No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
صبح جب زایان کی آنکھ کھلی تو وہ اٹھا سامنے لگی گھڑی پر آدھی کھلی آنکھوں سے وقت دیکھا
تو وہ صبح کے آٹھ بجا رہی تھی آج اتوار تھا تو اس نے وقت کی ذرا پرواہ نہ کی
کمفرٹ ہٹایا اور اسے سائڈ پر کیا اسے ربانیہ کا دوپٹہ جو آدھا بیڈ پر اور آدھا زمین پر جھول رہا تھا اسے دیکھتے ہی رات کا سارا منظر اسے یاد ہوا
اس نے حیران نظروں سے پورا کمرے کو دیکھا تو وہ کہیں نہیں تھی اس نے ندامت سے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔
“یہ کیا کر گیا تو زایان”۔۔۔ اس نے غصے سے اپنے بال نوچے “اور یہ کہا ہے اب”۔۔۔۔ وہ ربانیہ کو ڈھونڈنے کیلیے کھڑا ہوا اپنے سلیپر پہنے اور روم سے باہر چلا گیا
سلمی بیگم نے جاتے وقت زایان کو کال کر کے بتا دیا تھا کہ وہ اپنی دوست کی بیٹی کی شادی پر جارہی ہیں اور دو دن بعد واپس آئے گی کیونکہ شادی دوسرے شہر میں تھی۔۔۔۔
اسے شام میں فرحین نے بہت ٹارچر کیا وہ کسی طرح اسے بہلا کر گھر واپس آیا اور سونے کا ارادہ رکھتا تھا مگر ربانیہ کی تیاری اور نڈر آواز اسے تیش میں لائی
آدھی رات کو ربانیہ حوش میں آئی اور خود کو بیڈ کے نیچے گرا پایا وہ اپنے گھٹنوں میں سر دیے کتنی ہی دیر روتی رہی اور ایک سرد نظر زایان کے سوتے وجود پر ڈالے ایمن کے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمن کا کمرہ اس کے کمرے کی دوسری سائڈ پر ہی تھا وہ سب سے پہلے وہی گیا اور دروازہ کھولا
ربانیہ وہی زمین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رورہی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے سامنے دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ اس کی طرف بڑھا
“پاس مت آنا میرے”۔۔۔۔ ہاتھ کے اشارے سے اسے وہی روکا اس کی آنکھیں پوری سو جی ہوئی تھی چہرے اور بازوئوں پر جگہ جگہ نیل پر چکے تھے
“بس کرو اب کس چیز کا رونا ہے تمہیں شوہر ہو تمہارا کوئی غیر نہیں ہو جو ماتم کررہی ہو “۔۔۔۔
وہ غراتی آواز میں کہتا ہوا خونخار نظروں سے اسے دیکھنے لگا
اس کی بات سن کر ربانیہ نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں صاف کیے کیونکہ ایک بار جواب دینے کا انجام وہ بھگت چکی تھی
وہ اٹھی اور باہر جانے لگی تب زایان نے اس کا بازو پکڑا اور بےدردی سے اسے اپنی جانب کھینچا
اس کی انگلیاں ربانیہ کو اپنی بازو میں پیست ہوتی محسوس ہوئی
“اگر کسی کے سامنے اپنے دکھڑے روئے یہ اپنی اس زبان سے ایک لفظ نکالا تو یاد رکھنا اگلی بار انجام اس سے بھی برا ہوگا”۔۔۔ اس کی تھوڑی پر اپنے ہاتھ کی گرفت سخت کرتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا
ج۔جی میں کسی سے کچھ نہیں کہو گی۔۔۔۔ کانپتی آواز میں اس نے جواب دیا اور زایان نے اسے چھوڑ دیا
ہممم۔۔۔ پرسکون لہجے میں کہتا ہوا اسے وہی چھوڑے وہ کمرے سے چلا گیا
۔۔۔۔
ربانیہ اپنے کمرے میں آئی تو زایان وہاں نہیں تھا پہلے اس نے کمرے کی حالت ٹھیک کی اور پھر ڈریسنگ روم میں چلی گئی ایک سادہ سا ڈریس نکالنے کے بعد وہ واشروم چلی گئی
۔۔۔۔۔
وہ گیلے بالوں کو ٹاول میں قید کیے روم میں آئی اور ڈریسر کے سامنے بالوں میں برش کرنے لگی تب اس کے موبائل بجا
اس نے موبائل کان سے لگایا
“ہلو میڈم شرم تو نہیں آتی تمہیں سسرال جانے کے بعد دوست کو بھول گئی ایک بار بھی کال نہیں کی”۔۔۔
آغوش تو نان سٹاپ بولی مگر اس کی آواز سن کر ربانیہ رونے لگی شاید ایک وہی تھی اب اس کی اپنی
“ربانیہ کیا ہوا تمہیں”۔۔۔
ربانیہ کے رونے کی آواز سن کر وہ پریشان ہوگئی
“کچھ نہیں بس تمہاری آواز سنی تو رونا آگیا”۔۔۔۔ اس نے اپنے جذبات کو کنٹرول کیا
“ہمم تو ایسی بات ہے بس پھر تم رو نہیں آرہی ہو میں تمہارے گھر اور ہاں پہلی بار دوست آرہی ہے کوئی اچھا سا انتظام کرنا اور ہاں خاطر طوازو میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے”۔۔۔۔
آغوش کی مغرور آواز سن کر وہ پریشان ہوگئی
“نہیں میری”۔۔۔۔ وہ ابھی کہ ہی رہی تھی کہ دوسری طرف سے کال ڈسکنکٹ ہو گئی
“یا اللہ اگر آغوش نے مجھے ایسے دیکھ لیا تو سو سوال کرے گی اب میں کیا کرو “۔۔۔
وہ بےحد پریشان ہوگئی
۔۔۔۔۔۔
زایان ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا اپنے موبائل میں کچھ ٹائپ کررہا تھا آج فریدہ نے چھٹی کی تھی کیونکہ وہ اپنے گائوں گئی تھی
ربانیہ اپنے سر دوپٹہ سیٹ کیے نیچے آئی تو اسے دیکھ کر اسے حقارت ہونے لگی وہ واپس جانے کیلئے مڑی ہی تھی
“فریدہ چھٹی پر ہے ناشتہ بنا کر لائو میرے لیے “۔۔۔۔۔
اس کی سنجیدہ آواز ربانیہ کے کانوں میں پڑی تو وہ بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی وہ ویسے ہی اپنے موبائل پر لگا رہا
“تمہیں میری ایک بار کہی بات سمجھ نہیں آتی کہ ناشتہ بنانا ہے یا پھر میں تمہیں اپنے طریقے سے سمجھائوں”۔۔۔۔ ربانیہ کے اس طرح دیکھنے پر وہ تیش میں آگیا اور غصے سے بھری آواز میں اسے وارن کیا
ج۔۔جی۔۔جی وہ کہتی کچھ کی طرف چلی گئی
۔۔۔۔۔
کچھ دیر میں وہ ناشتہ اور اس کی کافی بنا کر ٹرے میں سجائے لائی اور اس کے آگے رکھی
زایان ایک سرد نظر ربانیہ پر ڈالے ٹرے آگے کی اور ناشتہ کرنے لگا
وہ اسے ناشتہ دے کر کمرے میں چلی گئی
۔۔۔۔
شام کے چار بج رہے تھے ربانیہ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی قسمت پر رورہی تھی زایان ناشتہ کرنے کے بعد کہیں چلا گیا تھا اور ابھی تک واپس نہ آیا تھا وہ اس گھر میں اکیلی تھی
امی آپ تو کہتی تھی کہ تم بہت نیک ہو اور نیک بیویوں کو نیک شوہر ملتے ہیں تو اب یہ سب کیو ہورہا ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔
وہ زمین پر بچھے کارپٹ پر بیٹھی روتے ہوئے شکوہ کررہی تھی
آخر آپ نے ایسا کیا کیا تھا جس کی سزا مجھے مل رہی ہیں آپ نے کہا تھا کہ یہ شادی کرلو اور اب میں اس جہنم میں جل رہی ہو
میرا قصور نہیں بتاتے وہ بس سزا دیتے ہیں پہلے بابا چلے گئے پھر آپ میرا تو یہاں کوئی بھی نہیں ہے میں بلکل اکیلی ہوگئی ہو امی۔۔۔۔۔ وہ شکوہ کرتی اپنے گھٹنوں میں سر دیے رونے لگی روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا ہی نہیں چلا اور وہ وہی زمین پر سو گئی
۔۔۔۔۔
پانچ بجے رایان گھر واپس آیا اور سیدھا اپنے کمرے کا رخ کیا
آغوش ابھی ابھی ربانیہ کے گھر پہنچی
گیٹ پر اسے چوکیدار نے بتایا کہ ربانیہ گھر پر ہی ہے
وہ حال میں آئی تو اس کی آنکھیں ایک جگہ ساکت ہوگئی
اتنا بڑا گھر اور اتنا پیارا وہاں ربانیہ تمہارے بھی کیا کہنے ۔۔۔۔وہ سراہتی نظروں سے ہر چیز دیکھنے لگی
وہ اپنا ہینڈ بیگ صوفے پر رکھے ہر چیز کو دیکھنے لگی اور لان میں چلی آئی
رایان ابھی فریش ہو کر حال میں آیا تو صوفے پر ہینڈ بیگ دیکھ کر اسے لگا کہ شاید کوئی آیا ہے
اس نے وہ ہینڈ بیگ اپنے ہاتھ میں اٹھایا اور اسے دیکھنے لگا تبھی وہاں آغوش آئی
“اوئے رکھو میرا بیگ وہی ہاتھ کیسے لگایا تم نے اسے”۔۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اس کی طرف آئی اور رایان کے ہاتھوں سے اپنا بیگ کھینچا
رایان حیرانی اور بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا
اس نے تفشیش کیلئے اپنا بیگ چیک کیا تو اس میں دو ہزار نہیں تھے
وہ خونخار نظروں سے رایان کو دیکھنے لگی
کیا ہوا؟؟؟ وہ آغوش کی نظروں کا مفہوم نہ سمجھ پایا
“تم نے چوری کی ہے میرے بیگ سے”۔۔۔ وہ اس کی طرف جانچتی نظروں سے دیکھنے لگی
“کیا پاگل واگل تو نہیں ہوگئی ہو میں کیو چوری کرنے لگا “۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھوں میں حیرانی سموئے بولا
میں تم سے سیدھی طرح کہ رہی ہو واپس کرو میرے پیسے۔۔۔۔
وہ چیخی
“او بی بی میں رایان ملک تمہارے اس دوٹکے کے گھٹیا پرس سے پیسے نکالو ایسے کئی ہزار میرے بیڈ پر پڑے ہیں آئی بری”۔۔۔۔
وہ بھی کہا پیچھے رہنے والا تھا
ربانیہ ان کے لڑنے کی آواز سن کر اٹھی اور نیچے کی طرف بھاگی
کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔وہ حیرانی سے دونوں سے پوچھنے لگی
ربانیہ!!! اس بےروزگار سے کہو واپس کرے میرے دوہزار ۔۔۔۔
اس نے خونخار نظروں سے رایان کو دیکھا
اگر تم نے دوبارہ مجھے بےروزگار کہا تو سر پھاڑ دونگا میں تمہارا۔۔۔۔۔
رایان کی آنکھوں میں اب غصے سے لال ہوگئی
ربانیہ کبھی رایان کو تو کبھی آغوش کو دیکھتی
اتنے میں چوکیدار باہر اے بھاگتا ہوا آیا
“بی بی آپ اپنے پیسے باہر گراکر گئی تھی یہ لے”۔۔۔۔
چوکیدار نے پیسے اس کی طرف بڑھائے
آغوش تو ان کے سامنے پانی پانی ہوگئی
“آپ یہ پیسے مجھے دے”۔۔۔۔ ربانیہ نے چوکیدار سے کہا اس نے وہ پیسے اسے دیے اور چلا گیا
آغوش تمہیں ذرا تمیز نہیں ہے بغیر سوچے سمجھے تماشے لگا دیتی ہو۔۔۔۔۔
اب ربانیہ اس پر برہم ہوئی
جب اس نے رایان کو دیکھا تو اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی
“ربانیہ پاگلوں کو مت بلایا کرو گھر میں ہماری پرسنیلیٹی افکٹ ہوتی ہے”۔۔۔۔ رایان نے آغوش کو جلانے کیلئے فرضی کالر جھاڑے
“اچھا ہوگئی غلطی اب زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے”۔۔ آغوش چڑ کر بولی
بس چپ کرو۔۔۔۔ اب ربانیہ نے اسے آنکھیں دکھائی
“اچھا ربانیہ بھوک لگی ہے یار اور یہ فریدہ کو سنڈے ہی چھٹی کرنی ہوتی ہے تم کچھ بنا دو نہ لائٹ سا میرے لیے میں لان میں ویٹ کرتا ہو
وہ کہتے ہی لان میں چلا گیا
“تم ناں ہر جگہ میری بےستی کراتی ہو”۔۔۔ ربانیہ اب اس پر برسی
اچھا اب ہوگئی غلطی سوری ۔۔۔۔آغوش نے معصومیت سے کہتے اپنے کان پکڑ لیے
“اچھا چلو اب کچن میں ہیلپ کرائو میری وہ”۔۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑے کچن میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔
زایان کو بارہ بجے فرہین کی کال آئی تھی اور اس نے ایک ہوٹل میں ملنے بلایا تھا اور وہ وہی چلا گیا
“تو کب چھوڑ رہے ہو اپنی اس بیوی کو”۔۔۔۔
وہ ہوٹل میں بیٹھے تھے جب فرحین نے کہا
فرحین پلیز میں اس ٹاپک پر اب کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ویسے بھی اس سب میں ماما اور میری فیملی انوالو ہے اور میں ایسے اچانک یہ سب نہی کرسکتا۔۔۔۔۔
اس نے بیزاریت سے کہا
تو سیدھا سیدھا کہو ناں کہ تم مجھ سے ٹائم پاس کررہے تھے میں ۔۔۔۔
فرحین اب تم بات کر بڑھا رہی ہو میں جب تم سے کہ چکا ہو کہ میں اسے چھوڑ دونگا تو پھر کیو ضد کررہی ہو۔۔۔۔۔۔
اس نے فرحین کو آنکھیں دکھائی
ٹھیک ہے مگر یاد رکھنا تم صرف میرے ہو اگر تم نے مجھ سے بےوفائی کو سوچا بھی ناں تو میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔۔۔۔
ہمم سن لیا میں نے اب آرڈر کرے کچھ یا ابھی بھی کچھ باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔
کرو آرڈر میں نے کب منہ کہا۔۔۔۔ اس نے مغرور انداز میں کہا
زایان نے اس کی بات پر اپنا سر جھٹکا اور آرڈر کیا
۔۔۔۔۔
ربانیہ اور آغوش نے سینڈوچز بنائے اور حال میں آگئی
ربانیہ خود صبح سے بھوکی تھی اس لیے اس نے اپنے اور آغوش کیلئے بھی سینڈوچز بنائے
اس نے دو سینڈوچ پلیٹ میں نکالے اور رایان کو دینے آئی
وہ لان میں چیئر پر بیٹھا موبائل میں بزی تھا
اس نے اس کے سامنے رکھی ٹیبل پر پلیٹ رکھی اور جانے لگی
“ربانیہ بھائی کہاں ہیں”۔۔۔۔۔ ربانیہ کو جاتے دیکھ اس نے پوچھا
مجھے نہیں پتا وہ دوپہر میں ہی چلے گئے تھے مجھے نہیں بتایا انہوں نے ۔۔۔۔نارمل انداز میں اس نے جواب دیا وہ جب سے یہاں آئی رایان سے آج مل رہی تھی
“ہمم ربانیہ کیا تم مجھ سے ناراض ہو”۔۔۔۔
شرمندگی بھرے لہجے میں اس نے پوچھا
نہیں رایان بھائی یہ تو قسمت میں لکھا تھا اس میں آپ کا یہ کسی اور کا کوئی قصور نہیں ہے اس لیے آپ شرمندہ مت ہو۔۔۔۔۔ اطمینان سے اس نے جواب دیا اور چکی گئی
۔۔۔۔۔۔
آج آغوش اسے بتا کر گئی تھی کہ ایگزامز سٹارٹ ہونے والے ہیں اور اسے رجسٹریشن کیلئے کالج آنا ہوگا وہ اسی بات پر پریشان تھی کہ وہ زایان سے کیسے بات کرے گی وہ اسے اجازت دیگا بھی کہ نہیں وہ یہ سب سوچ رہی تھی کہ زایان روم کا دروازہ کھولے اندر آیا اور اسے نظرانداز کرتے ڈریسنگ روم میں چلا گیا
کچھ دیر بعد وہ چینج کرکے نکلا اور ڈریسر کے آگے کھڑا ہوکر اپنی کلائی سے واچ نکالنے لگا
وہ۔۔۔وہ مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ڈرتے کانپتے آخر وہ بولی
ہممم بولو۔۔۔۔ بالوں میں برش کرتے ہوئے وہ بولا
“وہ ایگزامز سٹارٹ ہونے والے ہیں مجھے کالج جانا ہوگا رجسٹریشن کیلئے”۔۔۔۔۔
اپنی انگلیوں کو آپس میں مسلتے نظریں نیچے کیے وہ بولی
اس کی بات سن کر اس نے برش واپس رکھا اور چہرے پر سرد تاثرات لیے وہ اس کی طرف آیا
“بھول جائو کہ اب میں تمہیں پڑھنے دونگا”۔۔۔۔
اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس نے وارن کیا
“مگر میرے پورے سال کی محنت ضائع ہو جائے گی”۔۔۔۔ لہجے میں التجا لیے وہ بولی
چٹاخ!!! ایک زناٹے ذرا تھپڑ اس کے گال پر پڑا
میرے ساتھ بحث کرنے کی غلطی دوبارہ مت کرنا دفع ہوجائو یہاں سے۔۔۔۔۔
غراتی آواز میں کہتا ہوا وہ بیڈ پر جا بیٹھا اور ربانیہ بےیقینی سے اسے دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دیکھ کر_حیران ہوں سائیں
دل کی امیری تھی یا حیوانیت کی حد
