ اسے نہ لے گیا تو میں پولیس بلائو گا اور وہ بھی چوری کا پرچہ کٹے گا کہ وہ میرے اکاونٹ سے پانچ لاکھ کی چوری کرچکی ہے اور میرے پاس سارے ثبوت بھی ہے وہ ایک عزت دار گھر سے تعلق رکھتا تھا وہ اگلی صبح پنڈی آیا اور فرحین کو واپس لے گیا اور اس کی شادی زبردستی اپنے ایک دوست سے کردی جو پہلے سے شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ تھا ۔۔۔۔۔۔
ماما کو میں نے جرمنی کا بتایا تھا کہ میں وہی ہوں ناراض تو میں ان سے بھی تھا مگر ان کی ایک معافی نے دور بیٹھے میرے دل کو موم کردیا
جرمنی میں جب مجھے یہ خبر ملی تو ایک سکون کی لہر پورے وجود میں رینگنے لگی اپنے بچے کا بدلہ لے لیا میں نے
ایمن اور رایان کو ماما نے کہا کہ میں لندن میں ہو کیونکہ وہی میری نئی کمپنی اسٹارٹ ہوئی تھی چند ماہ پہلے اگر وہ انہیں جرمنی کا بتاتی تو وہ سوال کرتے کہ میں وہاں کبھی نہیں جاتا تھا اب ایسا کیا ہوگا
ایک دن ماما کی کال آئی کہ فیصل کا پروپوسل آیا ہے ایمن کیلئے فیصل ایک ایماندار انسان تھا ایمن کیلئے اس سے اچھا ساتھی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا میں نے فورن ہاں کردی کیونکہ مکافات عمل تو ایمن پر بھی پلٹ سکتا تھا واپسی پر یہی سوچ ذہن میں تھی کہ تم ایم میچور ہو میری ذرا سی توجہ تمہاری محبت پھر سے جگا دے گی مگر کیا ایک ماں اپنے بچے کی موت بھول سکتی ہے ایک بیوی اپنے شوہر کی لگائی تہمتوں کو بھول سکتی ہے ایک بیٹی اپنی ماں پر لگائے گئے بے بنیاد الظام بھول سکتی ہے نہیں ہرگز نہیں مگر جب تمہیں خود سے ڈرتے دیکھا ہمت خودنخود پیدا ہوگئی مگر صبح تمہارے لفظوں نے ہلا دیا یار ۔۔۔۔۔
میں نے وہی کیا جو میں نے بچپن سے ڈیڈ کو کرتے دیکھا میں تمہیں اور اپنے بچے کو گندا خون کہ رہا تھا مگر گندا خون تو میری رگوں میں ہے غصے کی آگ میں بدلے کی آگ میں خود کو برباد کر بیٹھا میں تمہیں کھو دیا میں نے
۔۔۔۔۔۔
اس نے سر اٹھایا اور آنسوں بھری آنکھوں سے ربانیہ کو دیکھا جو سب سننے کے بعد اس کیلئے آنسوں بہا رہی تھی
اس سب میں تو صرف آپ ہے آپ کی فیملی ہے آپی ہے رایان بھائی ہے آپ ہے پھپھو ہے مگر میں کہا ہوں میری خوشیاں کہا ہے آپ سب لوگ اپنے مطلب کے ہیں آپ سب کو اپنی زندگی کی پڑی ہے چاہے دوسرا آپ کے آگے اپنی خوشیوں کی بھیک ہی کیو نہ مانگے مگر اس کا وجود محض آپ لوگوں کیلئے صرف ایک ضرورت کی حد تک ہے پھپھو کو ضرورت ہوتی ہے تو وہ استعمال کرلیتی ہیں آپ کو ضرورت ہوتی ہے آپ استعمال کرلیتے ہیں مگر میری کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔۔۔۔۔
جانتی تھی میں آپ مجھے چھوڑنے نہیں بلکہ اپنی پوری کہانی سنانے جارہے ہیں بس اتنا صبر تھا اتنی ہمت تھی کہ میرے چند لفظوں نے توڑ دی اور آپ کھلی کتاب کی طرح میرے سامنے ہیں مگر میں آٹھ مہینے سے آپ کی آپ کی بے رخی حوس مار پیٹ تہمت بہتان اور نا جانے کیا کیا برداشت کررہی تھی ان کا کیا ۔۔۔۔۔
ان کا حساب دے سکتے ہیں آپ دے سکتے ہیں تو دے دے پھر ربانیہ آپ کی
اس نے اسے اپنی آنکھوں سے بہے آنسوں صاف کیے
ربانیہ میں!!!!!
اس نے کہنا چاہا
بس چلے گھر کل آپ کی بہن کی منگنی ہے اور اگر آپ کی بیوی وہاں نظر نہ آئی تو لوگ سوال کرے گے اور میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کی بہن کی خوشیوں پر کوئی آنچ آئے ورنہ کل کو آپ پھر مارے گے اور میرے گلے ایک اور الظام ڈال دے گے۔۔۔۔۔
اس نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا اور چہرے کو شیشے کی سائڈ پر موڑ لیا
زایان کی تو جیسے وہ جان ہی نکال گئی کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا تھا شاید وہ مڑے اور کہے کہ میں نے معاف کیا مگر وہ نہ مڑی
زایان نے گاڑی سٹارٹ دی اور گھر کیلئے روانہ ہولیا
۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور صوفے پر لیٹ گئی نیند اسے کہا آنی تھی آنکھوں سے بس آنسوں کی لڑیاں جاری تھی
زایان کمرے میں اس کا بیگ لے کر آیا تو دیکھا کہ وہ صوفے پر منہ تک رضائی اوڑھے لیٹی ہے وہ ڈریسنگ روم میں اس کا بیگ رکھ کر اپنا اپنی ٹرائوزر شرٹ نکالے واشروم میں چلا گیا اور واپس آکر اپنے بیڈ پر لیٹ گیا وقفے وقفے سے ایک نظر وہ صوفے پر سوئی ربانیہ پر ڈال لیتا جانے کتنے بجے اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہوگئی اور وہ سو گیا
۔۔۔۔۔
صبح نماز کے وقت ربانیہ کی آنکھ کھلی وہ دیر رات سوئی تھی اس نے اپنا دوپٹہ سنبھالا اور رضائی کو تہ کیا زایان کو ایک بار دیکھا جو بیڈ پر آڑھا ترچھا سویا ہوا تھا
وہ رضائی لیے ڈریسنگ روم میں چلی گئی اور وہاں الماری میں رکھی پھر واشروم میں چلی گئی
ڈریسنگ روم میں نماز پڑھی اور رو رو کر رب سے دعا کرنے لگی جو وہ ہمیشہ سے کرتی تھی کہ اسے نہ تو زایان چاہیے اور نہ ہی اولاد بس وہ تنہا رہنا چاہتی ہے
جب وہ کمرے میں واپس آئی تو زایان ابھی بھی سو رہا تھا
“یہ اتنی سکون بھری نیند کیسے سو سکتے ہیں “
۔۔۔وہ صوفے پر بیٹھتی غصے سے سوچنے لگی
آخر کوئی اتنے گناہ کرنے کے بعد ایسی پرسکون نیند بھی سو سکتا ہے کیا؟؟؟۔۔۔۔۔
اچانک زایان کے موبائل پر رنگ ہوئی اور اس کی سوچوں میں خلل پیدا ہوا
اس وقت کس کا فون ہے ۔۔۔۔۔وہ سوچتی ہوئی اٹھی اور اس کی سائڈ پر آئی
زایان گہری نیند میں سو رہا تھا اسی لیے نہیں جاگا
اس نے جھجھکتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا اور ہاتھ موبائل پر رکھا مگر ٹھیک اسی وقت زایان نے کروٹ لی اور موبائل اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
ربانیہ نے جھٹ سے ہاتھ پیچھے کیا زایان کو جب اپنے ہاتھ پر کسی ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا تو اس نے اپنی موندی موندی آنکھیں کھولی
ربانیہ ایک سائڈ پر سہمی کھڑی تھی
اسے دیکھتے ہی اس نے وہاں سے بھاگنے کی کی اور روم سے باہر چلی گئی
زایان بھنویں اچکائے اسے جاتا دیکھتا رہا پھر اپنے موبائل پر اپنے مینیجر کی کال دیکھ کر اس سے بات کرنے لگا