Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

دروازہ بند ہونے کی آواز پر اس نے سکھ کا سانس لیا اور اپنے اوپر سے بلینکٹ ہٹائے اٹھی
کیا میں خواب دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔ اس نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ زایان ہی تھا
۔۔۔
وہ ساری رات نہ سو سکی ساری رات اس نے جاگ کر گزار دی ایمن کی جب آنکھ کھلی اس نے کروٹ لی تو اسے موندی موندی آنکھوں سے دیکھا جو کرائون سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے ہوئے تھی
ایمن اٹھی
“رابی تم یہاں کیا کررہی ہوں”۔۔۔ ایمن نے اسے کہا
اس کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولی اور اس کی طرف متوجہ ہوئی
“وہ میں رات کو ڈر گئی تھی اسی لیے آپ کے کمرے میں آگئی تھی آپ کو آواز بھی دی تھی پر آپ بیدار نہیں ہوئی”۔۔۔۔
ربانیہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا مگر ایمن کو اس کے لہجے میں پریشانی محسوس ہوئی
“اوہ صحیح ہے وہ جب میں سوتی ہو نہ تو گدھے گھوڑے اونٹ سب بیچ کر سوتی ہوں چاہے کوئی مجھ پر پانی بھی ڈال دے میں نہیں اٹھتی”۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے ربانیہ سے کہا تاکہ وہ کچھ بیٹر فیل کرے کیونکہ ایمن کو لگا کہ وہ شاید بہت ڈر گئی ہے اسی لیے اسے نارمل کرنے کیلیے اس نے کہا ربانیہ بھی ہلکہ سا مسکرائی
“اچھا خیر آج تو سنڈے ہے اسی لیے آج ہم پھر شوپنگ پر چلتے ہیں کیا خیال ہے “۔۔۔۔۔
وہ اس سے ایکسائیٹڈ ہوکر پوچھنے لگی
آپی وہ کل ہی تو گئے تھے اور مجھے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے آپ چلی جائے”۔۔۔
وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
“اچھا چلو پھر بعد میں دیکھتے ہیں”۔۔۔ ایمن اسے کہتی بیڈ سے اٹھی اور ڈریسر کے آگے کھڑے ہوکر اپنے کھلے بالوں میں کو کیچر میں قید کیا
“اچھا تم بھی اپنے روم میں جاکر چینج کرلو پھر بریک فاسٹ کرتے ہیں”۔۔۔۔
ایمن نے اسے مرر سے دیکھتے ہوئےکہا
ایمن کی بات سن کر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ایمن اس کے اس طرح دیکھنے پر حیران ہوکر پوچھنے لگی
وہ۔۔۔وہ میں ساری رات سو نہیں سکی اسی لیے اب سو گی اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں آپ کے کمرے میں سو جائو بریک فاسٹ فریدہ بنا لے گی۔۔۔۔۔
وہ ڈرتی ڈرتی اس سے سب بول گئی
ایمن کو اس کا رویہ عجیب لگا
“ہا ٹھیک ہے سو جائو”۔۔۔۔ وہ آنکھیں اچکائے اسے کہتی واشروم میں چلی گئی اور وہ پھر اس کے بلینکٹ میں گھس کر لیٹ گئی
۔۔۔۔
ایمن چینج کرکے نیچے آئی تو زایان کو حال میں اکیلے بیٹھا دیکھا ایمن کے چہرے ہر مسکراہٹ آئی
بھائی ا۔۔۔۔س نے زایان کو آواز لگائی زایان نے پیچھے دیکھا تو وہ اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرایا اور کھڑا ہوا
وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اسے گلے لگایا
“وٹ آ پلیسنٹ سرپرائز بھائی آپ تو کل آنے والے تھے پھر آج کیسے”۔۔۔۔ وہ اس سے الگ ہوتی ایک ہی سانس میں اس سے پوچھنے لگی
ارے بھئی میں نے سوچا کیو نہ تمہیں سرپرائز دیا جائے اسی لیے رات ہی آگیا ۔۔۔۔۔وہ شرارت سے اس کی ناک کھینچے اسے بتانے لگا ایمن قہقہ لگائے ہنسی
“اچھا باقی سب کہا ہے کوئی نظر کیو نہیں آرہا ہے” وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھتے ٹانگ پر ٹانگ جمائے اس سے پوچھنے لگا
وہ ماما تو اپنے کمرے میں سو رہی ہیں اور رایان اپنے فرینڈ کے گھر ہے ایگزامز کی تیاری کررہے ہیں اس کے سارے فرینڈز شام تک آجائے گا ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھتی اس سے بتانے لگی
ہممم اور ۔۔۔۔۔وہ پر تجسس ہوا
اور حسان اپنے روم میں سو رہا ہوگا کیونکہ آج سنڈے ہے نہ ۔۔۔۔
اچھا اور ۔۔۔۔۔
“آپ کس کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں سیدھا سیدھا بتائیں مجھے”۔۔۔ وہ شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس سے پوچھنے لگی
زایان نے اسے گھورا
ہاہاہا اچھا بھئی بتاتی ہوں آپ کی بیگم میرے کمرے میں سو رہی ہے کل رات بہت ڈر گئی تھی وہ اسی لیے میرے کمرے میں آگئی تھی ابھی وہ کہ رہی تھی کہ ساری رات سو نہیں سکی اسی لیے ابھی سوئے گی اسے پتا ہے کہ آپ آگئے ہیں
ایمن نے اس سے پوچھا زایان نے ناسمجھی والے انداز میں ہونٹوں کا زاویہ بنایا
“اچھا آپ نے میرے لیے شاپنگ کی ہے کہ نہیں میں نے آپ کو لسٹ واٹس ایپ کی تھی”۔۔۔۔
وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح معصومیت سے اس سے پوچھنے لگی
“ہا بھئی کی ہے سب کیلئے شاپنگ کی تھی میرے روم میں وہ بیگ رکھا ہے جس میں سب کے گفٹس ہے سب جاگ جائے تو اکٹھے کھولنا”۔۔۔۔۔
وہ اپنا موبائل اپنی جیب سے نکالے کوئی ای میل کرتے ہوئے ایمن کو بتانے لگا
اوکے۔۔۔۔۔ ایمن نے اسے سمائل پاس کی
۔۔۔۔۔
بارہ بج رہے تھے اور وہ ابھی تک ایمن کے روم میں سوئی ہوئی تھی فریدہ اسے ناشتہ کیلئے بلانے بھی آئی تھی مگر اس نے کہا کہ اس کے سر میں درد ہے وہ بعد میں کرلے گی پھر کسی نے اسے ڈسٹرب نہیں کیا تھا
اب کی بار ایمن اسے بلانے آئی کیونکہ نیچے وہ زایان اور سلمی بیگم بیٹھے ڈریسز دیکھ رہے تھے جو زایان ایمن کیلئے لایا تھا سلمی بیگم نے اسے کہا کہ وہ ربانیہ کو بلا کر لائے
ربانیہ اٹھو کب تک سوتی رہو گی یار ۔۔۔۔۔وہ اس کے منہ سے بلینکٹ ہٹائے اسے کہنے لگی مگر وہ گہری نیند سو رہی تھی
ربانیہ۔۔۔۔۔ اب کی بار ایمن نے اس کا کندھا ہلایا
وہ اس کی طرف پشت کیے سوئی ہوئی تھی اس کے اس طرح پکارنے پر اس نے کروٹ لی اور اٹھی
جی ۔۔ اس نے ایمن سے کہا
“کیا جی بارہ بج رہے ہیں اور تم ابھی تک سوئی ہوئی ہوں”۔۔۔۔
وہ جلدی سے آٹھ بیٹھی
کیا بارہ بج گئے۔۔۔۔۔ اس نے حیرانی سے ایمن سے پوچھا
“جی مہرانی جی بارہ بج گئے اور تمہیں پتا ہے کہ زایان بھائی آگئے ہے چلو یار ماما تمہیں بلا رہی ہیں”۔۔۔۔
“وہ آپی مجھے ابھی نیند آرہی ہے میں بعد میں آئو گی “۔۔۔۔وہ دوبارہ بلینکٹ میں گھس گئی
اب تم نہیں اٹھی نہ تو اب زایان بھائی آئے گے تمہیں لینے چلو یار کب سے وہ نیچے بیٹھے تمہارا ویٹ کررہے ہیں۔۔۔۔۔
ایمن اب اس کی منت کرنے لگی
زایان کا نام سنتے ہی وہ جلدی سے اٹھی
نہیں نہیں میں ابھی فریش ہوکر آتی۔۔۔۔۔ وہ اس سے جلدی جلدی کہتی اپنے روم میں چلی گئی
۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آئی تو سارا کمرہ زایان کی چیزوں سے بکھرا پڑا تھا کہی اس کے کپڑے بکھرے پڑے تھے تو کہی اس کے شوز وہ حیرانی اور غصے سے ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی وہ ایسا تو نہیں تھا وہ تو صفائی کا بہت خیال رکھتا تھا کئی بار اس نے زایان کو فریدہ کو صفائی کے متعلق ڈانٹتے سنا تھا
“کمرے کو جنگل بنا دیا ہے نوکر لگی ہوں میں ان کی کے ان کا سارا لنڈا بازار میں سمیٹو”۔۔۔۔۔
وہ غصے سے زیریں لب بڑبڑاتی ایک ایک چیز کو سمیٹنے لگی
جب اس نے سب سمیٹ لیا تو ڈریسنگ روم سے اپنا ایک ڈریس نکالے واشروم میں چلی گئی
۔۔۔
چینج کرنے کے بعد سر ہر دوپٹہ سیٹ کیے وہ کمرے سے باہر آئی اور سیڑھیوں سے اترتا ہر قدم اس کے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا تھا بالا آخر وہ نیچے آئی اور حال میں اسے صوفے پر بیٹھے زایان کو دیکھا جو اس کی طرف پشت کیے بیٹھا تھا
حسان بھی اسی وقت اپنے کمرے سے نکلا کیونکہ سنڈے والے دن وہ لیٹ اٹھتا تھا
ربانیہ نے ابھی قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ حسان اس کی طرف بھاگتے ہوئے آیا اور اس کا ہاتھ پکڑا
“ایم سوری آپی پتہ نہیں آپ کیو ناراض ہے مجھ سے بٹ پرومس اب کبھی کوئی بھی شرارت نہیں کروگا کبھی آپ کو تنگ نہیں کروگا پلیز پھر سے دوستی کرلے نہ مجھ سے”۔۔۔۔
وہ معصومیت سے اس کا ہاتھ پکڑے اس سے کہنے لگا اور حال میں بیٹھے تمام لوگ حسان کی آواز سن کر ان کی طرف دیکھنے لگے
ربانیہ نے بےدردی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچا
“میں تم سے کتنی بار کہو مت آیا کرو میرے پاس مت بلایا کرو مجھے تمہیں ایک بات سمجھ کیو نہیں آتی ہے میری ۔۔۔۔۔۔۔وہ آنکھوں میں نفرت لیے اس پر چلائی جب کہ وہ اس کی باتیں سن کر رونے لگا
وہ ان سب کو نظر انداز کرتی کچن میں چلی گئی
زایان حسان کے پاس آیا اور اسے گود میں اٹھا لیا
جب کہ وہ گلہ پھاڑے رورہا تھا
ارے ارے بس چپ کرو لڑکے تھوڑی روتے ہیں پاگل ہو گیا۔۔۔۔۔
وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے ایمن کے پاس لے آیا اور اس کے ساتھ صوفے پر بٹھا دیا
“حسان چپ کرو تمہیں پتا تو ہے کہ وہ ہر وقت غصے میں رہتی ہے پھر کیو بات کرتے ہو اس سے “۔۔۔۔۔
ایمن اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے سمجھانے لگی
کیونکہ وہ بھی اس کا رویہ نوٹ کررہی تھی وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی اور اس کا حسان کو یو ڈانٹا ایمن کو بلکل نہ بھایا
یہ اس کو ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔وہ اپنا سر کھجائے سوچنے لگا
“اچھا ایمن تم نے حسان کو اس کے گفٹس دکھائے” وہ حسان کو دیکھتے ہوئے ایمن سے کہنے لگا
ارے ہاں حسان تمہیں پتا ہے بھائی تمہارے لیے کتنے سارے گفٹس لے کر آئے ہیں یہ دیکھو ۔۔۔۔۔اس نے ایک باکس اس کی طرف بڑھایا
نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے میری آپی چاہیے پرانی والی آپ انہیں منائے نہ میرے ساتھ کہ وہ میرے ساتھ دوبارہ دوستی کرلے ۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے ایمن سے کہنے لگا
“بیٹا رو تو نہیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسی لیے اتنی چڑچڑی ہوگئی ہے میں اس سے کہو گی نہ تم اپنے گفٹس تو دیکھو۔۔۔۔۔۔
اب کی بار سلمی بیگم نے حسان کو سمجھایا وہ ان کی بات سن کر چپ ہوگیا اور اپنے گفٹس دیکھنے لگا وہ روتے ہوئے بلکل زایان کے جیسے لگ رہا تھا اس کے نقش تھے ہی زایان کی طرح
تھینکیو بھیا ۔۔۔اس نے گفٹس دیکھنے کے بعد زایان کو گلے لگا کر تھینکیو کہا
آج وہ پہلی مرتبہ اس سے اتنا فرینک ہورہا تھا ورنہ تو زایان اس سے کبھی بات ہی نہ کرتا تھا
موسٹ ویلکم۔۔۔۔ زایان نے مسکراتے ہوئے اس کے سارے گھنے بال خراب کردیے جو ماتھے تک آتے تھے
۔۔۔۔
وہ اپنا ناشتہ بنانے کے بعد روم میں چلی گئی کسی سے اس نے کوئی بات نہ کی
وہ ناشتہ کرنے لے بعد ٹرے واپس رکھ آئی تھی اور اب روم میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی دماغ اس کا زایان پر ہی اٹکا ہوا تھا کہ وہ اس کے سامنے نہ آجائے
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ زایان روم کا دروازہ کھولے اندر آیا اور اسے ہی دیکھنے لگا جو بیڈ پر بیٹھی اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اس زایان کے آنے کا احساس ہی نہ ہوا
وہ دیوار سے ٹیک لگائے سینے پر بازو باندھے اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہا تھا
اس کی سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب اس کی نظر بھٹک کر زایان کی طرف گئی
وہ اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
وہ ہر بڑی میں بیڈ سے اٹھی اور اپنا دوپٹہ سنبھالا جو بیڈ پر پڑا ہوا تھا اپنے شوز پہنے وہ دروازہ کی طرف گئی جہاں قریب زایان کھڑا تھا
وہ وہاں سے گزری تو زایان نے اس کی کلائی پکڑ لی
وہ اس سے اپنی کلائی چھڑانے لگی جو زایان چھوڑنے کو تیار ہی نہ تھا
“یہ بھیگی بلی بھوکی شیرنی کیسے بن گئی” وہ اسی پوزیشن میں سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا مگر وہ نظریں زمین پر گاڑھے اپنی کلائی اس سے چھڑانے کی مزاحمت کر رہی تھی
زایان نے اس کا کلائی تب چھوڑی جب اس کے اس کی چوڑیاں اس کی کلائی میں ٹوٹ گئی اور وہ موقع کا فائدہ اٹھا کر کمرے سے باہر بھاگ گئی