Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

اسے گھر میں رہ رہ کر ربانیہ پر غصہ آرہا تھا مگر اسے یہ بھی احساس تھا کہ ربانیہ کا اس میں قصور کیا تھا وہ تو اس سے اپنے بچے کی بھیک مانگ رہی تھی اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا جتنی لاپرواہی اور قصور ربانیہ کا تھا اتنی ہی لاپرواہی اور قصور اس کا بھی تھا اسے ربانیہ کو یہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا وہ اس سے ملنے ہسپتال آیا تھا وہ جیسے ہی ہسپتال میں انٹر ہوا اسے سامنے سے سلمی بیگم ربانیہ کو لاتی دکھائی دی وہ انہیں کے پاس آنے لگا تھا کہ سلمی بیگم کی باتیں اس کے کانوں سے ٹکرائی اور اس کے پیر وہی جم گئے وہ سب سن چکا تھا ایک ایک بات جو انھوں نے ربانیہ سے کہی اس کا تو وجود ہل کر رہ گیا آنکھیں پوری طرح سرخ ہوچکی تھی اس نے ایک بےگناہ کو سزا دی تھی شرم اور ندامت نے اس کا گریبان پکڑ لیا تھا
ربانیہ سلمی بیگم کے ساتھ بیٹھی سسک سسک کر رورہی تھی اور سلمی بیگم خود بھی رورہی تھی
“شکر ہے پھپھو خدا نے مجھے اولاد سے محروم کردیا میری اولاد اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر گئی اب تک میں سمجھتی آئی تھی کہ میں بےگناہ سزا کاٹ رہی نہیں ہو میرا تو کوئی قصور نہیں مگر یہ تو مکافات عمل تھا جو بابا نے امی کے ساتھ کیا وہی زایان نے میرے ساتھ کیا میری دعا ہے کہ خدا مجھے کبھی اولاد نہ دے میں ہمیشہ بےاولاد ہی رہو اگر میری اولاد کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا تو میں کہا جاتی کیسے برداشت کرتی یہ سب”۔۔۔۔
وہ ایک ایک بات پر زور دے کر بولی سلمی بیگم جو اب تک صرف آنسو بہا رہی تھی اس کی طرف حیران نظروں سے دیکھنے لگی اور زایان جو انہیں کے پیچھے کھڑا تھا سن رہا تھا اس کی آنکھوں سے بھی اشک ٹوٹ کر گرے
ربانیہ اٹھی اور جانے کیلئے مڑی کہ سامنے زایان کو دیکھ کر اسے کرنٹ لگا زایان اسی کی طرف نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا وہ اس پر ایک خفا نظر ڈالے اندر چلی گئی
اس ایک نظر میں کیا کیا نہ تھا غصہ شکوہ نفرت اور صرف نفرت مانو کہ رہی ہوں
کہا تھا نہ سچ سامنے آنے سے نہیں بلکہ ٹوٹنے سے ڈر لگتا ہے اور وہی ہوا
ماما۔۔۔۔۔
اس نے مدہم آواز میں سلمی بیگم کو پکارا
وہ اس کی آواز پر حواس باختہ ہوکر بنچ سے اٹھی اور اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں
زایان میری بات۔۔۔۔ انھوں نے ابھی کہا ہی تھا کہ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔چھے مہینے بعد۔۔۔۔۔۔
ربانیہ ۔۔۔۔ایمن نے اسے پکارا خو فریدہ کے ساتھ کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھی
جی آپی۔۔۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے اور ایمن کی جانب مخاطب ہوئی
“میں جارہی ہوں آج زرا جلدی ناشتہ وہی کرونگی تم ماما کو بتا دینا”۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں بتا دونگی ۔۔۔۔۔
ایمن اسے سمائل پاس کیے چلی گئی
چھ مہینے ہوچکے تھے اس حادثے کو بہت کچھ تبدیل ہوگیا تھا ایمن نے ہائوس جاب سٹارٹ کردی تھی کبھی اس کی ڈے ڈیوٹی ہوتی تو کبھی نائٹ
ڈیوٹی رایان کا بھی لاسٹ ایئر چل رہا تھا اور وہ زیادہ تر اپنی سٹڈیز میں بزی ہوتا سلمی بیگم کی وہی روٹین تھی جو ان کی ہمیشہ ہوتی
مگر ان چھ مہینوں میں ربانیہ بہت بدل گئی تھی سب کے ساتھ نارمل رہتی مگر حسان کے ساتھ وہ اب اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی حسان جب بھی اس کے پاس آتا وہ اسے ڈانٹ کر بھگا دیتی تھی سلمی بیگم نے اس کے حسان کے ساتھ رویہ کو نوٹ کیا تو ایک دو بار اسے بولا بھی تھا مگر اس نے یہی کہا کہ یہ ان کا وہم ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے وہ زیادہ تو اپنے کمرے میں ہی رہتی کسی سے زیادہ بات بھی نہ کرتی باتونی تو وہ شروع سے ہی نہیں تھی مگر اب اس نے خود کو کمرے تک محدود کردیا تھا
زایان کو اس نے اس رات کے بعد دیکھا ہی نہ تھا آنی صبح اسے گھر لے آئی تھی مگر زایان کے بارے میں کچھ نہ بتایا کچھ دن بعد ایمن نے اسے بتایا تھا کہ زایان لندن میں اپنی کمپنی سیٹ کررہا ہے کوئی پتہ نہیں کب آئے گا اسے یہ سن کر اتنی بےچینی کیو ہوئی یہ وہ خود نہیں جانتی تھی ایک دن وہ کچن سے چائے بنا کر حال سے گزر رہی تھی کہ ایمن کو زایان سے لیپ ٹاپ پر بات کرتے سنا ایمن نے اسے آواز دی
“رابی بھائی کی کال ہے اگر بات کرنی ہے تو آجائو”۔۔۔۔
مجھے نہیں کرنی کسی سے بات ۔۔۔۔۔۔وہ بغیر مڑے کہ کر چلی گئی
“لگتا ہے بھائی آپ سے ناراض ہے “۔۔۔۔۔ایمن نے زایان سے کہا جو کال پر سب سن رہا تھا
کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔ اس نے اتنا کہا اور کال کاٹ دی
دو مہینے پہلے ہی فیصل کی اماں اپنی بیٹی کے ساتھ ایمن کا رشتہ لے کر آئی تھی
سلمی بیگم خوش بہت ہوئی اور ان سے کہا کہ میں اپنے بڑے بیٹے سے مشورہ کرکے بتائو گی زایان سے انھوں نے بات کی تو اس نے فورن ہاں کردی کیونکہ وہ فیصل کو اچھے سے جانتا تھا اسی لیے وہ اسے ایمن کیلئے ہر لحاظ سے صحیح لگا دو دن بعد ایمن کی منگنی تھی اور زایان بھی کل رات آرہا تھا مگر یہ بات ربانیہ کو پتا نہ تھی ایمن نے اسے سرپرائز دینے کا سوچا اور اسی لیے کسی نے اسے کچھ بھی نہ بتایا
وہ ان چھ مہینوں میں باقاعدگی سے نماز پڑھتی تھی جب سے وہ اس گھر بیاہ کر آئی تھی اس کی کتنی نمازیں قضا ہوچکی تھی وہ خود بھی نہ جانتی تھی جب سے اس نے اپنی اولاد کھوئی تھی وہ بہت ڈر گئی تھی اس کی ہر نماز میں یہی دعا ہوتی کہ اسے اولاد نہیں چاہیے وہ ہمیشہ بےاولاد رہنا چاہتی ہے رو رو کر وہ خدا سے یہی دعا مانگتی
آج ایمن کے ساتھ اس نے شاپنگ پر جانا تھا فکشن کیلئے شاپنگ کرنے اور سلمی بیگم نے ایمن کو خاص تاکید کی تھی کہ اسے کییوال ڈریسز بھی دلائیں کیونکہ اس کے پاس ایک بھی ڈھنگ کا اور نہ تھا
ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور اب دوپہر ہورہی تھی اس نے ظہر کی نماز پڑھی اور نیچے آئی جہاں سلمی بیگم حسان کے ساتھ بیٹھی اس سے سکول کے متعلق باتیں کررہی تھیں اور وہ پرجوش انداز میں انہیں بتا رہا تھا
وہ انہیں نظر انداز کیے کچن میں جانے لگی تو حسان نے اسے دیکھ لیا اور اس کے پاس بھاگا چلا آیا
آپی آئے نہ آج میری ٹیچر ۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے کہ ہی رہا تھا
میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ مجھے تنگ مت کیا کرو۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی اسے ڈانٹنے لگی
وہ روتے ہوئے اپنے کمرے میں بھاگ گیا
ربانیہ اس میں ڈانٹنے والی کون سی بات تھی بچہ ہے تم سے ۔۔۔۔
سلمی بیگم اسے سمجھا رہی تھی
پھپھو میرے سر میں درد ہے میں چائے بنانے جا رہی ہوں۔۔۔۔ وہ انہیں بے دلی سے کہتی کچن میں چلی گئی
۔۔۔۔
وہ شام کو ایمن کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی تھی ایمن نے خود سے زیادہ اس کی شاپنگ میں انٹرسٹ تھا وہ اس کیلئے اتنی دلچسپی سے شاپنگ کررہی تھی کہ بیس سوٹ تو ایسے ہی لی لیے وہ اسے منا کرتی رہی مگر اس نے ایک نہ سنی
وہ اتنی تھک گئی تھی یہ اس کا پہلا ایکسپیرینس تھا مال میں شاپنگ کرنے کا اسی لیے وہ آتے ہی سو گئی
رات کے ایک بجے اس کی آنکھ کھلی پیاس کی وجہ سے اس نے پانی پیا اور بالکونی میں آگئی کیونکہ جب ایک بار اس کی نیند کھل جاتی تو وہ سو نہیں پاتی
وہ باہر کے منظر کا جائزہ لے رہی تھی کہ اچانک گیٹ کھلا اور گاڑی اندر آئی وہ حیران تھی کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے
گاڑی پارک ہوئی اور باہر کوئی اور نہیں اس کا شوہر تھا زایان وہ اتنی ڈر گئی کہ اس کا سانس ہی اٹک گیا وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں واپس اور ادھر ادھر چکر کاٹنے لگی اس کا پورا وجود کانپنے لگا لرزنے لگا
اچانک اس کے ذہن میں ایک بات آئی اور وہ اپنے کمرے سے نکل کر ایمن کے کمرے میں آئی جہاں ایمن سو رہی تھی
آپی اس نے ایمن کو آواز لگائی مگر وہ شاید گہری نیند سو رہی تھی
وہ اس کے بیڈ کی دوسری سائڈ پر بیٹھ گئی اور اس کے بلینکٹ اوڑھے لیٹ گئی اور دل ہی دل میں کتنے ہی ورد کرنے لگی دعائیں کرنے لگی کہ وہ اس کی نظر کا دھوکا ہو زایان آیا ہی نہ ہو
۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آیا تو پورا کمرہ لائٹس سے روشن تھا مگر وہاں کوئی نہ تھا وہ اپنا سفری بیگ ڈریسنگ روم میں رکھے اپنی الماری سے ایک سوٹ نکالنے لگا مگر اس کے کپڑے الماری میں تھے ہی نہیں شاید وہ لانڈری گئے ہوئے تھے اس نے سوچا اور اپنی دوسری الماری سے اپنی نائٹی نکالی جو وہ اکثر شاور لینے کے بعد پہنتا تھا پھر وہ واشروم میں چلا گیا
وہ شاور لے کر واپس آیا اور ڈریسر کے آگے کھڑا ہوگیا اور اپنے بالوں کو ٹاول سے رگڑنے لگا پھر وہ اپنے بستر پر آیا اور لیٹ گیا
اس نے آس پاس نظر دوڑائی تو اسے ربانیہ کہی نظر نہ آئی وہ اٹھا اور بالکونی کی طرف آیا جہاں کوئی بھی نہ تھا
یہ کہاں گئی۔۔۔۔ اس نے سوچا اور اپنے کمرے سے باہر اسے ڈھونڈنے چلا گیا ایمن کے کمرے کی جانب رخ کیا اور دروازہ کھولا ربانیہ جس کا پہلے ہی دل بیٹھا جارہا تھا دروازہ کھلنے کی آواز پر اسے پسینے آنے لگے وہ منہ تک بلینکٹ اوڑھے لیٹی ہوئی تھی
وہ بیڈ کی طرف آیا اور ایک مسکراتی نظر اس کی بلینکٹ میں چھپے وجود کو دیکھنے لگا
آہستہ قدموں سے اس کی سائڈ آیا اور گھٹنوں کے بل وہی بیٹھ گیا
“جان کب تک چھپو گی آخر آنا تو تمہیں میرے پاس ہی ہے “۔۔۔۔اس کے کان کے پاس جاکر ہو لے سے سرگوشی کی
ربانیہ نے اس کی آواز سن کر بمشکل اپنا تھوک نگلا
اس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چھونے کے بعد وہ کمرے سے چلا گیا