No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
زایان ربانیہ کو گھر لے آیا وہ وہی بےحوش پوگئی تھی ڈاکٹر نے زایان کو سختی سے کہا تھا کہ اب اس کا بہت خیال رکھنا ہے وہ اور اس کا بے بی دونوں ویک ہے وہ کوئی بھی سٹریس برداشت نہیں کرسکتی اور بار بار بےحوش ہوجاتی ہے تیمور ربانیہ کی حالت نہ دیکھ سکا جب زایان اسے گھر لے گیا تو وہ بھی وہاں سے چلا گیا تھا وہ ابھی بھی بےحوش تھی اور دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی اور اسے ڈاکٹر نے گلوکوز کی ڈریپ بھی لگا دی تھی
ایمن کی فرینڈس کے ساتھ گیٹ ٹو گیدر تھی اسی لیے وہ صبح ہی چلی گئی تھی اور رایان تو ویسے ہی گھر نہیں ٹکتا تھا
حسان سکول سے آیا تو اس نے سلمی بیگم سے ربانیہ کا پوچھا تو انھوں نے یہ کہا کہ وہ سو رہی ہے آٹھ جائے تو مل لے
۔۔۔۔
وہ آج ٹوٹ گیا تھا اسے بار بار ربانیہ کا وہ جملہ یاد آرہا تھا
“مجھے سچ سامنے آنے کا نہیں بلکہ آپ کے ٹوٹنے کا ڈر ہے”۔۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ اور ماما کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد گھر سے نکلا تھا اور تب سے ڈرائیو کررہا تھا
ایک سنسان سڑک پر اس نے گاڑی روکی اور سٹرینگ پر زور سے ہاتھ مارا کہ ہاتھ سے خون رسنے لگا
اس نے سر سیٹ سے ٹیک لگایا اور آنکھیں بند کرلی جب اس کے آگے وہ چہرہ آیا جسے وہ سالوں سے بھلانے کی کوشش کررہا تھا مگر جب بھی وہ ربانیہ کو دیکھتا اسے وہ چہرہ یاد آجاتا اس کا آگ میں کھولتا وجود یاد آجاتا
آج وہ رورہا تھا اس کے بند آنکھیں بھی اس کے آنسوں نہ روک سکیں
میں تمہیں چاہ کر بھی معاف نہیں کرسکتا ربانیہ چاہ کر بھی تم سے محبت نہیں کرسکتا جب جب تمہیں اذیت دیتا تھا خود بے بس ہوجاتا تھا ایسے میں مجھے ایک نامحرم وجود کا سہارا لینا پڑتا ہے میں گناہ گار ہو تمہارے قابل نہیں تھا میں مگر میں چاہ کر بھی تمہیں تیمور کے ساتھ نہ دیکھ پایا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں صاف کیے اور کار سٹارٹ کیے چلا گیا
۔۔۔۔۔
شام کے چھ بجے اس کی آنکھوں میں جنبش ہوئی اس نے اپنی آنکھیں کھولی حالانکہ اس کی آنکھوں میں ایک بوجھ تھا وہ کھل نہیں پارہی تھیں اسے اپنا وجود اٹھایا نہیں جارہا تھا شاید سے بھوک کی وجہ سے تھا
بہت مشکل سے وہ اٹھی اور بیڈ کرائون سے ٹیک لگایا
“میں یہاں کب آئی”۔۔۔۔۔ اس نے کمرے کے چاروں اطراف نظر گھمائی
اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور زایان اندر آیا
اسے جب کسی کے آنے کا احساس ہوا تو
ربانیہ نے وہی بیٹھے ہی آنکھیں بند کرلی
کچھ دیر بعد اسے اپنے پیروں پر ایک انجام لمس محسوس ہوا اس نے آنکھیں کھولی تو زایان اسے کے پیروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس کے پیروں پر اپنے ہاتھ پھیر رہا تھا اس نے اپنے پیر جلدی سے اپنی طرف کھینچتے اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی جو اسی کو نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا
آج اس نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی
اس نے اپنے پیر بستر سے نیچے کیے اور اٹھنے لگی مگر کمزوری کے باعث اسے چکر آگئے اور وہ دوبارہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی
زایان بیڈ سے اٹھا اور اس کی جانب گیا اس کے سامنے آئے پوچھنے لگا
تم ٹھیک ہو ؟؟؟؟
آواز میں پریشانی اور آنکھوں میں شرمندگی واضح تھی
مگر ربانیہ نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور اپنا سر پکڑنے بیٹھی رہی
وہ کمرے سے چلا گیا وہ کچھ دیر دروازے کو تکتی رہی پھر آٹھ کھڑی ہوئی اور آہستہ قدموں کے ساتھ واشروم میں چلی گئی
جب وہ واشروم سے آئی تو حسان بیڈ پر بیٹھا اسی کا انتظار کررہا تھا
“آپی میں کب سے آپ کا انتظار کررہا تھا”۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ربانیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی
وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی
“حسان اگر ہم پھپھو کے گھر سے کہیں دور چلے جائیں تو تم چلو گے میرے ساتھ “
۔۔۔
وہ آس بھری نظروں سے حسان کی جانب دیکھ رہی تھی
“ہاں آپی آپ جہاں کہے گی ہم وہی چلے گے”
اس نے ربانیہ کو گلے لگایا
ربانیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے
حسان کو جب اپنے کندھے پر نمی محسوس ہوئی تو وہ ربانیہ سے الگ ہوا
“آپی آپ رو رہی ہیں”۔۔۔
اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی
” نہیں میری جان آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا”
آپی ہم کہیں جارہے ہیں کیا؟؟؟
“ہاں ہم اپنے گھر واپس جارہے ہیں”۔۔۔
“مگر کیو پھر میں مامو کیسے بنو گا”
وہ معصومیت سے بولا
مامو؟؟ ربانیہ نا سمجھی میں بولی
ہاں آپی رایان بھیا کہ رہے تھے کہ تم مامو بننے والے ہوں اس گھر میں ایک چھوٹا سا بے بی آنے والا ہے اگر ہم واپس چلے گئے تو وہ وہاں تو نہیں آئے گا وہ تو اس گھر میں آنے والا ہے ۔۔۔۔۔
وہ دلچسپی سے ربانیہ کو ایک ایک بات بتا رہا تھا
“بدمعاش” ربانیہ نے اس کی ناک کھینچی جس دے حسان قہقہ لگائے ہسنے لگا
وہ ربانیہ کیلئے کھانا لینے گیا تھا اس نے فریدہ کے سر پر ٹھہر کر اس کیلئے سوپ بنوایا تھا وہ ٹرے لیے اوپر آیا تو ڈور کھلا تھا اس نے ربانیہ اور حسان کی ساری باتیں سن لی
وہ ٹرے لیے اندر آیا تو ربانیہ اس کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر ڈر گئی اور بمشکل ہی تھوک نکلا
“حسان تم اب اپنے کمرے میں ربانیہ کو آرام کرنے دو” اس نے نرمی سے حسان کو تاکید کی اور ٹرے لیے بیڈ پر بیٹھا
“ٹھیک ہے بھیا آپی میں جارہا ہوں”۔۔۔۔ وہ کمرے سے چلا گیا
“یہ کیا کہ رہی تھی تم اس سے”
اس کی گرجدار آواز ربانیہ کے کانوں میں گونجی
“وہی جو آپ نے سنا”
وہ اسے نظر انداز کیے بولی
“تمہیں جہاں جانا ہے شوق سے جائو مگر میرا بچہ مجھے دے کر جانا”۔۔۔۔
“میں آپ کو اپنا بچہ ہرگز نہیں دونگی اور آپ ہوتے کون ہے یہ کہنے والے “۔۔۔۔
وہ چلائی
“بس کرو اور سوپ پی لو”۔۔
ربانیہ کا چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے اور ڈاکٹر نے زایان نے صاف صاف کہا تھا کہ اب اگر اسنے سٹریس لیا تو اس کیلئے اور بےبی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا اسی لیئے وہ ٹھنڈا پڑ گیا
“نہیں چاہئے آپ کی مہربانی”
“اچھا سوپ نہیں پینا تو کھانا کھا لو”۔۔۔ وہ اس کے آگے کھانے کے لوازمات رکھنے لگا
نہیں کھانا مجھے کچھ
اس نے منہ پھیر لیا
“لگتا ہے بےبی تمہاری مما چاہتی ہے تمہارے ڈیڈ انہیں اپنے ہاتھوں سے کھلائے کوئی نہیں تمہارے لیے یہ بھی کردیتے ہیں”۔۔۔
زایان نے اس کے پیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دلیہ کا چمچ اس کے آگے کیا
مگر ربانیہ ٹس سے مس نہ ہوئی
“کھانا کھا لو”
وہ اس کے آگے کھانا سجانے کے بعد چمچ آگے کیے اسے کھلانے کی کوشش کرہا تھا
“مجھ جیسی عورتیں اس عزت کے قابل نہیں ہوتی”
وہ اتنا کہتی بیڈ سے اٹھی اور جانے لگی
تب اس کے نے اس کاہاتھ پکڑ کر زور سے اسے بیڈ پر دھکیلا
“مجھے سختی کرنے پر مجبور نہ کرو”
شہادت کی انگلی اس کی طرف کیے وہ دھاڑا
“مجھے اب آپ کی ان باتوں کی کوئی پرواہ نہی”
اس نے اپنی آنکھیں صاف کی اور بیڈ پر سے پھر اٹھی
زایان نے پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچا وہ توازن برکرار نہ رکھ سکی اور اس کی گود میں گری
اس نے اس کی کمر کو اپنی بازوں می دبوچ لیا
“مجھے تمہاری بھی کوئی پرواہ نہیں مجھے پرواہ ہے تو صرف اپنے بچے کی”
اس کے چہرے کو چھوتی آوارہ لٹیں اس کے کان کے پیچھے کرنے کے بعد اس کے کان میں سرگوشی کی اور اس کی آنکھوں سے اس کے چہرے پہ آئیں آنسوئوں کو صاف کیا
وہ اس کی پکڑ میں پھڑپھڑانے لگی مگر گرفت سخت تھی
وہ بچہ جس کا آپ کو یقین نہیں تھا کہ یہ آپ کا ہے اور جب ٹیسٹ سے یہ بات کلیئر ہوگئ تو بچہ آپ کا ہے
جب اسکے حسار سے نکلنے کی تمام کوششیں بےکار ہوگئی تو وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
اسکو غصہ تو بہت آیا مگر اس کی حالت کے مدنظر اسے کچھ نہیں کہا کھانا اٹھا کر سائڈ ٹیبل پر رکھا اور اسے آرام سے بیڈ پر لٹایا ربانیہ نے اٹھنے کی بہت کوشش کی مگر زایان نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے بیڈ پر لٹایا اور اسے بلینکٹ اوڑھایا اس کے ماتھے پر اپنا پیار بھرا لمس چھوڑے وہ بیڈ کی دوسری سائڈ پر سو گیا
۔۔۔۔
اب ربانیہ کو نیند کہاں آنی تھی ایک تو وہ سو سو کر تھک چکی تھی اور اوپر سے بھوکی
مسلسل کروٹیں بدلتی وہ تھک چکی تھی ایک نظر سوتے زایان پر ڈالے جس کی پشت اس کی طرف تھی وہ اٹھی اور ٹیک لگائی بیٹھی
کمرے میں صرف ربانیہ کی سائڈ والا لیمپ جلتا تھا کیونکہ اندھیرے سے جو ڈرتی تھی
زایان کی سائڈ والا آف تھا
وہ اٹھی تو زایان بھی اس کی آہٹ سنے آنکھیں ملتا اٹھا
کیا ہوا تم جاگ کیو گئی ؟؟؟
وہ اسے نظر انداز کیے بالکونی میں چلی گئی تو وہ بھی وہی چلا آیا اور اسے کے ساتھ ٹھہر گیا
گھبراہٹ ہورہی ہے؟؟
اس نے ایک بار پھر پوچھا مگر ربانیہ نے کوئی جواب نہ دیا
وہ اس کی پشت کی جانب آیا اور اسے شانوں سے تھامے اپنے حصار میں قید کیا اپنے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھے
“کیا کررہے ہیں آپ “
ربانیہ کو لگا کہ وہ جارہا ہے مگر اس کے یوں کرنے سے وہ ڈر گئی
اس کی گردن ہر کھلے بالوں کو ہاتھ سے آگے کیا اور اس جلے ہوئے نشان ہر اپنے ہونٹ رکھ دیے
ربانیہ نے اس کے ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹائے
اور اسے خود سے دور کیا
“مجھے نفرت ہے آپ سے اور آپ کے چھوڑے میرے وجود پر ہر نشان سے اور یہ جو گناہ پل رہا ہے نہ اس مجھے سب سے زیادہ نفرت ہے اللہ کرے یہ یہی مر جائے اور مجھے اس گندے خون سے آزاد کردے”۔۔
وہ آنکھوں میں درد لیے ایک ایک لفظ پر زور دیے بولی
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا کیا بولے جارہے ہو یہ اپنی ہی اولاد کے بارے میں “۔۔۔
اس کی بازو کو اپنے ہاتھوں میں لیے وہ بولا
آپ کو شرم نہ آئی اپنی اولاد کو ایسے القابات دیتے ہوئے اسے کسی اور کا گناہ کہتے ہوئے تیمور کے آگے مجھے بدکردار کہتے ہوئے مجھے بے لباس کرتے ہوئے میری روح کو میرے جسم کا مذاق بناتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔
میں صبح ہی یہاں سے چلی جائوں گی اور کبھی آپ کے سامنے نہیں آئو گی
وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کمرے میں چلی گئی اور اسے بہت کچھ باور کرا گئی
۔۔۔۔۔۔
ذرا ٹھہر ۔۔۔۔۔۔ذرا ٹھہر
تجھے سمجھاوں زندگی کیا ہے
جو اب تک نہ ملی تجھ کو خوشی کیا ہے
دل توڑنا کسی کا ‘ یہ زندگی نہیں ہے
غم دوسرے کا لے لے ‘ کیا یہ خوشی نہیں ہے
چل اس طرح کے جیسے ‘ چلتی ہیں یہ ہوائیں
پھولوں کو یہ کھلائیں ‘ باغوں کو یہ ہنسائیں
اپنے لیے جییں جو وہ آدمی نہیں ہے
دل توڑنا کسی کا یہ زندگی نہیں ہے
جس پر اداسیاں ہوں ‘ اس ہونٹ کو ہنسی دے
دے کر قرار اپنا ‘ بدلے میں بے کلی لے
تیرا دل ہے اک خزانہ ‘ تجھے کچھ کمی نہیں ہے
دل توڑنا کسی کا یہ زندگی نہیں ہے
وہ چاند ہو یا شعلہ ‘ دونوں میں نور دیکھا
لیکن جسے بھی دیکھا ‘ شعلہ سے دور دیکھا
جو پھونک دے کسی پہ’ وہ روشنی نہیں ہے
دل توڑنا کسی کا ‘ یہ زندگی نہیں ہے
غم دوسرے کا لے لے’ کیا یہ خوشی نہیں ہے
