Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 27 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27 Part 3
وہ اپنے کمرے سے نکلتے ہی حال میں آیا اسے سلمی بیگم آتی دکھائی دی
“ماما آپ سے کچھ بات کرنی ہے “۔۔۔وہ ان کے پاس آیا
ہاں بولو وہ صوفے پر بیٹھتی بولی
“یہاں نہیں آپ کے کمرے میں آپ روم میں آئے میں ویٹ کررہا ہوں”۔۔۔
وہ ان کے کمرے میں چلا گیا سلمی بیگم کو اس کے بات کرنے کا انداز کچھ ٹھیک نہ لگا وہ بغیر دیر کیے اپنے روم میں چلی گئی
وہ روم میں آئی تو وہ صوفے پر بیٹھا انہی کی راہ دیکھ رہا تھا
وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گئی وہ ان کے پیروں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا
“ماما وہ کہتی ہے کہ مجھے آزاد کردے”۔۔۔
سلمی بیگم اس کی آنکھوں میں آئی سرخی اچھی طرح سے دیکھ سکتی تھی
تو کیا سوچا تم نے۔۔۔۔۔ انھوں نے پوچھا
ان کے اس طرح کہنے پر اس نے سر اٹھا کر سلمی بیگم کو حیرانی سے دیکھا
مگر میں اس کے بغیر کیسے رہو گا ۔۔۔۔
اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میں اس کے پاس جاکر تمہاری سفارش کرو تو تم یہ مت بھولو اس کی ایک گنہگار میں ہو جس طرح تم اس سے نظریں نہیں ملا سکتے میں بھی اس کے سامنے نہیں جا سکتی ۔۔۔۔
انھوں نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے
“ماما وہ کہتی ہے کہ وہ اپنی زندگی سے بیزار ہے “
وہ ان کی طرف آس بھری نظروں سے دیکھنے لگا
“تو تم کیا چاہتے ہوں وہ اپنی زندگی سے خوش ہوں” ۔ ۔
انھوں نے الٹا سوال کیا
اس نے نظریں پھیر لی ندامت سے شرمندگی سے
“معافی کی کوئی تو گنجائش ہوگی”۔۔۔۔
اس نے ایک بار پھر سوال کیا
وہ ایک عورت ہے بیٹا وہ تمہیں معاف کردے گی مگر ایک بار تم مجھے بتائو اگر وہ تمہارے ساتھ ایسا کرتی تو کیا تم اسے معاف کردیتے۔۔۔۔
ان کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
زایان کی آنکھوں میں نمی آگئی
“ڈیڈ کی لگائی آگ میں جل رہا تھا اور اسے بھی جلا رہا تھا مگر کبھی یہ نہ سوچا کہ وہ آگ میرے گھر میں راکھ کا ڈھیر لگا دے گی جسے میں چاہو جتنا بھی اکٹھا کرلو ہوا کے جھونکے اسے اپنے ساتھ اڑا لے جائے گے اور میں خالی ہاتھ رہ جائو گا “۔۔۔۔۔
تو اب تم کیا کرو گے یو ہی باندھے رکھو گے اسے ۔۔۔۔۔
انھوں نے پوچھا
اس نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا
“اب جو بھی ہوگا اسی کی مرضی سے ہو گا خو وہ چاہے گی ویسا ہی ہوگا”۔۔۔۔۔
وہ ان سے کہتا کمرے سے باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔
ربانیہ عشا کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو نیچے آئی
ایمن رایان کے ساتھ بیٹھی تھی اور سامنے دیوان پر سلمی بیگم حسان کے ساتھ بیٹھی تھی وہ جب سب ساتھ ہوتے تھے تو وہ ان کے ساتھ نہیں بیٹھتی تھی بلکہ واپس چلی جاتی آج بھی اس نے ایسا ہی کیا وہ الٹے قدم واپس چلی گئی
روم میں آئی اور آئرن کیے ہوئے کپڑے ڈریسنگ روم میں اپنی الماری میں سیٹ کرنے لگی انہیں سیٹ کرنے کے بعد وہ واپس روم میں آئی اور اپنا تکیہ لے کر صوفے پر رکھا اور ڈریسنگ روم کی الماری سے رضائی نکالے اسے صوفے پر رکھا اور خود اس پر لیٹ گئی اور رضائی اوڑھے سو گئی
رات کے تقریبا بارہ بجے وہ گھر واپس آیا وہ اپنے آفس گیا تھا چھ مہینے سے اس کا سارا کام اس کا مینجر سنبھالتا یا کبھی کبھی رایان اسی لیے وہ سارے کام جو پینڈنگ تھے انہیں کمپلیٹ کیا اس کے بعد گھر واپس آیا
روم میں آتے ہی وہ بغیر اس پر ایک نظر ڈالے واشروم میں چلا گیا
واپس آیا تو اس کی نظر صوفے پر سوئی ربانیہ پر گئی جو خود کو سر تا پیر رضائی سے کوور کیے ہوئی تھی
وہ اس کے پاس آیا اور اس کا کندھا ہلایا
ربانیہ اٹھو ۔۔۔
اس نے آواز لگائی وہ اس کی آواز سنتے ہی جھٹ سے اٹھی اور اپنا دوپٹہ سنبھالا جو اسی کے ساتھ پڑا ہوا تھا
“تمہیں کہا جانا اپنے گھر یا کہیں اور “۔۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
وہ ناسمجھ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“میں نے پوچھا تمہیں کہا جانا ہے”۔۔۔ اسے اس طرح دیکھتے ہوئے اس نے دوبارہ سوال کیا
اس وقت میں کیو کہیں جائو گی ۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
تم نے ہی کہا تھا کہ اب تم نہیں رہنا چاہتی میرے ساتھ تو وہی پوچھ رہا ہو کہا چھوڑو تمہیں ۔۔۔۔
وہ اس کے پیروں کے برابر صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
اپنے گھر جانا ہے۔۔۔۔ اس نے نظریں نیچی کیے جواب دیا
ٹھیک ہے اپنا سامان پیک کرو میں یہی ویٹ کررہا ہوں۔۔۔۔۔ اسے کہتے ہی اس نے اپنا سر دونوں ہاتھ میں پکڑ لیا
وہ وہاں سے اٹھی اور ڈریسنگ روم میں چلی گئی اور صرف وہی ڈریسز نکالنے لگی جو وہ اپنے گھر سے لائی تھی کیونکہ جو کچھ ایمن کے ساتھ وہ لے کر آئی تھی اس نے انہیں دیکھا تک نہیں تھا
وہ اپنے ڈریسز روم میں لے آئی اور بیڈ پر رکھنے لگی جب سارے ڈریسز ایک سائڈ اکٹھے کر لیے تو بیڈ کے نیچے سے اس نے اپنا بیگ نکالا اور ان کو اس بیگ میں رکھا
بیگ کی زپ بند کی اور اسے بیڈ سے نیچے فلور پر رکھا پھر اپنے چادر پہنے وہ زایان کے سامنے آئی
چلے ۔۔۔۔اس نے کہا زایان جو اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا اس کے کہتے ہی اٹھا
بیگ کہا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔اس نے پوچھا ربانیہ نے بیڈ والی سائڈ پر اشارہ کیا
زایان نے وہ بیگ اٹھایا اور روم سے باہر چلا گیا وہ بھی اس کے پیچھے دبے قدموں باہر نکلی
گاڑی کی ڈگی میں اس کا بیگ رکھنے کے بعد وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا
وہ سلمی بیگم کے کمرے میں آئی وہ سو رہی تھی
پھپھو۔۔۔۔۔ اس نے آواز لگائی تو وہ نیند سے بوجھل آنکھیں لیے اٹھی
ربانیہ تم اس وقت انھوں۔۔۔۔ اٹھتے ہی اسے حیرانی سے دیکھا
میں جارہی ہو اپنے گھر ۔۔۔۔وہ ان کے پیروں والی سائڈ پر بیٹھتی بولی
ان کی تو سمجھ میں کچھ نہ آیا
کس کے ساتھ۔۔۔۔۔
انھوں نے سوال کیا
زایان کے ساتھ انھوں نے کہا کہ جہاں جانا چاہتی ہو چلو ۔۔۔۔
اس نے نظریں نیچے کیے جواب دیا آواز صاف بھیگی ہوئی تھی
پر تم اکیلی کیسے جائو گی ۔۔۔۔
پھپھو نصیب میں تنہائی لکھی ہے تو ایسے ہی صحیح کم از کم اس درد ناک زندگی سے تو جان چھوٹے گی۔۔۔۔۔
نہیں میں تمہیں اکیلے ہر گز نہیں جانے دو گی یہ لڑکا تو پاگل ہوگیا ہے کدھر ہے یہ میں اس سے بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اپنے بستر سے اٹھنے لگی
“پھپھو نہیں رکے میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں کہ زایان میں کتنا صبر ہے کب تک وہ برداشت کر پاتے ہیں “۔۔۔۔
اس نے سلمی بیگم کے پیروں پر ہاتھ رکھا
پھر بھی تم اکیلی ڈر جائو گی
آپ مجھے چابیاں دے دے آگے میرا خدا جانے یا پھر میں ۔۔۔
سلمی بیگم اسے کچھ دیر نم آنکھوں سے دیکھتی رہی ان کے ایک فیصلے ایک معصوم کی زندگی تباہ کردی کاش وہ اس دن رک جاتی اتنی جلد بازی نہ کرتی تو شاید آج ربانیہ کے نصیب میں خوشیاں ہوتی
انہوں نے اپنی ڈرور میں سے چابیاں نکالی اور اسے دی
اللہ حافظ پھپھو
اس نے سلمی بیگم کو گلے لگایا
اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔ انھوں نے کہا
وہ روم سے باہر چلی گئی
“اللہ اس بچی کے نصیب میں خوشیاں لکھ دے”۔۔۔۔۔ انھوں نے روتے ہوئے دعا کی
۔۔۔۔
وہ کار کا بیک ڈور کھولے بیٹھی زایان نے فرنٹ مرر سے اسے دیکھا پھر کار سٹارٹ کردی
“معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے”۔۔۔ اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے سوال کیا
آپ نے معافی مانگی ہی کب ہے۔۔۔۔ اس نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا
اگر مانگ لو تو معافی ملے گی۔۔۔۔
مگر ربانیہ چپ رہی
میں نے پوچھا اگر مانگ لو تو معافی ملے گی۔۔۔۔
اس نے ایک بار پھر پوچھا
میں جب آپی کو آپ کے ساتھ ہنستا کھیلتا دیکھتی ہو تو میرے دل میں بھی خواہش آتی ہے اگر میرا بھی کوئی بڑا بھائی ہوتا اور مجھ سے ایسا ہی پیار کرتا تو کیا وہ یہ سب میرے ساتھ ہونے دیتا ۔۔۔۔۔
اس نے دل کے خواہش کرنے پر اس سے کہ دیا
زایان نے اچانک گاڑی کو بریک لگائی
آگے آئو۔۔۔۔
اس نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا
ربانیہ اس کی طرف حیران نظروں سے دیکھنے لگی
تمہیں ہر چیز دوبارہ کیو سمجھانی پڑتی ہے۔۔۔۔۔
زایان نے تنگ آکر کہا
وہ آگے آئی اور اس کی طرف دیکھنے لگی
“ربانیہ پلیز جو بھی میں کہو تحمل سے سننا اور پھر مجھے بتانا میرا قصور کیا ہے”۔۔۔۔۔
