Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Part 1

اسے ہسپتال میں آج دوسری رات تھی ایمن آج سارا دن اسی کے پاس تھی رات میں جب سلمی آئی تو وہ گھر چلی گئی مگر زایان اسے ایک بار دیکھنے تک نہیں آیا یہ اس نے انتظار کیا تھا کیونکہ اب وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ مزید اب اس کے ساتھ نہیں رہے گی وہ سب بھول سکتی تھی مگر اپنے بچے کی موت ہرگز نہیں بھول سکتی تھی اسے اس وقت اپنی ماں کی ضرورت تھی مگر حقیقت تو یہ تھی کہ جسے وہ چاہتی تھی وہ ہمیشہ اس سے دور چلا جاتا پہلے اس کے بابا پھر اس کی ماں ہی تھی جو ہر خوشی غم میں اس کی ساتھی تھی ۔۔۔۔۔
اسے بس اتنا یاد تھا کہ جب وہ تیرہ سال کی تھی تب اس کے دل میں زایان کیلیے جذبات نے اپنے قدم جمائے مگر وہ ہمیشہ اسے نظرانداز کرتا تھا مگر دل کے ہاتھوں وہ بھی مجبور تھی جب وہ نویں جماعت میں تھی تب اس کی سالگرہ پر سمیرا بیگم نے اسے موبائل فون گفٹ کیا تھا وہ اس وقت اتنی خوش تھی اس نے سب سے پہلے اپنے موبائل میں ایمن سے سب کے نمبر سیو کرائے تھے جب وہ پندرہ سال کی ہوئی تب اس کی رازدار آغوش تھی وہ ہر چھوٹی بڑی بات اس سے شیئر کرتی اس نے زایان والی بات بھی اس سے شیئر کی تھی ناجانے کیسے مگر ایک دن ایمن نے بھی اس سے پوچھ لیا
“رابی کیا تم بھائی کو پسند کرتی ہو”۔۔۔
وہ اس بات سن کر تلملا گئی جھوٹ اس سے بولا نہیں جاتا تھا اسی لیے اس نے نظریں جھکا لی ایمن کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے دل زایان کیلیے کیا جذبات ہیں مگر وہ عمر کے جس حصے میں تھی اس میں تو یہ جذبات نارمل تھے اس لیئے ایمن نے کبھی اسے سیریئس نہیں لیا
جب اس کا میٹرک کا رزلٹ آیا وہ اپنا موبائل ہاتھ میں لیے سارا دن زایان کے میسج کا انتظار کرتی رہی کیونکہ ایمن نے اسے بتایا تھا کہ زایان نے اس کا نمبر مانگا ہے وہ اتنی خوش تھی اسی لیے وہ بار بار اپنا موبائل چیک کرتی کہ شاید اس نے دیکھا ہی نہ ہو شاید اس کا کوئی میسج آیا ہوں
جب شام میں پھپھو اور ایمن آئے تو ایک دم اس کا دل تھم گیا اسے لگا کہ شاید اس پر قسمت مہربان ہورہی ہے شاید زایان اسے چل کر مبارک باد دینے آیا ہے مگر اس کے سارے اندازے محض اندازے ہی رہے گئے پھر جب پھپھو نے کہا کہ زایان نے اسے بھی بلایا۔۔۔۔۔ تو اسے لگا شاید آج اس کی ساری مرادیں پوری ہونے والی ہیں مگر زایان کا یوں سب کو لےجانا اور اسے نہ لے جانے کی بحث کرنا اسے برا تو بہت لگا روتی بھی رہی اسے دکھ زایان کے ساتھ لے جانے سے زیادہ اسے فرحین کے ساتھ دیکھنا تھا اس کے لیئے بحث کتنا تھا مگر اس نے اپنے آپ کو سمجھا لیا کہ شاید یہ اس کا وہم ہو وہ صرف اس کی دوست ہو جب زایان نے اس سے کہا کہ “سوری تم آئی اور ہم سب چلے گئے”۔۔۔
اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا وہ تو اس سے کبھی بات ہی نہ کرتا تھا پھر اچانک اتنی پڑی تبدیلی ایک پل کو اس کے دل نے مان لیا کہ زایان کو اس سے محبت ہوگئی ہیں مگر اس کے اگلے جملے نے اس بھرم کو توڑ دیا “تم یہاں کسی کام سے آئی تھی”۔۔۔
ایک پل کو اس کے دل نے کہا جائو اور بتا دو اسے کہ تم یہاں کس لیے آئی تھی اس شخص کی محبت میں آئی تھی مگر اس نے اپنے ان جذبات پر قابو پالیا
گھر واپس آنے سے کالج جانے تک اس نے اپنے دل کو بار بار سمجھایا کہ زایان اسے محبت تو کیا پسند بھی نہیں کرتا اسے لگا کہ اب وہ اس کو کبھی یاد نہی کرے گی بھول جائے گی اسے مگر جب زایان اسے روڈ پر ملا اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا ایک پل کو اسے خود پر رشک آیا پھر فوٹو کاپی والی بات پر اس کا ناراض ہونا “ہمیشہ امی کہتی تھی کہ ہم انہیں سے ناراض ہوتے ہیں جن سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں”
اسے لگا کہ اب زایان کو اس سے محبت ہوگئی ہے تین دن وہ مسلسل خود سے احتجاج کرتی رہی نہیں ربانیہ غلطی تیری ہے تجھے ہی معافی مانگنی ہوگی اس نے کال کی مگر دوسری طرف فرحین کی آواز سننے کے بعد اسے لگا کہ اس کا دل پھٹ جائے گا وہ روتی رہی مگر اس نے اگلے دن انتظار کیا کہ شاید زایان اس کی کال دیکھ لے اور اسے کال کرلے مگر ایک ہفتہ گزر گیا اس کی کال نہیں آئی ۔۔۔۔۔
جب اس سے امی نے تیمور کی بات کی تو اسے لگا کہ وہ اس دنیا کی بد قسمت ترین لڑکی ہے جسے تیمور مل رہا اس نے تیمور کے بے حس سمجھا ۔گر جب تیمور سے وہ ملی تیمور کا وہ جملہ
ہمیں ایک دوسرے سے بات کرسکیں ایک دوسرے کو اپنے جذبات سے آگاہ کرسکے اس کی سماعتوں کو ساکت کرگیا اسے لگا کہ وہ تیمور کر دھوکا دے رہی ہے اس لیے اس نے سوچ لیا کہ وہ تیمور کو سب بتا دے گی اور اس نے ویسا ہی کیا اس نے یہی سوچ کر تیمور کو بتایا تھا کہ وہ خود اس رشتے سے انکار کردے گا مگر تیمور کی باتوں نے اسے سرشار کردیا
وہ پوری رات یہی سوچتی رہی کہ اگر وہ زایان سے ایسی باتیں کرتی تو کیا وہ بھی ایسا سوچتا نہیں دل و دماغ دونوں نے یک جواب دیا
تین ماہ بعد اس کی شادی کی تاریخ طے ہوگئ تیمور اور عمر صاحب اپنے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوگئے وہ اس شادی کیلئے دل سے راضی تھی کیونکہ تیمور نے اسے اعتماد دیا تھا بھروسہ دیا تھا مہندی والے دن جب زایان کو اس کے کمرے میں آکر اس سے یہ سب باتیں کرنا اسے اس کی تو امید ہی نہ تھی مگر زایان کا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ہرٹ کرنا اس کے دل میں جذبات دوبارہ ابھرنے لگے اس نے زایان کو تھپڑ مارا اس لیے نہیں کہ وہ اس کی باتوں سے ہرٹ ہوئی بلکہ اس لیے کہ اس کے جذبات بے قابو ہورہے تھے اس نے زایان کے اگلے جملے پر غور ہی نہ کیا
تیمور کے ساتھ ڈرائیو پر اس نے تیمور سے وہ باتیں کی تاکہ اس کا دل ہلکہ ہوجائے اس نے تیمور کی آنکھوں میں خود کیلئے بےتحاشہ محبت دیکھی اسے تیمور سے محبت نہیں تھی صرف عزت تھی شادی والے دن تیمور کا یوں اچانک غائب ہونا پھر اچانک نکاح نے اس کے دماغ کو بند کردیا تھا اسی لیے اس نے غصے میں زایان کو طلاق کا بولا تھا مگر سمیرا بیگم کا اتنا بڑا صدمہ اس نے اس بات ہر کبھی دھیان ہی نہ دیا کہ وہ زایان ملک کی بیوی بن چکی تھی جس کی اس نے کبھی خواہش بھی کی تھی جب زایان نے جاتے وقت اس سے کہا کہ وہ اسے جلدی لے جائے گا ایک پل کو اس کا دل دھڑکا اسے لگا کہ زایان سچ میں اس سے محبت کرتا ہے اگر یہی سب کرنا تھا تو عزت سے کرتا اسی کا جواب چاہتی تھی وہ زایان سے پھپھو کے ساتھ گھر آگئی زایان کے کمرے میں آگئی مطلب صاف تھا وہ زایان سے محبت کرتی تھی تبھی اس کا دل اسے روک نہیں پایا انتظار کرتی رہی زایان کا کہ وہ آئے گا اس سے ان سوالوں کا جواب لےگی تبھی وہ اسے بتائے گی کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے زایان نے آنے کے بعد اس کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے الفاظوں نے دم توڑ دیا
فریدہ نے جب اسے کہا کہ وہ تیار رہا کرے تو اس کے دل نے کہا زایان کو اسی وجہ سے غصہ آیا ہوگا کہ وہ ہمیشہ سادہ سی رہتی ہے اس نے سوچ لیا وہ شام کو تیار ہوگی زایان سے سو شکوے کرے گی کہ اتنی سی بات تھی تو مجھ سے کہتے شام کو وہ تیار ہوئی خوش تھی اور تھوڑی سہمی ہوئی کہ زایان ناراض تو نہیں ہو گے مگر دل نے کہا کہ پاگل وہ تجھ سے اب ناراض نہیں ہونگے زایان جب آیا تو وہ جام بوجھ کر پیر پر دوائی لگانے لگی کہ جب زایان اسے دیکھے تو وہ اس سے معافی مانگے وہ اس سے شکوے کرے
مگر زایان نے اس کے جذبات اس کی روح کو کچل ڈالا اس نے اب زندگی سے امید چھوڑ دی تھی کہ کبھی اسے بھی وہ ساری خوشیاں ملے گی جن کی وہ ہمیشہ سے چاہ رکھتی تھی زایان کا دب بدن اس پر بڑھتا تشدد وہ چپ چاپ برداشت کرتی گھر میں اگر کبھی اسے کوئی چوٹ لگتی تو وہ رونے لگ جاتی تھی اور سمیرا بیگم سارا دن اس کے سر پر کھڑی رہتی وہ ان باتوں کو یاد کرتی تو روتی مگر اس پھر سمیرا بیگم کا وہ جملہ یاد آجاتا
یتیم کے سر کی چادر اچھالنے والے اس دنیا میں بہت ہیں شکر کرو کہ آپا یہ چادر اپنے پاس سنبھال کر رکھ رہی ہیں
اسے یہی گمان تھا کہ اس کے سر کی چادر سلامت ہے مگر زایان نے اس کا یہ گمان بھی اپنے پیروں تلے روندھ ڈالا
تیمور کے ساتھ نے پر اسے بیلٹ سے مارا مگر وہ چپ رہی جب اسے پتا چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے اسے پہلی خوشی ملنے جارہی ہے اس کا دل سرشار ہوگیا کہ اب زایان اپنی اولاد کیلیے بدلے گا اور ضرور بدلے گا مگر زایان نے اس پر بدکرداری کا داغ لگا دیا وہ ٹوٹ گئی تھی نہ جی سکتی تھی نہ مر سکتی تھی اس کی پہلی خوشی نے اس کے سر کی چادر کو داغ دار کردیا سوچ لیا تھا نہیں چاہیے اسے بچہ بول تو دیا تھا کہ تیار ہے وہ زایان کے بات مانے گی مگر ٹیسٹ والی بات نے اسے ہلا کر رکھ دیا
تیمور کے سامنے اس کی عزت کو دوکوڑی کا کردیا تھا زایان نے وہ جانے تو لگی تھی مگر جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسی کمرے میں موجود تھی جہاں اس کی سانسوں کو پل پل گھونٹا گیا تھا
نفرت ہوگئی تھی اسے زایان ملک سے شدید نفرت
زایان کے آگے بے بس ہوگئی تھی مگر پھپھو
پھپھو کو تو وہ اپنی ماں مانتی تھی انھوں نے بھی اسے دھوکا دیا بیٹے کا ساتھ دیا زایان کے آگے وہ اس لیے گڑگڑائی تھی کہ وہ چاہے کچھ بھی کرلے ہوگا وہی جو زایان چاہتا ہے بچہ نہی کھو سکتی تھی اسی لیے جھک گئی مگر الٹا اس کے منہ پر تماچہ مارا گیا اسے امید نہ تھی کہ زایان اتنا بے حس ہوسکتا ہے اتنا سنگدل ہوسکتا ہے مر گیا اس کا بچہ چھین لی اس سے زایان نے اس کی خوشیاں
میں کتنے ٹکڑوں میں ٹوٹی کوئی جانے نہ
میں کتنا راتوں میں روتی کوئی جانے نہ