Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Part 2

“پھپھو مجھے گھر جانا ہے”۔۔۔۔ رات کے تین بجے اس نے سلمی بیگم کو جگایا
“ہاں بیٹا صبح جب ڈاکٹر تمہیں ڈسچارج کردے گے تو چلے گے نہ گھر ابھی تم آرام کرو شاباش”
سلمی بیگم نے اسے سمجھا کر دوبارہ سلانا چاہا
“نہیں پھپھو مجھے میرے گھر واپس جانا ہے”۔۔۔۔۔
میرے گھر مطلب۔۔۔۔۔ سلمی بیگم نے حیرت سے پوچھا
“میرا اپنا گھر جہاں میری ماں رہتی تھی آپ مجھے وہی چھوڑ آئے”
اس نے کہا ڈرپ کی ٹیوب نکال لی اور کھڑی ہوئی
“ربانیہ میری بات تو سنو ہوا کیا ہے آخر ایسا جو تم یوں اچانک جارہی ہوں”۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے کندھوں سے پکڑا اور پوچھنے لگی
“ابھی بھی کچھ ہونا باقی ہے پھپھو سب کچھ تو ختم کردیا میرا آپ لوگوں نے اجاڑ دیا مجھے برباد کردی میری زندگی”۔۔۔۔۔ وہ روتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی
کیا یہ سب زایان نے کیا ہے۔۔۔۔۔ سلمی بیگم نے پوچھا
“جب میرا بچہ رہا ہی نہیں تو یہ سب پوچھ کر کرے گی کیا آپ اب نہیں رہنا مجھے زایان کے ساتھ”۔۔۔۔۔ اس نے اپنے آنسوں صاف کیے اپنا دوپٹہ سنبھالا اور جانے لگی
ربانیہ اتنی رات کو کہا جارہی ہوں “۔۔۔۔
وہ باہر نکلی تو رایان جو وہاں چیئر پر بیٹھا سو رہا تھا آواز سے اس کی نیند ٹوٹی
“کہیں نہیں بیٹا گھبراہٹ ہورہی تھی اسے اس لیے باہر جارہی ہے”۔۔۔۔
سلمی بیگم نہیں چاہتی تھی کہ رایان یا ایمن میں سے کسی کو بھی زایان کی حرکات کا پتہ چلے
اس لیے انھوں نے بات کو سنبھالنا چاہا
“اچھا ٹھیک ہے آپ اسے لے کر جائے میں یہی ویٹ کرتا ہو”۔۔۔۔
وہ ربانیہ کو لے کر باہر چلی گئی
ربانیہ کو وہ ہسپتال کے باہر لان میں لے آئی اور بینچ پر بٹھایا
“پھپھو آپ سب جانتی تھی نا کہ زایان میرے ساتھ کیا کرتے ہیں جب وہ مجھے کبھی قبول نہیں کرپائے تو میرے بچے کو کیسے کرتے”۔۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی ان سے پوچھنے لگی
جانتی تھی میں سب جانتی تھی مگر اپنی اولاد کے آگے بے بس ہوگئی تھی خودغرضی نے مجھے گھیر لیا تھا تمہارے چہرے کے نشان مجھے سے چھپے نہیں تھے میں نے نظرانداز کردیا مجھے لگا کہ جب اولاد ہوجائے گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا مگر میں غلط تھی جب عبدالمالک اپنی اولاد کے بعد نہیں بدلا تو وہ کیا بدلتا۔۔۔۔۔۔
اسے تو خوش بخت کی اولاد نہیں بدل پائی اسے تو وہ سمیرا کے در پے چھوڑ آیا تاکہ اس کی اولاد اس سے بدگمان نہ ہو اور وہ کامیاب بھی ہوگیا اس کی اولاد ہمیشہ کی طرح اسی کی رہی۔۔۔۔۔۔
مطلب کہ حسان ۔۔حسان کس کا بیٹا ہے پھپھو مجھے بتائیں آپ کو خدا کا واسطہ مجھے سچ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر سلمی بیگم چپ رہی وہ بھی اس کے ساتھ رورہی تھیں
“میں قسم سے بندھی ہو بیٹا” انھوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے
“میری ماں تو مجھے جہنم میں جھونک کر چلی گئی جب وہ اس دنیا میں ہے ہی نہیں تو آپ ان کی قسم کا کیا کرے گی پھپھو”۔۔۔۔
وہ چیخی
مگر سلمی بیگم چپ رہی سر جھکائے روتی رہی
مجھے یہ تو سچ بتائیں یا پھر مار دیں”۔۔۔
اس نے سلمی بیگم کے سامنے ہاتھ جوڑے
“حسان کس کا بیٹا ہے مجھے بتائیں”
“عبدالمالک اور خوش بخت کا بیٹا ہے وہ عبدالمالک کا خون ہے وہ”۔۔۔
“عبدالمالک چھوڑ کے آیا تھا اسے سمیرا کے در پر
عبدالمالک کی ایک ہی کمزوری تھی وہ تھی عورت اس نے اسی دھت میں نہ خوش بخت کو چھوڑا اور نہ ہی سمیرا کو”۔۔۔۔۔
“اجاڑ دی تھی اس نے خوش بخت کی زندگی اسے کہیں کہ نہیں چھوڑا اور اسداللہ یہ بات جانتا تھا “۔۔۔۔۔
“کون اسداللہ کون ہے یہ آخر”۔۔۔ اس نے حیرانی سے پوچھا
جب میری اور عبدالمالک کی شادی ہوئی تھی تو وہ اس شادی سے ناخوش تھا اس نے کبھی مجھے دل سے تسلیم کیا ہی نہیں اس کی نظر سمیرا پر تھی جبکہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ سمیرا اور احمد کا رشتہ بچپن سے طے ہے اسی کا چچا زاد کا اسداللہ جس کی بیوی تھی خوش بخت اس نے خوش بخت سے شادی اپنی مرضی اپنی پسند سے کی تھی تب زایان صرف دو سال کا تھا خوش بخت نہ صرف صورت میں بلکہ سیرت میں بھی عمدہ کردار کی مالک تھی مگر عبدالمالک کی نظر نے اسے بھی نہ چھوڑا اس پر گندی نظر رکھی اور خوش بخت اس سب سے انجان تھی جبکہ اسداللہ یہ سب جانتا تھا مگر دولت کے نشے میں چور ہوگیا تھا اسے پتا تھا اگر وہ عبدالمالک کے خلاف گیا تو عبدالمالک اس سے سب کچھ چھین لے گا نہ صرف دولت بلکہ خوش بخت بھی اسی لیے اس نے اپنی زبان کو بند رکھا
خوش بخت کے شاید کوئی خوش قسمتی تھی جو وہ عبدالمالک کی گندی نظر سے اتنے سال محفوظ رہی
جب سمیرا اور احمد کی شادی ہوئی تو اس سے یہ بات برداشت نہ ہوئی وہ ہر روز کبھی میرے تو کبھی زایان کے بہانے وہاں جانے کی کوشش کرتا
“اور آپ یہ بات جانتی تھی”۔۔۔ ربانیہ نے پوچھا
سلمی بیگم کچھ دیر اسے حیرانی سے دیکھتی رہی پھر ہاں میں سر ہلایا
اولاد کے آگے بے بس ہوگئی تھی وہ چاہے جیسا بھی تھا مگر زایان کو اس نے کبھی اپنے گناہوں کی نظر نہ کیا ۔۔۔۔۔
زایان بھی مجھ سے زیادہ اپنے باپ سے اٹیچڈ تھا
یہ تو وہ سارا دن خوش بخت کے پاس ہوتا تھا خوش بخت کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی اسی لیے اس نے زایان کو ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح چاہا وہ مجھ سے زیادہ اس کا خیال رکھتی اس کی چھوٹی بڑی ضرورت خود پوری کرتی۔۔۔۔۔
جب رایان دو سال کا تھا تو کو سمیرا کو پہلی مرتبہ اولاد کی خوشی ملی احمد اور وہ بہت خوش تھے مگر عبدالمالک جو اب تک خود پر قابو پاتا آیا اب وہ بے قابو ہوگیا وہ یہ بات جان چکا تھا کہ اگر سمیرا کے یہاں اولاد ہوئی تو اس کا اور احمد کا رشتہ اور مضبوط ہوجائے گا
اسی لیے اس نے رایان کی تیسری سالگرہ پر ایک دعوت رکھی تب سمیرا کا تیسرہ ماہ تھا وہ اس دعوت میں موقع ڈھونڈ رہا تھا کہ کب سمیرا اکیلی ہو اسی لیے اس نے جان بوجھ کر سمیرا پر جوس گرادیا تاکہ اس پر سے سب کی نظر ہٹ جائے میں اسے اپنے کمرے میں لے آئی تاکہ وہ چینج کرسکے مگر میں نہیں جانتی کہ یہ سب عبدالمالک کی سازش کا ایک حصہ ہے
جب میں کمرے سے باہر آئی تو وہ کمرے میں گیا مگر اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ کمرہ اندر سے لاک تھا اسی لیے اس نے کچھ اور سوچا جب سمیرا چینج کرکے باہر نکلی اور سیڑھیوں سے اترنے لگی تو اس نے سمیرا کو دھکہ دے دیا اور وہ سیڑھیوں سے گر گئی
اور وہ گھٹیا انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا مگر سمیرا اسے دیکھ چکی تھی کہ دھکہ اسے عبدالمالک نے دیا ہے اور نیچے خوش بخت نے بھی دیکھ لیا تھا
سمیرا کو سب ہسپتال لے گئے تھے گھر میں سوائے میرے عبدالمالک خوش بخت اور بچوں علاوہ کوئی نہ تھا عبدالمالک جان گیا تھا کہ خوش بخت اسے دیکھ چکی ہے اسی لیے اس نے خوش بخت کو اپنے قابو میں کرنا چاہا زایان اس وقت گیارہ سال کا تھا اور ایمن پانچ سال کی
وہ خوش بخت کے کمرے میں گیا اور اس گھٹیا انسان نے خوش بخت کی عزت کو پامال کردیا
خوش بخت کو تو اس نے عزت کی دھمکی دی مگر اب وہ سمیرا کو ہر قیمت میں حاصل کرنا چاہتا تھا
ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ ہم سمیرا سے ملنے چلتے ہیں اس کی طبیعت کا بھی پوچھ لے گے میں سمجھ گئی تھی کہ اب وہ کیا چاہتا ہے میں نے طبیعت خرابی کا بہانا بنایا اور اسے وقتی طور پر تو روک لیا مگر میں جانتی تھی اسے زیادہ دیر میں روک نہیں سکتی دوسری طرف وہ خوش بخت کو ٹارچر کرتا تھا اس سے وہ سب کرواتا جو وہ چاہتا زایان جب بھی خوش بخت کے پاس جاتا تو وہ اسے نظر انداز کر دیتی شاید وہ اس سے نظریں نہیں ملا سکتی تھی اس سے زایان کی طبیعت پر اثر ہونے لگا وہ چڑ چڑا ہوگیا تھا خوش بخت کا اسے نظر انداز کرنا نا بھاتا
میں یہ نہیں جانتی تھی کہ سمیرا اسے دھکہ دیتے دیکھ چکی ہے اور احمد کو وہ سب بتا چکی ہے مگر احمد اپنی بہن کا گھر کیسے اجڑنے دیتا عزت نے اس کے پیروں میں بیڑیاں باندھ دی تھی۔۔۔۔۔