Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Episode 19 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 Part 1
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو بیڈ پر پایا اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا زایان کی لگائی تہمت نے اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا وہ اٹھی اور کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی سر درد کی وجہ سے اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑ لیا
۔۔
اس نے جب نظر سامنے کی تو وہ صوفے پر بیٹھا نظریں اسی کی طرف مرکوز کیے دیکھ رہا تھا جس زایان کو اس نے آج تک سگریٹ پیتے نہ دیکھا سامنے وہ سگریٹ سلگائے جارہا تھا
ایک شکوہ بھری نظر اس پر ڈالے وہ بستر سے اٹھی اور اپنے دوپٹہ پہنے واشروم میں چلی گئی
واشروم کا دروازہ بند کیے وہ کتنی ہی دیر اپنے منہ پر ہاتھ رکھے روتی رہی اسے زایان کی بے اعتباری نے توڑ دیا۔۔۔۔۔۔
اس نے واش بیسن پر اپنا منہ دھویا اور باہر آئی تو وہ ابھی بھی ویسے کا ویسا بیٹھا تھا
وہ اس کے سامنے آئی
“میں تیار ہوں” اب وہ سنگدل ہو چکی تھی اس کی آنکھوں میں آنکھے ڈالے وہ بولی
زایان نے اس کی بات سن کر بھنویں اچکائے اسے دیکھا جیسے وہ پوچھ رہا ہو کر لیے
“میں کل آپ کے ساتھ چلو گی اور اس گناہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کردونگی”۔۔۔۔۔
یہ باتیں کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ایک آنسوں بھی نہ نکلا
اس کے بات کرنے کے انداز سے زایان سگریٹ ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہوا اور آنکھوں میں کئی سوال لیے اس کی طرف بڑھا
اس کی کمر کی طرف بڑھا کر اسے کھینچا وہ یکدم یہ سب ہونے سے گھبرا گئی اور اس کے سینے سے جا ٹکرائی
“جانتی ہو جب تم نے مجھ سے کہا کہ یہ ہماری اولاد ہے یہاں ایک دم کچھ ہوا ایک درد اٹھا اس نے وہ سگریٹ اپنے دل پر لگائی”۔۔۔۔
“مت کرے یہ سب”۔۔۔۔ ربانیہ نے وہ سگریٹ اس کے دل سے ہٹائی
“مجھے لگا کہ شاید تم سچ کہ رہی تھی میں تمہارے ساتھ زیادتی کرگیا کب سے انتظار کررہا تھا کہ کب تم اٹھو اور تم سے پوچھو کہ کیا میں غلطی پر تھا مگر تم نے تو اپنا جرم خود ہی قبول کرلیا “۔۔۔۔۔
کہتے ہی سلگتی ہوئی سگریٹ اس کی گردن پر لگا دی جس سے اس کی ایک درد ناک چیخ نکلی وہ زایان کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دور دھکیل رہی تھی مگر اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا
جب سگریٹ بری طرح اس کی گردن پر نشان چھوڑ گئی اس کی آنکھیں پوری لال ہوگئی تب زایان نے وہ سگریٹ دور پھینکی
:جانتی ہو تمہارے باپ نے بھی تمہیں اپنی اولاد کہنے سے انکار کردیا تھا تمہیں اسداللہ کا گندا خون کہا تھا”۔۔۔۔ ربانیہ اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگی
“اور جانتی ہو اسداللہ کون ہے تمہاری ماں کا عاشق تمہاری ماں اس کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی مگر پتا نہیں تمہاری ماں نے ایسا کیا کیا کہ تمہارے باپ نے تمہیں اپنی جائز اولاد کہا ان سب کے سامنے جنہوں نے تمہاری ماں کو اسداللہ کے ساتھ دیکھا تھا “
اس کا اڑتی لٹوں کو اس کے کان کے پیچھے کرتے کرتے وہ اس سگریٹ کے نشان تک پہنچا اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگا ربانیہ نے کرب سے اپنی آنکھیں میچ لی
ایک دم زایان نے اسے اپنی پکڑ سے آزاد کیا اور اپنا ٹیبل سے اپنا فون اٹھایا
“ہلو مس آئلہ کیسی ہے آپ”۔۔۔۔
زایان نے اپنے دوست کی بیوی جو کہ ایک گائنک تھی اسے کال کی
“جی میں صبح اپنی مسز کے ساتھ آتا ہو آپ کے پاس آپ تیار رہیے گا اوکے”۔۔۔۔
اور زایان نے کال ڈسکنکٹ کردی
“صبح تیار رہنا اس گناہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہے “۔۔۔۔۔۔
وہ اسے کہتا روم سے باہر چلا گیا اور ربانیہ وہی زمین پر بیٹھ کر روتی
۔۔۔۔
جب زایان نیچے آیا تو گھر کے تمام افراد ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے انہیں کا انتظار کررہے تھے
“بھیا آپی کہا ہے جب وہ کرسی پر بیٹھا تو حسان”۔۔۔۔ اس سے بولا
“اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ آرام کررہی ہے “۔۔۔
“کیا ہوا اسے زایان”۔۔۔۔ سلمی بیگم اب پریشانی سے بولی
“کچھ نہیں بس چکر آرہے تھے اسی لیے وہ آرام کررہی ہے”۔۔۔۔۔۔
ماما میں اسے ایک بار چیک کرلو۔۔۔۔ ایمن نے سلمی بیگم سے کہا
“نہیں وہ آرام کررہی ہے اور صبح میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جائو گا تم پریشان مت ہو”۔۔۔۔۔۔
اس کا پرسکون جواب سن کر ان سب نے کھانا شروع کیا
۔۔۔۔۔
جب وہ روم میں آیا تو ربانیہ وہاں نہیں تھی اسے واشروم سے پانی کی آوازیں آئی
جب وہ روم سے باہر گیا تھا تو ربانیہ کو پھر سے متلی شروع ہوگئی اور وہ کب سے واشروم میں تھی
وہ باہر آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا اسی کا انتظار کررہا تھا
وہ اسے نظر انداز کیے روم سے باہر جانے لگی
“رکو” اس کی آواز نے اس کے چلتے قدم روکے
وہ اٹھا اور اس کہ طرف آیا
“جانے کیو میرے دل میں خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ تم سچ کہ رہی ہو یہ بچہ واقعی میرا ہو مگر تم بھی تو سمیرا کی اولاد ہو نہ تم پر مجھے رتی برابر یقین نہیں ہے اسی کیے صبح ڈی این اے ٹیسٹ ہوگا اور سب پتا چل جائے گا “۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں حیرت لیے اس کو دیکھ رہی تھی کیا اب اس کی کمی تھی کیا وہ اتنا گر گیا تھا کہ ڈی این اے کروائے گا اپنے ہی بچے کی تصدیق کروائے گا
“مجھے کوئی ٹیسٹ نہیں کروانا میں اس بچے کو اس دنیا میں لانا ہی نہیں چاہتی جب اس کا اپنا باپ اسے گناہ کہ رہا ہے تو وہ اس دنیا میں آکر کیا کرے گا”۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کرب سے بولی
زایان نے اس بالوں کو اپنی ہاتھوں میں جکڑا “کیسے نہیں کروائوں گی ٹیسٹ تو کل ہوگا اور تمہارا وہ عاشق بھی اپنا سیمپل دے گا”۔۔۔۔۔
“آپ ہماری زندگی کو دوسروں کو سامنے تماشہ بنانے پر کیو تلے ہیں تیمور اس سب کے بارے میں نہیں جانتے آپ انہیں کچھ مت کہے”۔۔۔۔
“تم کیو پریشان ہورہی ہو اگر یہ بچہ اس کا ہوا بھی تو میں تمہیں ہرگز طلاق نہیں دونگا بلکہ مجھ سے بےوفائی کی دوہری سزا ملے گی تمہیں “۔۔۔۔۔
اس لے بال چھوڑ کر زایان نے اس کی گردن کو اپنی پکڑ لیا
زایان کمرے میں آتے وقت ڈور لاک کرنا بھول گیا تھا سلمی بیگم ربانیہ کیلئے کھانا کمرے میں لے آرہی تھی جب انھوں نے آوازیں سنی اور وہ سب سن لیا جو زایان نے ربانیہ سے کہا۔۔۔۔۔۔
وہ دروازے کھولے اندر آئیں تو زایان نے ربانیہ کے گلے سے اپنا ہاتھ ہٹایا
“ماما آپ”۔۔۔۔ ابھی وہ کہ رہا تھا کہ
چٹاخ
سلمی بیگم نے اسے ایک تھپڑ مارا
“شرم نہیں آئی تمہیں اپنی اولاد کو گناہ کہتے ہوئے”۔۔۔
آج مجھے پتا چل گیا کہ مکافات عمل بھی ہوتے ہیں اس بد بخت کے باپ نے جو تہمت اس کی ماں پر لگائی آج اس کا کیا اس بیٹی پر آیا ۔۔۔۔۔۔
انھوں نے ربانیہ کو گلے لگایا جو ابھی بھی آنسوں بہا رہی تھی
وہ اسے لیے کمرے سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔
گھر کے تمام افراد اپنے کمروں میں جا چکے تھے سلمی بیگم ربانیہ کو اپنے کمرے میں لے آئی اور اسے بیڈ پر بٹھایا انھوں نے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور ربانیہ کو دیا
پانی پینے کے بعد انھوں نے وہ گلاس ربانیہ سے لیا اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گئی
“مجھے معاف کردو ربانیہ یہ سب میری وجہ سے ہورہا ہے”۔۔۔۔۔
انھوں شرمندگی سے اس کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑے اس نے ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور شکوہ کن نظروں سے دیکھا
“میں سب جانتی تھی کہ اس کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے مگر چپ رہی کہ جب اولاد ہو جائے گی تو وہ خود ہی ٹھیک ہوجائے گا مگر میں غلط تھی وہ عبدالمالک کا خون ہے جب اس نے ساری زندگی اپنے مفاد کے بارے میں سوچا تو وہ بھی اسی کا خون ہے اور شاید اسی کو مقافات عمل کہتے ہیں جو احمد نے کیا تھا آج وہ تمہارے ساتھ ہورہا ہے”۔۔۔
“پھپھو مجھے بتائے کہ آخر میرا قصور کیا ہے مجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے “
وہ ایک ایسی بات پوچھ بیٹھی تھی جس سے ماضی کی ساری کڑیاں جڑی تھی
“ربانیہ میں ابھی تمہیں کچھ نہیں بتا سکتی کیونکہ میں سمیرا کی قسم سے بندھی ہو مگر وہ بےقصور تھی پاکدامن تھی اس کا اس سب میں کوئی قصور نہیں تھا “۔۔۔۔۔۔
یعنی ابھی بھی مجھے وہ بے نام سزا کاٹنی ہوگی
سلمی بیگم نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا
ٹھیک ہے پھپھو جب آپ مجھے صرف ترسلیاں دینے کیلئے آئی ہیں تو آپ کی اس اعلی ظرفی کا بہت شکریہ مگر جب میں آپ کے گھر آئی تھی تو آپ ہی نے کہا تھا کہ بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں اچھی لگتی ہیں تو میں اپنے شوہر کے کمرے میں جارہی ہو “۔۔۔۔
آج زایان کے بےاعتباری اور سلمی بیگم کے بےاعتنائی اسے توڑ دیا
وہ اپنی آنکھوں میں درد لیے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
