No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
وہ زایان کو تو وہ سب کہ کر کمرے میں چلی گئی تھی مگر اس کی باتیں زایان کے دل میں تیر کی طرح لگی وہ کمرے میں آیا تو وہ سو چکی تھی
وہ بھی دوسری سائڈ پر لیٹ گیا مگر نیند اس کی آنکھوں سے بوجھل تھی اسے خوش بخت کا چہرہ پھر نظر آیا ایک وہی تو تھی جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتا تھا کاش سمیرا ان کی زندگی میں نہ آتی تو یہ سب نہ ہوتا آج خوش بخت زندہ ہوتی اس کا دل رو رو کر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ سمیرا کا ان کی زندگی میں آنا صرف ان کیلئے باعث عزیت تھا اور کچھ نہیں پھر سے اس کی آنکھوں سے اشک بہ نکلے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
صبح جب ربانیہ کی آنکھ کھلی تو زایان اس کی طرف پشت کیے سویا ہوا تھا وہ اٹھی اور واشروم میں چلی گئی جب وہ واپس آئی تو زایان جاگ چکا تھا اور ڈریسنگ روم میں کھڑا اپنے لیے کپڑے نکال رہا تھا
وہ ڈریسنگ روم میں آئی زایان کو مکمل نظرانداز کیے اس نے اپنی الماری کھولی اور سارے کپڑے نکالنے لگی وہ اپنے ساتھ صرف چند ڈریسز ہی لائی تھی یہاں آکر اسے کسی نے نہ کوئی شاپنگ کرائی تھی اور نہ ہی کسی نے پوچھا تھا کہ اسے کچھ چاہیے یہ نہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے تمام کپڑے لیے بیڈروم میں آئی اور انہیں بیڈ پر رکھا زایان نے پہلے تو اس پر غور نہ کیا مگر جب وہ بیڈروم میں آیا تو وہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھ رہی تھی
وہ ابھی کپڑے بیگ میں سیٹ ہی کررہی تھی کہ زایان نے اس کی کلائی پکڑی اور اس کا ارادہ بھانپتے ہوئے خونخار نظروں سے اسے دیکھنے لگا
یہ سب کیا ہے؟؟؟ وہ بظاہر تو اسے غصیلی نظروں سے دیکھ رہا تھا مگر اس نے اپنا لہجہ انتہائی نرم رکھا
ربانیہ نے اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی کھینچی
“میں آپ کو جواب دے نہیں ہوں”۔۔۔ وہ چہرے پر مصنوعی خفگی سجائے اسے نظرانداز کیے دوبارہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھنے لگی
زایان نے اس کا بازو پکڑی اور اس کا رخ اپنی جانب کیا
“میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے”۔۔۔۔ اب کی بار میں لہجے اور آنکھوں دونوں میں سختی تھی
“میں آپ کو رات ہی بتا چکی ہوں کہ میں نہیں رہنا چاہتی آپ کے ساتھ”۔۔۔۔
اس کے بات سن کر زایان نے اس کی بازو پر اپنی پکڑ سخت کردی
“میں بھی تمہیں رات کو بتا چکا ہوں جہاں جانا ہے شوق سے جائو مگر میرا بچہ مجھے دے کر جانا”
“میں نے بھی آپ سے کہا تھا کہ میں اپنا بچہ آپ کو ہرگز نہیں دونگی”۔۔۔۔
ربانیہ بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
” تمہارا بچہ کہا سے آگیا اپنی ماں کے گھر سے لائی تھی”
زایان نے سختی سے اس کے تھوڑی جکڑی
“بہت کرلی تم سے نرمی بہت اٹھا لیے تمہارے نخرے بس اب مجھ سے کوئی نرمی کی توقع مت رکھنا اور ہاں اگر گھر سے باہر ایک قدم بھی نکالا
تو تمہارا کیا تمہارے اس بھائی کو بھگتنا ہوگا
تم تو مجھے جانتی ہوں میں جو کہتا ہوں وہ ہر صورت کرتا ہوں” ۔۔۔
کہتے ہی اسے بیڈ پر اوندھے منہ گرایا اور ایک سرد نظر اس کے روتے وجود پر ڈالے واشروم میں چلا گیا
۔۔۔۔۔
وہ واشروم سے واپس آیا تو ربانیہ اپنا سارا سامان واپس رکھ چکی تھی اور ابھی ابھی ڈریسنگ روم سے باہر آئی تھی
“چلو تم سیدھی طرح سے مان گئی ورنہ میں تو آج حسان کو اٹھوانے والا تھا”۔۔۔۔
وہ اپنے گیلے بالوں میں ٹاول رگڑتا شیشے سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
“آپ کی تو عادت ہے کسی کو بھی بغیر وجہ سے سزا دینا عزیت دینا “۔۔۔
وہ اسے کہتی بیڈ سیٹ چینج کرنے لگی
یہ بات سن کر اس کے بالوں مین چلتے ہاتھ رکے اور وہ اس کی طرف بڑھا
اس کا ہاتھ پکڑ کر کمر کے پیچھے لے جاکر اسے مڑوڑا ربانیہ کی درد ناک چیخ فضا میں گونجی
“یہ سب میری نرمی کی ڈھیل تھی جو تم یو سر چڑھ کر بول رہی ہوں مگر اب تم مجھے ویسے ہی دیکھو گی جیسے پہلے دیکھتی تھی بہت اٹھوا لیے تم نے نخرے یہ مت سمجھنا بچے کی وجہ سے میں کمزور پڑ جائو گا اب اگر تم نے اپنی زبان کھولی تو یاد رکھنا میں سب بھول جائو گا کہ تمہاری کنڈیشن کیا ہے سمجھی”۔۔۔۔
بولو کرو گی بحث چلائو گی زبان میرے آگے
اس نے کا ہاتھ پر زور تیز کردیا
نی۔۔نہیں کروگی
وہ رونے کے درمیان بولی
اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
“ہممم یہی تمہارے لیے بہتر ہے:۔۔۔
مسکراتے ہوئے اس کا گال تھپتھپایا
“جائو اور جاکر بریک فاسٹ بنائو جان پریگننسی میں تم یہ مت سمجھنا کہ تم سارا دن آرام کروگی “۔۔۔۔
وہ اسے کہتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا
اس نے آنسوں صاف کیے اور نیچے چلی گئی
۔۔۔۔
“ربانیہ بی بی آپ یہاں کیا کررہی ہیں”۔۔۔۔
فریدہ ربانیہ کو کچن میں دیکھتی بولی
“آپ جائیں میں ناشتہ بنا لونگی آپ آرام کرے”۔۔۔۔
وہ فریج سے بریک فاسٹ کی چیزیں نکال رہی تھی فریدہ نے اس کے ہاتھ سے سارا سامان لیا
“نہیں میں بنا لونگی ٹھیک ہو میں بلکل”۔۔۔۔
اس نے دوبارہ فریدہ کے ہاتھ سے سامان لیا اور شیلف پر رکھنے لگی
مگر بیگم صاحبہ نے کہا تھا کہ آپ کو کسی کام کو ہاتھ بھی نہ لگانے دو” ۔۔۔
“میں ان سے خود بات کرونگی آپ پریشان مت ہو میری ہیلپ کردے”
“ٹھیک ہے بی بی آپ کی مرضی”
وہ دونوں پھر ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی
۔۔۔
حسان سب سے پہلے جاتا تھا اس لیے ربانیہ اسے ناشتہ کمرے میں ہی دے آتی
وہ اس کے کمرے میں ناشتہ لے آئی تو وہ سوکس پہن رہا تھا
“آجائو بریک فاسٹ کرلو”۔۔۔۔۔
ربانیہ نے ٹرے اس کے بیڈ پر رکھی
“آپی ہم کب جائے گے گھر”۔۔۔
وہ اس کے پاس آئے پوچھنے لگا
“مذاق کررہی تھی تم سے ہم کہیں نہیں جارہے تم بریک فاسٹ کرلو”۔۔۔
ربانیہ اسے سمجھانے ہوئے بولی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی
“سچی آپی مطلب اب میں مامو بنو گا نا”۔۔۔۔
وہ چہک اٹھا
ربانیہ اس کی ایکسائیٹمنٹ دیکھ کر مسکرانے لگی
“مجھے ایک بات بتائو تم اس بےبی کے ساتھ کیا کرو گے”۔۔۔
“میں اس کے ساتھ کھیلو گا اسے سکول بھی لے جائو گا اسے ہوم ورک بھی کروائو گا اور اسے اپنے ساتھ سلائو گا “۔۔۔۔
وہ خوش ہوکر ناشتہ کرتے ہوئے ربانیہ کو ایک ایک پلیننگ بتا رہا تھا
اور وہ اپنا ہاتھ گال پر رکھے مسکرا کر اس کی باتیں سن رہی تھی اسے تو یاد بھی نہیں تھا کہ وہ آخری بار کب مسکرائی تھی
“مگر وہ تو بہت چھوٹا ہوگا تم اسے سکول کیسے لے کر جائو گے” ۔۔۔۔۔
ربانیہ نے اس سے پوچھا
“ارے ہا یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں”۔۔ وہ بھی سوچ میں پڑ گیا
“میں پہلے ہر بات رایان بھیا سے پوچھ لیتا تھا مگر میری رات سے ان سے کٹی ہے”
وہ منہ بنائے اسے بتانے لگا
“کیو تم نے ان سے کٹی کیو کردی”۔۔۔
اتنے میں فریدہ ان کے پاس اور آئی
“حسان بابا آپ کی بس آگئی ہے”۔۔۔
“چلو جلدی جلدی کرو یہ پہنو”۔۔۔۔ ربانیہ نے اسے بیگ پہنایا اور وہ چلا گیا
۔۔۔۔
اس نے اور فریدہ نے سب کا ناشتہ بنایا اور ٹیبل پر لگانے لگی اتنے میں سلمی بیگم اور ایمن بھی آگئی
“کیسی طبیعت ہے ربانیہ تمہاری”۔۔۔ سلمی بیگم نے اس سے پوچھا
“جی اب بہتر ہے”
اس نے مختصر جواب دیا
انھوں نے اور ایمن نے اپنی کرسی سنبھالی
اتنے میں رایان بھی آگیا
“ربانیہ یہ تم نے ناشتہ کیو بنایا ہے میں نے فریدہ سے کہا تھا کہ وہ بنائے گی”۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے کہا
“نہیں پھپھو میں نے اکیلے نہیں بنایا فریدہ باجی نے بھی میری ہیلپ کی ہے اور اب میں ٹھیک ہو”۔۔۔
اس نے وضاحت دی
“اچھا چلو آئو ناشتہ کرو تم”۔۔۔۔ سلمی بیگم نے اسے بیٹھنے کا کہا تو وہ بیٹھ گئی
زایان بھی آگیا تو وہ بھی اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا
ناشتہ کے بعد زایان کھڑا ہوا “تم میڈیسنز کھا لینا میں نے ڈرور میں رکھ دی ہے”۔۔۔ اس نے ربانیہ سے کہا
جی۔۔۔۔۔ اس نے بس اتنا ہی کہا اور وہ چلا گیا
۔۔۔۔
آغوش کے ایگزامز ہوگئے تھے تو اس نے آج ربانیہ سے ملنے کا سوچا اور وہ اس کے گھر آئی
“ارے ایمن آپی آپ آگئی”۔۔۔۔
وہ حال میں آئی تو اسے ایمن ٹی وی دیکھتی ہوئی نظر آئی وہ اسے گلے ملی
“آغوش تم کب آئی”۔۔۔۔
وہ بھی اسے خوشی خوشی گلے ملی “ابھی ابھی آئی ہوں ایک وہ میری دوست ہے شادی ہوگئی تو نہ کال کرتی ہے نہ کوئی حال پوچھتی ہے بس یاد کرو تو میں کرو”۔۔۔۔۔۔
آغوش صوفے پر بیٹھتی ایمن سے شکوہ کرنے لگی
“مطلب تمہیں کچھ نہیں پتا”
کیا نہیں پتا۔۔۔۔۔ آغوش نا سمجھی میں بولی
ایک منٹ میں ربانیہ کو بلا لاتی ہو اسی سے پوچھنا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ کو بلانے چلی گئی
وہ اور ربانیہ نیچے آئی تو آغوش اسے ملی
“کیا ہوگیا ہے تمہیں ویسے تو تم تھی اتنی موٹی جو اب اتنا ویٹ لوز کیا ہے”۔۔۔۔
آغوش اسے دیکھتی بولی
“آغوش ربانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے”۔۔۔ ایمن نے اسے بتایا
“کیا ہوا تمہیں کتنا تمچریچر ہے ڈاکٹر کو دکھایا”۔۔۔۔۔
آغوش اس کے ماتھے کو چیک کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“ٹھیک ہو میں کچھ نہی ہوا”۔۔۔۔ ربانیہ نے اسے بولا
“آغوش ربانیہ کی وہ والی طبیعت خراب ہے”۔۔۔ ایمن نے اسے آنکھوں سے سمجھانا چاہا
“ہے ایمن آپی وہ والی طبیعت کیا ہوتی کہیں تمہیں ملیریا تو نہیں ہوگیا”۔۔۔۔
وہ ایک پریشان نظر ربانیہ کو دیکھتی ہوئی بولی
“افوووو پاگل تم خالہ بننے والی ہو”۔۔۔ ایمن نے اس کے سر پر ہلکی سی چپیت لگائی
“کیا خالہ ہے میں خالہ بننے والی ہو کیا یہ سچ ہے”
اس نے بے یقینی سے ربانیہ سے پوچھا
ربانیہ نے اسے گھورا
“یار بہت مبارک یو تمہیں” آغوش نے اسے پھر گلے لگایا
“اچھا اب بیٹھو گی یا یہی کھڑی رہو گی”۔۔۔ ربانیہ نے بیزار ہو کر بولا
“ارے آج تو میں ڈنر بھی کرکے جائو گی آخر میں خالہ بننے والی ہو”۔۔۔۔
آغوش نے شوخیہ کہا
اس کی بات سن وہ دونوں مسکرانے لگی
اتنے میں حسان سکول سے آگیا
“آغوش آپی آپ نے یہاں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا”
آغوش کو دیکھتے ہی وہ بولا اس کی آغوش کی کبھی نہیں بنی وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے
حسان کی بات سن جہاں ایمن نے قہقہ لگایا وہی آغوش نے اسے گھورا
“ابے تیرا گھر ہے جو میں تیری مرضی سے آئو”۔۔۔۔
آغوش اسے خونخار نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی
“اور نہیں تو یہ میری آپی اور آنی کا گھر ہے”۔۔۔
حسان بھی بیگ صوفے پر رکھے میدان میں آیا
“ربانیہ اپنے اس چھوٹے مچھر کو سمجھا لو یہ نہ ہو کہ میں اسے سیدھا کردو”۔۔۔
وہ ربانیہ سے بولی جو ان دونوں کی تو تو میں میں ان کر ہنس رہی تھی
“حسان جائو فریش ہوجائو اس کا تمہیں پتا ہے ہم جنت میں بھی چلے جائیں تو یہ جہنم سے نکل کر ہمارے پاس آجائے گی” ۔۔۔۔۔
ربانیہ بھی حسان کا ساتھ دینے لگی اور حسان اور ایمن نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی ماری
“میں اب اس گھر میں آئو گی ہی نہیں آج کے بعد”۔۔۔۔ وہ اب خفا ہوگئی
“تو آج کے بعد کیو ابھی چلی جائو”۔۔۔۔ رایان ابھی یونی سے آیا تھا اور ان کو ہنستا دیکھ وہ وہی ٹھہر گیا وہ آغوش کو تو ویسے بھی نہیں بخشتا تھا اسی لیے اب وہ بھی اس سے لڑنے آگیا
“تم سے کسی نے مشورہ مانگا”۔۔۔ وہ اسے آنکھیں نکالے گھورنے لگی
سچ کڑوہ ہوتا ہے کیو چیمپ۔۔۔۔۔ وہ آغوش کو بولتا ہوا حسان کے پاس آکر اس کے بال بگاڑنے لگا
“آپ مجھ سے بات نہیں کرے میری کٹی ہے آپ سے”۔۔۔۔
وہ اس سے خفا ہوا اور منہ دوسری سائڈ پر کرلیا
“کیو چھوٹے مچھر اس نے تمہارے ساتھ کیا کردیا”۔۔۔
آغوش ہو اور رایان کی کوئی بات چھوڑے
“جانی تم تو میرے دوست ہو نہ لڑکوں کی پرسنل باتیں لڑکیوں کو نہیں بتاتے” ۔ ۔
وہ حسان کو منانے لگا کہ کہیں وہ سب کچھ اگل نہ دے
“نہیں میں بتائو گا” اور وہ آٹھ کر ربانیہ کے پاس چلا گیا
آپی رات میں سو رہا تھا یہ میرے کمرے میں آئے اور مجھے جگایا اور بولا چلو آئسکریم کھانے چلتے ہیں میں نے ان کو منا بھی کیا مگر انھوں نے مجھے کہا کہ ان کے اور بھی دوست ہو گے وہاں مزہ آئے گا مجھے باہر لے آئے اور ہم چوری چوری باہر نکلنے لگے
تبھی حال میں پھپھو پانی کا جگ لیے آئی اور ہمیں پکڑ لیا
رایان بھیا نے کہا کہ حسان میرے کمرے میں آیا تھا اور مجھ سے کہا کہ مجھے آئسکریم کھلائو تو پھپھو نے مجھے بہت ڈانٹا وہ باقائدہ ساری تفصیل دینے کے بعد رونے لگا
ربانیہ نے اسے گلے لگایا
“رایان تمہیں شرم نہیں آتی کب تمہاری یہ آوارہ گردیاں ختم ہوگی”۔۔۔۔ ایمن اس ہر ڈپٹی
“بہنا کتنا معصوم بن رہا ہے اس سے پوچھو ماما نے مجھے کتنا ڈانٹا تھا اسے تو پھر بھی کمرے میں سونے دیا میں تو ساری رات حال میں سویا ہو”
ہوا کچھ یو تھا کہ رایان کے فرینڈ نے اسے کلب بلایا تھا رات کے ایک بجے اگر وہ اکیلے پکڑا جاتا تو اسکی خیر نہ ہوتی اس لیے اس نے حسان کو ساتھ لیا
مگر بدقسمتی سلمی بیگم اس وقت کچن میں پانی لینے آئی پھر تو انہوں نے ان دونوں کو ڈانٹا اور رایان کا روم لاک کرادیا پھر ساری رات بیچارہ حال میں صوفے پر پڑا رہا
وہ حسان کو خونخار نظروں سے دیکھنے لگا جو ربانیہ کے گلے لگے رورہا تھا
“ایسے بیروزگاروں کا ایسا ہی حشر ہوتا ہے”۔۔۔۔ اب آغوش کہا پیچھے رہنے والی تھی
او ہلو تم نہیں پھیلو زیادہ۔۔۔۔۔ رایان اور اس کی جنگ شروع ہوگئی تھی
میں تمہیں؟؟ ابھی آغوش بولنے ہی والی تھی کہ ربانیہ نے روکا
“آغوش بس کرو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے”۔۔۔۔
ربانیہ کے اچانک سر میں درد شروع ہوگیا
“کیا ہوا ہے ربانیہ تمہیں ایمن اس کی طرف آئی اور اسے دیکھنے لگی پتا نہیں میرے سر میں درد ہورہا ہے “۔۔۔۔
“ایک منٹ تم نے میڈیسنز لی تھی صبح”۔۔۔
ایمن نے یاد آنے پر پوچھا
“نہیں بھول گئی تھی میں”
“کمال کرتی ہو تم بھی رایان اس کے کمرے میں سے میڈیسنز کے آئو ڈرور میں رکھی ہیں”۔۔۔۔۔
ایمن نے رایان سے کہا تو وہ بھاگ کر میڈیسنز لے آیا ایمن نے اسے کھلائی
“اب جائو ریسٹ کرو” آغوش نے اسے کہا
نہیں میں ٹھیک ہو اب۔۔۔۔۔ ربانیہ نے نارمل شو کیا
نہیں ہو تم ٹھیک میں ابھی ایمن آپی کے ساتھ بیٹھی ہو تم ریسٹ کرو جائو۔۔۔۔۔۔
اب آغوش نے بھی اسے ڈانٹا وہ اثبات میں سر ہلاتی اوپر چلی گئی ایمن بھی اس کے ساتھ اسے چھوڑنے گئی اور حسان بھی اپنا بیگ اٹھائے اندر چلا گیا
۔۔۔۔
“ویسے تمہیں نہیں لگتا کہ خالہ بننے سے زیادہ بہتر آپشن بھی ہے تمہارے پاس” جب سب چلے گئے تو رایان نے آغوش کو گھورتے ہوئے کہا
“اچھا اور وہ کون سا آپشن ہے ذرا ہمیں بھی بتانے کا کرم کرے گے”۔۔۔۔
آغوش طنزیہ بولی
“مطلب اگر تم چاہو تو چچی بھی بن سکتی ہو اگر تم چاہو تو”۔۔۔۔۔
آغوش اس کی بات سن اسے گھور کر دیکھنے لگی
“کیو تمہارا کوئی اور بھائی ہے کیا”۔۔۔
آغوش سمجھ تو گئی تھی وہ کیا کہ رہا ہے مگر وہ ابھی اس کے سامنے اپنی فیلنگز شو نہی کرنا چاہتی تھی
“ارے میں ہو نہ تمہیں کسی اور کی کیا ضرورت”۔۔۔ رایان بھی اس کا ارادہ بھانپ گیا تھا اسی لیے بولا
اس کی بات سن کر آغوش بلش کرنے لگی
اس کو ہنستا دیکھ رایان نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی
“اچھا زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے”۔۔۔
آغوش اب نارمل موڈ میں آئی
اچھا مطلب اب مجھے نیلم کو ہاں کردینی چاہیے
وہ بیچارگی سے بولا
آغوش کا تو سانس ہی رک گیا
کون نیلم وہ پوری آنکھیں نکالے رایان سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
ہے ایک مرتی ہے مجھ پر کل ہی پرپوز کیا ہے اس نے مجھے۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے پھر میں بھی منیر کو ہاں کردیتی ہوں”۔۔۔۔ آغوش اس کا چالاکی سمجھ گئی اسی لیے بولی
“کون منیر”۔۔۔۔ اب وہ بھی پوری آنکھیں نکالے پوچھنے لگا
ہے ایک مرتا ہے مجھ پر کل ہی پرپوز کیا ہے۔۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر آغوش نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی
اگر تم نے میرے علاوہ کسی کا سوچا بھی نہ تو اس کی منیر کا قتل کروا دونگا ۔۔۔۔۔۔۔
رایان غصے سے اسے وارن کرنے لگا
اس کی بات سن کر آغوش پھر سے بلش کرنے لگی
اتنے میں ایمن آئی اور وہ دونوں اس کے روم میں چلی گئی
۔ ۔۔
وہ آفس میں بیٹھا ایک فائل میں سر دیے بیٹھا تھا جب فرحین اس کے کیبن میں آئی وہ جانتا تھا کہ بغیر نوک کیے صرف وہی آسکتی ہے اسی لیے اس نے اسے دیکھا تک نہیں
“زایان کل تم آفس کیو نہیں آئے تھے”۔۔۔
وی آتے ہی اس پر برسی
فرحین میں ابھی بزی ہوں تمہارے ان فضول سوالوں کا جواب نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔۔۔
وہ اسے مکمل نظرانداز کیے اب اپنا لیپ ٹاپ آن کرچکا تھا
کیا مطلب ہے تمہارا تم بزی ہو میری کوئی ویلیو ہے کیا نہیں۔۔۔۔۔
گیٹ لوسٹ۔۔۔۔۔۔ اس کے چیخنے سے زایان کو غصہ آیا اس نے سر اٹھایا اور باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے کہا
وٹ آر یو۔۔۔
اس کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے
“آئی سیڈ گیٹ لوسٹ فرام ہیئر”۔۔۔۔
وہ پہر پختی وہاں سے چلی گئی
۔۔
